کتاب مواقیت الصلوۃ باب 26 حدیث نمبر 573
۲۶۔ بَابُ فَضْلِ صَلٰوةِ الْفَجْرِ
فجر کی نماز کی فضیلت
خصوصیت کے ساتھ فجر کی نماز کی فضیلت اس لیے بیان کی ہے کہ فجر کی نماز کے لیے انسان نیند ترک کرکے نماز کے لیے جاتا ہے اور نیند کو ترک کرکے نماز کے لیے جانا نفس پر بہت شاق ہوتا ہے اور اس لیے بھی کہ نیند موت کی بہن ہے گویا کہ انسان جب بیدار ہوتا ہے تو اس کو موت کے بعد دوبارہ زندگی ملتی ہے، اسی لیے حدیث میں ہے:
حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سونے کا ارادہ کرتے تو یہ دعا کرتے:
اللهم باسمک اموت واحیا
اے اللہ! میں تیرے نام سے مرتا ہوں اور تیرے نام سے زندہ ہوتا ہے۔
اور جب آپ نیند سے بیدار ہوتے تو یہ دعا کرتے:
الحمد لله الذي احيا نفسي بعد ان اماتها واليه النشور.(سنن الترمذی: ۳۴۱۷، مسند احمد ج ۵ ص ۳۸۵)
تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے میرے نفس کی موت کے بعد اس کو زندہ کیا اور قیامت کے دن اسی کی طرف اٹھنا ہے۔
اور جب بیدار ہونے کے بعد انسان کو دوبارہ زندگی ملتی ہے تو اس زندگی کا شکر ادا کرنے کے لیے اس کو اس وقت کی نماز پڑھنی چاہیے اور فجر کی نماز کی فضیلت میں ہی اس باب کی حدیث ہے:
۵۷۳۔ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا یَحْیٰی، عَنْ اِسْمَاعِیْلَ قَالَ حَدَّثَنَا قَیْسٌ قَالَ لِیْ جَرِیرُ ابْنُ عَبْدِاللہِ اللہ کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَیْہِ وَسَلَّم،َ إِذْ نَظَر إِلَی الْقَمَرِ لَیْلَةَ الْبَدْرِ، فَقَالَ اَمَا إِنَّکُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّکُم کَمَا تَرَوْنَ ھذَا، لَا تُضَامُونَ أَوْ لَا تُضَاھونَ فِی رُؤْیَتِہِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا تُغْلَبُوا عَلَی صَلَاةٍ قَبْل طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِہَا فَافْعَلُوا، ثُمَّ قَال(َ وَسَبِّح بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِہ)َ۔طہ: 130
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ نے حدیث بیان کی از اسماعیل انہوں نے کہا: ہمیں قیس نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھ سے حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے، وہ چودھویں رات کا چاند تھی۔ آپ نے چاند کی طرف دیکھ کر فرمایا: سنو! عنقریب تم اپنے رب کو اس طرح دیکھو گے جسْ طرح اس چاند کو دیکھ رہے ہو، تم کو کوئی مشقت نہیں ہوگی نہ تم کو کوئی شبہ ہوگا، پس اگر تم یہ کرسکتے ہو کہ طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروبِ آفتاب سے پہلے نماز پڑھنے سے مغلوب نہ ہو تو (ضرور) کرو، پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ”پس آپ طلوعِ شمس سے پہلے اور غروبِ شمس سے پہلے (نماز میں) اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھیے“ (ط: 130)۔
اس حدیث کی شرح ‘صحیح البخاری: 554’ میں کی جاچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: نمازِ عصر کی فضیلت اور یہاں اس کا عنوان ہے: نمازِ فجر کی فضیلت اور اس حدیث میں دونوں عنوانوں کی گنجائش ہے۔