کتاب مواقیت الصلوۃ باب 21 حدیث نمبر 565
۲۱ – بَابُ وَقْتِ الْعِشَاءِ إِذَا اجْتَمَعَ النَّاسُ أَوْ تَأَخَّرُوا
عشاء کا وقت جب لوگ جمع ہوں یا تاخیر سے آئیں
اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ عشاء کا وقت اس وقت ہے جب لوگ عشاء پڑھنے کے لیے جمع ہوں خواہ جلد اکٹھے ہوں یا دیر سے۔ حضرت عمرو بن العاص کی حدیث میں ہے کہ اس میں متوسط رات کے نصف تک تاخیر کی جاسکتی ہے امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اس میں آدھی رات تک تاخیر کی جاسکتی ہے داؤد ظاہری کے نزدیک اس میں طلوع فجر تک تاخیر کی جا سکتی ہے امام مالک کے نزدیک یہ ضرورت کا وقت ہے۔
علامہ عینی نے کہا: امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ گرمیوں کی راتوں میں اس میں تہائی رات تک تاخیر کرنا مستحب ہے اور آدھی رات تک تاخیر کرنا مباح اور اس کے بعد بلاعذر تاخیر کرنا مکروہ ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص ۹۲)
۵۶۵۔ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ،عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ عَمْرٍو، وَهُو ابْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ سَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّه عَنْ صَلُوةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ كَان يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ حَيَّة،ٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا وَجَبَتْ، وَالْعِشَاءِ إِذَا كَثُرَ النَّاسُ عَجَّلَ وَإِذَا قَلُّوا أَخَّرَ، وَالصُّبْحَ بِغَلَسٍ۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسلم بن ابراہیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی از سعد بن ابراہیم از محمد بن عمرو اور وہ ابن الحسن بن علی ہیں انہوں نے کہا: ہم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے نبی ﷺ کی نماز کی متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ دوپہر کے وقت ظہر کی نماز پڑھتے تھے اور عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب سورج چمکتا ہوا ہوتا تھا اور مغرب اس وقت پڑھتے تھے جب سورج غروب ہوجاتا اور جب لوگ زیادہ ہوتے تو عشاء کی نماز جلدی پڑھتے اور جب لوگ کم ہوتے تو عشاء کی نماز مؤخر دیتے اور صبح کی نماز اخیر شب کے اندھیرے میں پڑھتے۔
اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۵۶۰ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: مغرب کا وقت، اور یہاں اس کا عنوان ہے: عشاء کا وقت، اور اس حدیث میں دونوں عنوانوں کی صلاحیت ہے۔