٥٤٨ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ،عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَنَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ۔

اطراف الحدیث: ۵۵۰، ۵۵۱، 7329 

صحیح مسلم: ۶۲۱، سنن نسائی: ۵۰۲، مصنف عبدالرزاق: 2069، مسند ابویعلی: 3604، سنن بیہقی ج ۱ ص 440، صحیح ابن حبان: 1520، سنن دارقطنی ج ۱ ص ۲۵۳، شرح السنہ: 366، موطا امام مالک: ۱۱، ج ۱ ص ۳۶، دار المعرفۃ: 1420ھ، مسند احمد ج ۳ ص 161 طبع قدیم، مسند احمد: 12644، ج ۲۰ ص ۸۷، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبد اللہ بن مسلمہ نےحدیث بیان کی از امام مالک از اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا: ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے پھر کوئی انسان بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں جاتا تو ان لوگوں کو وہاں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔

حدیث مذکور کے رجال

(۱) عبد اللہ بن مسلمہ القعنبی 

۲) امام مالک بن انس

(۳) اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ، ان کا نام زید بن سہل انصاری ہے، یہ حضرت انس بن مالک کے بھتیجے ہیں، ان کی کنیت ابو یحییٰ ہے، یہ ۱۴۳ھ میں فوت ہو گئے تھے، الواقدی نے کہا: امام مالک ان کو حدیث میں سب پر مقدم رکھتے تھے

(۴) حضرت انس رضی اللہ عنہ ۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص ۵۲)

بنو عمرو بن عوف کے لوگوں کا عصر کو مؤخر کرکے پڑھنا

اس حدیث میں مذکور ہے: کوئی انسان عصر پڑھ کر بنو عمرو بن عوف کے محلہ میں جاتا تو وہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ لوگ عصر کو اول وقت سے مؤخر کرکے پڑھتے تھے کیونکہ وہ لوگ کاشت کاری کرتے تھے۔

* باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۱۳۱۱۔ ج ۲ ص 244 پر مذکور ہے اس کی شرح کے یہ عنوان ہیں:

(۱) عصر میں تاخیر کا استحباب (۲

) ائمہ ثلاثہ کی احادیث کے جوابات۔