کتاب مواقیت الصلوۃ باب 22 حدیث نمبر 566
۲۲۔ بَابُ فَضْلِ الْعِشَاءِ
عشاء کی فضیلت
یہ باب عشاء کی نماز کی فضیلت کے بیان میں ہے اور ان ابواب کی مناسبت ظاہر ہے۔
۵۶۶۔ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ،عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّ عَائِشَة أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ أَعْتَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لَيْلَةً بِالْعِشَاءِ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَفْشُوَ الْإِسْلَامُ، فَلَم يَخْرُجُ حَتَّى قَالَ عُمَرُ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَج فَقَالَ لِأَهْلِ الْمَسْجِدِ مَايَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْل الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ۔ [اطراف الحدیث: ۵۶۹، ۸۶۲، 864]
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یحییٰ بن بکیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں لیث نے حدیث بیان کی از عقیل از ابن شہاب از عروہ کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی انہوں نے بیان کیا کہ ایک رات نبی ﷺ نے عشاء کی نماز میں بہت تاخیر کردی اور یہ اس وقت کی بات ہے جب اسلام کے احکام پھیلے نہیں تھے آپ گھر سے باہر نہیں آئے حتیٰ کہ حضرت عمر نے کہا کہ عورتیں اور بچے سوگئے، پھر آپ گھر سے نکلے اور مسجد والوں سے فرمایا: روئے زمین پر تمہارے سوا اس نماز کا کوئی اور انتظار نہیں کررہا تھا۔
(صحیح مسلم: ۶۳۸، الرقم المسلسل: 1416، سنن النسائی: 478، سنن الکبریٰ للنسائی: ۳۸۹، سنن دارمی: ۱۲۱۳، صحیح ابن حبان: ۱۵۳۵، مسند الشامیین: 76-3095، سنن بیہقی ج 1 ص 374، شرح السنہ: ۳۵۷، مسند احمد ج ۶ ص 34 طبع قدیم، مسند احمد ج 40 ص ۶۵، مؤسسۃ الرسالۃ بیروت، جامع المسانید لابن الج 7212، مکتبۃ الرشد ریاض 1426ھ)
’’اعتم‘‘ کا معنی، احکام اسلام کا ظہور کہاں ہوا تھا؟ عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے سونے کا جواز۔۔۔ اور دیگر فوائد حدیث
اس حدیث میں مذکور ہے: ’’اعتم‘‘ اس کا معنی ہے: اندھیرے میں داخل ہوئے اور اس سے مراد ہے: آپ نے عشاء کی نماز میں تاخیر کردی۔
اس حدیث میں مذکور ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب اسلام کے احکام پھیل نہیں تھے ۔ اس سے مراد ہے: مدینہ کے علاوہ دوسرے شہروں میں اسلام کے احکام کا ظہور نہیں ہوا تھا کیونکہ مدینہ کے علاوہ دوسرے شہروں میں اسلام کے احکام کا ظہور فتح مکہ کے بعد ہوا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: روئے زمین پر تمہارے سوا اس نماز کا کوئی اور انتظار نہیں کر رہا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت مدینہ کے سوا اور کہیں نماز نہیں پڑھی جارہی تھی اور دوسرے ادیان اور مذاہب میں اس وقت نماز نہیں تھی۔
اس حدیث میں مذکور ہے کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر کر دی اس سے معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر عشاء کی نماز میں اتنی تاخیر نہیں کرتے تھے نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس پر نیند کا غلبہ ہو وہ عشاء کی نماز سے پہلے سوسکتا ہے۔ حضرت عمرؓ نے کہا: عورتیں اور بچے سوگئے اس سے معلوم ہوا کہ نماز پڑھانے کے لیے امام کو گھر سے بلانا جائز ہے نیز اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لطف و کرم اور آپ کی تواضع کا بیان ہے کیونکہ جب حضرت عمرؓ نے بلند آواز سے کہا: بچے اور عورتیں سوگئے تو آپ نے اس پر حضرت عمرؓ کو کچھ نہیں کہا۔ (عمدۃ القاری ج ۵ ص 94 – 93 دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ)
[…] حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۵۶۶ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: عشاء کی نماز کی […]