۵۵۵ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ حَدَّثَنَا  مَالِکٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ يَتَعَاقَبُونَ فِیکُمْ مَلَائِکَةٌ بِاللَّیْلِ وَمَلَائِکَة بِالنَّهَارِ، وَیَجْتَمِعُونَ فِي صَلَوٰةِ الْفَجْرِ وَصَلٰوةِ الْعَصْر ثُمَّ یَعْرُجُ الَّذِینَ بَاتُوا فِیکُمْ، فَیَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِم کَیْفَ تَرَکْتُمْ عِبَادِي؟ فَیَقُولُونَ تَرَکْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَیْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ۔

اطراف الحدیث: ۳۲۲۳، 7429، ۷۴۸۶]

صحیح مسلم: ۶۳۲، الرقم المسلسل: 1405، سنن نسائی: ۴۸۱، مؤطا امام مالک: 420، ج ۱ ص 167، دارالمعرفہ بیروت، صحیح ابن حبان: 1737، شرح السنہ: ۳۸۰، مسند ابویعلی: ۶۳۳۰، سنن بیہقی ج ۱ ص 465، تاریخ بغداد ج ۸ ص ۳۰۵، مسند احمد ج ۲ ص 486 طبع قدیم، مسند احمد: ۱۰۳۰۹، ج ۱۶ ص ۲۰۹، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی: 4981، مکتبۃ الرشد ریاض 1426ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے حدیث بیان کی از ابی الزناد از الاعرج از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے باری باری آتے ہیں اور وہ فجر کی نماز میں اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں، پھر جن فرشتوں نے تمہارے ساتھ رات گزاری تھی وہ اوپر چڑھ جاتے ہیں اللہ ان سے سوال کرتا ہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہیں گے کہ ہم نے ان کو اس حال میں چھوڑا کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس آئے تھے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔

حدیث مذکور کی سند میں پانچ رجال ہیں اور ان کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔

باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: فرشتے فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔

فرشتوں کے باری باری آنے کی کیفیت اور قرآن مجید میں صرف فجر کے وقت کے ذکر کی توجیہ

حافظ یوسف بن عبد البر المالکی القرطبی المتوفی ۴۶۳ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فرشتے نمازوں میں حاضر ہوتے ہیں، زیادہ ظاہر یہ ہے کہ وہ جماعت میں حاضر ہوتے ہیں، اگرچہ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ بغیر جماعت سے پڑھی جانے والی نماز میں بھی حاضر ہوتے ہیں، اس حدیث میں مذکور ہے: وہ باری باری حاضر ہوتے ہیں یعنی فرشتوں کی ایک جماعت حاضر ہوتی ہے اس کے بعد دوسری جماعت حاضر ہوتی ہے۔

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ دن کے فرشتے صبح کی نماز میں نازل ہوتے ہیں؛ پھر بنی آدم کے اعمال کا شمار کرتے ہیں اور جن فرشتوں نے بنو آدم کے پاس رات گزاری تھی وہ اوپر چڑھ جاتے ہیں اور جب عصر کا وقت ہوتا ہے تو رات کے فرشتے نازل ہوتے ہیں اور انسانوں کے اعمال کا شمار کرتے ہیں اور دن کے فرشتے اوپر چڑھ جاتے ہیں؛ پھر اسی طرح باری باری فرشتے آتے جاتے رہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے:

وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا (بنی اسرائیل: ۷۸)

اور فجر میں قرآن پڑھنا بے شک فجر میں قرآن پڑھنے کے دوران فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔

فجر کا اس لیے خصوصیت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے کہ فجر کی نماز میں بلند آواز سے قرآن پڑھا جاتا ہے اس کے برخلاف عصر کی نماز میں قرآن آہستہ پڑھا جاتا ہے اگرچہ فرشتے فجر اور عصر دونوں نمازوں میں حاضر ہوتے ہیں۔ (تمہید ج ۷ ص ۴۶۲ ۔ ۴۶۳ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۹ھ)

فرشتوں کا بنو آدم کی عبادت کا اعتراف کرنا

اللہ تعالیٰ فرشتوں سے سوال فرماتا ہے: تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ کہتے ہیں: جب ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور جب ہم ان کے پاس سے آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اللہ تعالیٰ فرشتوں کے اس جواب سے فرشتوں پر حجت فرماتا ہے کہ تم نے آدم کے پیدائش کے وقت کہا تھا کہ اس کی اولاد زمین میں فتنہ اور فساد کرے گی خون ریزی کرے گی اور اب فرشتوں کی زبان سے یہ اعتراف کراتا ہے کہ ہم بنو آدم کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس سے آئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔

* باب مذکور کی حدیث، شرح صحیح مسلم: ۱۳۳۱، ج ۲ ص 254 پر مذکور ہے اس کی شرح میں دیدار الٰہی کی تحقیق، اور عصر اور فجر میں فرشتوں کے اجتماع کی خصوصیت بیان کی گئی ہے۔