٥٣٨ – حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، عَنْ اَبی سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ابْرِدُوا بِالظُّهْرِ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّم،َ تَابَعَة سفیان وَيَحْيَى، وَأَبُوعَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَش۔

طرف الحدیث : 3259

جامع المسانيد لابن الجوزی: ۲۲۱۰ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عمر بن حفص نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں الاعمش نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوصالح نے حدیث بیان کی از حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھو کیونکہ گرمی کی شدت دوزخ کے جوش سے ہے۔ سفیان اور یحیی اور ابوعوانہ نے الاعمش سے روایت کرنے میں حفص بن غیاث کی متابعت کی ہے۔

حضرت خباب کی حدیث ظہر کوٹھنڈے وقت میں پڑھنے کے خلاف ہے، اس کی توجیہات

اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ حضرت خباب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے گرمی کی شدت کی شکایت کی تو آپ نے ہماری شکایت کو زائل نہیں کیا۔ ( صحیح مسلم: ۶۱۹ الرقم المسلسل : 1291 )

علامہ یحیی بن شرف نووی متوفی ۶۷۶ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

بعض فقہاء نے یہ کہا ہے کہ مستحب یہ ہے کہ ظہر کو گرمیوں کی شدت میں بھی پہلے وقت میں پڑھا جائے اور اگر ظہر کو مؤخر کرکے ٹھنڈے وقت میں پڑھا تو اس کی بھی رخصت ہے اور ہمارے بعض اصحاب اور دوسرے فقہاء نے کہا ہے کہ ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنے کی حدیث سے یہ حدیث منسوخ ہے اور دوسرے فقہاء نے یہ کہا ہے کہ ظہر کو ٹھنڈے وقت میں پڑھنا مستحب ہے یہی قول مختار ہے اور رہی حضرت خباب کی حدیث تو وہ اس پر محمول ہے کہ انہوں نے ٹھنڈے وقت میں زیادہ تاخیر کو طلب کیا تھا حتی کہ دیواروں کا اتنا زیادہ سایا ہوجائے، جس میں وہ آرام سے نماز پڑھنے مسجد میں جاسکیں، یہی جمہور فقہاء کا قول ہے، جمہور صحابہ کا بھی یہی موقف ہے۔

کیونکہ اس سلسلہ میں بہت احادیث وارد ہیں اور نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فعل بھی ہے اور آپ نے اس کا حکم بھی دیا ہے۔

( شرح صحیح مسلم بشرح نووی ج ۳ ص ۱۹۷۴ مکتب نزار مصطفی الباز مکه مکرمه 1417ھ)