کتاب مواقیت الصلوۃ باب 11 حدیث نمبر 540
۱۱ – بَابُ وَقْتِ الظُّهْرِ عِنْدَ الزَّوَالِ
ظہر کا وقت زوال سے ہے
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ظہر کے وقت کی ابتداء اس وقت ہوتی ہے جب سورج آسمان کے وسط سے مغرب کی طرف زائل ہوتا ہے یعنی مائل ہوتا ہے۔
وقال جَابِرٌ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالْهَاجِرَةِ۔
اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت نماز پڑھتے تھے۔.
اس تعلیق کو امام بخاری نے صحیح البخاری : ۵۶۰ میں سند متصل کے ساتھ روایت کیا ہے اور یہ اس پوری حدیث کا ایک قطعہ ہے۔
٥٤٠ – حدثنا أبو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَن الزُّهْرِي قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ حِيْنَ زَاغَتِ الشَّمْس فَصَلَّى الظُّهَرَ، فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَر، فَذَكَرَ السَّاعَة، فَذَكَرَ أَنَّ فِيهَا أُمُورًا عِظَامًا ثُمَّ قَالَ مَنْ اَحَبَّ ان يَسْالَ عَنْ شَيْءٍ فَلْيَسْأَلَ، فَلَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْء إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ، مَا دُمْتُ فِي مَقَامِي هَذَا . فَاكْثَرَ النَّاس فِي الْبُكَاءِ، وَأَكْثَرَ أَنْ يَقُولَ سَلُونِي. فَقَامَ عَبْدُالله بن حُذَافَةَ السهْمِيُّ فَقَالَ مَنْ أَبِي؟ قَالَ أَبُوكَ حُذَافَة، ثُمَّ اكْثَرَ أنْ يَقُولَ سَلُونِي. فَبَرَكَ عُمَرُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ رَضِيْنَا بِاللَّهِ رَبِّا، وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّد نبیا فَسَكَتَ. ثُمَّ قَالَ عُرِضَتْ عَلَى الْجَنَّةُ وَالنَّار انفًا فِي عُرْضِ هَذَا الْحَائِطِ فَلَمْ اَرَ كَالْخَيْرِ وَالشَّر۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابو الیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب سورج ( آسمان کے وسط سے ) زائل ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر آپ نے منبر پر کھڑے ہو کر قیامت کا ذکر کیا، پھر آپ نے اس میں بڑے بڑے واقعات کا ذکر فرمایا پھر آپ نے فرمایا: جو کسی چیز کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہو وہ سوال کرے، تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی سوال کرو گے میں تم کو اس کی خبر دوں گا جب تک کہ میں اس مقام میں ہوں پھر اکثر لوگوں نے رونا شروع کردیا اور آپ نے بہت زیادہ فرمایا: مجھ سے سوال کرو، پھر حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے، پھر آپ بار بار فرماتے رہے کہ مجھ سے سوال کرو پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ دوزانو بیٹھ گئے، پھر کہا: ہم اللہ کو رب مان کر راضی ہیں اور اسلام کو دین مان کر راضی ہیں اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہوسلم) کو نبی مان کر راضی ہیں، تب آپ خاموش ہوگئے’ پھر فرمایا: ابھی اس دیوار کے وسط میں میرے سامنے جنت اور دوزخ پیش کی گئی، پس میں نے خیر اور شر کی مثل (اس سے پہلے) نہیں دیکھی۔
اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۹۳ میں گزر چکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: جو شخص امام یا محدث کے سامنے دوزانو بیٹھ گیا۔ اس حدیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ نصف آسمان سے سورج کے زوال کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، سو ہم ظہر کی نماز کے وقت میں مذاہب فقہاء تفصیل سے بیان کرنا چاہتے ہیں ۔ (احادیث میں زوال سے مراد ہے: جب سورج استواء سے زائل ہوجائے اور عوام میں جو مشہور ہے کہ زوال کے وقت نماز جائز نہیں ہے اس سے ان کی مراد ہوتی ہے جب سورج سر پر ہو۔)
ظہر کی نماز کے وقت میں مذاہب اربعہ، زوال کے وقت میں ظہر کی نماز کی فرضیت پر دلائل۔۔۔ اور امام ابوحنیفہ پر اعتراضات
علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ ظہر کا اول وقت زوال آفتاب سے ہوتا ہے، حضرت ابوبکر صدیق حضرت عمر بن الخطاب، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابن مسعود اور حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہم زوال کے وقت ظہر کی نماز پڑھتے تھے اور ابراہیم نخعی نے الاسود اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ جلدی کسی کو ظہر کی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا: جب سورج کا زوال ہوجائے تو ظہر کی نماز پڑھا کرو اور ابراہیم نخعی نے کہا: ہم کبھی کبھی علقمہ کے ساتھ نماز پڑھتے تو ایک مثل سائے کو پاتے’ ہم اس سائے میں بیٹھ جاتے اور کبھی ہم سایا نہیں پاتے تھے یہ تمام احادیث اور آثار امام ابن ابی شیبہ نے ذکر کیے ہیں۔
امام طحاوی نے کہا: ایک قوم کا مذہب یہ ہے کہ ہر زمانہ میں ظہر کو اول وقت میں پڑھنا چاہیے انہوں نے ان آثار سے استدلال کیا ہے اور دوسرے فقہاء نے ان کی مخالفت کی ہے انہوں نے کہا: سردیوں میں ظہر کو جلدی پڑھنا چاہیے لیکن گرمیوں میں ظہر کو مؤخر کرکے ٹھنڈے وقت میں پڑھنا چاہیے یہ فقہاء احناف، امام احمد اور اسحاق کا قول ہے اور ابو الفرج نے اس کو امام مالک سے بھی روایت کیا ہے۔
ان فقہاء کا استدلال ان احادیث سے ہے جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا حکم دیا ہے اور انہوں نے کہا کہ یہ معلوم ہے کہ ٹھنڈے وقت میں نماز پڑھنا صرف ظہر میں مطلوب ہوتا ہے اور انہوں نے ان آثار کی مخالفت کی، جن میں گرمیوں میں ظہر کو جلدی پڑھنے کا ذکر ہے، پھر اس پر کیا دلیل ہے کہ ان میں سے ایک چیز دوسری چیز پر راجح ہے، یہ کہا گیا ہے کہ پہلے ظہر کی نماز جلدی پڑھی جاتی تھی پھر یہ عمل منسوخ ہوگیا۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو دوپہر کے وقت ظہر کی نماز پڑھائی، پھر فرمایا: گرمی کی شدت جہنم کے جوش سے ہے، نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔
سو اس حدیث میں حضرت مغیرہ نے یہ خبر دی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کو اپنے وقت میں پڑھنے کے بعد اس کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا حکم دیا لہذا شدید گرمی میں ظہر کو جلدی پڑھنے کا عمل منسوخ ہوگیا اور شدید گرمی میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا واجب ہوگیا اور حضرت انس بن مالک اور حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردیوں میں ظہر کو جلدی پڑھتے تھے اور گرمیوں میں ظہر کو مؤخر کرتے تھے یہ ان متعدد سندوں سے ثابت ہے جن کو امام طحاوی نے ذکر کیا ہے اور یہ اس کی دلیل ہے کہ حضرت جابر، حضرت انس اور حضرت ابی برزہ کی حدیث، حضرت المغیرہ کی حدیث کی تفسیر ہے۔
جو فقہاء یہ کہتے ہیں کہ ظہر کی نماز کو مطلقاً جلدی پڑھنا چاہیئے وہ کہتے ہیں کہ جس حدیث میں سخت گرمی میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا حکم ہے، وہ ظہر کو جلدی پڑھنے کی ناسخ نہیں ہے اور ظہر کا حکم یہ ہے کہ اس کو تمام زمانوں میں جلدی پڑھا جائے یہ حکم اس کے لیے ہے جو افضل پر عمل کرنا چاہتا ہے کیونکہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اوقات میں ظہر کو جلدی پڑھا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ان کو شدید گرمی میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا حکم دیا تھا یہ ان پر شفقت کی وجہ سے رخصت تھی، میمون بن مہران نے کہا ہے کہ نصف النہار (دوپہر) کے وقت نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، وہ نصف النہار کے وقت نماز کو اس لیے مکروہ کہتے تھے کہ وہ مکہ میں نماز پڑھتے تھے اور وہاں بہت سخت گرمی ہوتی تھی اور وہاں سایا نہیں تھا اس لیے آپ نے فرمایا: ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو۔
مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اقتداء میں ظہر کی نماز پڑھی، جب سورج زائل ہوگیا تھا، پس انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے! یہی نماز کا وقت ہے یہ اس پر محمول ہے کہ تمام زمانوں میں یہی ظہر کی نماز کا وقت ہے اور حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سورج کے زوال کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا اور بعض اوقات شدید گرمی میں آپ اس کو مؤخر کرکے پڑھتے، یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ تمام گرمیوں میں آپ ظہر کو ٹھنڈے وقت میں نہیں پڑھتے تھے کیونکہ بعض اوقات کا لفظ تقلیل پر دلالت کرتا ہے، آپ اکثر اوقات ظہر کی نماز کو جلدی پڑھتے تھے اور ٹھنڈے وقت میں نہیں پڑھتے تھے اور اس میں امت کو اختیار ہے وہ جس وقت میں چاہے ظہر کی نماز پڑھے۔
سو جو شخص افضل پر عمل کرنا چاہے وہ جلدی ظہر پڑھے اور جو شخص رخصت پر عمل کرنا چاہے وہ ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھے یہی معنی حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سمجھا تھا لہذا انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ جب سورج (استواء سے) زائل ہوجائے تو ظہر پڑھو پس ان کے نزدیک افضل یہی تھا کہ ظہر کو اول وقت میں پڑھا جائے اور انہوں نے اپنے عمال کو یہی حکم دیا کہ جب ایک ہاتھ سایا ہوجائے تو ظہر کی نماز پڑھو اور اس میں گرمیوں اور سردیوں کا کوئی استثناء نہیں کیا۔
فقہاء کا ظہر کے مختار وقت میں اختلاف ہے امام مالک سے مدونہ میں منقول ہے کہ ظہر عصر اور عشاء کو اپنے وقت پر پڑھنا مستحب ہے اور یہ اس کے خلاف ہے جو ابو الفرج نے امام مالک سے روایت کی ہے امام ابوحنیفہ سے بھی اس مسئلہ میں روایات مختلف میں ابن القصاء نے از کرخی از امام ابوحنیفہ یہ روایت کی ہے کہ ان کے نزدیک ظہر کا وقت اس کے آخری وقت پر معلق ہے اور اول وقت میں نماز پڑھنا نفل ہے، پس اگر کسی شخص نے زوال کے وقت میں نماز پڑھی، پھر وہ ظہر کے آخری وقت تک صحیح و سلامت رہا تو وہ ظہر کی نماز کا مکلف ہوگیا اور اس نے جو اول وقت میں ظہر کی نماز پڑھی تھی وہ نفل ہوگی اور تمام فقہاء امام ابوحنیفہ کے اس قول کے خلاف ہیں اور کرخی نے امام ابوحنیفہ کی موافقت میں یہ دلیل دی ہے کہ اگر زوال آفتاب سے ظہر کی نماز واجب ہوجائے اور پھر کوئی شخص اس کو تاخیر سے پڑھے تو اس کو گناہ گار ہونا چاہیے حالانکہ اس پر اجماع ہے کہ وہ گناہ گار نہیں ہوگا ابن القصاء نے کہا: یہ اعتراض ہم پر لازم نہیں آتا اس لیے کہ ہم کہتے ہیں کہ نماز کے وجوب میں توسیع ہے اور مکلف کو اختیار دیا ہے کہ وہ زوال کے بعد جس وقت چاہے، ظہر کی نماز ادا کرلے۔
دوسرے فقہاء نے یہ کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے قول کے فاسد ہونے کی یہ دلیل ہے کہ اس باب کی احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے زوال کے بعد ظہر کی نماز پڑھی ہے اور حضرت جبریل علیہ السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کے اول وقت میں نماز پڑھائی اور آپ نے فرمایا: مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے، پس یہ محال ہے کہ ظہر کا فرض آخر وقت کے ساتھ متعلق ہو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کو اول وقت میں پڑھیں اور کسی شخص کے لیے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ گمان نہیں کرنا چاہیے جائز نہیں ہے، امام ابوحنیفہ کا یہ قول سنت ثابتہ کے مخالف ہے اور دلیل سنت میں ہے نہ کہ سنت کی مخالفت میں۔
امام ابوحنیفہ نے کہا: ظہر کا آخری وقت یہ ہے کہ ہر چیز کا سایا دو مثل ہوجائے، اس قول میں انہوں نے احادیث کی اور لوگوں کے اقوال کی مخالفت کی ہے اور اپنے اصحاب کی بھی مخالفت کی ہے اور امام طحاوی نے امام ابوحنیفہ کا ایک ایسا قول نقل کیا ہے جو جماعت کے قول کے موافق ہے اور وہ یہ ہے کہ ظہر کا آخری وقت وہ ہے جب ہر چیز کا سایا ایک مثل ہوجائے، مگر اس وقت عصر کا وقت داخل نہیں ہوتا عصر کا وقت اس وقت داخل ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایا دو مثل ہوجائے، پھر انہوں نے ظہر اور عصر کے درمیان ایسا وقت چھوڑا جو ظہر اور عصر میں سے کسی نماز کی صلاحیت نہیں رکھتا اور یہ ان کا ایسا قول ہے جس میں کسی نے ان کی متابعت نہیں کی۔
امام مالک نے یہ کہا ہے کہ ظہر کا آخری وقت وہ ہے جب ہر چیز کا سایا دو مثل ہوجائے اور وہی بلا فصل عصر کا اول وقت ہے اور یہی امام ابو یوسف، امام محمد، امام احمد بن حنبل اور دوسرے فقہاء کا قول ہے۔
امام شافعی نے کہا ہے کہ ظہر کے آخری وقت میں اور عصر کے اول وقت میں ایسا فاصلہ ہے جس میں ظہر کا وقت مختار ہے نہ عصر کا وقت مختار ہے اور یہ وہ وقت ہے جب سایا ایک مثل سے تھوڑا سا زیادہ ہوجائے اور انہوں نے اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کا وقت اس وقت تک ہے، جب تک عصر کا وقت نہیں آتا اس حدیث سے ان کا قول ثابت نہیں ہوتا اور امام شافعی کے اس قول کی کسی نے موافقت نہیں کی۔( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۲۴-۲۲۱ ملخصاً دار الكتب العلمیة بیروت 1424ھ )
علامہ ابن بطال کے اعتراض کا علامہ عینی کی طرف سے جواب
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
علامہ ابن بطال نے از کرخی از امام ابوحنیفه یہ نقل کیا ہے کہ ظہر کے اول وقت میں نماز نفل ہوتی ہے اور تمام فقہاء اس کے خلاف ہیں، میں کہتا ہوں کہ ہمارے اصحاب نے ذکر کیا ہے کہ یہ قول ضعیف ہے اور امام ابوحنیفہ سے یہ منقول نہیں ہے کہ ظہر کے اول وقت میں نماز نفل ہوتی ہے اور ہمارے نزدیک صحیح یہ ہے کہ ظہر کے اول وقت میں نماز واجب ہے اور اس وجوب میں توسیع ہے یعنی ظہر کے آخر وقت تک جب بھی نماز ظہر پڑھی جائے گی اس سے فرض نماز ادا ہوگی۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص 39 دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
حافظ ابن حجر عسقلانی کا بھی اس ضعیف قول کو امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کرنے کی وجہ سے۔۔۔۔علامہ ابن بطال پر رد کرنا
میں کہتا ہوں کہ اس ضعیف قول کو امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کرنے کی وجہ سے حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ نے بھی علامہ ابن بطال مالکی پر رد کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
اس حدیث کا عنوان ہے: ظہر کے وقت کی ابتداء زوال کے وقت ہوتی ہے یعنی جب سورج استواء سے زائل ہوکر مغرب کی سمت کی طرف مائل ہوتا ہے، اس عنوان سے امام بخاری نے ان کوفیوں کے زعم کے رد کی طرف اشارہ کیا ہے جو کہتے ہیں کہ ظہر کے اول وقت میں نماز واجب نہیں ہوتی اور علامہ ابن بطال نے نقل کیا ہے کہ تمام فقہاء اس نقل کے خلاف ہیں جو کرخی نے امام ابوحنیفہ سے روایت کی ہے کہ ظہر کی نماز اول وقت میں نفل ہوتی ہے اور فقہاء احناف کے نزدیک معروف یہ ہے کہ یہ قول ضعیف ہے اور بعض فقہاء احناف نے کہا ہے کہ ظہر کا اول وقت اس وقت ہوتا ہے جب زوال کا سایا ایک تسمہ کی مقدار ہوجائے۔(فتح الباری ج ۲ ص ۱۵۵ دار المعرفة بیروت 1426ھ )
ہمارے برصغیر کے اُردو بولنے والوں میں معروف ہے کہ زوال کے وقت سجدہ جائز نہیں ہے، دراصل اُردو بولنے والے زوال سے مجازا مراد استواء لیتے ہیں یعنی جب سورج سر پر ہوتا ہے اور اس وقت سجدہ جائز نہیں ہے اور احادیث میں زوال کا حقیقی معنی مراد ہے یعنی جب استواء سے سورج زائل ہوکر مغرب کی طرف مائل ہو اور اس وقت میں ظہر کا وقت شروع ہوتا ہے۔
علامہ عینی کا علامہ سرخسی حنفی کی عبارت سے علامہ ابن بطال پر رد کرنا
علامہ بدرالدین عینی نے علامہ ابن بطال پر رد کرنے کے لیے علامہ سرخسی حنفی متوفی ۴۸۳ھ کی یہ عبارت پیش کی ہے:
شمس الائمہ نے المبسوط میں کہا: اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ظہر کا اول وقت زوالِ آفتاب سے داخل ہوتا ہے۔(المبسوط ج اص ۲۸۹ ‘ دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ ) ( عمدۃ القاری ج ۵ ص ۳۹ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )
میں کہتا ہوں کہ علامہ عینی کا علامہ سرخسی کی عبارت سے علامہ ابن بطال پر رد کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ علامہ سرخسی کی وفات483 ھ میں ہوئی ہے اور علامہ ابن بطال کی وفات 449 ھ میں ہوئی ہے اور علامہ ابن بطال علامہ سرخسی سے پہلے فوت ہوچکے تھے سو وہ المبسوط میں امام ابوحنیفہ کا مذہب کیسے پڑھ سکتے تھے علامہ عینی پر لازم تھا کہ وہ ان فقہاء احناف کی عبارات سے استدلال کرتے جو علامہ ابن بطال پر مقدم تھے تاکہ یہ کہا جاسکتا کہ علامہ ابن بطال کو چاہیے تھا کہ وہ امام ابوحنیفہ کے قول کو فاسد کہنے سے پہلے فقہاء احناف کی کتابوں میں امام ابوحنیفہ کا مذہب پڑھ لیتے۔
مصنف کا مقدم ائمہ احناف کی عبارات سے علامہ ابن بطال پر رد کرنا
علامہ محمد بن الحسن الشیبانی الحنفی المتوفی ۱۸۹ ھ لکھتے ہیں:
میں نے امام ابوحنیفہ سے پوچھا: ظہر کا وقت کب سے شروع ہوتا ہے؟ امام ابو حنیفہ نے فرمایا: زوال آفتاب سے لے کر یہاں تک ( کہ سایا ایک قامت کے برابر ہوجائے یہ امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے ) اور امام ابوحنیفہ نے فرمایا: عصر کا وقت اس وقت تک داخل نہیں ہوگا حتی کہ سایا دو قامتوں کے برابر ہوجائے اور جب سایا دو قامتوں کے برابر ہوجائے گا تو عصر کا وقت داخل ہوجائے گا۔ (المبسوط ( کتاب الاصل ) ج ۱ ص ۱۴۴ ادارۃ القرآن’ کراچی)
امام محمد روایت کرتے ہیں: ہمیں امام ابوحنیفہ نے خبر دی از حماد از ابراہیم کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر نماز کا وقت دریافت کر رہا تھا، آپ نے اس کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نمازوں میں حاضر رہے، پھر آپ نے حضرت بلال کو اول وقت میں نمازوں کا حکم دیا پھر دوسرے دن آپ نے تمام نمازوں کے آخر کا حکم دیا پھر آپ نے پوچھا: نماز کا وقت دریافت کرنے والا کہاں ہے؟ پھر آپ نے فرمایا: ان دونوں وقتوں کے درمیان نماز کا وقت ہے امام محمد نے کہا: ہم اسی حدیث پر عمل کرتے ہیں البتہ غروب آفتاب کے بعد مغرب میں تاخیر کو مکروہ کہتے ہیں اور یہی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔( کتاب الآثار امام محمد : ۶۵ – ص ۱۳ ادارۃ القرآن کراچی ۱۴۰۷ھ )
امام محمد روایت کرتے ہیں : ہمیں امام ابوحنیفہ نے خبر دی از حماد از ابراهیم از حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ انہوں نے فرمایا: ظہر کی نماز کو جہنم کے جوش سے ٹھنڈے وقت میں پڑھو امام محمد نے کہا: گرمیوں میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو اور سردیوں میں زوالِ آفتاب کے وقت ظہر کی نماز کو پڑھو اور یہی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا قول ہے۔( کتاب الآثار امام محمد : 66 ص ۱۳ ادارۃ القرآن’ کراچی 1407ھ )
امام ابوجعفر احمد بن محمد طحاوی حنفی متوفی ۳۲۱ھ نے شرح معانی الآثار میں حدیث : ۱۰۶۶ سے لے کر ۱۰۸۰ تک ۱۴ ٬ احادیث روایت کی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زوال آفتاب کے وقت ظہر کی نماز پڑھتے تھے پھر امام طحاوی نے ۱۰۸۱ سے لے کر ۱۰۹۱ تک ۱۰ احادیث روایت کی ہیں کہ گرمی کی شدت میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو اور آخر میں اس حدیث کو روایت کیا ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سردیوں میں ظہر کی نماز کو جلدی پڑھتے تھے اور گرمیوں میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھتے تھے۔ (شرح معانی الآثار : ۱۰۹۷ صحیح البخاری :۹۰۶ سنن النسائی: ۴۹۵)
اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام طحاوی متوفی ۳۲۱ھ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک ظہر کی نماز میں یہی سنت ہے جیسا کہ حضرت ابو مسعود اور حضرت انس رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز مروی ہے۔
علامہ ابن بطال نے فقہاء احناف کے ساتھ تعصب کی وجہ سے ایک یہ تحریف کی ہے کہ امام طحاوی کی طرف منسوب کرکے یہ لکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف مکہ میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔ ( شرح ابن بطال ج ۲ ص 222)
حالانکہ امام طحاوی نے اس بات کا رد کیا ہے وہ لکھتے ہیں:
اس قائل سے کہا جائے گا کہ یہ محال ہے اگر ایسا ہوتا جیسا کہ اس قائل نے کہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز کو مؤخر نہ کرتے جس جگہ دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی گھر تھا نہ سایا تھا، جیسا کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے اور چاہیے تھا کہ پھر وہاں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم اول وقت میں نماز پڑھتے حالانکہ آپ وہاں بھی ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھتے تھے۔ (صحیح البخاری:539 ) ( شرح معانی الآثار ج ا ص ۲۴۴ قدیمی کتب خانہ کراچی)
لیکن علامہ ابن بطال نے امام طحاوی کی اس عبارت کو تو نقل کردیا جو بہ طور اعتراض تھی اور امام طحاوی کے اس جواب کو ذکر نہیں کیا۔ علامہ ابن بطال سے ہمیں ایسی امید تو نہ تھی!
علامہ محمدبن محمد ابو الفضل المروزى البلخی المشہور بالحاكم الشہید المتوفی ۳۳۴ھ لکھتے ہیں:
ظہر کا وقت زوال آفتاب سے لے کر اس وقت تک ہوتا ہے جب تک ہر چیز کا سایا اس کی مثل ہوجائے ۔
( الکافی مع المبسوط ج ۱ ص ۲۸۹ دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ )
اس عبارت کی شرح میں علامہ سرخسی نے لکھا ہے: یہ امام ابو یوسف اور امام محمد کا قول ہے اور امام ابویوسف نے امام ابوحنیفہ سے روایت کیا ہے کہ ظہر کا وقت اس وقت ختم ہوتا ہے جب ہر چیز کا سایا دو مثل ہوجاتا ہے (علامہ ابن بطال نے اس قول کو نقل نہیں کیا حالانکہ فقہاء احناف کے اس قول پر عمل ہے ) اور حسن بن زیاد نے امام ابوحنیفہ سے نقل کیا ہے کہ جب سایہ ایک قامت کے برابر ہوجائے تو ظہر کا وقت نکل جاتا ہے اور عصر کا وقت اس وقت تک داخل نہیں ہوتا جب تک کہ سایا دو قامتوں کے برابر نہ ہوجائے اور ان دونوں کے درمیان مہمل وقت ہے، جس کو لوگ کہتے ہیں کہ یہ دو نمازوں کے درمیان وقت ہے جیسا کہ فجر اور ظہر کے درمیان مہمل وقت ہے۔ (المبسوط ج ا ص ۲۹۰ – ۲۸۹ دار الکتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ)
حسن بن زیاد کی اس روایت کو امام ابوحنیفہ کا قول قرار دے کر علامہ ابن بطال نے امام ابوحنیفہ پر بہت لے دے کی ہے اور اس کا بہت رد کیا ہے، حالانکہ امام ابوحنیفہ کا یہ مختار قول نہیں ہے اور نہ ہی اس پر فقہاء احناف کا عمل ہے امام ابوحنیفہ کا مختار قول وہ ہے جس کو امام ابو یوسف نے امام ابوحنیفہ سے روایت کیا ہے کہ ظہر کی نماز کا وقت زوال آفتاب سے دو مثل سائے تک ہے اسی قول کے مطابق فقہاء احناف کا عمل ہے مگر افسوس علامہ ابن بطال نے اس قول کا بالکل ذکر نہیں کیا۔
ہم نے بتایا ہے کہ علامہ ابن بطال نے امام اعظم ابوحنیفہ کی طرف منسوب کرکے یہ لکھا ہے کہ زوال آفتاب کے بعد اگر ظہر کی نماز پڑھی جائے تو وہ نفل ہوں گے، فرض نہیں ہوں گے حالانکہ یہ بات فقہاء احناف کی کسی کتاب میں نہیں ہے یہ خالص افتراء اور بہتان ہے علامہ ابن بطال کے زمانہ میں امام محمد متوفی ۱۸۹ ھ اور امام طحاوی متوفی ۳۲۱ھ ( جن کی عبارت میں تحریف کرکے انہوں نے اس کو اپنی شرح میں درج کیا ہے ) اور حاکم شہید متوفی ۳۳۹ھ کی تصانیف موجود تھیں، ان کے علاوہ امام ابومنصور ماتریدی حنفی متوفی 333ھ اور علامہ ابوبکر جصاص حنفی متوفی ۳۷۰ھ کی بھی تصانیف موجود تھیں، علامہ ابن بطال کو چاہیے تھے کہ وہ امام ابوحنیفہ پر افتراء باندھنے سے پہلے ظہر کی نماز کے اول وقت کے متعلق ان کتابوں میں امام ابوحنیفہ کا مسلک پڑھ لیتے۔
امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی حنفی متوفی ۳۳۳ بنی اسرائیل : ۷۸ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
دلوك الشمس الى غسق اللیل “ سے مراد دن کی نمازیں ہیں اور دلوك شمس ” سے مراد زوال آفتاب ہے اور غسق اللیل “ سے مراد رات کے اندھیرے کی ابتداء ہے پس اس میں ظہر اور عصر کی نمازیں داخل ہیں۔ (تاویلات اہل السنتہ ج 7 ص ۹۵ دار الکتب العلمیہ بیروت (۱۴۲۶ھ )
علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ۳۷۰ ھ لکھتے ہیں:
ظہر کا اول وقت زوال آفتاب سے ہے اور اس میں کسی اہل علم کا اختلاف نہیں ہے۔ احکام القرآن ج ۲ ص ۲۶۸ سہیل اکیڈمی لاہور 1400ھ )
علامہ ابن بطال کی وفات ۴۴۹ھ میں ہوئی ہے اور ہم نے ۱۸۹ ھ سے لے کر ۳۷۰ھ تک کے وفات یافتہ ائمہ احناف کی تصریحات بیان کردی ہیں کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہر کے فرض کا اول وقت زوال آفتاب ہے، کاش ! علامہ ابن بطال اپنی شرح میں امام ابوحنیفہ پر بہتان باندھنے سے پہلے ان تصریحات کو دیکھ لیتے اور امام ابوحنیفہ کے قول کو فاسد کہنے سے احتراز کرتے۔
امام ابوحنیفہ پر علامہ ابن بطال کے اعتراضات کا اجمالی جائزہ اور ان اعتراضات کے جوابات
علامہ ابن بطال نے اپنی طویل شرح میں امام ابوحنیفہ قدس سرہ کے خلاف جو لکھا ہے اس کا خلاصہ اس طرح ہے:
(1) امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ سردیوں میں ظہر کی نماز کو جلدی پڑھا جائے اور شدید گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں پڑھاجائے، اس کے خلاف علامہ ابن بطال نے لکھا ہے کہ ہر زمانہ میں ظہر کی نماز کو اول وقت میں پڑھا جائے۔
شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۲۲)
علامہ ابن بطال کا یہ قول اس لیے فاسد ہے کہ صحیح بخاری: ۵۳۹ – ۵۳۸ – ۵۳۶-۵۳۵-۵۳۴-۵۳۳ میں اور دیگر بہ کثرت کتب حدیث کے حوالوں سے گزرچکا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شدید گرمی میں ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو اور امام طحاوی نے اس کے ثبوت میں ۱۷ احادیث ذکر کی ہیں اور آخری حدیث حضرت انس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سردیوں میں ظہر کی نماز جلدی پڑھتے تھے۔ (صحیح البخاری:۹۰۲ سنن نسائی: ۴۹۵) اور یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے پس امام ابوحنیفہ کے مذہب پر جو علامہ ابن بطال نے طعن کیا ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھی راجع ہوگا ۔
(۲) علامہ ابن بطال نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہر کی نماز آخری وقت میں واجب ہوتی ہے اور تمام فقہاء اس کے خلاف ہیں۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۲۳)
اور ہم بہ کثرت فقہاء احناف کے حوالوں سے واضح کرچکے ہیں کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہر کی نماز کا اول وقت زوال آفتاب ہے۔
(۳) علامہ ابن بطال نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک جوشخص ظہر کے اول وقت میں نماز پڑھے گا وہ نماز ہرحال میں نفل ہوگی فرض نہیں ہوگی ۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۲۳)
یہ امام ابوحنیفہ پر خالص افتراء اور محض بہتان ہے فقہاء احناف کی کسی کتاب میں اس طرح نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف فرضیت ظہر کی تصریح ہے جیسا کہ ہم متعدد حوالہ جات سے نقل کرچکے ہیں۔
(۴) امام طحاوی کی طرف منسوب کر کے لکھا ہے کہ ظہر کی نماز کو شدید گرمی میں ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کا حکم اہل مکہ کے لیے تھا۔( شرح ابن بطال ج ۲ ص ۲۲۲)
حالانکہ امام طحاوی نے اس کا رد کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ ٹھنڈے وقت میں نماز پڑھنے کا حکم عام ہے کیونکہ آپ نے سفر میں بھی ٹھنڈے وقت میں نماز پڑھی ہے (صحیح البخاری:۵۳۹) سو یہ امام طحاوی کی عبارت میں خالص تعریف ہے۔
(۵) علامہ ابن بطال نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہر کا وقت ایک مثل سائے تک ہے اور اس وقت عصر کا وقت داخل نہیں ہوتا، عصر کا وقت دو مثل سائے کے بعد داخل ہوتا ہے اور ایک مثل سے دومثل سائے تک مہمل وقت ہے اس میں کسی نماز کا وقت نہیں ہے۔ (شرح ابن بطال: ۵۲۴)
یہ حسن بن زیاد کی روایت ہے اور یہ امام اعظم کا مذہب نہیں ہے اور نہ اس پر فقہاء احناف کا عمل ہے امام اعظم کا مذہب وہ ہے جس کو امام ابویوسف نے نقل کیا ہے کہ زوال آفتاب سے لے کر دو مثل سائے تک امام ابوحنیفہ کے نزدیک ظہر کا وقت ہے۔
سو یہاں بھی علامہ ابن بطال نے مغالطہ آفرینی کرکے امام ابوحنیفہ قدس سرہ کے خلاف زہر آفرینی کی ہے۔
علامہ بدرالدین عینی بہت عظیم محقق ہیں، امام اعظم کے بہت محب اور معتقد ہیں لیکن انہوں نے علامہ ابن بطال کے اٹھائے ہوئے ان تمام اعتراضات کا جواب نہیں دیا، صرف اس کا جواب لکھا ہے کہ امام اعظم کے نزدیک زوال آفتاب کے وقت ظہر کی نماز فرض نہیں ہے اور وہ بھی مدلل جواب نہیں دیا اور باقی اعتراضات کا ذکر ہی نہیں کیا، شاید قسّام ازل نے یہ سعادت صرف اس ناکارہ اور گناہ گار کے حصہ میں لکھ دی تھی۔
اس حدیث کے آخر میں ہے: ابھی اس دیوار کے وسطہ میں میرے سامنے جنت اور دوزخ پیش کی گئی، پس میں نے اس سے پہلے خیر اور شر کی مثل نہیں دیکھی ۔ حدیث کے اس قطعہ کی مفصل شرح ہم نے صحیح البخاری : ۷۴۹ میں کردی ہے وہاں ملاحظہ فرمائیں۔