کتاب مواقیت الصلوۃ باب 16 حدیث نمبر 554
۱۶ – بَابُ فَضْلِ صَلٰوۃِ الْعَصْرِ
نماز عصر کی فضیلت
اس سے پہلے باب میں عصر نہ پڑھنے کا گناہ بیان کیا گیا تھا اور اس باب میں عصر پڑھنے کا ثواب بیان کیا گیا ہے اور یہ ان دونوں بابوں کے درمیان واضح مناسبت ہے۔
۵۵۴ – حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ جَرِيرِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَظَرَ إِلَى الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ فَقَالَ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُم كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لَا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَى صَلَاةٍ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا فَافْعَلُوا. ثُمَّ قَرَأَ (وَسَبِّح بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوب)(ق:39) قَالَ إِسْمَاعِيلُ افْعَلُوا لَا تَفُوتَنَّكُم.
اطراف الحدیث: 563-4851، 7434-7435-7436 ]
(صحیح مسلم: ۶۳۳، الرقم المسلسل: 1407، سنن ابوداؤد: 4729، سنن ترمذی: ۲۵۵۱، السنن الکبریٰ للنسائی: 460، سنن ابن ماجہ: 177، المعجم الکبیر: ۲۲۲۵، تاریخ بغداد ج ۱۰ ص ۴۶۸، مسند الحمیدی: 799، مسند احمد ج ۴ ص ۳۶۰ طبع قدیم، مسند احمد: ۱۹۱۹۰، ج ۳۱ ص ۵۲۶، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی: ۱۲۳۲، المکتبۃ الرشدیۃ ریاض 1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں الحمیدی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں مروان بن معاویہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی از قیس از حضرت جریر رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے آپ نے ایک رات چاند کی طرف دیکھا یعنی ماہ تمام کی شب میں پھر آپ نے فرمایا: بے شک تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جس طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو تمہیں اس کو دیکھنے میں کوئی مشقت نہیں ہوگی اگر تم یہ کرسکتے ہو کہ طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے نماز پڑھنے سے مغلوب نہ ہو تو یہ (ضرور) کرو۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: آپ طلوع آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب سے پہلے (نماز میں) اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح پڑھیے۔ (ق: ۳۹) اسماعیل نے کہا: یہ کرو، یہ تم سے فوت نہ ہو۔
حدیث مذکور کے رجال
(۱) الحمیدی، ان کا نام عبداللہ بن الزبیر بن عیسیٰ بن عبداللہ بن الزبیر بن عبداللہ بن حمید ہے یہ اپنے دادا حمید القرشی المکی کی طرف منسوب ہیں یہ ۲۱۹ھ میں فوت ہوگئے
(۲) مروان بن معاویہ بن الحارث الفزاری یہ دمشق میں ۱۹۳ھ میں فوت ہو گئے تھے ان کی وفات ۸ ذوالحج سے پہلے اچانک ہو گئی تھی
(۳) اسماعیل بن خالد
(۴) قیس بن ابی حازم
(۵) حضرت جریر بن عبداللہ بن جابر البجلی رضی اللہ عنہ ۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص 60)
اللہ تعالیٰ کو آخرت میں دیکھنے کی تحقیق
قرآن مجیدکی آیات، حدیث مذکور، اس قسم کی دیگر احادیث، صحابہ کرام اور ان کے بعد تابعین اور تبع تابعین کے اجماع سے یہ ثابت ہے کہ مؤمنین آخرت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔
معتزلہ، خوارج اور بعض مرجئہ نے کہا ہے کہ مؤمنین آخرت میں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھیں گے ان کا استدلال حسب ذیل آیات سے ہے:
معتزلہ وغیرہ کا اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھنے پر قرآن مجید سے استدلال اور ان کے جوابات
(۱) لَا تُدْرِکُہُ الْأَبْصَارُ وَھُوَ یُدْرِکُ الْأَبْصَارَ(الانعام:103)
آنکھیں اللہ کا ادراک نہیں کرسکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے۔
معتزلہ کہتے ہیں: جب آنکھیں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتیں تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنا ممکن نہیں ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں جن آنکھوں کے دیکھنے کی نفی ہے اس سے مراد کفار کی آنکھیں ہیں یا اس سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں کسی کی آنکھیں بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتیں اور آخرت میں کفار کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکیں گی یا مراد یہ ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ جلال اور غضب میں ہوگا اس وقت کوئی آنکھ اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکے گی اور بعد میں جب اللہ تعالیٰ مہربان ہوگا اور شفاعت کا اذن دے گا اس وقت تمام مؤمنین اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے۔
(۲) حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اللہ تعالیٰ سے عرض کیا: رَبِّ أَرِنِی أَنْظُرْ إِلَیْكَ “اے میرے رب! مجھے اپنی ذات دکھائیں میں تیری طرف دیکھوں گا” تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: لَنْ تَرَانِی (الاعراف: ۱۴۳) آپ مجھے نہیں دیکھ سکیں گے۔
عربی میں لَن، مستقبل میں دائمی نفی کے لیے آتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کبھی بھی اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکیں گے اور جب حضرت موسیٰ ایسے نبی اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتے تو عام مؤمنین تو بہ طریق اولیٰ نہیں دیکھ سکتے!
اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں بہ طور احاطہ دیکھنے کی نفی ہے، یعنی حضرت موسیٰ اور دوسرے مؤمنین بھی اللہ تعالیٰ کو اس طرح نہیں دیکھ سکتے کہ اس کی ذات کا احاطہ کرلیں۔
(۳) وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُكَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا (الشورى: ۵۱)
اور کسی بشر کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اللہ سے کلام کرے مگر وحی سے یا پردے کی اوٹ سے یا اللہ کوئی فرشتہ بھیجے ۔
وہ کہتے ہیں: یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص بھی اللہ سے کلام کرے گا، وہ اسے نہیں دیکھے گا اور جب کلام کے وقت اللہ کو نہیں دیکھے گا تو کلام کے بغیر بھی اللہ کو نہیں دیکھے گا کیونکہ کوئی بھی فصل کا قائل نہیں ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ قاعدہ دنیا پر محمول ہے یعنی دنیا میں اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوتے وقت کوئی اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھتا اور ہم اس کے قائل ہیں کہ مؤمنین آخرت میں اللہ تعالیٰ کو دیکھیں گے۔
(۴) جن لوگوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے دیدار کو طلب کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت کی:
وَإِذْ قُلْتُمْ يَمُوسَىٰ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّعِقَةُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ (البقرہ: ۵۵)
اور جب تم نے کہا: اے موسیٰ! ہم آپ کے لیے ہرگز ایمان نہیں لائیں جب تک ہم اللہ کو کھلم کھلا دیکھ نہ لیں، پھر تم کو ایک کڑک (کے عذاب) نے پکڑلیا اور تم اس کا مشاہدہ کررہے تھے ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ان پر عذاب اس لیے آیا تھا کہ انہوں نے سرکشی اور عناد سے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کو آخرت میں دیکھنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات
(۱) وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ (۲۲) إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَة ٌ (القیامہ: ۲۳-۲۲)
اس دن بعض چہرے تروتازہ ہوں گے، اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے ۔
(۲) كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُون َ (المطففین: ۱۵)
ہرگز نہیں! یہ کفار اس دن اپنے رب سے حجاب میں ہوں گے ۔
یہ آیت اس کو مستلزم ہے کہ قیامت کے دن مؤمنین اپنے رب سے حجاب میں نہیں ہوں گے بلکہ اس کو دیکھ رہے ہوں گے، ورنہ یہ آیت کفار کے لیے باعث حسرت اور افسوس نہ ہوتی، وہ کہتے: ہماری کیا خصوصیت ہے، مؤمنین بھی اپنے رب سے حجاب میں ہیں۔
معتزلہ کی عقلی دلیل کا جواب
معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ کسی چیز کے دکھائی دینے کے لیے یہ قاعدہ ہے کہ وہ دیکھنے والے کے مقابل جانب ہو، اگر اللہ تعالیٰ دکھائی دے گا تو ضروری ہے کہ وہ مؤمنین کی مقابل جانب میں ہو اور اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے کہ وہ کسی جہت اور جانب میں ہو اس کا جواب یہ ہے کہ تم بھی قائل ہو کہ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے اور مخلوق اس کو دکھائی دیتی ہے، لہذا تمہارے اس قاعدہ سے لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کی جانب مقابل میں ہوا اور اب اس اعتراض سے صرف اسی طرح چھٹکارا مل سکتا ہے کہ یہ قاعدہ کہ دکھائی دینے والا دیکھنے والے کی جانب مقابل میں ہو مخلوق کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ کے دیکھنے اور دکھائی دینے دونوں میں اس قاعدہ کا پابند نہیں ہے۔
حدیث مذکور کے دیگر فوائد
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فجر اور عصر کی نماز پڑھنے کی زیادہ فضیلت ہے، فجر کی نماز کی اس وجہ سے فضیلت ہے کہ اس وقت انسان نیند کو ترک کرکے نماز کے لیے جاتا ہے اور یہ نفس پر دشوار ہوتا ہے اور عصر میں اس لیے کہ وہ وقت کاروبار میں مشغولیت کا ہوتا ہے اور کاروبار کو چھوڑ کر نماز کے لیے جانا بھی نفس پر دشوار ہوتا ہے، اس لیے فجر اور عصر کی نمازوں میں فضیلت ہے اور اس لیے بھی کہ ان دونوں نمازوں کے وقتوں میں رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں اور وہ دونوں اس کے نماز میں مشغول ہونے کو لکھ لیتے ہیں۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی امید اسی شخص کو رکھنی چاہیے جو ان دونوں نمازوں کی حفاظت کرتا ہے۔