کتاب مواقیت الصلوۃ باب 13 حدیث نمبر 549
۵۴۹۔ حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُاللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُوبَكْرِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حَنِيفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدالْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْن مَالِكٍ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَقُلْتُ يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ الْعَصْرُ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ.
صحیح مسلم: ۶۲۲، سنن ابوداؤد: 404، سنن نسائی: ۵۰۳، سنن ابن ماجہ: ۶۸۲، مسند احمد ج ۳ ص ۱۶۱ طبع قدیم)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابن مقاتل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوبکر بن عثمان بن سہل بن حنیف نے خبر دی انہوں نے بیان کیا: میں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ ہم نے عمر بن عبد العزیز کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی پھر ہم باہر نکلے حتی کہ ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے وہ اس وقت عصر کی نماز پڑھ رہے تھے میں نے کہا: اے میرے چچا! آپ نے یہ کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: عصر کی اور یہی رسول اللہ ﷺ کی وہ نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھتے تھے۔
حدیث مذکور کے رجال
(۱) ابن مقاتل ،ان کا نام محمد بن مقاتل ابو الحسن المروزی ہے یہ مکہ کے مجاور تھے
(۲) عبد اللہ، یہ عبد اللہ بن المبارک ہیں
(۳) ابوبکر بن عثمان بن سہل بن حنیف یہ الانصاری الاوسی ہیں انہوں نے اپنے چچا ابوامامہ سے سماع کیا ہے
(۴) حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ ان کا نام اسعد بن سہل ہے، یہ نبی ﷺ کے عہد میں پیدا ہوئے صحیح قول کے مطابق یہ صحابی ہیں ۱۰۰ھ میں یہ فوت ہوگئے تھے۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص ۵۲)
عمر بن عبدالعزیز کے تاخیر سے عصر کی نماز پڑھنے کی توجیہ
اس حدیث میں مذکور ہے: ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ ان کا گھر مسجد کے پڑوس میں تھا حضرت ابوامامہ نے ان کو تعظیم سے کہا: اے میرے چچا! ورنہ وہ آپ کے چچا نہ تھے انہوں نے کہا: آپ اس وقت میں کیسی نماز پڑھ رہے ہیں؟
علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ۶۷۶ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
صحیح مسلم: ۶۲۱ اور ۶۲۲ اس باب میں صریح ہیں کہ عصر کی نماز کو اول وقت میں پڑھنا چاہیے اور اس کا وقت ایک مثل سائے پر داخل ہوتا ہے اسی وجہ سے دوسرے فقہاء اس وقت تک ظہر کو مؤخر کرتے ہیں عمر بن عبدالعزیز نے نماز کو اس لیے مؤخر کیا تھا کہ ان سے پہلے حکام کی یہی عادت تھی اس وقت تک ان کو یہ سنت نہیں پہنچی تھی کہ عصر کی نماز کو مقدم کرنا چاہیے اور جب ان کو یہ سنت پہنچ گئی تو وہ عصر کی نماز کو جلدی پڑھتے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے کسی عذر یا مشغولیت کی وجہ سے نماز کو مؤخر کیا ہو، پہلی تاویل راجح ہے کیونکہ اس وقت عمر بن عبدالعزیز مدینہ کے حاکم نہ تھے کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ عمر بن عبدالعزیز کی خلافت سے 9 سال پہلے فوت ہوگئے تھے۔ (صحیح مسلم بشرح النووی ج ۳ ص 1986 مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ۱۴۱۷ھ)