کتاب مواقیت الصلوۃ باب 17 حدیث نمبر 557
۵۵۷- حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِی إِبْرَاہِیمُ، عَنِ ابْنِ شِھَابٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللہِ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ “إِنَّمَا بَقَاؤُکُمْ فِیمَا سَلَفَ قَبْلَکُمْ مِنَ الْأُمَمِ، کَمَا بَیْنَ صَلَاۃِ الْعَصْرِ إِلَی غُرُوبِ الشَّمْسِ، أُوتِیَ أَھلُ التَّوْرَاۃِ التَّوْرَاۃَ، فَعَمِلُوا حَتَّی إِذَا انْتَصَفَ النَّھَارُ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِیرَاطًا قِیرَاطًا، ثُمَّ أُوتِیَ أَھلُ الْإِنْجِیلِ الْإِنْجِیلَ، فَعَمِلُوا إِلَی صَلَاۃِ الْعَصْرِ ثُمَّ عَجَزُوا، فَأُعْطُوا قِیرَاطًا قِیرَاطًا، ثُمَّ أُوتِینَا الْقُرْآنَ، فَعَمِلْنَا إِلَی غُرُوبِ الشَّمْسِ، فَأُعْطِینَا قِیرَاطَیْنِ قِیرَاطَیْنِ، فَقَالَ أَھْلُ الْکِتَابَیْنِ أَیْ رَبَّنَا أَعْطَیْتَ ھٰؤُلَاءِ قِیرَاطَیْنِ قِیرَاطَیْنِ وَأَعْطَیْتَنَا قِیرَاطًا قِیرَاطًا، وَنَحْنُ کُنَّا أَکْثَرَ عَمَلًا؟ قَالَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ ھَلْ ظَلَمْتُکُمْ مِنْ أَجْرِکُمْ مِنْ شَیْءٍ؟ قَالُوا لَا، قَالَ فَھُوَ فَضْلِی أُوتِیہِ مَنْ أَشَاءُ”۔
[اطراف الحدیث: 6628 – ۲۲۶۹ – 3459 – ۵۰۲۱ – 7467 – 7533]
(سنن ترمذی: ۲۸۱۷، صحیح ابن حبان: 6639، مصنف عبدالرزاق: ۲۰۵۶۵ – 20911، سنن بیہقی ج ۳ ص ۱۱۸، مسند ابوداؤد الطیالسی: ۱۸۲۰، مسند ابویعلی: ۵۸۳۸، المعجم الاوسط: 1642، شرح السنۃ: ۴۰۱۷، المعجم الصغیر: 53، المعجم الکبیر: ۱۳۲۸۵، مسند احمد ج ۲ ص ۶ طبع قدیم، مسند احمد: 4508، ج ۸ ص ۱۰۰ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، جامع المسانید لابن الجوزی: 3416، مکتبۃ الرشد ریاض 1426ھ)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبدالعزیز بن عبداللہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا : مجھے ابراہیم نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از سالم بن عبداللہ از والد خود، ان کو خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، تم سے پہلی امتوں میں تمہاری بقاء اس طرح ہے جیسے نماز عصر سے غروب آفتاب تک، اہل تورات کو تورات دی گئی، پس انہوں نے عمل کیا حتی کہ جب دوپہر ہوگئی تو وہ تھک گئے، پھر ان کو قیراط،قیراط دیا گیا پھر اہل انجیل کو انجیل دی گئی، پس انہوں نے عصر کی نماز تک عمل کیا، پھر وہ تھک گئے پس ان کو قیراط قیراط دیا گیا، پھر ہم کو قرآن دیا گیا تو ہم نے غروب آفتاب تک عمل کیا، پس ہم کو دو،دو قیراط دیئے گئے، پھر دونوں کتاب والوں نے کہا : اے ہمارے رب ! ہم کو ایک ایک قیراط دیا حالانکہ ہم نے زیادہ عمل کیا تھا؟ اللہ عزوجل نے فرمایا : کیا میں نے تم کو تمہارے اجر سے کچھ کم دیا ہے؟ انہوں نے کہا : نہیں ،اللہ نے فرمایا پھر یہ میرا فضل ہے ، میں جو کو چاہوں عطا کروں ۔
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں ان سب کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
اس حدیث کا عنوان ہے: جس شخص نے غروب سے پہلے ایک رکعت کو پالیا، اور اس حدیث کی اس عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس میں یہ ذکر ہے کہ ہمیں قرآن دیا گیا اور ہم نے عصر سے مغرب تک کام کیا اور ہمیں دو قیراط اجر دیا گیا اور مطابقت عصر سے مغرب تک کے الفاظ میں ہے۔
اس اعتراض کا جواب کہ گزشتہ امتوں کے زمانہ میں اس امت کی بقاء کس طرح متصور ہوسکتی ہے؟
اس حدیث میں ذکر ہے: تم سے پہلی امتوں میں تمہاری بقاء اس طرح ہے جیسے نمازِ عصر سے غروبِ آفتاب تک۔
بہ ظاہر اس جملہ کا معنی یہ ہے کہ گزشتہ امتوں کے زمانہ میں اس امت کی بقاء اس طرح ہوگی، حالانکہ یہ معنی مراد نہیں ہے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ گزشتہ امتوں کے زمانہ کے مقابلہ میں تمہارا زمانہ اتنا ہے جتنا نماز عصر سے غروب آفتاب تک کا زمانہ ہے۔
اس حدیث میں “قیراط” کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: درہم کا بارہواں حصہ، لیکن یہاں اس سے مراد ہے: اجر کا ایک حصہ۔
اس اعتراض کا جواب کہ اہل انجیل اور اہل تورات کو قیراط، قیراط اجر دینا کس طرح صحیح ہوگا ۔۔۔۔۔۔ جب کہ انہوں نے دین میں تحریف کرلی تھی؟
اس حدیث میں مذکور ہے کہ اہل تورات اور اہل انجیل کو قیراط، قیراط اجر دیا گیا، اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ اہل تورات اور اہل انجیل نے اپنی اپنی کتابوں میں تحریف کردی تھی اور اپنے دین کو بدل لیا تھا اور حضرت عزیر اور حضرت عیسیٰ کی پرستش شروع کردی تھی تو ان کو اجر عطا فرمانے کا ذکر کس طرح صحیح ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اجر ان کو دیا گیا تھا جو صحیح دین پر تھے اور آسمانی کتابوں میں تحریف اور تغییر سے پہلے جو لوگ مؤمن تھے اور تورات اور انجیل کے احکام پر عامل تھے اور بعد کے وہ لوگ مراد نہیں ہیں جنہوں نے کتابوں میں تحریف اور دین میں تغییر کردی تھی۔
اس حدیث میں مذکور ہے کہ اہل انجیل نے کہا: ہم نے زیادہ عمل کیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی امّت کی فضیلت اور عصر کا وقت دو مثل سائے سے شروع ہونے کی دلیل
اس حدیث میں ہماری امّت کی فضیلت ہے اور اس میں یہ ثبوت ہے کہ عصر کا وقت دو مثل سائے سے شروع ہوتا ہے کیونکہ نصاریٰ نے کہا: ہم نے زیادہ عمل کیا ہے اور ہم کو ایک قیراط ملا ہے اور اہل قرآن نے کم عمل کیا ہے اور ان کو دو قیراط ملے ہیں نصاریٰ نے ظہر سے عصر تک عمل کیا اور اہل قرآن نے عصر سے مغرب تک عمل کیا، اگر عصر کا وقت ایک مثل سائے سے شروع ہوتا تو زوال سے لے کر ایک مثل سائے تک اور ایک مثل سائے سے مغرب تک برابر وقت ہوگا اور حدیث میں نصاریٰ کا قول ذکر کیا گیا ہے کہ ہم نے ان سے زیادہ عمل کیا ہے وہ صحیح نہیں رہے گا یہ قول اسی وقت صحیح ہوگا جب یہ فرض کیا جائے کہ عصر کا وقت دو مثل سائے سے شروع ہوتا ہے پھر ظہر سے عصر تک کا وقت دگنا ہوگا اور عصر سے مغرب تک کا وقت اس کا آدھا ہوگا اور تب حدیث میں مذکور نصاریٰ کا یہ اعتراض درست ہوگا کہ ہم نے عمل ان سے زیادہ کیا ہے اور اجر ہم کو کم ملا ہے۔
[…] حدیث کی شرح بھی وہی ہے جو گزشتہ حدیث 557 میں بیان کی گئی […]