اسرائیلی الیکشن : ایک جائزہ
sulemansubhani نے Saturday، 31 October 2026 کو شائع کیا.
____اسرائیلی الیکشن : ایک جائزہ !!
غلام مصطفیٰ ہاشمی نعیمی
روشن مستقبل دہلی
اسرائیل میں اس بار پارلیمانی انتخاب بڑا دل چسپ نتیجہ لیکر آیا ہے۔ایک سو بیس رکنی پارلیمنٹ میں اکثریت کے لیے 61 سیٹیں درکار تھیں لیکن تاریخ کے بدترین ظالم نتن یاہو کا سیاسی بلاک تمام تر سازشوں/کوششوں کے باوجود 53 سیٹ ہی جیت سکا۔اس طرح وہ اکثریت سے آٹھ سیٹیں دور رہ گیا۔اس کے مقابلے گادی آئزنکوٹ کا سیاسی بلاک بھی تمام تر کوششوں کے باوجود 48 سیٹ پر ہی رک گیا۔اس طرح ملک کے دونوں بڑے سیاسی بلاک اکثریت حاصل کرنے سے دور رہ گیے۔ان دونوں سیاسی بلاک کے مقابل عرب جماعتوں پر مشتمل سیاسی بلاک بھی میدان میں تھا۔جسے اس بار مثالی کامیابی اور 19 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔اس طرح کسی بھی بلاک کو واضح اکثریت نہیں ملی اب اقتدار کی چابی عرب جماعتوں کے ہاتھ میں ہے۔
______اسرائیل کا سیاسی نظام
اسرائیل سخت گیر یہودی ملک ہے۔جہاں صیہونی نظریات غالب ہیں۔حکومتی نظام جمہوری ہے۔اقتدار کا اصل چہرہ ہمارے ملک کی طرح وزیر اعظم ہی کا ہوتا ہے۔اسرائیلی انتخاب میں ووٹ امیدوار کو نہیں بل کہ براہ راست پارٹی کو دیا جاتا ہے۔ووٹوں کے تناسب سے ہی کسی پارٹی کی سیٹیں طے ہوتی ہیں۔پارلیمنٹ میں داخلے کے لیے کم از کم 3.25 فیصد ووٹ حاصل کرنا لازم ہوتا ہے۔جس قدر ووٹ فیصد بڑھتا جائے گا سیاسی جماعت کی سیٹیں بھی بڑھتی جائیں گی۔سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کی فہرست پہلے ہی جاری کر دیتی ہیں۔ووٹوں کے تناسب ہی سے امیدوار منتخب کیے جاتے ہیں۔یہی ارکان پارلیمنٹ بعد میں وزیر اعظم کا انتخاب کرتے ہیں۔یعنی اسرائیل میں انفرادی امیدوار کی جگہ براہ راست پارٹی کو ووٹ کیا جاتا ہے۔اسرائیلی پارلیمنٹ کی مدت چار سال ہوتی ہے۔جو کبھی کبھار سیاسی حالات کی بنا پر وقت سے پہلے بھی تحلیل ہو جاتی ہے۔
_______عرب جماعتیں اور ان کا پس منظر
ویسے تو اسرائیل یہودیوں کا قبضایا ہوا ملک ہے لیکن قبضے کے باوجود بہت سارے مسلمان اس خطے میں آباد ہیں۔اسرائیل میں آباد عرب مسلمانوں کی آبادی لگ بھگ ساڑھے اٹھارہ فیصد ہے۔جو ملکی آبادی میں تقریباً اٹھارہ لاکھ سے زائد ہیں۔سب سے زیادہ مسلمان یروشلم میں رہتے ہیں جہاں مسلمانوں کا قبلہ اول مسجد اقصی ہے۔باقی مسلمان ملک کے دیگر خطوں میں مقیم ہیں۔
اسرائیل کی اکثر پارٹیاں سخت گیر مذہبی پس منظر والی ہیں۔جن کے نزدیک یہودیت کی بقا کے لیے ہر ظلم روا اور درست ہے۔اس لیے ان سے عربوں یا مسلمانوں کے لیے کسی خیر کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔اس لیے عربوں نے اپنی سیاسی نمائندگی کے لیے مختلف سیاسی پارٹیاں بنا رکھی ہیں، ان میں سب سے اہم رعام پارٹی ہے۔جسے انگریزی میں Ra’am لکھا جاتا ہے۔اس پارٹی کے سربراہ منصور عباس ہیں۔اسلامی پس منظر رکھتے ہیں اور عرب شہریوں کے لیے تعلیم روزگار اور شہری سہولتوں پر زور دیتے ہیں۔حکومت میں شامل ہو کر اثر انداز ہونے کے حامی ہیں۔
رعام پارٹی کے علاوہ حداش (Hadash) پارٹی بھی ہے۔اس کی سربراہی ایمن عودہ کرتے ہیں۔اس پارٹی میں مسلمانوں کے علاوہ بعض یہودی بھی شامل ہیں۔یہ پارٹی مسلمانوں اور یہودی دونوں کے حقوق کی بات کرتی ہے۔
ایک پارٹی تعال(Ta’al) بھی ہے۔اس کے سربراہ احمد طیبی ہیں۔یہ فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی اور اسرائیل میں مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مساوی شہری حقوق پر زور دیتے ہیں۔سیکولر اقدار کی بات کرتے ہیں۔
بلد (Balad) نامی پارٹی کے سربراہ سامی ابو شہادہ ہیں۔یہ فلسطینی مہاجروں کی وطن واپسی کے حامی ہیں۔یہودیوں کی طرح مسلمانوں کے لیے بھی مساوی حقوق کے علم بردار ہیں۔عرب فلسطینی قومی شناخت پر زور اور مذہب و ریاست کو الگ رکھنے کے حامی ہیں۔
ان چار عرب جماعتوں نے اپنا سیاسی بلاک بنایا اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار 19 سیٹیں جیت کر اپنی دَم دار موجودگی کا احساس کرایا۔
عرب جماعتوں کی جد وجہد اور کوششوں سے یہ سبق ملتا ہے کہ ظالم کتنا ہی طاقت ور ہو لیکن اپنے حقوق کے لیے لڑنے والے کبھی تھک کر نہیں بیٹھتے۔ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔
________حالیہ انتخاب اور نتائج
اسرائیل کا موجودہ وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو ہے۔اس کی پارٹی لیکود(Likud) تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود 27 سیٹ جب کہ دیگر جماعتوں پر مشتمل کا اس کا سیاسی بلاک بھی اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔
نتن یاہو کے مقابلے ایک اور سیاسی بلاک تھا۔جس کی سربراہی گادی آئزنکوٹ کر رہا ہے۔آئزنکوٹ اسرائیلی فوج کا سابق سربراہ رہ چکا ہے۔نظریاتی اعتبار سے نتن یاہو اور آئزنکوٹ میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔دونوں ہی صیہونی نظریات کے حامل ہیں۔فرق طریقہ کار کا ہے۔آئزنکوٹ کی انتخابی مہم نتن یاہو کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے نام پر چلی تھی۔ملک کی اکثریت نتن یاہو کے خلاف تھی اس لیے نئی پارٹی ہونے کے باوجود آئزنکوٹ کو ملک میں کافی پذیرائی ملی لیکن واضح اکثریت اسے بھی نہیں ملی اور اس کا سیاسی بلاک بھی 48 سیٹ پر ہی رک گیا۔ان دنوں بلاک کی رسا کشی کے درمیان اصل محنت عرب پارٹیوں نے کی۔انہوں نے 19 سیٹیں جیت کر دونوں ہی گروپس کو اکثریت سے روک دیا۔اب یا تو مذکورہ دونوں گروپ اپنے سیاسی نظریات کو چھوڑ کر اتحاد سے حکومت بنا سکتے ہیں یا انہیں عرب جماعتوں سے اتحاد کرنا پڑے گا۔ان دو صورتوں کے علاوہ تیسری صورت دوبارہ الیکشن میں جانے کی ہے باقی کوئی صورت نہیں ہے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ آئزنکوٹ کے اتحاد میں شامل سبھی پارٹیاں نتن یاہو کی سخت مخالف ہیں۔ان کی انتخابی مہم نتن یاہو کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے نام پر ہی چلی ہے۔ایسے میں ان دونوں فرنٹ کا ایک ساتھ آنا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔
______ایک اہم تبدیلی
ویسے تو نتن یاہو کی طرح اسرائیل کی سبھی پارٹیاں صیہونی مزاج رکھتی ہیں لیکن عوام الناس میں نتن کے خلاف اس قدر جذبات ہیں کہ لوگ آئزنکوٹ سے عرب جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے اور نتن یاہو کو بے دخل کرنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔The Jerusalem Post کی خبر کے مطابق 29 اکتوبر کو مظاہرین نے آئزنکوٹ کے گھر کے سامنے ایک بڑا احتجاج کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ نتن یاہو کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے پہلی فرصت میں عرب پارٹیوں سے اتحاد کریں اور رعام پارٹی کے منصور عباس کو کابینہ کا حصہ بنائیں۔یروشلم پوسٹ کے ایک سروے کے مطابق 61 فیصد لوگوں نے عرب جماعتوں سے اشتراک کر حکومت بنانے کی حمایت کی ہے جب کہ بیس فیصد عوام نے دوبارہ انتخاب کی بات کی ہے۔نتن یاہو کے حامیوں کی تعداد صرف 12 فیصد ہے۔اس سروے سے عوام کے مزاج اور نتن یاہو کی عدم مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
حالات پل پل بدل رہے ہیں۔جو نتن یاہو غزہ کو برباد کرکے پھولے نہیں سما رہا تھا۔اسے لگتا تھا کہ غزہ کی بربادی اس کی انتخابی کامیابی پر مہر لگا دے گی۔آج وہ ظالم اپنی ناکامی کے لیے ووٹ چوری اور غیر ملکی فنڈنگ جیسے الزام لگا کر اپنی خفت مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔یہودی عوام ہی اسے اقتدار سے دور رکھنے کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔
ابھی حتمی طور پر کچھ کہنا جلد بازی ہوگی لیکن عرب پارٹیوں کے سربراہان اور عرب عوام کی تعریف کرنا ہوگی جنہوں نے اسرائیل جیسے ملک میں رہتے ہوئے بھی حقوق کی لڑائی جاری رکھی۔آج اسی جدو جہد کی بدولت عرب پارٹیاں ایک فیصلہ کن مرحلے پر کھڑی ہوئی ہیں۔ہو سکتا ہے کہ یہاں سے کوئی خیر کا پہلو نکلے جس سے فلسطینی مسلمانوں کو راحت نصیب ہو۔
19 جمادی الاولی 1448ھ
31 اکتوبر 2026 بروز ہفتہ
