٥٤٥ – حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْتُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا، لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا. وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ مِنْ قَصْرِ حُجْرَتِهَا.۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از عروہ از حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور دھوپ حضرت عائشہ کے حجرہ میں تھی اور سایہ ان کے حجرہ سے نہیں نکلا تھا۔ ابواسامہ نے از ہشام روایت کیا: ان کے حجرہ کے اندر سے۔

اس حدیث کی شرح بھی صحیح البخاری: ۵۲۲ میں گزر چکی ہے۔

عصر کا اول وقت سایہ ثابت کرنے کے لیے علامہ عینی کا ایک حدیث سے استدلال ۔۔۔۔۔۔ اور اس پر مصنف کا تبصرہ

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ لکھتے ہیں:

علامہ قرطبی نے کہا ہے کہ عصر کے وقت میں سب نے امام ابوحنیفہ کی مخالفت کی ہے حتی کہ ان کے اصحاب نے بھی ان کی مخالفت کی ہے امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ دو مثل سائے سے عصر کا وقت شروع ہوتا ہے اور ائمہ ثلاثہ اور امام ابویوسف اور امام محمد نے کہا ہے کہ ایک مثل سائے سے عصر کا وقت شروع ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ جب امام ابوحنیفہ کا استدلال حدیث سے ہے تو لوگوں کی مخالفت ان کو مضر نہیں ہے، امام ابن ابی شیبہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو عصر کی نماز پڑھائی جس وقت ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوگیا تھا، جتنی دیر میں کوئی اونٹ سوار ذو الحلیفہ کی طرف جاتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۳۲۲۶)۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص 49،  دارالکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)

میں کہتا ہوں کہ یہ ایک طویل حدیث ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دن پانچ نمازیں پڑھیں، پہلے دن ہر نماز اول وقت میں پڑھی اور دوسرے دن ہر نماز آخر وقت میں پڑھی سو پہلے دن عصر کی نماز ایک مثل سائے کے وقت پڑھی اور دوسرے دن دو مثل سائے کے وقت عصر پڑھی۔ علامہ عینی نے صرف دوسرے دن عصر کی نماز پڑھنے کا وقت لکھا اور پوری حدیث ذکر نہیں کی اور اس سے یہ تاثر دیا ہے کہ دو مثل سایہ عصر کا اول وقت ہے حالانکہ حدیث میں اس کا آخر وقت فرمایا ہے۔ امام اعظم کا مذہب دوسرے صحیح دلائل سے ثابت ہے لہذا علامہ عینی کو حدیث کے اس نامکمل ٹکڑے سے استدلال کرنے کی ضرورت نہ تھی۔