کتاب مواقیت الصلوۃ باب 17 حدیث نمبر 556
۱۷ – بَابُ مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ الْغُرُوبِ
جس نے غروب (آفتاب) سے پہلے عصر کی نماز کی ایک رکعت کو پالیا
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جس شخص نے سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز کا وقت پالیا اس کی نماز کا کیا حکم ہے آیا وہ اپنی نماز پوری کرے یا نہیں؟
۵۵۶ – حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَدْرَكَ أَحَدُكُمْ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ، قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ، وَإِذَا أَدْرَكَ سَجْدَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ، فَلْيُتِمَّ صَلَاتَهُ. [اطراف الحديث: ۵۸۰، ۵۷۹]
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابونعیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شیبان نے حدیث بیان کی از یحییٰ از ابی سلمہ از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز کا ایک سجدہ پالے تو وہ اپنی نماز پوری کرے اور جب تم میں سے کوئی شخص سورج کے طلوع ہونے سے پہلے صبح کی نماز کا ایک سجدہ پالے تو وہ اپنی نماز پوری کرے۔
(صحیح مسلم: ۶۰۸، الرقم المسلسل: 1349،، سنن ترمذی: ۱۸۶، سنن نسائی: 117، سنن ابن ماجہ: ۶۹۹، موطا امام مالک: ۵ ج ۱ ص ۳۵ ۔ ۳۳ دار المعرفۃ بیروت، سنن دارمی: 1222، صحیح ابن خزیمہ: ۹۸۵، صحیح ابن حبان: ۱۵۸۳ ۔ ۱۵۵۷، سنن بیہقی ج 1 ص ۳۶۸ ۔ ۳۶۷، شرح السنۃ: ۳۹۹، مسند ابوداؤد الطیالسی: ۲۳۸۱ مسند احمد ج ۲ ص 462 طبع قدیم قدیم مسند احمد: 9954، ج ۱۶ ص 37 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی: ۴۸۳۹ مکتبۃ الرشد ریاض 1426ھ)
حدیث مذکور کے پانچ رجال ہیں ان سب کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس جملہ میں ہے: جب تم میں سے کوئی شخص سورج کے غروب ہونے سے پہلے عصر کی نماز کا ایک سجدہ پالے تو وہ اپنی نماز پوری کرے۔
جن کو عصر یا فجر کی ایک رکعت کا وقت ملا،ان کی نماز پوری کرنے کے متعلق مذاہبِ ائمہ
حافظ یوسف بن عبداللہ ابن عبد البر مالکی متوفی ۴۶۳ھ تمہید میں لکھتے ہیں:
اس حدیث میں ادراک سے مراد ادراک وقت ہے اور اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ جس نے اس وقت میں نماز کی ایک رکعت کو پالیا تو وہ ایک رکعت اس کے لیے اس وقت کی کافی ہوگی۔
اس پر مسلمانوں کا اجماع اور اتفاق ہے کہ نمازی پر فرض ہے کہ وہ صبح کی پوری نماز پڑھے اور عصر کی پوری نماز پڑھے اور نبی ﷺ کا جو ارشاد ہے: اس نے اس نماز کو پالیا اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے اس نماز کے وقت کو پالیا ہاں! دوسرے دلائل اس پر دلالت کرتے ہیں کہ نماز کا وقت مختار، اس وقت کا غیر ہے۔
ان دلائل میں سے یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: عصر کا آخری وقت وہ ہے جب سورج زرد نہ ہو۔ (مسند احمد ج ۱ ص ۲۱۰) یعنی آخری وقت مختار تاکہ احادیث متعارض نہ ہوں۔
اور حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ منافقین کی نماز ہے، ان میں سے کوئی شخص بیٹھا رہتا ہے حتی کہ جب سورج زرد ہو جاتا ہے اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے تو وہ چار ٹھونگیں مارتا ہے اور اس میں اللہ کا ذکر وہ بہت کم کرتا ہے۔ (صحیح مسلم: ۶۲۲، سنن ترمذی: 160)
یہ تغلیظ اس شخص پر ہے جس نے اس وقت میں نماز پڑھنے کو ترک کیا، جس وقت کو رسول اللہ ﷺ نے عصر کی نماز میں اپنی امت کے لیے اختیار فرمایا تھا اور اس نے بغیر کسی عذر کے اس وقت سے اعراض کیا۔
عصر کی نماز کو جلدی پڑھنے کے متعلق بہت آثار مروی ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عمال کی طرف خط لکھا کہ عصر کی نماز اس وقت پڑھو جب سورج سفید چمک دار ہو اس سے پہلے کہ وہ زرد ہوجائے۔
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عصر کا وقت اس وقت تک ہے جب تک سورج زرد نہ ہو۔ (مسند احمد ج ۱ ص ۲۱۰، السنن الکبری للبیہقی ج ۱ ص 365)
فقہاء کا اس پر اجماع ہے کہ صبح کی نماز کا اول وقت وہ ہے جب فجر صادق طلوع ہوتی ہے جب مشرق کے افق سے ہر طرف سفیدی پھیل جاتی ہے اور اس کے بعد اندھیرا نہیں ہوتا اور فجر کے آخر وقت میں اختلاف ہے ابن وہب نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ فجر کا وقت طلوع فجر سے طلوع شمس تک ہے اور ابن القاسم نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ فجر کا اول وقت وہ ہے جب اندھیرا ہو اور ستاروں کا جال بنا ہوا ہو اور آخری وقت وہ ہے جب سفیدی پھیل جائے۔
ابو عمر ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ وقت مختار پر محمول ہے کیونکہ امام مالک کہتے ہیں کہ جس شخص نے کسی عذر کی وجہ سے سورج کے طلوع ہونے سے پہلے فجر کی نماز کی ایک رکعت پڑھ لی تو اس سے نماز ساقط ہوجائے گی جیسے کوئی حائض اس وقت میں حیض سے پاک ہوجائے جب فجر کا اتنا وقت رہتا ہو جس میں ایک رکعت پڑھی جاسکے تو ایک رکعت کے مقدار وقت پانے کی وجہ سے اس پر فجر کی نماز واجب ہوجائے گی خواہ وہ دوسری رکعت طلوع فجر کے ساتھ پڑھے یا اس کے بعد پڑھے۔
امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے کہا ہے: فجر کا آخری وقت سورج طلوع ہونے تک ہے اسی طرح امام شافعی نے کہا ہے کہ فجر کا آخری وقت طلوع آفتاب تک ہے مگر ان کے نزدیک طلوع آفتاب سے اس شخص کی نماز فوت نہیں ہوگی جو طلوع آفتاب سے پہلے دو سجدوں کے ساتھ ایک رکعت مکمل کرچکا ہو اور جس نے دو سجدوں کے ساتھ ایک رکعت طلوع آفتاب سے پہلے مکمل نہیں کی اس کی نماز فجر فوت ہو گئی۔ امام احمد بن حنبل کا قول بھی امام شافعی کی مثل ہے کہ جس نے کسی عذر صحیح کی وجہ سے طلوع آفتاب سے پہلے ایک رکعت پڑھ لی وہ طلوع آفتاب کے بعد اپنی نماز پوری کرنے اور فقہاء یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ کسی ضرورت یا عذر صحیح کی وجہ سے ایسا کرے تو جائز ہے ورنہ نہیں، امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور امام اوزاعی کا یہی مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کے نزدیک ضرورت اور عذر نہ ہو تو جس نے طلوع آفتاب سے پہلے صرف ایک رکعت پڑھی پھر آفتاب طلوع ہوگیا تو اس کی نماز فاسد ہوگئی کیونکہ طلوع آفتاب کے بعد نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرما دیا ہے۔(فتح المالک بتیویب التمہید لابن عبدالبر علی موطأ الامام مالک ج ۱ ص 135-137 دارالکتب العلمیہ بیروت 1418ھ)
فجر اور عصر کی نماز پوری کرنے کے متعلق امام اعظم کے مذہب کی تفصیل
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی متوفی ۸۵۵ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں یہ صریح دلیل ہے کہ جس نے عصر کی نماز کی ایک رکعت پڑھی پھر اس کے سلام پھیرنے سے پہلے عصر کا وقت نکل گیا تو اس کی نماز باطل نہیں ہوگی بلکہ وہ اپنی نماز پوری کرے گا اور اس پر چاروں ائمہ متفق ہیں اور صبح کی نماز کی جس شخص نے ایک رکعت پڑھی اور پھر اس کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج نکل آیا تو امام مالک، امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک وہ بھی اسی طرح ہے اور وہ سورج نکلنے کے بعد اپنی نماز پوری کرے گا کیونکہ باب مذکور کی حدیث میں فجر اور عصر دونوں نمازوں کا ایک حکم بیان فرمایا ہے، اسی وجہ سے مذہب ثلاثہ کے فقہاء نے کہا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے اس حدیث کی مخالفت کی ہے۔(عمدۃ القاری ج ۵ ص 71، دارالکتب العلمیہ بیروت 1421ھ)
سورج طلوع ہونے کے بعد فجر کی نماز پوری کرنے میں احادیث کی مخالفت ہے
ہم کہتے ہیں کہ ائمہ ثلاثہ نے اس حدیث کی مخالفت کی ہے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور یہ ائمہ کہتے ہیں کہ فجر کی باقی ماندہ ایک رکعت نمازی سورج نکلنے کے بعد پڑھے، طلوع آفتاب کے بعد نماز پڑھنے کی ممانعت کے متعلق حسب ذیل احادیث ہیں:
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے نزدیک سب نے پسندیدہ شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں اور انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے، حتی کہ سورج چمکنے لگے اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے حتی کہ سورج غروب ہوجائے۔ (صحیح البخاری: 581، صحیح مسلم 826، سنن ترمذی : 183، سنن نسائی: 561،سنن ابن ماجہ : 1250، مسند احمد ج 1 ص 18-21)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نہ طلوع شمس کے وقت نماز کا قصد کرو نہ غروب شمس کے وقت۔ (صحیح البخاری: ۵۸۲، صحیح مسلم: ۸۲۸، سنن نسائی: ۵۵۹، مسند احمد ج ۲ ص ۱۹)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب سورج کی بھوں طلوع ہوجائے تو نماز کو مؤخر کردو، حتی کہ سورج بلند ہوجائے اور جب سورج کی بھوں غائب ہو جائے تو نماز کو مؤخر کردو حتی کہ سورج غائب ہوجائے۔(صحیح البخاری: ۵۸۳، صحیح مسلم: 828-829، سنن نسائی: ۵۶۷، مسند احمد ج ۲ ص ۱۳)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو قسم کی بیع، دو قسم کے لباس اور دو قسم کی نمازوں سے منع فرمایا ہے، آپ نے فجر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا کہ سورج طلوع ہوجائے اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا تھا کہ سورج غروب ہوجائے ۔ (صحیح البخاری: 584)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص طلوع شمس کے وقت قصد کرکے نماز نہ پڑھے اور نہ غروب شمس کے وقت ۔ (صحیح البخاری: ۵۸۵)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صبح کے بعد کوئی نماز نہیں ہے حتی کہ سورج بلند ہوجائے اور عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے حتی کہ سورج غروب ہوجائے ۔ (صحیح البخاری: 586، صحیح مسلم: 827 سنن نسائی: 562)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو نمازوں سے منع فرمایا: فجر کے بعد حتی کہ سورج طلوع ہوجائے اور عصر کے بعد حتی کہ سورج غروب ہوجائے ۔ (صحیح البخاری: ۵۸۸)
طلوعِ آفتاب کے بعد نماز پوری نہ کرنے اور غروبِ آفتاب کے بعد نماز پوری کرنے کے فرق کی وضاحت
باقی رہا یہ اعتراض کہ باب مذکور کی حدیث میں ہے کہ جس نے غروبِ آفتاب سے پہلے عصر کی ایک رکعت کا وقت پالیا وہ عصر کی نماز کو پورا کرے امام ابوحنیفہ اس حدیث کو اپنے ظاہر پر محمول کرتے ہیں، کیونکہ عصر کا آخری وقت ناقص ہوتا ہے جب سورج کا رنگ زرد پڑجاتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس وقت سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان ہوتا ہے اور اس وقت کی نماز کے متعلق فرمایا: یہ منافقین کی نماز ہے۔ (صحیح مسلم: ۶۲۲، سنن ترمذی: ۱۶۰) سو غروبِ آفتاب سے پہلے ناقص وقت ہوتا ہے، تو جس نے غروب سے پہلے ایک رکعت کا وقت پایا وہ غروب کے بعد نماز پوری کرلے کیونکہ اس نے شروع بھی ناقص وقت میں کی تھی اور وہ ختم بھی ناقص وقت میں کرے اس کے برخلاف فجر کا پورا وقت کامل ہے اگر طلوع شمس سے پہلے اس نے ایک رکعت پڑھی اور طلوعِ شمس کے بعد بقیہ ایک رکعت پڑھے گا تو یہ نماز شروع تو کامل وقت میں ہوئی تھی اور وہ اس کو ختم ناقص وقت میں کر رہا ہے اس لیے یہ نماز فاسد ہوجائے گی اس دقت اور باریکی کی وجہ سے امام اعظم نے ان دونوں نمازوں میں فرق کیا ہے کہ غروبِ آفتاب سے پہلے نمازی نے ایک رکعت نماز کا وقت پایا تو وہ بعد میں نماز پوری کرے تو نماز ہوجائے گی اور طلوعِ آفتاب سے پہلے ایک رکعت پڑھی اور آفتاب طلوع ہوگیا تو یہ نماز نہیں ہوگی۔
باب مذکور کی حدیث کا محمل
اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حدیث میں تو فجر اور عصر دونوں نمازوں کے متعلق فرمایا ہے کہ نمازی اپنی نماز پوری کرے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس حدیث کا محمل یہ ہے کہ جو کافر اس وقت مسلمان ہوا، جب آفتاب کے طلوع میں فجر کی ایک رکعت کا وقت رہتا تھا یا کوئی لڑکا اس وقت بالغ ہوا یا لڑکی اس وقت بالغ ہوئی یا کسی لڑکی کا حیض یا نفاس اس وقت ختم ہوا جب سورج کے طلوع میں ایک رکعت نماز کا وقت تھا تو ان سب پر فجر کی نماز فرض ہوجائے گی اور وہ اس نماز کی قضاء کریں گے، اسی طرح کوئی کافر اس وقت مسلمان ہوا جب عصر کی نماز کی ایک رکعت کا وقت رہتا تھا یا کوئی لڑکا یا لڑکی اس وقت بالغ ہوا یا کسی عورت کا اس وقت حیض یا نفاس ختم ہوا جب سورج غروب ہونے سے پہلے صرف ایک رکعت نماز پڑھنے کا وقت تھا تو ان کے ذمہ عصر کی نماز فرض ہوجائے گی اور وہ اس نماز کو پورا کریں گے۔
* باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: 1275 ج ۲ ص ۲۱۹ پر مذکور ہے اس حدیث کی شرح کے حسب ذیل عنوان ہیں:
(۱)دورانِ نماز طلوع یا غروبِ آفتاب سے نماز کا حکم
(۲) ائمہ ثلاثہ کی احادیث کا جواب۔