یونان

ساسانی خاندان کے طویل عہدِ حکومت میں ایران کی سیاسی ، مذہبی ، اخلاقی اور معاشی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ قارئین کو معلوم ہوجائے کہ آفتابِ اسلام کے طلوع ہونے سے قبل اس عظیم مملکت کے شہری کس قسم کی زندگی بسر کیا کرتے تھے اس کے بعد اس وقت کی مشہور دوسری عالمی طاقت یعنی سلطنت ”رومہ“ اور اس میں بسنے والے شہریوں کی زندگی کے مختلف گوشوں کے بارے میں کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں لیکن چونکہ رومی یونانیوں کے جانشین ہیں ان کے سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظریات بڑی حد تک یونانی حکماء کے نظریات سے متاثر ہیں اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اختصار کے ساتھ یونان اور اہل یونان کا بھی تذکرہ کردیا جائے کیونکہ یہی وہ خطہ ہے جہاں کے نابغۂ روزگار فضلاء نے علم و حکمت کی قندیلیں روشن کیں اور تہذیب و تمدن کا وہ تصور پیش کیا جس کی روشنی سے وہ خطہ اس وقت جگمگانے لگا جب کہ سارا یورپ جہالت اور توہم پرستی کی تہ در تہ تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا۔

یونانی تہذیب کی تشکیل میں اس کے محل وقوع کا بہت بڑا حصہ ہے یونان کا خطہ بحرِ روم کے شمالی ساحل پر واقع ہے یہ مختلف پہاڑوں کے سلسلوں کا مجموعہ ہے ۔ جن کے درمیان وادیاں ہیں۔ جن میں کھیتی باڑی کی جاسکتی ہے دشوار گزار پہاڑوں کی وجہ سے باہمی آمد و رفت از حد دشوار اور کٹھن تھی اس لئے اس وقت کے ناقص نظامِ مواصلات اور آمد و رفت کے ذرائع کے فقدان کے باعث ایک متحدہ حکومت قائم کرنا بہت مشکل تھا ۔ اسی وجہ سے یونان کا خطہ بیشمار چھوٹی چھوٹی شہری ریاستوں پر مشتمل تھا وہ اپنے داخلی اور خارجی معاملات میں کافی حد تک آزاد تھیں زراعت صرف پہاڑوں کے درمیان وادیوں میں ہوسکتی تھی اس لئے مزروعہ رقبہ بہت محدود تھا اجناسِ خوردنی اتنی مقدار میں پیدا کی جاسکتی تھیں جن سے وہاں کے باشندے بمشکل گزر اوقات کرسکتے تھے۔ بحرِ روم کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی بارشیں عموماً ماہِ مئی سے ماہِ ستمبر تک کے درمیانی عرصہ میں ہوتی ہیں۔ گرمی کا موسم کافی طویل ہوتا ہے دھوپ بہت تیز ہوتی ہے مگر سمندری ہواؤں کے باعث گرمی ناقابلِ برداشت نہیں ہوتی وادیاں اور میدان پہاڑوں سے محصور ہیں موسمِ برسات میں ان دریاؤں اور ندیوں میں طغیانی آجاتی ہے اور پانی تیزی سے بہہ جاتا ہے موسمِ برسات کے بعد یہ ندیاں نالے یا تو بالکل خشک ہوجاتے ہیں یا ان میں برائے نام پانی رہ جاتا ہے۔

آبادی کی ضرورت مقامی چشموں سے پوری ہوتی ہے لیکن چشموں کا پانی اتنا زیادہ نہیں ہوتا جس سے کاشتکاری کی جاسکے۔

بحرِ روم کے ساحل پر ہونے کی وجہ سے وہاں کے مہم جو اور حوصلہ مند شہری بحری تجارت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے اور بحری قزاقی بھی ان کا ایک محبوب مشغلہ تھا سکندرِ اعظم کے زمانہ تک یہی کیفیت رہی لیکن اس عظیم فاتح نے مقدونیہ کی چھوٹی سی ریاست کو وہ عروج بخشا کہ یونان کی تمام چھوٹی چھوٹی شہری ریاستیں اس کی باج گزار بن گئیں۔ سکندر نے اپنی فتوحات کا سلسلہ یہاں تک وسیع کیا کہ اس کی فوجیں پنجاب تک اپنی فتح کے علم گاڑتی ہوئی بڑھتی چلی گئیں اور یونان ایک بہت بڑی سلطنت کا مرکز بن گیا۔

قدیم یونان کے حالات معلوم کرنے کے لئے ”ہومر“ کی دو رزمیہ نظمیں ایلیڈ (ALIAD) اور اوڈیسی (ODY SSEY) قابلِ اعتماد ماخذ ہیں جن کا زمانہٴ تالیف آٹھویں یا نویں صدی قبلِ مسیح ہے۔

یونان کے مذہبی عقائد

ان دو نظموں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یونانی دیوتاؤں کے ایک وسیع خاندان سے اپنی مذہبی عقیدت رکھتے تھے دیوتاؤں کا یہ خاندان کوہِ اولیمپس کی برف پوش بلندیوں پر سکونت پذیر تھا دیوتاؤں کے اس خاندان کی حکومت زیوس (ZEUS) اور اس کی بیوی ہیرا (HERA) کے ہاتھ میں تھی۔ یہ دیو تا انسانی معاملات میں مداخلت کرتے رہتے تھے مختلف شعبہ ہائے حیات مختلف دیوتاؤں کے سپرد تھے سمندروں کے دیوتا کا نام پوسیڈن (POSEIDON) تھا- ہیفا اسٹس (HEPHAE STOS) اسلحہ سازی کا دیوتا تھا۔ سورج کی حرکات کو اپولو (APOLLO) سے منسوب کیا جاتا تھا۔ اپولو دیوتا کی رائے کا ان کے نزدیک خاص احترام تھا

جب تک اپولو سے شگون نہ لے لیتے نہ جنگ شروع کرتے نہ آباد کاری کی مہم پر روانہ ہوتے اور نہ کسی اور بڑے کام کی طرف قدم اٹھاتے۔ اپولو کا اصل مرکز ڈلفی میں تھا وہاں ایک پجارن ایک شگاف کے اوپر تپائی رکھ کر بیٹھ جاتی تھی اس کے اندر سے عجیب وغریب بخارات اٹھتے تھے اس پر ایک گونہ بے خودی کی کیفیت طاری ہوتی وہ بڑبڑاتی لیکن الفاظ سمجھ میں نہ آتے اس کے پاس ایک پجاری کھڑا رہتا جو اس کی بات کا ترجمہ نظم میں کر دیتا۔ یہی ڈلفی کے مندر کا شگون تھا عموماً یہ شگون مبہم انداز میں پیش کیا جاتا۔

حکمت کی دیوی کا نام ایتھینا (ATHENA) تھا یہ انسان کو عقل و دانش سے بہرہ ور کرتی تھی۔

جنگ کے دیوتا کا نام ایریز (ARES) تھا اس کی مدد سے جنگ میں فتح نصیب ہوتی تھی۔

محبت کی دیوی کا نام ایفروڈائٹ تھا (APHRODITE) اور ان کے نزدیک محبت میں وہی کامیاب ہوتا جس پر یہ مہربان ہوتی خداؤں کا یہ خاندان اخلاق و کردار کے اعتبار سے ہرگز قابلِ رشک نہ تھا بلکہ یہ سرکش حریفوں اور جھگڑالو افراد کا ایک کنبہ تھا جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے دست و گریبان رہتے اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکاتے رہتے تھے۔

اہلِ ایتھنز کی ضعیف الاعتقادی کا ایک عجیب قصہ یونان کے مشہور مورخ ہیروڈوٹس نے بیان کیا ہے وہ ملاحظہ فرمائیے اور دیکھئے کہ علوم فلسفہ اور حکمت میں یدِ طولیٰ رکھنے والی قوم عقائد کے میدان میں کس قدر طفلانہ سوچ کی مالک تھی۔

”اسسٹراٹس“ ایک ظالم اور بدقماش حکمران کو اہل ایتھنز نے معزول کر دیا اور اسے جلا وطن کردیا۔ اس جابر حکمران اور اس کے ندیموں نے ایک خوبصورت عورت تلاش کی جس کا قد چھ فٹ تھا اس عورت کو زرہ بکتر پہنا دی اور اسے سکھا دیا کہ رتھ میں سوار ہونے کے بعد اس نے کیا کچھ کرنا ہے۔ چنانچہ وہ رتھ میں بیٹھ کر شہر میں داخل ہوگئی ہرکارے اس سے پیشتر بھیج دیئے گئے تھے کہ وہ یہ منادی کرادیں ایتھنز کے شہریو! اسسٹرٹس کا استقبال دوبارہ دوستانہ انداز میں کرو منروہ دیوی (ایتھینا) سب سے بڑھ کر اس کی عزت کرتی ہے وہی اسے دوبارہ اپنے شہر میں لائے گی یہ منادی گلی گلی کوچہ کوچہ میں زور شور سے کردی گئی اور علاقہ میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ منروہ دیوی خود اپنے چنے ہوئے آدمی کو واپس لا رہی ہے چنانچہ شہر کے لوگ پوری طرح اس کے قائل ہوگئے کہ وہ عورت واقعی دیوی ہے اور اس کے روبرو زمین بوس ہوگئے اور اسسٹرٹس کو واپس لے لیا گیا۔

ایتھنز کے قریب ایک مکان ”ایلیوسس“ (ELEUSIS) تھا جہاں دنتردیوی کے اعزاز میں خاص رسمیں ادا کی جاتی تھیں یہ زراعت اور بار آوری کی دیوی تھی۔ فصلوں اور زراعت کے اچھا ہونے کا دارومدار اس دیوی کی نظر عنایت پر تھا۔

اہل یونان دیوتاؤں کے مندروں میں بڑے قیمتی نذرانے پیش کرتے تھے اور منقولہ و غیرمنقولہ جائیدادیں ان کے نام وقف کی جاتی تھیں اور جب کوئی خاص مشکل پیش آجاتی تو انسانی قربانی سے بھی دریغ نہ کیا جاتا۔ ایگامیمنون، ٹرائے کی جنگ میں یونانیوں کا سپہ سالار تھا وہ چاہتا تھا کہ دیوی آرٹومس اس پر مہربان ہوجائے جس نے غلط سمت میں ہوائیں چلا کر ٹرائے کے خلاف اس کی مہم میں رکاوٹ پیدا کررکھی تھی چنانچہ اس نے اس دیوی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے اپنی جواں سال بیٹی اینی گنیا کو اس کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا۔ (تاریخ تہذیب حصہ اول از کرین برنٹن وغیرہ ترجمہ غلام رسول مهر صفحه ۹۳-۹۴)

ہر شہر اور ہر آبادی کا مقامی تہوار تھا لیکن بڑے تہواروں میں سب اہل یونان شریک ہوتے تھے۔ سب سے بڑا تہوار ہر چار سال کے بعد اولمپیا میں منایا جاتا تھا جو مغربی پیلوپونی سکس میں تھا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں زیوس دیوتا کا معبد تھا۔ ان تہواروں میں صرف کھیلوں کے مقابلے ہی نہ ہوتے بلکہ موسیقی، شاعری، شہنائی نوازی، حسن اور شراب نوشی کے مقابلے بھی ہوتے۔

یونان کے معاشرتی حالات

قدیم یونان کا معاشرہ تین طبقوں میں منقسم تھا۔

۱- بادشاہ۔ سیاسی اختیارات کے ساتھ ساتھ اسے سب سے بڑا مذہبی پیشوا بھی مانا جاتا تھا۔ اور وہ اپنے امراء کی مدد اور مشوروں سے اپنی حکومت کا کاروبار چلاتا۔ بادشاہ اور اس کی ملکہ عام لوگوں کی طرح خود بھی کام کرتے تھے اوڈیسوس نامی بادشاہ کو بھی اس بات پر فخر تھا کہ وہ اپنے کھیتوں میں کام کرتا ہے اور اس نے اپنا پلنگ خود بنایا ہے اور اس کی ملکہ پینی لوپی سوت کاتتی اور کپڑا بنتی ہے۔

۲- دوسرا طبقہ امراء کا تھا۔ ان کا یہ دعوئی تھا کہ وہ دیویوں اور دیوتاؤں سے پیدا ہوئے ہیں اور ان کا نسب زیوس دیوتا سے ملتا ہے جو کوہ اولمپس کے دیوتاؤں کے خاندان کا حاکم اعلیٰ ہے اسی دعوئی کی بنا پر انہوں نے اپنے معاشرہ میں دیگرطبقات اور قبائل پر فوقیت حاصل کرلی تھی

۳۔ تیسرا طبقہ عوام کا تھا۔ جنہیں جنگ سے کوئی واسطہ نہ تھا ان کا معاشی نظام غارت گری اور بحری قزاقی کے علاوہ تجارت اور کاشتکاری پر مبنی تھا وہ مویشی پالتے اور غلے اگاتے۔ خاص چیزوں کی کاشت کرتے مثلاً زیتون اور انگور۔ ان کے کاریگر جنگی رتھ اور رزم و پیکار کے لئے اسلحہ تیار کرنے میں ماہر تھے۔

آباد کاری

جیسے آپ پڑھ چکے ہیں کہ کھیتی باڑی کے لئے یہاں اراضی بہت محدود تھی جو دو پہاڑوں کے درمیان وادی میں پائی جاتی تھی نیز باہمی جنگوں کا طویل سلسلہ داخلی طور پر فتنہ و فساد کی آگ ہر وقت بھڑکاتا رہتا ان امور نے اہل یونان کو اپنے ملک سے باہر آبادیاں قائم کرنے پر مجبور کردیا وہ غیر مطلوب بچوں کی پیدائش روکنے کے لئے ہر ممکن طبی وسائل کام میں لاتے اور کثرت اولاد سے بچنے کے لئے لوگوں کو ترغیب دی جاتی کہ وہ اپنی خواہشات کی تکمیل کے لئے عورتوں کے بجائے اپنے ہم جنسوں کو ترجیح دیں ان غیر فطری کوششوں کے باوجود وہاں کی آبادی بڑھتی رہی یہاں تک کہ انکے وطن کی سرزمین ان کے لئے تنگ ہوگئی اور وہ بیرون ممالک میں نو آبادیاں قائم کرنے پر مجبور ہو گئے۔ (تاریخِ تہذیب صفحہ ۷۶)

یونان کے معاشی حالات

جیسے پہلے بتایا گیا ہے کہ وہاں زرعی زمینوں کی مقدار بہت کم تھی اس لئے خوشحال کسانوں کے لئے تو یہ ممکن تھا کہ وہ اپنے محدود قطعات اراضی میں زیتون کے پودوں کی کاشت کریں اور طویل عرصہ تک ان پودوں کی نگہداشت کے اخراجات برداشت کریں۔ لیکن غریب کسانوں کے لئے یہ طریقہ کار قابلِ عمل نہ تھا۔ وہ دولت مند ہمسایوں سے قرض لینے پر مجبور ہو جاتے قرض خواہ گراں شرحِ سود پر انہیں قرض دیتے۔ مقروضوں کے لئے قرضوں کی ادائیگی ایک کٹھن مرحلہ تھا اس محدود آمدنی سے اپنا اور بال بچوں کا پیٹ پالیں یا قرضہ ادا کریں اس سوال کا ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا جب وہ مقررہ میعاد پر قرض نہ ادا کرسکتے تو ان کی جائیداد ان سے چھین لی جاتی بعض اوقات شخصی آزادی سے بھی انہیں محروم ہونا پڑتا۔

ایسے شخص کو مجبور کیا جاتا کہ قرض خواہ کے انگوروں کے باغوں میں سلسلہ ادائیگی قرض مزدوری کرتا رہے۔ (تاریخِ تہذیب صفحہ ۷۷)

غریب لوگ بڑی بے اطمینانی کا شکار تھے غیر ملکی تجارت نے دو نئے طبقے بھی پیدا کردیئے ایک تاجروں، جہازوں کے مالکوں، بافندوں، کمہاروں اور لوہاروں کا گروہ تھاـ دوسرا جہازوں پر قلیوں اور ملاحوں کا گروہ ـ دونوں گروہ بڑے باہمت اور پرجوش تھے وہ اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہ تھے کہ سیاسی اختیارات صرف امراء اور بڑے بڑے مالکان اراضی کے ہاتھ میں ہی رہیں۔

یونان کے سیاسی حالات

ہومر سے قبل ایک مطلق العنان بادشاہ حکمران ہوا کرتاـ ہومر کے دور کے بعد امراء کے طبقہ نے تدریجاً بادشاہوں کے اختیارات حاصل کرلئے بادشاہ یا تو ناپید ہوگئے یا برائے نام رہ گئے اس لئے پرانی بادشاہی کی جگہ حکومتِ عدیدہ (OLIGARCHY) (علی گارچی) نے لے لی یعنی چند افراد کا مجموعہ حکمران بن گیا ساتویں صدی قبل مسیح تک امراء کے خلاف قرضہ سے دبے ہوئے کسانوں اور نئے تجارتی طبقوں نے حملے شروع کردیئے حکومت عدیدہ کے ذمہ دار ارکان عموماً عسکری اہلیت سے بے بہرہ ہوا کرتے تھے وہ جنگوں میں شہروں کی حفاظت سے قاصر رہے اس طرح ہر شہری ریاست میں عدیدی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا پھر زمام اختیار فردِ واحد کے ہاتھ میں آ گئی ان حکومتوں کو استبدادی حکومت کہا جاتا۔

یونان کی دو مشہور ریاستوں ایتھنز اور سپارٹا نے سراسر مختلف نظام ہائے حکومت کو نشوو ارتقاء دیا۔

سپارٹا کا نظام

اس کا دستور ذات پات کے سخت اور شدید نظام پر مبنی تھا وہاں کے باشندوں کو تین گروہوں میں تقسیم کردیا گیا۔

(۱) شہری:۔ سپارٹا کے اصلی باشندے جو پوری آبادی کا پانچ سے دس فیصد تک تھے یہی طبقہ حکمران تھا۔ فوج انہیں کے جوانوں پر مشتمل تھی وہ کوئی اور کام نہ کرتے تھے۔

(۲) غلام:۔ ان کا تناسب سپارٹا کے اصلی باشندوں کے مقابلے میں دس اور ایک تھا اکثریت ان کی تھی۔ کھیتی باڑی وہی کرتے انہیں زمینوں سے وابستہ کردیا گیا تھا کچھ لوگ بطور مزدور کھیتوں میں کام کرتے یا ان کے شخصی ملازم ہوتے۔

(۳) تیسرا طبقہ:۔ کسانوں ، کان کنوں ، تاجروں اور دیگر شہری سرگرمیاں انجام دینے والوں کا تھا ۔ اگرچہ یہ آزاد تھا لیکن ان کو کوئی سیاسی حق حاصل نہ تھا یہ اہل سپارٹا میں نہ شامل ہوسکتے تھے اور نہ ان میں شادی کرسکتے تھے۔

سپارٹا کے شہریوں کو عسکری تربیت سختی سے دی جاتی تھی جو لوگ صحت کے لحاظ سے کمزور یا جسمانی اعتبار سے عیب دار ہوتے تھے انہیں ایک غار یا پہاڑ کے ویرانے میں چھوڑ آتے تھے تاکہ سردی سے مرجائیں یا کوئی درندہ انہیں پھاڑ ڈالے یا کوئی رحم دل غلام انہیں اپنا بچہ بنالے۔

سات سال کی عمر میں بچے کی تربیت شروع ہوتی ان بچوں کو والدین سے الگ ہونا پڑتا جسمانی ورزشوں کے ایک سخت امتحان سے انہیں گزرنا پڑتا حب وطن کے درس کے ساتھ ساتھ انہیں پڑھنا۔ گانا بھی سکھایا جاتا زیادہ زور کشتی۔ دوڑ۔ اسلحہ جنگ کے استعمال پر دیا جاتا انہیں چوری کے طریقے بھی سکھائے جاتے اور انہیں یہ تربیت دی جاتی کہ وہ چوری کرتے وقت گرفتاری سے اپنے آپ کو کس طرح بچائیں انہیں یہ تعلیم دی جاتی کہ اگر کوئی بچہ گرفتار ہوجائے تو وہ اقبال جرم نہ کرے۔

سپارٹا کے ایک بچے کی کہانی آپ بھی سن لیجئے

اس نے لومڑی چرائی اسے اپنے کپڑے میں چھپا لیا۔ اکابر اس سے پرسش کرتے رہے اس اثناء میں لومڑی بچے کا پیٹ کاٹ کاٹ کر کھاتی رہی یہاں تک کہ بچے نے جان دے دی مگر چوری کا اعتراف نہ کیا۔ اس بچے کو ہیرو کی حیثیت حاصل ہوگئی۔

لڑکیوں کے لئے بھی حکومت کی نگرانی میں نہایت سخت ورزشوں کا انتظام تھا تاکہ وہ زیادہ صحت مند مائیں بن سکیں وہ بھی فولادی اعصاب پیدا کرلیتی تھیں اپنے بچوں کو جنگ کے لئے بھیجتیں تو نصیحت کرتیں کہ دیکھو اپنی ڈھال لے کر لوٹنا یا اس پر تمہاری لاش آنی چاہئے۔

اہل سپارٹا نے زندگی کے عسکری پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دیا لیکن زندگی کے دوسرے پہلوؤں کو بالکل نظر انداز کردیا وسائل کے باوجود اقتصادی طور پر وہ لوگ پسماندگی کا شکار رہے حالانکہ وہاں کی زمین زرخیز تھی کچے لوہے کے معدنی ذخائر بھی موجود تھے۔

ایتھنز

اس ریاست میں عورتوں کو سیاسی حقوق حاصل نہ تھے ان کا اصل وظیفہ یہی تھا کہ گھروں میں رہیں کھانا پکائیں اور بچوں کی پرورش کریں ایتھنز کی پوری آبادی تین لاکھ پندرہ ہزار تھی اس میں سے ایک لاکھ ستر ہزار شہری تھے، ان میں سے تیس ہزار بالغ مرد تھے انہیں کو موثر شہریت حاصل تھی ایک لاکھ پندرہ ہزار غلام تیس ہزار اجنبی نہ انہیں زمین خریدنے کا حق تھا اور نہ وہ وہاں کی شہریت کے حقوق حاصل کرسکتے تھے چاندی کی کانوں میں کام کرنے والے مزدورں پر شدید مظالم کئے جاتے وہ پابجولاں رکھے جاتے تھے ان سے زیادہ کام لیا جاتا ارسطو نے غلام کی جو تعریف کی ہے اسے پڑھ کر انسان پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور ارسطو جیسے فلسفی کی سنگدلی پر دل پسیج جاتا ہے غلام کی تعریف کرتے ہوئے ارسطو نے کہا

”یہ ایک آلہ ہے جس میں جان ہو یعنی ارسطو کے نزدیک غلام انسان نہیں یہ ایک مشین ہے جس میں جان ڈال دی گئی ہو اور وہ تمام انسانی احساسات و شعور سے یکسر محروم ہو“

یونان کے حکماء اور فلاسفر

یونان کی سرزمین جہاں فلسفہ پیدا ہوا اور جس کی فضائوں میں پروان چڑھا۔ اس کے نامور فرزندوں کی عظیم کوششوں کے باعث فلسفہ کی روشنی سے نہ صرف یورپ بلکہ ایشیا اور شمالی افریقہ کے دور افتادہ ممالک کے در و دیوار بھی جگمگانے لگے جسے بجا طور پر یہ ناز ہے کہ اس نے سقراط، افلاطون، ارسطو جیسے نابغہ روزگار فلاسفر پیدا کئے لیکن جب ہم دقت نظر سے ان عظیم دانشوروں کی تعلیمات کا غیر جانبدارانہ مطالعہ کرتے ہیں تو ان کی اچھی باتوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ایسی خرافات بھی ملتے ہیں جنہیں پڑھ کر عقل انسانی کی نارسائی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔

ابو نصر فارابی جو یونانی فلسفہ کا بہترین ترجمان اور قابل اعتماد مفسر ہے اس نے اپنے رسالہ میں افلاطون اور ارسطو کی آراء و نظریات میں تضاد دور کرنے کی کوشش کی ہے اس رسالہ کا نام ہے۔

”کتاب الجمع بین رأیی الحکیمین“ میرے پاس اس کا وہ نسخہ ہے جو مطبع کاثولیکیا نے بڑی تحقیق اور اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے اس کا مقدمہ لبنان یونیورسٹی کے ڈاکٹر البیر نصری نادر نے لکھا جو وہاں فلسفہ کے پروفیسر ہیں پروفیسر مذکور اس کے مقدمہ میں لکھتے ہیں۔

”افلاطون سے جب پوچھا گیا کہ ہم اپنے شہر کا نظم و نسق کس طرح چلائیں تاکہ وہ آبادی اور خوشحالی میں بام عروج تک پہنچ جائے اور اس میں عدل و انصاف کے تمام قواعد پر عمل ہو سکے اس کے جواب میں افلاطون کہتا ہے کہ اس کے لئے اس شہر کے باشندوں کو تین طبقوں میں تقسیم کرنا چاہئے حکام، لشکر اور عوام الناس پہلے دو طبقے اس مثالی شہر کے نگہبان ہیں داخلی انتشار اور بیرونی حملوں سے بچانا ان کی ذمہ داری ہے اس لئے ان دو طبقوں کی طرف خصوصی توجہ دی جائے اور ان کی خصوصی تربیت کا اہتمام کیا جائے۔ افلاطون پھر تاکید کرتا ہے کہ ان طبقوں کو ہر قسم کی مالی پریشانیوں سے بچانا حکومت کا فرض ہے اس طرح حکومت پر لازم ہے کہ ان کے دلوں سے خاندانی جذبات کی بیخ کنی کر دے اور انہیں اپنا علیحدہ خاندان بنانے سے قانونی طور پر روک دے حکومت کو خوشگوار اوقات میں ایسے مذہبی تہوار منعقد کرنے چاہئیں جن میں چنے ہوئے مرد صحت و جمال میں ہر طرح ممتاز عورتوں کے ساتھ وقتی طور پر رشتہ ازدواج قائم کر سکیں۔ اور اس کا مقصد صرف حکومت کے لئے بہترین بچوں کا پیدا کرنا ہو۔ جب وہ عورتیں بچے جنیں تو ان بچوں کو ان سے لے لیا جائے اور تمام بچوں کو ایک مکان میں رکھا جائے وہ عورتیں آکر انہیں دودھ پلائیں اور کوئی عورت یہ امتیاز نہ کرے کہ یہ کس کا بچہ ہے اور نہ ان کو پہچان سکے۔ اس طرح اس طبقہ میں کوئی مخصوص رشتہ داری نہیں پائی جائے گی وہ سب ایک خاندان کے افراد شمار ہوں گے۔ سب کے ساتھ یکساں نوعیت کی قرابت ہوگی۔

آخر میں افلاطون جیسا فیلسوف کہتا ہے کہ آزادانہ اختلاط کرنے والے مرد اور عورتیں ممتاز صلاحیتوں کے مالک ہوں گے اور ان کی اولاد بھی یقیناً دوسرے لوگوں سے اعلیٰ وبرتر ہوگی۔ (کتاب الجمع۔ صفحہ ۱۸۔ ۱۷)

افلاطون جیسے فلسفی کے یہ خیالات پڑھ کر سر چکرانے لگتا ہے کیا یہ وہ شخص ہے جس کی علمیت اور حکمت کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بج رہا ہے؟ کیا یہ وہ شخص ہے جسے دنیا حکیم اور فیلسوف کہتی ہے؟ کیا انسانی نفسیات سے اس کی بے خبری کا یہ عالم ہے؟

ذرا آگے بڑھئے! افلاطون کے فلسفہ کے ایک گوشہ سے نقاب الٹئے وہاں افلاطون، حکیم کی بجائے آپ کو ایک جلاد نظر آئے گا جس کا دل رحمت و شفقت کے جذبات سے یکسر عاری ہے جس کے سامنے عدل و انصاف کی بات کرنا بھی ان الفاظ کی توہین ہے پروفیسر مذکور ہی کے الفاظ میں افلاطون کے اس نظریہ کو ملاحظہ فرمائیے۔

فَإِنْ وُلِدَ لِلشَّعْبِ وَلِلْحُرَّاسِ أَطْفَالٌ فِي غَيْرِ زَمَنِ الْمُحَدَّدِ أُعْدِمُوا وَكَذٰلِك يُعْدَمُ الطِّفْلُ نَاقِصُ التَّكْوِينِ وَالْوَلَدُ فَاسِدُ الْأَخْلَاقِ وَالرَّجُلُ الضَّعِيفُ عَدِيمُ النَّفْعِ وَالْمَرِيضُ الَّذِي لَا يُرْجٰى لَهُ شِفَاءٌ لِأَنَّ الْغَايَةَ هِيَ أَنْ يَظَلَّ عَدَدُ السُّكَّانِ فِي الْمُسْتَوَى الَّذِي يَكْفُلُ سَعَادَةَ الْمَدِينَةِ-

”اگر عوام الناس اور اہل لشکر کے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے اور مقررہ وقت پر وہ پیدا نہ ہوں تو انہیں قتل کردیا جائے، اسی طرح وہ بچہ جو جسمانی طور پر ناقص ہو، وہ لڑکا جس کے اخلاق بگڑے ہوئے ہوں وہ کمزور مرد جس سے کوئی نفع نہیں، وہ بیمار جس کے تندرست ہونے کی کوئی امید نہیں (ان سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا جائے) کیونکہ مقصد تو یہ ہے کہ اس مثالی شہر کے باشندوں کی تعداد اس سطح سے اوپر نہ ہو جن کی سعادت مندی کی ذمہ داری اٹھائی جاسکتی ہے“۔ – (کتاب الجمع۔ صفحہ ۱۸)

جو فلسفی بے گناہ بچوں کے قتل۔ بیماروں، لاچاروں اور کمزوروں کو تہ تیغ کرنے کی یوں کھلی اجازت دے رہا ہے اور اپنے مثالی شہر میں عدل و انصاف کے قیام کی اولین بنیاد قرار دیتا ہے اس سے عدل و انصاف کی توقع سادہ لوحی کی انتہا ہے۔

افلاطون کے بعد اس کا شاگرد ارسطو، یونان کے افق پر حکمت و فلسفہ کا آفتاب بن کر طلوع ہوتا ہے اور اپنے استاد کے نظریات کی پرزور تردید کرتا ہے وہ لکھتا ہے

فَقَدْ ظَنَّ أَفْلَاطُونُ أَنَّ شِيُوعِيَّةَ الْأَطْفَالِ تُوَسِّعُ دَائِرَةَ التَّعَاطُفِ لٰكِنَّهَا فِي الْحَقِيقَةِ تُؤَدِّي إِلَى انْتِفَاءِ الْمَحَبَّةِ وَالِاحْتِرَامِ لِأَنَّ الطِّفْلَ الَّذِي هُوَ ابْنُ الْجَمِيعِ لَيْسَ ابْنَ أَحَدٍ-

”افلاطون نے بچوں کو ان کے والدین سے منسوب کرنے کی مخالفت کی ہے اور انہیں مشترکہ ماں باپ کی اولاد قرار دیا ہے اس کا خیال ہے کہ اس طرح باہمی محبت و پیار کا دائرہ وسیع ہوگا درحقیقت یہ سراپا افتراء و بہتان ہے اس طرح تو محبت و احترام کے سارے جذبات نیست و نابود ہوں گے کیونکہ جو بچہ سب کا ہوتا ہے وہ کسی کا بھی نہیں ہوتا“۔(کتاب الجمع۔ صفحہ ۳۸)

ارسطو کے اپنے جذبات بھی کم تعجب انگیز نہیں وہ اپنی کتاب ”السیاست“ میں نوعِ انسانی کی یوں تقسیم کرتا ہے وہ لکھتا ہے

”بعض لوگ ایسے ہیں جو طبعاً احرار (آزاد) ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو طبعاً غلام ہوتے ہیں شمالی یورپ کے لوگ بہادر ضرور ہیں لیکن ذہانت اور سیاسی سوجھ بوجھ سے بے بہرہ ہیں مشرقی ممالک کے لوگ ذکی اور ماہر تو ہیں لیکن ان میں شجاعت کا جوہر مفقود ہے لیکن یونانی (ارسطو کی اپنی قوم) ان دونوں خصوصیتوں کے مالک ہیں یہ بہادر بھی ہیں اور ذکی و فطین بھی اس کے بعد ارسطو یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے

اِذًا فَالْيُونَانِيُّ سَيِّدٌ حُرٌّ وَالْأَجْنَبِيُّ عَبْدٌ لَّهُ وَلَا يَسْتَعْبِدُ الْيُونَانِيُّ أَخَاهُ بِأَيِّ حَالٍ هٰذِهِ فِكْرَةُ الشَّعْبِ الْمُخْتَارِ ظَنَّهَا اَرَسْطُوا اَوَّلِيَّةً كُلِّيَّةً ضَرُورِيَّةً۔

”یعنی مندرجہ بالا تشریح سے یہ ثابت ہوگیا کہ اہل یونان سردار ہیں، آزاد ہیں اور باقی سب ملکوں کے باشندے ان کے غلام ہیں کوئی یونانی اپنے یونانی بھائی کو غلام نہیں بناسکتا یہی وہ شعبِ مختار (برگزیدہ قوم) کا نظریہ ہے جسے ارسطو اولین ضرورت قرار دیتا ہے جس کی قابلیت مسلم ہے“۔ (کتاب الجمع۔ صفحہ ۳۹)

جب ارسطو کے نزدیک سب یونانی سردار ہیں۔ آزاد ہیں اور باقی ساری قومیں ان کی غلام ہیں تو انسانی مساوات کا تصور کہاں سے آئے گا۔ مالک اور غلام میں آزاد اور اسیر میں عدل و انصاف کا برقرار رکھنا کیونکر ممکن ہوسکتا ہے اپنی قومی برتری کا یہ جنون مختلف طالع آزما لوگوں کو مختلف اوقات میں برانگیختہ کرتا رہا اور وہ اپنی سیادت و برتری کا سکہ جمانے کے خبط میں انسانیت کو مصیبتوں اور ہلاکتوں کے شعلوں میں جھونکتے رہے ۔ ہٹلر کے دماغ میں جرمن قوم کی برتری کا خبط سمایا ہوا تھا جس کے باعث اس نے ساری دنیا کو دوسری عالمگیر جنگ میں جھونک دیا اموال و املاک کے نقصان کا تو اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا مرنے والوں کی تعداد کروڑوں سے زیادہ ہے صرف روس کے پچھتر لاکھ افراد ہلاک ہوئے اور ساڑھے اٹھائیس لاکھ جرمن لقمہ اجل بنے کسی قوم کی برتری کا نظریہ جو ارسطو نے بڑی فلسفیانہ آب و تاب سے پیش کیا اب تک سینکڑوں فتنوں کا باعث بنا معلوم نہیں کتنے سرپھرے اسی قومی عصبیت اور برتری کا علم بلند کرکے انسانیت کو مصائب و آلام کے جہنم میں جھونکتے رہیں گے۔ یہ تو ہوا ارسطو کا سیاسی نظریہ اب ذرا قانون کے بارے میں اس کی رائے ملاحظہ کریں۔ ارسطو کی مشہور کتاب ”السیاستہ“ کا ترجمہ پروفیسر احمد لطفی السید نے عربی میں کیا ہے جو مصر میں شائع ہوا اس کے آٹھویں باب میں ارسطو لکھتا ہے۔

إِنَّ الْقَانُونَ لَا يَنْبَغِي ضَرُورَةً أَنْ يُطَبَّقَ إِلَّا عَلَى أَفْرَادٍ مُتَسَاوِينَ بِالْمَوْلِدِ وَ بِالْمِلْكَاتِ غَيْرَ أَنَّ الْقَانُونَ لَمْ يُشْرَعْ قَطُّ لِهٰؤُلَاءِ النَّاسِ الْأَفْذَاذِ إِنَّهُمْ هُمُ أَنْفُسُهُمُ الْقَانُونُ وَمِنَ السُّخْرِيَّةِ أَنْ يُحَاوَلَ إِخْضَاعُهُمْ لِلدَّسْتُورِ

”یعنی قانون تمام اہل ملک کے لئے یکساں نہیں ہوتا بلکہ اس کا مساویانہ انطباق صرف ان افراد پر ہو گا جو نسب اور قابلیت کے لحاظ سے مساوی ہیں رہا حکمران طبقہ تو ان لوگوں کے لئے قانون نہیں بنایا جاتا بلکہ یہ لوگ بذاتِ خود قانون ہیں اور یہ کھلا مذاق ہے کہ ان اکابر کو دستور کی پابندی پر مجبور کیا جائے۔“۔ (السیاستہ صفحہ ۲۱۷)

ارسطو نے اپنے اس نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے ایک حکایت بیان کی ہے کہ

خرگوشوں کا ایک جلسہ عام ہوا جس میں ایک قرار داد منظور کی گئی کہ تمام حیوانات میں مساوات کا قاعدہ جاری ہونا چاہئے۔ جب شیروں نے یہ ریزولیوشن سنا تو انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارے جیسے طاقت ور پنجے اور تیز دانت لاؤ پھر ہمارے ساتھ مساوات کا مطالبہ کرو۔

انسانی مساوات کے نظریہ کے ساتھ اس سے بڑا مذاق اور کیا ہوسکتا ہے اور جب یہ مذاق کرنے والا ارسطو ہو تو اس مذاق کی سنگینی کا اندازہ کون لگا سکتا ہے اسی کتاب کے صفحہ نمبر ۲۳۴ پر ارسطو امراء طبقہ کے تفوق کو قانونی تحفظ دیتا ہے اس کی عبارت سنیے۔

فَلَيْسَ مِنَ الْعَدْلِ قَتْلُ مِثْلِ هٰذَا الْبِتْرِيِّ وَلَا إِهْدَارُ حَقِّهِ بِالتَّغْرِيْبِ وَلَا إِخْضَاعِهِ لِمُسْتَوَى الْعَامَّةِ –

”یہ عدل کے خلاف ہے کہ ایسے سردار کو کسی عامی کے بدلے میں قتل کیا جائے یا اسے جلا وطن کر دیا جائے اور اسے عام لوگوں کی سطح پر اترنے پر مجبور کیا جائے“۔ (السیاستہ صفحہ ۲۳۴)

اہل یونان کے ان حالات کا تعلق زمانہ قبل مسیح سے ہے اور ہمارے پیش نظر صرف اس عہد کے مذہبی ، تمدنی اور سیاسی حالات پر بحث کرنا ہے جو کہ عہد رسالت مصطفویہ کے قریب تھے اس لئے ہم نے اہل یونان کے حالات کو بڑے اختصار سے تحریر کیا ہے ۔ اور مقصد یہ ہے کہ رومیوں کے حالات کا ان کے پیشروؤں کے حالات کے تناظر میں مطالعہ کیا جائے۔

___________________