تبیان الوضوء “رضوی فقہ و تحقیق کا مثالی رسالہ

*”تبیان الوضوء “رضوی فقہ و تحقیق کا مثالی رسالہ*

تحریر:۔ *خالد ایوب مصباحی شیرانی*

khalidinfo22@gmail.com

اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا:

فرائض غسلِ جنابت جو تین ہیں، ان میں "مضمضہ واستنشاق واسا لۃ الماء علی کل البدن” (کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا اور پورے بدن پر پانی بہانا)سے کیسا مضمضہ واستنشاق واسا لہ ماء مراد ہے؟

قارئین محسوس کر سکتے ہیں کہ سوال کوئی انوکھا یا نادر نہیں، اس لیے ظاہر ہے اس کا جواب بھی کوئی نادر نہیں ہونا چاہیے لیکن اعلی حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے اس کے جواب میں حسب عادت جس طرح علمی، فقہی اور فکری دقت نظری کا مظاہرہ کیا ہے، اس کی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔

خاص بات یہ ہے کہ اگر اس سوال کی مذہبی حیثیت نہ دیکھی جائے تو یہ سوال در اصل بدن انسانی سے متعلق ہے جس کے بارے میں کیا عالم اور کیا جاہل، لگ بھگ ہر فرد کو موٹی موٹی باتیں معلوم ہوتی ہیں، لیکن امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ نے اس عام سمجھے جانے والے مسئلے کو جو علمی اور فقہی دقت عطا کی ہے، وہ آپ ہی کے قلم کا امتیاز ہے۔

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دلائل اور تفصیلات سے صرف نظر کرتے ہوئے یہاں بہت موٹے انداز میں جواب کے اہم گوشوں کا ذکر کیا جائے اور آخر میں حضرت رضا کے علمی کمالات کے جوہر دیکھے جائیں، سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:

"مضمضہ:سارے دہن کامع اس کے ہر گوشے، پر زے، کنج کے حلق کی حد تک دھلنا۔۔۔اور ہم نے دھلنا کہا ،دھونا نہ کہا، اس لیے کہ طہارت میں کچھ اپنا فعل، یا قصد شرط نہیں، پانی گزرنا چاہیے، جس طرح ہو”۔

اس کلی اصول کے بعد اس پر عمل کے عوامی اور عامی حالات کو ملحوظ رکھتےہوئے لکھتے ہیں:

"آج کل بہت بے علم اس مضمضہ کے معنی صرف کلی کے سمجھتے ہیں ،کچھ پانی منہ میں لے کر اُگل دیتے ہیں کہ زبان کی جڑ اور حلق کے کنارہ تک نہیں پہنچتا،یوں غسل نہیں اُترتا،نہ اس غسل سے نماز ہوسکے، نہ مسجد میں جاناجائزہوبلکہ فرض ہے کہ داڑھوں کے پیچھے، گالوں کی تہ میں، دانتوں کی جڑ میں، دانتوں کی کھڑکیوں میں، حلق کے کنارے تک، ہرپرزے پر پانی بہے، یہاں تک کہ اگر کوئی سخت چیز کہ پانی کے بہنے کو روکے گی، دانتوں کی جڑ، یا کھڑکیوں وغیرہ میں حائل ہو تو لازم ہے کہ اُسے جُداکرکے کُلّی کرے، ورنہ غسل نہ ہوگا،ہاں! اگر اُس کے جُدا کرنے میں حرج و ضرر و اذیت ہو، جس طرح پانوں کی کثرت سے جڑوں میں چونا جم کر متحجرہوجاتا ہے کہ جب تک زیادہ ہوکر آپ ہی جگہ نہ چھوڑ دے، چھڑانے کے قابل نہیں ہو تا، یاعورتوں کے دانتوں میں مسی کی ریخیں جم جاتی ہیں کہ ان کے چھیلنے میں دانتوں، یا مسوڑھوں کی مضرت کا اندیشہ ہے تو جب تک یہ حالت رہے گی، اس قدر کی معافی ہوگی فان الحرج مدفوع بالنص۔۔۔

مضمضہ کی یہ فقہی تفصیل کتنی جامع ہے؟ خاص طور پر ارباب فقہ و افتا ہی سمجھ سکتے ہیں۔ استنشاق کی تفصیل میں بھی اسی طرح علمی جوہر پاشی کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

استنشاق:ناک کے دونوں نتھنوں میں جہاں تک نرم جگہ ہے یعنی سخت ہڈی کے شروع تک دھلنا۔۔۔

اور یہ یوں ہی ہوسکے گا کہ پانی لے کر سونگھے اور اوپر کو چڑھائے کہ وہاں تک پہنچ جائے، لوگ اس کابالکل خیال نہیں کرتے اوپر ہی اوپر پانی ڈالتے ہیں کہ ناک کے سرے کو چھو کر گرجاتا ہے، بانسے میں جتنی جگہ نرم ہے، اس سب کو دھونا تو بڑی بات ہے ظاہر ہے کہ پانی کا بالطبع میل نیچے کوہے، اوپربے چڑھائے ،ہرگزنہ چڑھے گا،افسوس کہ عوام توعوام بعض پڑھے لکھے بھی اس بلامیں گرفتار ہیں۔کاش! استنشاق کے لغوی ہی معنی پر نظر کرتے تو اس آفت میں نہ پڑتے، استنشاق سانس کے ذریعہ سے کوئی چیز ناک کے اندر چڑھاناہے، نہ کہ ناک کے کنارہ کو چھو جانا۔ وضومیں تو خیر اس کے ترک کی عادت ڈالے سے سنت چھوڑنے ہی کاگناہ ہوگاکہ مضمضہ واستنشاق بمعنی مذکور دونوں وضو میں سنتِ مؤکدہ ہیں کمافی الدرالمختار۔اور سنت مؤکدہ کے ایک آدھ بار ترک سے اگرچہ گناہ نہ ہو، عتاب ہی کااستحقاق ہو مگربارہا ترک سے بلاشبہ گناہ گار ہوتا ہے کمافی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار،تاہم وضو ہوجاتا ہے اور غسل تو ہرگز اُترے ہی گانہیں، جب تک سارامنہ حلق کی حدتک اور سارا نرم بانسہ سخت ہڈی کے کنارہ تک پورا نہ دھل جائے یہاں تک کہ علما فرماتے ہیں کہ اگر ناک کے اندر کثافت جمی ہے تو لازم کہ پہلے اسے صاف کرلے، ورنہ اس کے نیچے پانی نے عبور نہ کیا توغسل نہ ہوگا۔۔۔اس احتیاط سے بھی روزہ دار کو مفر نہیں،ہاں! اس سے اوپرتک اُسے نہ چاہیے کہ کہیں پانی دماغ کو نہ چڑھ جائے ،غیر روزہ دارکے لیے یہ بھی سنت ہے۔۔۔

سوال کے تیسرے پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

اسالۃ الماء علی ظاھر البدن سر کے بالو ں سے تلووں سے نیچے تک جسم کے ہر پرزے،رونگٹے کی بیرونی سطح پر پانی کا تقاطر کے ساتھ بہہ جانا، سوا اس موضع یا حالت کے جس میں حرج ہو ۔۔۔بدن کا ہر وہ حصہ دھونا فرض ہے جسے بغیر حرج کے دھونا ممکن ہے۔۔۔

یہاں دو قسم کی بے احتیاطیاں کرتے ہیں جن سے غسل نہیں ہوتا اور نمازیں اکارت جاتی ہیں:

اوّلاً:غَسل بالفتح کے معنی میں نافہمی کہ بعض جگہ تیل کی طرح چپڑ لیتے ہیں، یابھیگا ہاتھ پہنچ جانے پر قناعت کرتے ہیں حالاں کہ یہ مسح ہوا،غسل میں تقاطراور پانی کابہنا ضرور ہے، جب تک ایک ایک ذرّے پر پانی بہتا ہوا نہ گزرے گا ،غسل ہرگز نہ ہوگا۔۔۔

ثانیا: پانی ایسی بے احتیاطی سے بہاتے ہیں کہ بعض مواضع بالکل خشک رہ جاتے ہیں، یا اُن تک کچھ اثر پہنچتا ہے تو وہی بھیگے ہاتھ کی تری۔ اُن کے خیال میں شاید پانی میں ایسی کرامت ہے کہ ہر کنج وگوشہ میں آپ دوڑ جائے، کچھ احتیاط خاص کی حاجت نہیں حالاں کہ جسم ظاہر میں بہت موقع ایسے ہیں کہ وہاں ایک جسم کی سطح دوسرے جسم سے چھپ گئی ہے، یا پانی کی گزرگاہ سے جدا واقع ہے کہ بے لحاظ خاص پانی اس پر بہنا ہرگز مظنون نہیں اور حکم یہ ہے کہ اگر ذرّہ بھر جگہ یا کسی بال کی نوک بھی پانی بہنے سے رہ گئی تو غسل نہ ہوگا اور نہ صرف غسل بلکہ وضو میں بھی ایسی ہی بے احتیاطیاں کرتے ہیں، کہیں ایڑیوں پر پانی نہیں بہتا، کہیں کہنیوں پر، کہیں ماتھے کے بالائی حصے پر،کہیں کانوں کے پاس کنپٹیوں پر۔ ہم نے اس بارہ میں ایک مستقل تحریر لکھی ہے اُس میں ان تمام مواضع کی تفصیل ہے جن کا لحاظ و خیال وضو وغسل میں ضرور ہے مردوں اور عورتوں کی تفریق اور طریقہ احتیاط کی تحقیق کے ساتھ ایسی سلیس وروشن بیان سے مذکور ہے جسے بعونہ تعالی ہر جاہل بچہ، عورت سمجھ سکے،یہاں اجمالاً ان کا شمار کیے دیتے ہیں۔

اب تک جو باتیں بیان ہوئیں، ان میں علمیت بھی ہے، فکری گہرائی بھی، توجہ دینے اور احتیاط کرنے کی تلقین بھی ہے اور خشیت ربانی پیدا کرنے کا گر بھی لیکن اب بے احتیاطیوں کےجو پہلو شمار میں آ رہے ہیں، وہ نہایت توجہ طلب ہیں، لکھتے ہیں:

"ضروریات وضو مطلقاً یعنی مرد و عورت سب کے لیے:

(۱) پانی مانگ یعنی ماتھے کے سرے سے پڑنا،بہت لوگ لَپ یا چُلّو میں پانی لے کر ناک ،یا ابرو، یا نصف ماتھے پر ڈالتے ہیں، پانی تو بہہ کر نیچے آیا، وہ اپنا ہاتھ چڑھا کر اوپر لے گئے، اس میں سارا ماتھا نہ دُھلا ،بھیگا ہاتھ پھرا اور وضو نہ ہوا۔

(۲) پٹیاں جھکی ہوں تو انہیں ہٹا کر پانی ڈالے کہ جو حصہ پیشانی کا اُن کے نیچے ہے، دُھلنے سے نہ رہ جائے۔

(۳) بھووں کے بال چھدرے ہوں کہ نیچے کی کھال چمکتی ہو تو کھال پر پانی بہنا فرض ہے، صرف بالوں پر کافی نہیں۔

(۴) آنکھوں کے چاروں کوئے،آنکھیں زور سے بند کرے،یہاں کوئی سخت چیز جمی ہوئی ہو تو چھڑالے۔

(۵) پلک کا ہربال پورا ،بعض وقت کیچڑ وغیرہ سخت ہوکر جم جاتا ہے کہ اُس کے نیچے پانی نہیں بہتا، اُس کا چھڑانا ضرور ہے۔

(۶)کان کے پاس تک کنپٹی، ایسا نہ ہو کہ ماتھے کا پانی گال پر اتر آئے اور یہاں صرف بھیگا ہاتھ پھرے۔

(۷) ناک کا سوراخ، اگر کوئی گہنا ،یاتنکا ہوتو اسے پھرا پھرا کر، ورنہ یوں ہی دھار ڈالے، ہاں! اگر بالکل بند ہوگیا تو حاجت نہیں۔

(۸) آدمی جب خاموش بیٹھے تو دونوں لب مل کر کچھ حصہ چھپ جاتا،کچھ ظاہر رہتا ہے، یہ ظاہر رہنے والا حصہ بھی دُھلنا فرض ہے،اگر کُلّی نہ کی اور منہ دھونے میں لب سمیٹ کر بزور بند کرلیے تو اس پر پانی نہ بہے گا۔

(۹) ٹھوڑی کی ہڈی، اُس جگہ تک جہاں نیچے کے دانت جمے ہیں۔

(۱۰) ہاتھوں کی آٹھوں گھائیاں۔

(۱۱) انگلیوں کی کروٹیں کہ ملنے پر بند ہوجاتی ہیں۔

(۱۲) دسوں ناخنوں کے اندر جو جگہ خالی ہے، ہاں! مَیل کا ڈر نہیں۔

(۱۳) ناخنوں کے سرے سے کہنیوں کے اوپر تک ہاتھ کا ہر پہلو،چُلّومیں پانی لے کر کلائی پر اُلٹ لینا ہرگز کافی نہیں۔

(۱۴)کلائی کا ہربال جڑ سے نوک تک۔ایسا نہ ہو کہ کھڑے بالوں کی جڑ میں پانی گزر جائے، نوکیں رہ جائیں۔

(۱۵) آرسی، چھلّے اور کلائی کے ہر گہنے کے نیچے۔

(۱۶) عورتوں کو پھنسی چُوڑیوں کا شوق ہوتا ہے، اُنہیں ہٹا ہٹا کر پانی بہائیں۔

(۱۷) چوتھائی سرکا مسح فرض ہے، پوروں کے سرے گزار دینا، اکثر اس مقدار کو کافی نہیں ہوتا۔

(۱۸) پاؤوں کی آٹھوں گھائیاں۔

(۱۹) یہاں انگلیوں کی کروٹیں زیادہ قابلِ لحاظ ہیں کہ قدرتی ملی ہوئی ہیں۔

(۲۰) ناخنوں کے اندر کوئی سخت چیز نہ ہو۔

(۲۱) پاؤوں کے چھلّے اور جو گہنا گٹوں پر ،یا گٹوں سے نیچے ہو، اس کے نیچے سیلان شرط ہے۔

(۲۲) گٹّے۔

(۲۳) تلوے۔

(۲۴) ایڑیاں۔

(۲۵) کونچیں”۔

یہ پچیس مقامات وہ ہیں جن کی احتیاط مردوں اور عورتوں دونوں پر لازم ہے، اب یہاں سے پانچ مقامات وہ بیان ہو رہے ہیں جن کی احتیاط خاص مردوں پر لازم ہے، لکھتے ہیں:

"خاص بہ مرداں:

(۲۶) مونچھیں۔

(۲۷) صحیح مذہب میں ساری داڑھی دھونا فرض ہے یعنی جتنی چہرے کی حد میں ہے، نہ لٹکی ہوئی کہ ہاتھ سے گلے کی طرف کو دباؤ تو ٹھوڑی کے اُس حصّے سے نکل جائے، جس پر دانت جمے ہیں کہ اس کا صرف مسح سنّت اور دھونا مستحب ہے۔

(۲۸ ۔ ۲۹) داڑھی مونچھیں چھدری ہوں کہ نیچے کی کھال نظر آتی ہو تو کھال پر پانی بہنا۔

(۳۰) مونچھیں بڑھ کر لبوں کو چھپالیں تو انھیں ہٹا ہٹا کر لبوں کی کھال دھونا، اگرچہ مونچھیں کیسی ہی گھنی ہوں”۔

صرف چار فرض اعضائے وضو سے متعلق تیس احتیاطوں کا تذکرہ، یقیناً کسی عظیم ترین فقیہ ہی کی نظر کا کمال ہو سکتا ہے جبکہ عام طور پر علمی حالات یہ ہیں کہ بہت سے لوگ ان چاراعضا میں تیس اجزا کی مناسب تعبیر کرنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔

وضو کی یہ تیس احتیاطیں گنانے کے بعد ان پر تفصیلی دلائل نقل کرتے ہیں اور درمیان میں اپنا تحقیقی اور احتیاطی موقف بھی رکھتے رہتے ہیں اور پھر غسل کی طرف بڑھتے ہوئے دوسراسلسلہ یوں قائم کرتے ہیں:

"ظاہر ہے کہ وضو میں جس جس عضو کا دھونا فرض ہے غسل میں بھی فرض ہے تو یہ سب اشیا یہاں بھی معتبر اور ان کے علاوہ یہ اور زائد۔

(۳۱) سر کے بال کہ گندھے ہوئے ہوں، ہر بال پر جڑ سے نوک تک پانی بہنا۔

(۳۲)کانوں میں بالی پتّے وغیرہ زیوروں کے سوراخ کا غسل میں وہی حکم ہے، جو ناک میں بلاق وغیرہ کے چھید کا غسل و وضو دونوں میں تھا۔

(۳۳) بھنووں کے نیچے کی کھال اگرچہ بال کیسے ہی گھنے ہوں۔

(۳۴)کان کا ہر پرزہ ،اس کے سوراخ کا منہ۔

(۳۵)کانوں کے پیچھے بال ہٹا کر پانی بہائے۔

(۳۶) استنشاق بمعنی مذکور۔

(۳۷) مضمضہ بطرز مسطور۔

(۳۸) داڑھوں کے پیچھے ،

(۳۹) دانتوں کی کھڑکھیوں میں جو سخت چیز ہو، پہلے جدا کرلیں۔

(۴۰) چونا ریخیں وغیرہ جو بے ایذا چھوٹ سکے، چھڑانا۔

(۴۱) ٹھوڑی اور گلے کاجوڑ کہ بے منہ اٹھائے نہ دُھلے گا۔

(۴۲) بغلیں بے ہاتھ اٹھائے نہ دُھلیں گی۔

(۴۳) بازو کا ہر پہلو،

(۴۴) پیٹھ کا ہردرہ۔

(۴۵) پیٹ وغیرہ کی بلٹیں اٹھا کر دھوئیں۔

(۴۶) ناف انگلی ڈال کر ،جبکہ بغیر اس کے پانی بہنے میں شک ہو۔

(۴۷) جسم کا کوئی رونگٹاکھڑا نہ رہ جائے۔

(۴۸) ران اور پیڑو کا جوڑ کھول کر دھوئیں۔

(۴۹) دونوں سرین ملنے کی جگہ، خصوصاً جب کھڑے ہوکر نہائیں۔

(۵۰) ران اور پنڈلی کا جوڑ جبکہ بیٹھ کر نہائیں۔

(۵۱) رانوں کی گولائی۔

(۵۲) پنڈلیوں کی کروٹیں”۔

یہاں تک کی احتیاطیں عام تھیں، اب خاص مردوں کی بیان ہوتی ہیں:

"خاص بہ مرداں:

(۵۳)گندھے ہوئے بال کھول کر جڑ سے نوک تک دھونا۔

(۵۴) مونچھوں کے نیچے کی کھال اگرچہ گھنی ہوں۔

(۵۵) داڑھی کا ہر بال جڑ سے نوک تک۔

(۵۶) ذکر وانثیین کے ملنے کی سطحیں کہ بے جدا کیے نہ دھلیں گی۔

(۵۷) انثیین کی سطح زیریں جوڑ تک۔

(۵۸) انثیین کے نیچے کی جگہ تک۔

(۵۹) جس کا ختنہ نہ ہوا ہو، بہت علما کے نزدیک اُس پر فرض ہے کہ کھال چڑھ سکتی ہو تو حشفہ کھول کر دھوئے۔

(۶۰) اس قول پر اس کھال کے اندر بھی پانی پہنچنا فرض ہوگا ،بے چڑھائے، اُس میں پانی ڈالے کہ چڑھنے کے بعد بند ہوجائے گی”۔

اب یہاں سے اسپیشل طور پر عورتوں کے غسل کی احتیاطیں بیان ہو رہی ہیں:

"خاص بہ زناں:

(۶۱) گندھی چوٹی میں ہر بال کی جڑ تر کرنی، چوٹی کھولنی ضرور نہیں، مگر جب ایسی سخت گندھی ہو کہ بے کھولے جڑیں تر نہ ہوں گی۔

(۶۲) ڈھلکی ہوئی پستان اٹھا کر دھونی۔

(۶۳) پستان وشکم کے جوڑ کی تحریر۔

(۶۴تا۶۷) فرج خارج کے چاروں لبوں کی جیبیں جڑتک۔

(۶۸) گوشت پارہ بالاکاہر پرت کہ کھولے سے کھل سکے گا۔

(۶۹) گوشت پارہ زیریں کی سطح زیریں۔

(۷۰) اس پارہ کے نیچے کی خالی جگہ، غرض فرج خارج کے ہر گوشے، پرزے، کنج کا خیال لازم ہے ۔ہاں! فرج داخل کے اندر انگلی ڈال کر دھونا واجب نہیں، بہتر ہے”۔

اب تک وضو اور غسل کی ستر احتیاطوں کا تذکرہ ہوا۔ اب ان احتیاطوں کے علمی اور فنی کمالات سے پہلے احتیاط کا مطلب بھی جان لیں، لکھتے ہیں:

"مواضع احتیاط میں پانی پہنچنے کاظن غالب کافی ہے یعنی دل کو اطمینان ہوکہ ضرور پہنچ گیا، مگر یہ اطمینان نہ بے پرواہوں کاکافی ہے، جو دیدہ ودانستہ بے احتیاطی کررہے ہیں، نہ وہمی وسوسہ زدہ کا اطمینان ضرور، جسے آنکھوں دیکھ کر بھی یقین آنا مشکل بلکہ متدین محتاط کااطمینان چاہیے” ۔( الدرالمختار،کتاب الطہارۃ)

چوں کہ ضمنا کچھ باتیں مواضع حرج کی بھی آئی تھیں اور اسی طرح اشارتاً کچھ ایسی تفصیلات بھی آئی تھیں جن میں بادی النظر کو کلام ہو سکتا ہے، اس لیے ان مواضع کی تفصیل اور ان اوہام کا ازالہ بھی ضروری ہے، اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی دقت نظر یہاں بھی ویسے ہی کام کر رہی ہے جیسے باب احتیاط میں بے نظیر تھی، لکھتے ہیں:

"بالجملہ! تمام ظاہر بدن، ہر ذرّہ، ہر رونگٹے پر، سر سے پاؤں تک پانی بہنا فرض ہے، ورنہ غسل نہ ہوگا، مگر مواضع حرج معاف ہیں

مثلاً:

(۱) آنکھوں کے ڈھیلے،

(۲) عورت کے گندھے ہوئے بال،

(۳) ناک کان کے زیوروں کے وہ سوراخ جو بند ہوگئے،

(۴) نامختون کاحشفہ جبکہ کھال چڑھانے میں تکلیف ہو،

(۵) اس حالت میں اس کھال کی اندرونی سطح جہاں تک پانی بے کھولے نہ پہنچے اور کھولنے میں مشقت ہو،

(۶) مکھی یامچھر کی بیٹ جو بدن پر ہو، اُس کے نیچے،

(۷) عورت کے ہاتھ پاؤں میں اگر کہیں مہندی کا جرم لگارہ گیا،

(۸) دانتوں کا جما ہوا چونا،

(۹) مسی کی ریخیں،

(۱۰) بدن کا میل،

(۱۱) ناخنوں میں بھری ہوئی یا بدن پر لگی ہوئی مٹّی،

(۱۲) جو بال خود گرہ کھا کر رہ گیا ہو، اگرچہ مرد کا،

(۱۳) پلک یا کوئے میں سرمہ کا جرم،

(۱۴) کاتب کے انگوٹھے پر روشنائی۔ ان دونوں کاذکر رسالہ الجود الحلو میں گزرا۔

(۱۵) رنگریز کے ناخن پر رنگ کا جرم،

(۱۶) نان بائی، یا پکانے والی عورت کے ناخن میں آٹا، علی خلاف فیہ۔

(۱۷) کھانے کے ریزے کہ دانت کی جڑ یا جوف میں رہ گئے کما مراٰنفا عن الخلاصۃ۔

(۱۸) اقول :ہلتا ہوا دانت،اگر تارسے جکڑاہے معافی ہونی چاہیےاگرچہ پانی تار کے نیچے نہ بہے کہ بار بار کھولنا ضرر دے گا نہ اس سے ہر وقت بندش ہوسکے گی،

(۱۹) یوں ہی اگر اُکھڑا ہُوادانت کسی مسالے مثلاً برادہ آہن ومقناطیس وغیرہ سے جمایاگیاہے، جمے ہوئے چُونے کی مثل اس کی بھی معافی چاہیے۔۔۔

(۲۰) پٹّی کہ زخم پر ہو اور کھولنے میں ضرر یا حرج ہے،

(۲۱) ہر وہ جگہ کہ کسی درد یا مرض کے سبب اُس پر پانی بہنے سے ضرر ہوگا”۔

حرج اور مضرت کی چلتے چلتے اکیس صورتیں بیان کرنے کے بعد اس کی بھی تشریح کر رہے ہیں کہ حرج کا مطلب کیا ہے، لکھتے ہیں:

"اقول: وباللہ التوفیق! حرج کی تین صورتیں ہیں:

ایک: یہ کہ وہاں پانی پہنچانے میں مضرت ہو جیسے آنکھ کے اندر،

دوم: مشقت ہو جیسے عورت کی گندھی ہوئی چوٹی،

سوم :بعد علم واطلاع کوئی ضرر ومشقت تو نہیں مگر اس کی نگہ داشت، اس کی دیکھ بھال میں دقت ہے جیسے مکھی، مچھر کی بیٹ یا الجھا ہوا، گرہ کھایا ہوا بال۔

قسم اول ودوم کی معافی توظاہر اور قسم سوم میں بعد اطلاع، ازالہ مانع ضرور ہے مثلاً جہاں مذکورہ صورتوں میں مہندی، سرمہ، آٹا،روشنائی ،رنگ، بیٹ وغیرہ سے کوئی چیز جمی ہوئی دیکھ پائی تو اب یہ نہ ہو کہ اُسے یوں ہی رہنے دے اور پانی اوپر سے بہادے بلکہ چھُڑالے کہ آخر ازالہ میں توکوئی حرج تھا ہی نہیں تعاہد میں تھابعداطلاع اس کی حاجت نہ رہی”۔

یہ ہے رسالہ "تبیان الوضوء” کا خلاصہ جس میں وضو و غسل کی احتیاطیں، فرائض کی تفصیلات، جزئیات کی فراہمی، اختلاف فقہا سے بچتے ہوئے چلنے کی محتاط روش، حق کی تلقین اور صحیح مذہب پر عمل کی یقین دہانی سب کچھ ہے اور ان تمام خوبیوں کے ساتھ درج ذیل امور بطور خاص نظر آتے ہیں:

(الف) ما فی الضمیر کی خوب صورت ادائیگی۔ حساس قاری اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان مواضع میں سے کئی جگہیں وہ ہیں جن کے بیان کے لیےمناسب تعبیریں نہیں مل پاتیں لیکن حضرت امام اہل سنت علیہ الرحمہ نے نہ صرف یہ کہ اپنا ما الضمیر پورے کمال کے ساتھ ادا کیا ہے بلکہ اتنے خوب صورت انداز سے ادا کیا ہے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔

(ب) اظہار بیان کے لیے موزوں الفاظ اور ایسے موزوں کہ بارہا زندگی بھر ان سے سابقہ نہیں پڑتا یا ان تک نظر ہی نہیں جاتی۔ یہ اردو ادب پر بھی اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا ایک طرح سے احسان ہے جیسے یہ الفاظ و تعبیرات: پٹیاں جھکی ہوں، بھووں کے بال چھدرے ہوں، آنکھوں کے چاروں کوئے، ہاتھوں /پاؤں کی آٹھوں گھائیاں، انگلیوں کی کروٹیں، پیٹھ کا ہردرہ، پیٹ وغیرہ کی بلٹیں،، پیڑو کا جوڑ، رانوں کی گولائی، انثیین کی سطح زیریں، فرج خارج کے چاروں لبوں کی جیبیں، گوشت پارہ زیریں کی سطح زیریں اور کوئے میں سرمہ وغیرہ۔

(ج) الفاظ میں حیا کی مکمل پاس داری جیسے گوشت پارہ بالا یعنی نسوانی شرم گاہ۔

(د) علمی گیرائی۔اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی ہر تحریر کی طرح یہ تحریر بھی اپنے آپ میں بڑی علمی گہرائی اور گیرائی رکھتی ہے۔ محتاط الفاظ، مدلل گفتگو، حالات زمانہ پر پوری نظر، حوالہ جات کا التزام اور سب سے اہم پہلو یہ کہ فرق مراتب کرتے ہوئے عام زندگی سے متعلق مسائل میں بھی علمی رنگ۔

(ھ) دقت نظری۔اس پورے رسالے کی سب سے زیادہ اہمیت اس کی دقت نظری ہے ورنہ نہ جسم انسانی کے اعضا انوکھے ہیں اور نہ ان اعضا کے اجزا نرالے ہیں لیکن اس عموم کے باوجود یہ دقت نظری ہی ہے جس نے اس طرح گفتگو کی ہے جیسے یہ کوئی نئی دنیا اور نرالی تحقیق ہو۔

(و) شان فقاہت۔ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کا سب سے زیادہ نمایاں پہلو ان کی شان فقاہت ہے جو ان کی ہر تحریر میں دور سے محسوس کی جا سکتی ہے، زیر بحث مسئلے پر گفتگو کے دوران بھی آپ علیہ الرحمہ نے حسب مزاج فقہ و افتا کے ان تمام لازمی اصولوں کی مکمل پاس داری کی ہے، جن کا کسی بھی فقیہ کو التزام کرنا ہوتا ہے جیسے دقت نظری، فرق مراتب، مضبوط استدلال، محکم موقف اور اشباہ و نظائر میں امتیاز وغیرہ جیسے بھوں اور مونچھ کے مسئلے میں وضو اور غسل میں کیا جدا حکم ہے؟ اس کی ایسے انداز سے وضاحت کی کہ کوئی عظیم فقیہ ہی کر سکتا ہے۔ اس تفصیل کی روشنی میں مونچھ اور بھنووں کے احکام یوں نکلے: (1۔3) داڑھی مونچھیں چھدری ہوں کہ نیچے کی کھال نظر آتی ہو تو کھال پر پانی بہنا ضروری ہے لیکن اگریہ گھنی ہوں اور اس وجہ سے جلد تک پانی نہ پہنچ سکے تو فرضیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوگا جبکہ غسل میں بہر حال مونچھوں کے نیچے کی کھال کا دھونا ضروری ہوگا اگرچہ مونچھیں گھنی ہوں۔

(4۔6) اسی طرح بھووں کے بال چھدرے ہوں کہ نیچے کی کھال چمکتی ہو تو وضو میں کھال پر پانی بہنا فرض ہے اور اگر ایسے گھنے ہوں کہ پانی نہ پہنچ سکے تو حرج نہیں لیکن غسل میں بھنووں کے نیچے کی کھال کا دھلنا بہر حال ضروری ہوگا اگرچہ بال کیسے ہی گھنے ہوں۔

کچھ مواضع جو اول نظر میں باریکی کا تقاضا نہیں کرتے، آپ کی فقہی نظر نے نہ صرف ان کا انتخاب کیا بلکہ ان پر فقہی جزئیات کی روشنی میں ایسی باریک اور استدلالی گفتگو کی کہ قاری کے لیے تسلیم کے علاوہ کوئی چارہ نہ بچے جیسے: (1) آدمی جب خاموش بیٹھے تو دونوں لب مل کر کچھ حصہ چھپ جاتا،کچھ ظاہر رہتا ہے، یہ ظاہر رہنے والا حصہ بھی دُھلنا فرض ہے،اگر کُلّی نہ کی اور منہ دھونے میں لب سمیٹ کر بزور بند کرلیے تو اس پر پانی نہ بہے گا۔ (2) کان کا ہر پرزہ ،اس کے سوراخ کا منہ۔(3) چوتھائی سرکا مسح فرض ہے، پوروں کے سرے گزار دینا، اکثر اس مقدار کو کافی نہیں ہوتا۔

(ز)حوالہ جات کا ایسا التزام کہ باتوں کا تسلسل بھی نہ ٹوٹے اور اعتبار بھی قائم رہے۔اس کا مناب طریقہ آپ نے یہ اپنایا کہ سوال کے ہر گوشے کا جواب دینے کے بعد اس سے متعلق فقہی آثار و دلائل سے ایسے حسین پیرائے میں استدلال کیا کہ جہاں باتوں کا اعتبار قائم رہا، وہیں انداز بیان کے تسلسل میں ذرا فرق بھی نہیں آیا۔

(ح) سچ تو یہ ہے کہ اس نازک خیالی اور باریک نظری کے ساتھ نمبرنگ کا اہتمام بھی ایک کمال ہے ورنہ بہت ممکن ہے کہ: ڈھلکی ہوئی پستان اٹھا کر دھونی اور پستان و شکم کے جوڑ کی تحریر” میں فرق نہ معلوم ہو۔

(ط) مواضع احتیاط کا ذکر کرنے کے بعد مواضع عفو کی جو فہرست تیار کی ہے، اس میں بھی امتیازات و کمالات کے وہ تمام جوہر پائے جا رہے ہیں، جو درج بالا مواضع میں مذکور ہوئے۔ اسی طرح حرج کے اصولوں کے تعلق سے جو اصولی گفتگو ہوئی ہے، وہ بھی بجائے خود ایک فقہی مثال ہے۔

یعنی کہا جا سکتا ہے کہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ کو اللہ تعالی نے وہ نظر انتخاب عطا فرمائی تھی، جو عموم میں بھی خصوص پیدا کر لیتی تھی۔ آپ کا یہ رسالہ وہ ہے جس کی علمی پہنائیاں سمجھنے کے لیے نہ کسی علمی ادارے کی سند درکار ہے اور نہ ذہن ثاقب بلکہ ہر عامی بھی سلیقے کے ساتھ اس گفتگو کو سمجھ سکتا ہے اور انصاف کی نگاہ سے دیکھنے کے بعد یہ فیصلہ کر سکتا ہے کہ آپ عبقری نگاہ کےمالک تھے۔ اس رسالےکے ذریعہ جہاں حضرت امام علیہ الرحمہ کی علمی شخصیت، فقہی بصیرت اور دقت نظری کا روشن ثبوت فراہم ہوتا ہے، وہیں دلائل کی تفصیل کے ساتھ یہ واضح میسیج بھی ملتا ہے کہ دیانت و تقوی اور زہد و ورع کی اصطلاحیں، اس وقت تک موہوم ہیں، جب تک ان پر علمی رنگت حاوی نہ ہو۔علما کی طرح عوام پر اوراپنوں کے ساتھ غیروں پر بھی یہ رسالہ حجت کا درجہ رکھتا ہے۔اللہ تعالی عمل کی توفیق بخشے۔

ڈاکٹر طاہر القادری کا اعلی حضرت امام احمد رضا سے موازنہ؟

باسمہ تعالی و تقدس

ڈاکٹر طاہر القادری کی تصانیف کی واقعی حقیقت اور علمی حیثیت بتلانے والی سنجیدہ اور مدلل تحریر:

*ڈاکٹر طاہر القادری کا اعلی حضرت امام احمد رضا سے موازنہ؟*

تحریر:۔ *خالد ایوب مصباحی شیرانی* 

khalidinfo22@gmail.com

مسلمانوں کے جاہلانہ جذبات کا افسوس ناک پہلو ہے، وہ کسی کو ماننے یا نہ ماننے یعنی کسی کی خدمات کا اعتراف کرنے اور کسی کی خدمات کا دائرہ پہچاننے کا بھی سلیقہ نہیں رکھتے۔ دودھ میں کھیر کی آمیزش کرنے کا یہ وہ بھیانک مغالطہ ہے جو گاہے گاہے انسان کو فکری دیوالیہ اور ذہنی مریض بنا دیتا ہے۔ اس قسم کے جاہلانہ جذبات کا سب سے زیادہ نقصان یہ ہوتا ہے کہ اس طرح کے افراد چوں کہ محض جذباتی ہوتے ہیں، جن کی نہ اپنی کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ ان کے پاس مطلوبہ علم، اس لیے کسی کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں تو اتنا زیادہ کہ اب اس کے آگے کسی دوسرے کی خدمات کو نہ صرف نظر انداز کر جاتے ہیں بلکہ کبھی کبھی اہانت مومن کے بھی مرتکب ہو جاتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی کی تعظیم کے لیے کسی کی توہین یا کسی کی ستائش کے لیے کسی کی اہانت خلاف انسانیت ہی نہیں، بجائے خود ایک جرم بھی ہے۔ اسی طرح کسی کی خدمات کو نکارتے ہیں تو یوں جیسے اس کی اپنی واقعی خدمات بھی کالعدم ہیں۔ 

ماضی قریب میں مذہبی دنیا پر شخصیت پرستی کا یہ رنگ غالب رہا اور افسوس اس بات کا ہے جو طبقات یا افراد اس کے خلاف کھڑے ہوئے وہ بھی ایک شخصیت سے بھاگ کر دوسری شخصیت کے دامن میں جا چھپے گویا آسمان سے گرے بھی تو کھجور میں اٹکے کیوں کہ ایسے غیر سنجیدہ افراد کا مقدر آخر اٹکنا ہی تھا۔ اس تعداد میں بیشتر لوگ وہ ہوتے ہیں جن کا اپنا کوئی وجود یا کام نہیں ہوتا کیوں کہ جو خود با کار افراد ہوتے ہیں، انھیں اس بے برکتی کے دور میں اتنی فرصت کہاں کہ وہ ترازو لے کر گلی گلی چکر لگاتے پھریں اور اپنی قیمتی زندگی اسی بے کاری کے حوالے کر دیں۔ 

اعلی حضرت امام رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ (1272 ھ/ 1856 ء ۔ 1440 ھ/ 1921ء) چودہویں صدی کے مجدد، عظیم فقیہ ، سچے عاشق رسول ، بارگاہ رسالت پناہ ﷺ میں مقبول شخصیت اور عبقری عالم ربانی تھے۔ آپ نے بیک وقت علم و عمل، فکر و اعتقاد، فقہ و فتوی، دعوت و تبلیغ اور شخصیت سازی کے میدانوں میں نمایاں کار نامے انجام دیے۔آپ کا سب سے نمایاں کار نامہ احقاق حق اور ابطال باطل ہے جسے آپ نے قلمی جہاد کے طور پر انجام دیا۔ آپ کے قلم حق رقم نے تجدیدی شان کے ساتھ امت کے درمیان علمی وراثت تقسیم کی۔ فتنوں کی سرکوبی کی۔وہ گنجلک مسائل جن کی پیچیدگی کے آگے حضرت امام ابن عابدین شامی جیسے لوگ حیران نظر آتے ہیں، آپ نے بڑی آسانی سے حل کر دکھائے۔

آپ کے دار الافتا میں بیک وقت پانچ سو تک استفتا جمع ہوجاتے تھے اورتقریبا دس مفتیوں کے برابر کام ہوتا، لیکن آپ تنہا انجام دیتے۔آپ سے عوام و خواص کے علاوہ ریاست رام پور، خان پور کچہری اور چیف کورٹ بہاول پور کے ججوں نے بھی استفتا کیے اور آپ کے فتووں پر اپنے فیصلوں کی بنیاد رکھی۔ رَوسَر چینی، کاغذ کے نوٹ، منی آرڈر، فوٹو گرافی اورتاڑی سے خمیر شدہ آٹے کے احکام جیسے مشکل مسائل پر آپ نے تن تنہا جس عالی ہمتی کے ساتھ علمی تحقیق کی، یہ آپ ہی کا حصہ تھا۔ کاغذ کے نوٹ کے تعلق سے جب علمائے مکہ مکرمہ پریشان ہوئے تو بات مفتی اعظم مکہ مکرمہ شیخ جمال بن عبد اللہ مکی علیہ الرحمہ تک پہنچی لیکن وہ بھی اس جدید مسئلے کاحل نہ کر سکے اور دیانت داری کے ساتھ لکھا: المسئلۃ حدیثۃ، والعلم امانۃ فی اعناق العلماء” مسئلہ نیا ہے اور علم علما کی گردنوں میں امانت ہے۔ 

1323ھ/ 1905ء میں جب اعلی حضرت علیہ الرحمہ دوسری بار زیارت حرمین شریفین کے لیے تشریف لے گئے تو مکہ مکرمہ کے علمائے کرام مولانا عبد اللہ احمد میردادامام مسجد حرام اور ان کے استاد مولانا حامد احمد محمد جداوی علیہما الرحمہ نے نوٹ سے متعلق بارہ سوالات پر مشتمل استفتا اعلی حضرت قدس سرہ کی خدمت میں پیش کیا، آپ نے شنبہ 21/ محرم کو جواب شروع کیا اور دو شنبہ 23/ محرم کو چاشت کے وقت”کفل الفقیہ الفاھم فی احکام قرطاس الدراھم” کے نام سے مکمل کر دیا۔ درمیان میں بخار کی وجہ سے وقفہ بھی ہوتا رہا۔ (خلاصہ: خطبہ صدارت، از: علامہ محمد مصباحی، بموقع: 25/واں فقہی سیمینار منعقدہ 18۔20/ ربیع النور 1440)

اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی کی فقہی بصیرت اور عظیم فقہی خدمات کی شافی تفصیل کےلیے اس موضوع پر تحریر کردہ کتب سے مراجعت کرنی چاہیے۔جو بھی انصاف پسند آپ کی ان عظیم خدمات کو کھلے دل سے پڑھے گا، وہ آپ کی عبقریت ویسے ہی تسلیم کرنے پر مجبور ہوگا، جیسے اب تک عرب و عجم کی کوئی درجنوں فتوحات کا سلسلہ آپ کے نام رہا ہے۔ 

فقہ اعلی حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کا سب سے نمایاں میدان تھا لیکن فقہ ہی آپ کا میدان تھا، ایسا نہیں۔ آپ کے علوم و معارف کا دائرہ حیران کن حد تک وسیع ہے جس کی جھلک خود آپ نے پچپن علوم کی شکل میں پیش کی ہے جبکہ جدید تقاضوں کے اعتبار سے علوم کی جو ذیلی شاخیں پھوٹی ہیں، اس نظر سے دیکھا جائے تو آج کےماڈرن ایج میں آپ کے ان علوم و معارف کی فہرست میں دنیا جہان کے ایک سو بیس علوم سمو آتے ہیں۔ 

کسی شخصیت کا بیک وقت اتنے علوم و فنون کا حاصل کر لینا بجائے خود ایک کرشمہ ہے، ان کا ماہر ہو پانا اور پھر اپنی مہارت کے آثار پیش کر دینا واقعتاً بہت بڑی کرامت ہے لیکن اعلی حضرت امام احمد رضا خاں کی عبقریت یہ ہے کہ آپ نےممکنہ اعتراضات کا قلع قمع کرتے ہوئے ان پچپن علوم میں اپنے یادگار اور حیران کن علمی اور قلمی نقوش بھی چھوڑے ہیں۔ پہلے آپ کے مطابق ان پچپن علوم کی فہرست دیکھیے:

(١) علم القران (٢) حدیث (٣) اصول حدیث (٤) فقہ حنفی (٥) کتب فقہ جملہ مذاہب (٦) اصولِ فقہ (٧) جدل مہذب (٨) علم تفسیر (٩) عقائد و کلام (١٠) نحو (١١) صرف (١٢)معانی (١٣) بیان (١٤) بدیع (١٥) منطق (١٦) مناظرہ (١٧) فلسفہ (١٨) تکسیر (١٩) ہیئت (٢٠) حساب (٢١) ہندسہ (٢٢) قرأت (٢٣) تجوید (٢٤) تصوف (٢٥) سلوک (٢٦) اخلاق (٢٧) اسماء الرجال (٢٨) سیر (٢٩) تاریخ (٣٠) لغت (٣١) ادب معہ جملہ فنون (٣٢) ارثما طیقی (٣٣) جبر و مقابلہ (٣٤) حساب سینی (٣٥) لوگارثمات (٣٦) توقیت (٣٧) مناظرہ مرایا (٣٨) علم الاکر (٣٩) زیجات (٤٠) مثلث کروی (٤١) مثلث سطح (٤٢) ہیئت جدیدہ (٤٣) مربعات (٤٤) جفر (٤٥) زائرچہ (٤٦) نظم عربی (٤٧) نظم فارسی (٤٨) نظم ہندی (٤٩) نثر عربی (٥٠) نثر فارسی (٥١) نثر ہندی (٥٢) خط نسخ (٥٣) نستعلیق (٥٤) تجوید (٥٥) علم الفرائض ۔(اعلی حضرت امام احمد رضا کے تجدیدی کارنامے اور علوم و فنون کی فہرست، بحوالہ: الاجازۃ الرضویہ۔ از: علامہ نسیم احمد صدیقی)

یہ وہ فہرست ہے جو اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے حافظ کتب حرم شیخ اسماعیل خلیل مکی کو سند اجازت دیتے وقت ذکر کی ہے۔ اس فہرست میں وہ کئی علوم نظر نہیں آئیں گے جنھیں آج ہمارے بچے پڑھتے ہیں کیوں کہ اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی تیار کردہ یہ فہر ست بھی بہت جامع ہے۔ اس میں ذکر کردہ کچھ علوم وہ ہیں جن سے بعد میں کئی شاخیں نکلی ہیں اور جن کی شناخت کے لیے دور جدید کے ماہرین تعلیم نے الگ الگ عنوانات مختص کیے ہیں ۔ اسی وجہ سے دور حاضر کے اعتبار سے اس فہرست کو پھیلایا جائے تو یہ اب تقریبا ایک سو بیس علوم و فنون پر مشتمل ہوتی ہے ۔ان دعووں کے مدلل نقوش دیکھنے کے لیے ماہ نامہ ” پیغام شریعت” دہلی کا ” مصنف اعظم نمبر” دیکھنا چاہیے۔

"المیزان” بمبئی کے ایڈیٹر سید محمد جیلانی بن سید محامد اشرف نے سچ لکھا ہے:

”اگر ہم ان کی علمی و تحقیقی خدمات کو ان کی 66 سالہ زندگی کے حساب سے جوڑیں تو ہر 5 گھنٹے میں امام احمد رضا ایک کتاب ہمیں دیتے نظر آتے ہیں ، ایک متحرک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا جو کام تھا ،امام احمد رضانے تن تنہا انجام دے کر اپنی جامع شخصیت کے زندہ نقوش چھوڑے۔ (المیزان، امام احمد رضا نمبر مارچ ١٩٧٦)

علمی مہارتیں، قلمی جہاد اور فکری محاذ آرائیاں اعلی حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ کا وہ سدا بہار گلشن ہے جس کی تحقیق کر کر کے اب تک کئی درجن لوگ پی ایچ ڈی ہولڈر بن چکے ہیں لیکن آپ علیہ الرحمہ کا کل کار نامہ یہی نہیں، شخصیت سازی بھی آپ کی محیر العقول شخصیت کا نہایت نمایاں پہلو ہے۔

آپ کے تلامذہ اور خلفا کی فہرست پر نظر ڈالنے والا ہر انصاف پسند اس بات کا اعتراف کرے گا کہ آپ گویا شمع معرفت ہیں جس کے پروانوں میں سے ہر پروانے کی اپنی جدا شان ہے اور آپ کے علمی بوستان سے مہکنے والے ہر گل کی جدا رنگت، جدا بو۔ اس اجمال کی تفصیل کی جائے تو بات بڑی لمبی ہو جائے گی، اس لیے اس اشارے کو کافی سمجھا جائے۔ 

سر دست اس تعارف کی ضرورت یوں پیش آئی کہ ادھر کچھ عرصے سے کچھ جذبات سے مغلوب دیوانےہوش و خرد ہی نہیں دیانت و عدالت بالائے طاق رکھ کر اعلی حضرت امام احمد رضا خاں محدث بریلوی علیہ الرحمہ کی نابغہ روزگار شخصیت کا موازنہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری سے کر رہے ہیں اور ڈاکٹر صاحب موصوف کی بے جا بجا تصانیف نما کتابوں کی چکاچوند کے پیچھے چھپے حقائق کا گلہ گھونٹ رہے ہیں۔ آئیے! حقائق تک رسائی کے لیے ڈاکٹر صاحب پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں: 

ڈاکٹر محمد طاہر القادری بن ڈاکٹر فرید الدین قادری 19/ فروری 1951ء کو پاکستان کے ضلع جھنگ میں پیدا ہوئے۔1955ء سے 1986ء تک علمی مراحل طے کیے۔ آپ کی تعلیمی صلاحیتوں میں درس نظامی کورس، اسلامیات میں ایم اے، اسلامی فلسفہ عقوبات میں پی ایچ ڈی اور قانون کی تعلیم ہے۔ 1974ء سے 1988ء تک آپ مختلف تعلیمی اداروں کی تدریس سے وابستہ رہے اور اسی دوران شعبہ وکالت سے بھی وابستہ رہے۔ 1980ء میں آپ نے "ادارہ منہاج القرآن ” کی بنیاد رکھی اور یہی آپ کی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ 

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ادارہ منہاج القرآن اور اس کے بانی ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے دعوت دین کے میدان میں قابل قدر خدمات انجام دی ہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ جدید ذرائع ابلاغ کا دینی کاز کے لیے جتنے سلیقے سے اس ادارہ نے استعمال کیا ہے، بہت کم دینی تحریکوں اور اداروں نے کیا یا بہت دیر بعد کیا۔یہ بھی تسلیم کہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے خطبات اور کتابوں نے نئی نسل کی بڑی دینی ضرورتیں پوری کیں اور یہ بھی بجا کہ ڈاکٹر صاحب کی پوری شناخت ان کے یہی کارنامے ہیں۔ لیکن جس طرح ان واقعی خوبیوں کا اعتراف نہ کرنا، تعصب ہوگا، اسی طرح ڈاکٹر صاحب کو ان کے قد سے کئی گنا بڑا مرتبہ دینا یا ان کے گم راہ نظریات کی بھی تائید و حمایت کرنا اسلامی مزاج کے سراسر خلاف ہے کیوں کہ اسلامی نقطہ نظر سے کوئی بھی شخصیت اسی وقت قابل قبول ہو سکتی ہے جب وہ ایمان و عقیدے کی سلامتی کے تمام معیارات پر کھری اترے، عقیدے کے ساتھ سمجھوتے کر لینے والی یا اپنے عقائد حقہ میں باطل نظریات کی آمیزش کرنے والی ہر بڑی سے بڑی شخصیت کو اسلام بحیثیت اسلام محترم نہیں قرار دے سکتا۔

اسی طرح کسی شخصیت کا اسلامی خدمات انجام دینا، اس کی حقانیت کی دلیل نہیں ہو سکتا کیوں کہ اللہ رب العزت حکیم و قدیر ہے، وہ اپنے دین کی خدمت کسی سے بھی لے سکتا ہے۔ مختار ثقفی کے کار نامے اور اس کا انجام اس کی بڑی دلیل ہے، حال میں بھی اس کی بہت مثالیں ہیں۔ یہ وہ بنیادی غلط فہمی ہے جس کے کئی لوگ شکار ہیں۔ 

اوپر جس شخصیت پرستی کا ذکر ہوا، ڈاکٹر صاحب کے چاہنے والوں کو بھی ان کی محبتوں کا کچھ ایسا فوبیا ہے کہ وہ ان کی چاہت میں علمی دیانتوں کے تمام تقاضے فراموش کر گئے۔ اس وقت حد ہو گئی جب کچھ دیوانوں نے ڈاکٹر صاحب کا اعلی حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمہ سے موازنہ شروع کر دیا اور کھلے بندوں یہ کہنے لگے: اعلی حضرت محض ایک مفتی تھے، جبکہ ڈاکٹر صاحب عظیم مصنف ہیں، ان کی تصانیف کی تعداد اتنی اتنی ہے۔ 

اگر دنیا میں انصاف زندہ ہے تو ہمیں یہ لکھنے میں کوئی باک نہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری اپنی تمام تر علمی اور معنوی خوبیوں کے باوجود نہایت شاطر دماغ، استحصال مزاج اور علمی طور پر دیانتوں کا خون کرنے والا شخص ہے۔ یہ محض ایک دعوی نہیں، اس کے پیچھے درج ذیل دلائل کے انبار بھی ہیں۔ 

ڈاکٹر صاحب کے ادارہ منہاج القرآن کا علمی، تحقیقی اور تصنیفی شعبہ ہے ” فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ” جس کی بنیاد 7/ دسمبر 1987 میں رکھی گئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ شعبہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے والد سے منسوب ہے۔ اس شعبے کے مقاصد اور ذیلی شعبہ جات کیا کچھ ہیں، ادارہ کے ویکی پیڈیا پیج پر یوں پیش کیے گئے ہیں: 

(1) شعبہ تحقیق و تدوین (2) ریسرچ ریویو کمیٹی (3) مرکزی لائبریری(4) شعبہ ترجمہ (5) شعبہ انفارمیشن ٹیکنالوجی (6) شعبہ کمپوزنگ (7) شعبہ نقل نویسی (8) شعبہ خطاطی (9) شعبہ مسودات و مقالہ جات (10) شعبہ ادبیات (11) دار الافتا (12) شعبہ تحقیقی تربیت

فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے قیام کے وقت اس کے درج ذیل مقاصد متعین کیے گئے:

اسلام کے حقیقی پیغام کی تبلیغ و اشاعت۔تحریک منہاج القرآن کی فکر کی ترویج۔نئی نسل کو بے یقینی، اخلاقی زوال اور غیر مسلم اقوام کی ذہنی غلامی سے نجات دلانے کے لیے اسلامی تعلیمات کی جدید ضروریات کے مطابق اشاعت۔مذہبی اذہان کو علم کے میدان میں ہونے والی جدید تحقیقات سے روشناس کرانا۔راہ حق سے بھٹکے ہوئے مسلمانوں کو اپنا صحیح ملی تشخص باور کرانا۔مسلم امہ کو درپیش مسائل کا مناسب حل تلاش کرنا۔نوجوان نسل کو دین کی طرف راغب کرنا۔تحریک منہاج القرآن سے وابستہ افراد کی علمی و فکری تربیت کا نظام وضع کرنا اور تربیتی نصاب مدون کرنا۔ (( تحریک منہاج القرآن سے وابستہ تمام اہل قلم کو مجتمع کرنا اور ان کی صلاحیتوں کو تحریک کے پلیٹ فارم پر جہاد بالقلم کے لیے بروئے کار لانا))۔ملکی و بین الاقوامی سطح پر تمام اہل قلم تک تحریک کی دعوت بذریعہ قلم پہنچانا اور انہیں مصطفوی مشن کے اس پلیٹ فارم پر جمع کرنا۔تحریک کی دعوت بذریعہ قلم پھیلانے کے لیے اس کے اساسی و فکری موضوعات پر مضامین اور تحقیقی مقالات تیار کرنا اور انہیں ذرائع ابلاغ تک پہنچانا۔تحریک کی دعوت بذریعہ قلم پھیلانے کے لیے علمی اور فکری موضوعات پر کتب تصنیف کرنا اور تحقیقی ضروریات پورا کرنا۔((قائد تحریک کے مختلف دینی، سماجی، اقتصادی، سیاسی و سائنسی، اور اخلاقی و روحانی موضوعات پر فکر انگیز ایمان افروز خطابات کو کتابی صورت میں مرتب کروانا))۔ ریسرچ اسکالرز سے اہم موضوعات پر تحقیقی مواد تیار کروانا اور اسے شائع کروانا۔جدید اسلوب تحقیق اور عصری تقاضوں کے مطابق اسلامی ورثہ کو نسل نو کی طرف منتقل کرنا۔(ویکی پیڈیا پیج:فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ)

ہم اس میں کوئی شک نہیں کرتے کہ ان مقاصد میں سے ہر مقصد میں خلوص رہا ہوگا لیکن اس عبارت کا پہلا جملہ ہی بتا رہا ہے، یہ مقاصد متعین تھے، پورے نہیں ہوئے، بارہ شعبہ جات نے مل کر اوپر ڈبل قوسین کے درمیان ذکر کردہ دو مقاصد کی تکمیل پر زور رکھا اور تحریک سے جڑے تمام سادہ لوح اور جذباتی لوگوں کی صلاحیتوں کو نچوڑ کر قائد تحریک ڈاکٹر طاہر القادری کے مختلف دینی، سماجی، اقتصادی، سیاسی و سائنسی، اور اخلاقی و روحانی موضوعات پر دیے گئے خطابات کو کتابی صورت میں مرتب کرنے پر محنت کی اور آج ڈاکٹر صاحب کی کئی سو کتابیں اسی استحصال کا نتیجہ ہیں۔ 

قارئین! یقین کریں! ڈاکٹر صاحب کی تصانیف کا بنیادی راز یہی ہے۔ ان کی تصانیف نما ضخامتوں کے پیچھے بارہ تنخواہ یافتہ شعبہ جات کام کر رہے ہیں اور سچ یہ ہے کہ ان مطبوعہ کتابوں کے ٹائٹل پر ” شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری” کا سنہرا نام ضرور رہتا ہے لیکن در اصل آں جناب کا اپنی ایسی تصانیف میں کوئی خاطر خواہ کردار نہیں ہوتا۔ یقین نہ ہو تو ڈاکٹر صاحب کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق دیکھیے کہ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف کے پیچھے کن بے چارے اور مظلوم کرائے داروں کی محنتیں کام کر رہی ہیں۔ 

ویکی پیڈیا کے مطابق فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے الگ الگ شعبہ جات میں صرف اہم ذمہ داروں کے طور پر اب تک جو لوگ کام کر چکے ہیں، ان کی اجمالی فہرست یہ ہے: (1)لیکچرر محمد صدیق قمر، (2) علامہ ظہور الہٰی،(3) علامہ محمد امین مدنی (4) پروفیسر مستنیر علوی (5) ڈاکٹر علی اکبر ازہری (6) رانا جاوید مجید قادری، (7)پروفیسر محمد اشرف چودھری، (8) پروفیسر محمد رفیق نقشبندی، (9) ڈاکٹر نعیم انور نعمانی، (10) ریاض حسین چودھری، (11) ناصر اقبال ایڈووکیٹ، (12) شیخ عبدالعزیز دباغ، (13)قمر الزمان شیخ، (14) ڈاکٹر طاہر حمید تنولی، (15) ڈاکٹر کرامت اللہ، (16)محمد فاروق رانا، (17)پروفیسر نصر اللہ معینی، (18)ضیاء اللہ نیر، (19)پروفیسر محمد الیاس قادری، (20) ڈاکٹرمحمد نواز ازہری، (21) ڈاکٹرمحمد ارشد نقشبندی، (22) علامہ محمد الیاس اعظمی، (23) علامہ محمد رمضان قادری، (24) محمد علی قادری، (25) محمد تاج الدین کالامی،(26) محمد افضل قادری، (27) عبدالجبار قمر،(28) علامہ سہیل احمد صدیقی، (29) ابو اویس محمد اکرم قادری، (30) محمد حنیف، (31) حافظ فرحان ثنائی، (32) حافظ ظہیر احمداسنادی، (33) اجمل علی مجددی (34) حسنین عباس (35) ڈاکٹر محمد ظہور اللہ ازہری، (36) سید قمر الاسلام ضیغم، (37) ڈاکٹر فیض اﷲ بغدادی، (38) حافظ محمد ضیاء الحق رازی (39) حافظ مزمل حسین بغدادی، (40) پروفیسر محمد نواز ظفر، (41) مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، (42) ممتاز الحسن باروی، (43) شبیر احمد جامی، (44)ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، (45)پروفیسر افتخار احمد شیخ، (46) پروفیسر محمد رفیق، (47) عاصم نوید، (48) یونس علی بٹر (49)جاوید اقبال طاہری، (50) امانت علی چودھری، (51) ڈاکٹر زاہد اقبال، (52) تحسین خالد، (53) فاروق ارشاد، (54) محمد یامین، (55)عبد الخالق بلتستانی، (56) حامد سمیع، (57) محمد نواز قادری، (58) کاشف علی سعید، (59) سلیم حسن، (60) غلام نبی قادری، (61) حافظ محمد طاہر علوی، (62) مقصود احمد ڈوگر، (63) محمد افتخار، (64) ظہیر احمد سیال، (65)علامہ حافظ حکیم محمد یونس مجددی، (66)محترم محمد اخلاق چشتی، (67)محمد یوسف نظامی، (68) سلام شاد، (69) شاہد محمود، (70) علامہ حافظ سراج سعیدی، (71) فریدہ سجاد، (72) مصباح کبیر، (37) نازیہ عبدالستار، (74) رافعہ علی، (75) آسیہ سیف قادری، (76) کوثر رشید، (77) جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کی منتہی کلاسوں کے طلبا ۔

اس فہرست میں شیخ الاسلام کی تقریرو ں سے کتاب بنانے والے نقل نویس، کتاب کو تحقیقی رنگ دینے والے محققین، تحقیق میں تخریج کا رنگ بھرنے والے ریسرچ اسکالرز، کتاب کو ادبی رنگ دینے والے ارباب ادب، کتابوں کی کمپوزنگ کرنے والے ٹائپسٹ اور کتابوں کو دوسری زبانوں میں ڈھالنے والے مترجمین سب شامل ہیں یعنی یہ پوری ٹیم ہے، 1987 سے 2018 تک کی تیس سال سالہ مدت ہے اور نتیجتاً شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے نام سے چھپی ہوئی سیکڑوں کتابیں ہیں۔ 

آدمی کتنا بھی جھوٹا ہو، کبھی نہ کبھی کسی بہانے سچ زبان پر آ ہی جاتا ہے، منہاج القرآن کے تیار کردہ اس ویکی پیڈیا پیج پر بھی اس طرح کئی جگہ خواہی نخواہی سچ کی آمیزش ہو ہی گئی ہے، جس کے زیر و بم سے یہ اعتراف ہوتا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تصانیف میں مندرجہ بالا لوگوں کی محنتیں شامل ہیں۔ اب ذرا سچائی کو دبے لفظوں میں محسوس کیجیے ایک جگہ لکھا ہے:

تینوں حضرات خصوصاً ریاض حسین چودھری نے سیرۃ الرسول کے تاریخی پراجیکٹ پر حضرت شیخ الاسلام کی نگرانی میں نہایت جاں فشانی سے کام کیا۔(ایضا)

ایک جگہ "شعبہ تحقیق و تدوین” کے تعارف میں لکھا ہے:

اس شعبہ میں زیادہ تر منہاج یونیورسٹی لاہور کے کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک اسٹڈیز (COSIS) کے فضلا علوم اسلامیہ میں تخصص کی بنا پرکل وقتی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ (ایضا)

ایک جگہ یوں حقیقت نوک قلم پر آ گئی ہے:

منہاج یونیورسٹی کے فارغ التحصیل منہاجینز نے قائد تحریک کا دست و بازو بنتے ہوئے اس شعبہ میں شبانہ روز محنت کی۔ آج شعبہ تحقیق و تدوین کا خواتین و حضرات پر مشتمل مستعد ریسرچ اسٹاف حضرت شیخ الاسلام مدظلہ العالی کا عظیم انقلابی پیغام اعلی معیاری مطبوعات اور انٹرنیٹ کے ذریعے عام لوگوں تک پہنچانے کے لیے شب و روز پوری دل جمعی اور تن دہی سے مصروف عمل ہے۔ FMRi کے زیراہتمام شائع ہونے والی کتب میں تحقیق و تخریج کا معیار ملک بھر کے کسی بھی اشاعتی ادارے کے مقابلے میں معیاری، وقیع اور محققہ ہوتا ہے۔ اس شعبہ کی اعلی کارکردگی کی بدولت تحریک منہاج القرآن کی علمی خدمات کو ملک کے علمی حلقوں میں انتہائی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ (ایضا)

بلکہ حال یہ ہے کہ مردوں کے شانہ بشانہ شیخ الاسلام کی تصانیف کی تعداد بڑھانے کے لیے خدمت دین کے پاکیزہ جذبات کے ساتھ پردہ نشین عورتیں بھی اپنی صلاحیتوں کے مطابق یہ کام کرتی ہیں، دیکھیے:

منہاج یونیورسٹی لاہور کے کالج برائے خواتین کی فاضلات اور دیگر محققات بھی دینی جذبے اور پوری لگن سے اس شعبے میں شب و روز مصروف عمل ہیں۔ اس حوالے سے فریدہ سجاد، مصباح کبیر اور نازیہ عبدالستار و دیگر فاضلات خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ جب کہ رافعہ علی، آسیہ سیف قادری اور کوثر رشید بھی اس ٹیم کا حصہ رہی ہیں۔ خواتین اسکالرز کی کاوشوں سے حضرت شیخ الاسلام کی زیر نگرانی چند کتب بھی شائع ہو چکی ہیں۔

اسی پر بس نہیں بلکہ شیخ الاسلام کا استحصالی ذہن چوں کہ ایڈوانس کام کرتا ہے اس لیے تنخواہ یافتہ ملازمین کے علاوہ مذہب و مذہبیات کی راگ الاپنے والے شیخ الاسلام فاصلاتی طور پر بھی بڑے طبقے سے یہ کام لیتے ہیں اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر سے لوگ شیخ الاسلام کی تصانیف بڑھانے میں ان کی علمی ہوتی ہے:

” اس شعبہ میں مستقل بنیادوں پر کام کرنے والے محققین کے علاوہ فاصلاتی اسکالرز کو بھی welcome کیا جاتا ہے۔ وہ افراد جو اپنی مصروفیات کے باعث باقاعدگی سے انسٹی ٹیوٹ میں نہیں آسکتے وہ بھی اپنی تحقیقی خدمات کے ذریعے اس عظیم کام میں شرکت کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ ملک پاکستان سے باہر قیام پذیر افراد بھی اعزازی طور پر تحقیقی خدمات سرانجام دیتے رہتے ہیں۔ نیز منہاج یونیورسٹی کے کالج آف شریعہ کے اساتذہ کرام بھی اس شعبہ کے مختلف تحقیقی امور میں خدمات سرانجام دیتے رہتے ہیں، جن میں پروفیسر محمد نواز ظفر، مفتی عبدالقیوم خان ہزاروی، محمد الیاس اعظمی، ممتاز الحسن باروی، شبیر احمد جامی و دیگر شامل ہیں”۔ (ایضا) 

ان تمام سچی باتوں سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی کہ شیخ الاسلام کی تصانیف میں 70 سے زیادہ آن ریکارڈ نام زد اسٹاف کے علاوہ ان کے مختلف اداروں کے ذمہ داران، دنیا بھر کے جذبہ دین رکھنے والے محققین و مترجمین اور حضرات و خواتین کی یکساں محنتیں شامل ہیں لیکن دنیا میں ان تمام لوگوں کی محنتیں جن کے نام کی ڈکار بنتی ہیں وہ ہیں مجدد رواں صدی، سفیر امن، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری جو علمی سنجیدگی کا رونا روتے ہوئے بھی تمام تر علمی دیانتوں کو بالائے طاق رکھ کر مصنف اعظم بنے بیٹھے ہیں اور دنیا کا معیار دیکھیے کہ دنیا انھیں مصنف مان بھی رہی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کی دنیا بھلے انھیں مصنف اور ان کی کتابوں کو تصنیف سمجھے ، کل کا مؤرخ انھیں ضرور علمی خائن اور صدی کا سب سے بڑا سرقہ باز لکھنے پر مجبور ہوگا۔ 

اب ذرا یہ بھی دیکھیے دنیا بھر کے دوروں پر رہنے والے شیخ الاسلام کے پیچھے بے چارے زر خرید کس طرح دن رات خون پسینہ ایک کرتے ہیں۔ فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کاایک شعبہ ہے "ریسرچ ریویو کمیٹی”۔ اس کا تعارف دیکھیے اور سر دھنیے کہ ہم شیخ الاسلام کو جس وقت دہلی، حیدر آباد اور بمبئی میں لائیو سن رہے ہوتے ہیں، ٹھیک اسی وقت شیخ الاسلام لاہور کے ایک گوشے میں ایک ساتھ کئی کتابیں تصنیف کر رہے ہوتے ہیں:

"ان ممالک میں دعوتی و تنظیمی امور کی نگرانی کے لیے حضرت شیخ الاسلام وقتاً فوقتاً دورہ جات کرتے ہیں۔ نیز مختلف ممالک میں حکومتی و ذیلی سطحوں پر منعقد ہونے والی کانفرنسز اور سیمینارز میں بھی شرکت کرتے ہیں۔ لہٰذا حضرت شیخ الاسلام کی پاکستان میں عدم موجودگی کے دوران میں تحقیقی امور کی نگرانی کے لیے 2006ء میں ریسرچ ریویو کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کمیٹی کے سربراہ ناظم اعلی تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر رحیق احمد عباسی ہیں، جب کہ دیگر اراکین یہ ہیں: (1) ڈاکٹر طاہر حمید تنولی، (2) ڈاکٹر علی اکبر الازہری، (3) پروفیسر محمد نصر اللہ معینی، (4) ڈاکٹر ظہور اللہ الازہری، (5) محمد افضل قادری، (6)محمد فاروق رانا، (7) فیض اللہ بغدادی۔

ریسرچ ریویو کمیٹی کے ذمہ تمام اسکالرز سے ریسرچ پراجیکٹس کی رپورٹس لینا، انہیں ہدایات دینا اور ان کا فالو اپ کرنا ہوتا ہے۔ کمیٹی کی پندرہ روزہ میٹنگ منعقد ہوتی ہے، جس میں پراجیکٹس پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں کمیٹی کی سفارشات حضرت شیخ الاسلام کو بذریعہ ای میل ارسال کی جاتی ہیں جو ان کی توثیق کے بعد لاگو کر دی جاتی ہیں”۔ (ایضا)

شیخ الاسلام کی کرامت کہیے کہ ان کی تقریریں چند دنوں بعد تحریر بن جاتی ہیں، یہ کرامت جس مصدر سے صادر ہوتی ہے، اس کی شکل لاہور میں "مرکزی لائبریری” کی ہے۔لائبریری کا تعارف پڑھیے:

"لائبریری کے وسیع و عریض ہال، جہاں تشنگان علم کے لیے حضرت شیخ الاسلام کے لیکچرز، سیمینارز، اور دیگر پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں”۔(ایضا)

ہم پہلے "فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ” کے مقاصد میں پڑھ چکے ہیں: "قائد تحریک کے مختلف دینی، سماجی، اقتصادی، سیاسی و سائنسی، اور اخلاقی و روحانی موضوعات پر فکر انگیز ایمان افروز خطابات کو کتابی صورت میں مرتب کروانا۔”

ان دونوں کو ملائیے تو نتیجہ سامنے ہے: شیخ الاسلام کے ہزاروں خطبات امت کی ضرورت نہیں، بارہا تھونپے ہوئے بھی ہیں تاکہ جہاں خطبات کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ہو، وہیں دھڑلے سے تصانیف بھی بڑھتی چلی جائیں۔ آخر شعبہ خطاطی اور کمپوزنگ میں بھی تو پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ 

اور اب اس میں کوئی شبہ نہ رہ جائے کہ شیخ الاسلام کی تصانیف در اصل ان کی تقریریں ہیں اور تقریریں بھی ایسی جو انھیں ایک مخصوص شعبہ تیار کر کے دیتا ہے، "شعبہ نقل نویسی” کے نام سے تابوت کی یہ آخری کیل دیکھیے:

"حضرت شیخ الاسلام کے کم و بیش پانچ ہزار خطابات اور لیکچرز اسلام کے ہر موضوع جیسے قرآن و حدیث، سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، فقہ و اصول فقہ، روحانیات، تصوف، عقائد، اخلاقیات، فلسفہ، فکریات، الٰہیات، سیاست (قومی و بین الاقوامی)، عمرانیات، معاشیات، ثقافت، میڈیکل سائنسز، حیاتیات، فلکیات، امبریالوجی اور پیراسائیکالوجی وغیرہ پر موجود ہیں، جوکہ ملک پاکستان اور بیرونی دنیا میں وقتاً فوقتاً دیے جاتے ہیں۔ یہ لیکچرز دنیا بھر میں منہاج القرآن کی لائبریریوں میں سمعی و بصری شکل میں موجود ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ کے ناقل علامہ حافظ حکیم محمد یونس مجددی کی سربراہی میں شعبہ نقل نویسی اس علمی ذخیرے کو تحریری قالب میں ڈھالنے کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔ فوری حوالہ کے لیے لیکچرز کے اہم نکات و اقتباسات اخذ کیے جاتے ہیں۔ یہ شعبہ لیکچرز کو ترتیب و تدوین کے لیے تیار کرتا ہے، بعد ازاں شعبہ تحقیق و تدوین اپنے موضوعات کی تیاری میں ان نقل شدہ خطابات کو استعمال میں لاتا ہے”۔(ایضا)

امید ہے اگر کوئی انصاف پسند منہاجی اس شعبے کا یہ تعارف پڑھے گا اور اس کا دماغ اس کا ساتھ دے رہا ہوگا تو وہ ضرور اس فیصلے پر مجبور ہوگا کہ شیخ الاسلام کے ٹائٹل سے شائع ہونے والی کتابیں در اصل ان کے خطابات کی تحریری شکل ہیں جن کو کتابی اور پھر ادبی رنگ دینے کے لیے لاہور میں ایک زر خریدشعبہ رات دن اپنی صلاحیتیں کھپا رہا ہے۔ 

اب ذرا ایک اور مبارک شعبہ کا تعارف دیکھیے جس کا نام ہے ” شعبہ ادبیات”۔

"یہ شعبہ انسٹی ٹیوٹ میں ہونے والے تحقیقی کام کی ادبی حوالے سے نوک پلک درست کرتا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام شائع ہونے والی کتب کی عبارت آرائی اور لغوی درستگی اسی شعبہ کی ذمہ داری ہے۔ شعبہ ادبیات میں نامور نعت گو شاعر ریاض حسین چودھری کی ریٹائرمنٹ کے بعد معروف نعت گو شاعر و ادیب ضیاء اللہ نیر بطور انچارج شعبہ ذمے داری سر انجام دے رہے ہیں، جب کہ محمد وسیم الشحمی بھی اس شعبے میں اپنے جوہر دکھا رہے ہیں”۔(ایضا)

کتنا دل پذیر لفظ ہے ” ادبی حوالے سے نوک پلک درست کرنا "یعنی حال یہ ہے کہ شیخ الاسلام کی کتابوں میں کوئی رنگ چھوٹنا نہیں چاہیے، اپنے قاری کی نظر میں شیخ الاسلام جتنے بڑے محقق ہوں، اتنے ہی بڑے ادیب بھی ہوں، بھلے اس کے لیے مستقل ڈیپارٹمنٹ قائم کرنا پڑے۔ 

قارئین! اگر ایمانی رمق ہے تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں جو شخص اس قدر صلاحیتوں کا استحصال کرتا ہو اور آج سے نہیں بلکہ پچھلے تیس سالوں سے، اگر وہ سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کتابیں بھی مارکیٹ میں لا دے تو کیا کوئی کمال کی بات ہے؟ 

ایمان کی تو یہ ہے کہ فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے لیے جتنی بڑی ٹیم کام کر رہی ہے، اس تعداد کے تناظر میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر طاہر القادری کی تصانیف کی تعداد ہنوز بہت کم ہے کیوں کہ جس ویکی پیڈیا پیج کی ہم بات کر رہے ہیں ، اس کے مطابق شیخ الاسلام کی تصانیف کی تعداد تین سو چالیس ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ یہ تعداد دم بہ دم بڑھ رہی ہے لیکن بڑھتے ہوئے بھی سن 2018 کے اختتام تک ایک ہزار تک نہیں پہنچ سکی۔ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے یہ صلاحیتوں کے استحصال کی بے برکتی ہی کہی جائے گی کہ اتنی بڑی ٹیم کی محنت پر دن دہاڑے اپنا نام چسپاں کرنے والے شیخ الاسلام کی تصانیف کی تعداد تیس سالوں میں بھی سیکڑوں میں محدود ہیں۔ دیکھیے شیخ الاسلام کی اس چوری اور سینہ زوری کو کتنے خوب صورت لہجے میں پیش کیا گیا ہے: 

بحمد اﷲ تعالیٰ تمام شعبہ جات کے باہمی اشتراک اور تعاون سے اس وقت تک FMRi کے زیراہتمام قائد تحریک شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی مختلف موضوعات پر تین سو چالیس کتب تحقیق و تدوین کے مراحل سے گزر کر اردو، عربی اور انگریزی زبان میں منظر عام پر آچکی ہیں، جب کہ اردو کتب کے عربی، انگریزی و دیگر زبانوں میں تراجم کا کام بھی اس کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تحریکی نیٹ ورک سے وابستہ کارکنان اپنی مقامی زبانوں میں بھی یہ کتب شائع کرانے میں مصروف ہیں۔(ایضا) 

اس موقع پر اس انسٹی ٹیوٹ کی ایک کرامت یہ بھی دیکھیے کہ جو انسٹی ٹیوٹ اپنے دعوے کے مطابق محققین کی تربیت کر رہا ہے، آج تک ان تربیت یافتہ محققین کی اپنی تصانیف کیوں نہیں نظر آتیں؟ کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ ان کی تمام تر تربیتیں اور تحقیقات ڈاکٹر طاہر القادری کی تصانیف کے لیے ہیں اور انھی کے گرد گھوم رہی ہیں ورنہ اب تک ایسے تربیت یافتہ محققین کو عالمی محققین میں شمار ہونا چاہیے تھا لیکن ایسا کیسے ہو وہ بے چارے تو تیلی کے بیل کی طرح اپنی تمام علمی تحقیقات بلکہ صلاحیتیں بھی شیخ الاسلام کے ہاتھوں بیچ چکے ہیں۔ 

عجیب بات دیکھیے کہ فہرست میں درج چند لوگوں کی ان کے اپنے نام سے چھپی جو دو چند کتابیں ہیں بھی وہ شیخ الاسلام کی مدح سرائی میں قلابے ملانے والی ہیں یا پھر بالکل عام نوعیت کی جن کی کوئی علمی یا تحقیقی حیثیت نہ تسلیم کی جا سکے۔ 

پاکیزہ چوری کے چند اور رخ:۔

(ب) 70 سے زیادہ با صلاحیت افراد کی محنتیں 30 سال سے اپنے نام کرکے اپنی تصانیف کی تعداد بڑھانے کے علاوہ ڈاکٹر طاہر القادری کی تصانیف کا ایک اور سارقانہ رخ بھی ہے اور وہ ہے بے جا طوالت۔ ہوتا یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف میں تکرار، غیر ضروری مباحث اور کاپی پیسٹ خوب ہوتا ہے ۔ اسی طرح ایک کتاب کو دوسری کتاب میں ضم کرنے کا کاروبار بھی یہاں دھڑلے سے ہوتا ہے جیسے بدعت پر ایک مستقل رسالہ موجود ہے، لیکن شیخ الاسلام کی کئی تصانیف میں ٹھیک بدعت کے وہی مباحث جوں کے توں کاپی پیسٹ ہوتے ہیں اور وہ بھی وہاں جہاں اتنی زیادہ بدعت کی تفصیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کی تصدیق ہر وہ شخص کرے گا جس نے ڈاکٹر صاحب کی کتابوں کا تنقیدی مطالعہ کیا ہے۔ 

(ج)ڈاکٹر طاہر القادری کے نام سے منسوب خاصی کتابیں ایسی ہیں جو عربی کتابوں کا ترجمہ ہیں اور ڈاکٹر صاحب نے ترجمہ وغیرہ کو کاکچھ بھی ذکر کیے بنا اردو میں انھیں دھڑلے سے اپنی تصنیف بنا کر پیش کیا ہے۔محترم ارسلان اسمعی اپنے فیس بک پیج کے ذریعہ ایسی تصانیف کی نقاب کشائی کرتے رہتے ہیں، اس دعوے کی دلیل کے لیے ان کا پیج وزٹ کرنا چاہیے۔ 

(د)طاہری تصانیف میں بے جا ضخامت وہ نمایاں پہلو ہے جس کا منہاج القرآن کی مطبوعات کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص کھلے دل سے اعتراف کرے گا۔ سب جانتے ہیں کہ بڑے حوالے کے بعد چھوٹی کتابوں کے حوالے کی ضرورت نہیں رہ جاتی لیکن ڈاکٹر طاہر القادری کی کتابوں میں کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے مکتبہ شاملہ میں نظر آنے والے بیشتر حوالوں کا زبر دستی انبار لگا دیا جاتا ہے مثال کے طور پر ” المنھاج السوی” سمیت منہاج القرآن سے شائع شدہ دیگر کتب حدیث دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی تصانیف میں کئی بار صفحات کے صفحات صرف حوالوں کی نذر ہو جاتے ہیں اور اس طرح صفحات کی تعداد اور کتاب کی ضخامت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ 

(ھ) تضادات کی کثرت بھی ڈاکٹر طاہر القادری کی کتابوں کا ایسا پہلو ہے جسے دور سے پہچانا جا سکتا ہے۔ اور یہ بیماری ہر اس شخص کے بیانا ت یا تصانیف میں پائی جاتی ہے جس کے اندر سچائی کا عنصرکم ہو اور اسے اتفاق کہا جائے کہ ڈاکٹر صاحب کے اندر یہ عنصر کم ہے۔ 

اسی طرح تقریر و تحریر میں تضاد بھی ڈاکٹر صاحب کا وہ عیب ہے جسے ایک اندھا بھی پکڑ سکتا ہے۔ بہت ممکن ہے ایسا اس لیے ہو کہ بارہا ڈاکٹر صاحب کو خود نہیں معلوم ہوتا وہ اپنی کتاب میں کیا لکھ چکے ہیں کیوں کہ در اصل کتاب کسی اور نے لکھی ہوتی ہے۔ 

الغرض! ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی تصانیف میں جہاں کھلے عام سرقہ ہے، وہیں بے جا طوالت، تکرار مباحث، زبر دستی کتابوں کی ضخامت بڑھانے کی کوشش اور علمی تضادات وغیرہ جیسے دیگر علمی سقم بھی ہیں۔ اور سچ یہ ہے کہ ایسا شخص علمی طور پر خائن ہے جو کھلے بندوں دیانتوں کا خون کر رہا ہے اور پچھلے 30 سالوں سے غریب با صلاحیت افراد کی غربتوں کا چند ٹکوں کے بدلے استحصال کر رہا ہے۔ اگر ایسا شخص بھی مجدد اور شیخ الاسلام ہو سکتا ہے تو اس کا سیدھا سا مطلب ہے قیامت بالکل قریب ہو چکی ہے اور مذہبی فہم اتنا کم زور ہو چکا ہے کہ مذہب کے نام پر کسی کو بھی گم راہ کیا جا سکتا ہے۔اللہ تعالی خیر فرمائے۔

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے تجدیدی کارنامے

اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے تجدیدی کارنامے

علم تاریخ نے اپنے دامن میں اچھی اور برُی ہر دوصفت کی حامل شخصیات کو سمیٹ کر پناہ دی ہے اس طرح انہیں زمانے کی دست برد اور شکستگی سے محفوظ کردیا ہے تاکہ آئینہئ تاریخ میں ماضی کے عکس و نقش کا مشاہدہ حال و استقبال کو جاندار اور شاندار بنانے میں معاون ہو۔ لیکن بعض شخصیات کا پیکرِ احساس اتنا جاندار و شاندار ہوتا ہے کہ جنہیں تاریخ محفوظ رکھنے کا اہتمام کرے یا نہ کرے وہ شخصیات اپنی تاریخ آپ مرتب کرلیتی ہیں اس لئے کہ وہ عہد ساز اور تاریخ ساز ہستیاں ہوتی ہیں یہ شخصیات اپنی پہچان کیلئے مؤرخ کی محتاج نہیں ہوتیں بلکہ ان نادر زمن ہستیوں کے خوبصورت تذکرے کو تاریخ اپنے صفحات کی زینت بنانے کیلئے خود محتاج ہے اور مؤرخ ان کے تذکرے لکھ کر خود کو متعارف کرانے کا محتاج ہوتا ہے۔ ایسی ہی عہد ساز ہستیوں میں ایک مہر درخشاں وہ بھی ہے جسے شرق تا غرب شیخ الاسلام و المسلمین، محدث عصر، فقیہہ دہر، مجدد دین و ملت ، حامی سنّت، قامع بدعت، اعلیٰ حضرت وغیر ہم القابات و خطابات سے پہچانا جاتا ہے ۔ امام احمد رضا فاضل و محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کے اسم گرامی کے اعزاز و اکرام کے بارے میں علامہ ہدایت اللہ بن محمود سندھی حنفی قادری مہاجر مدنی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں۔

”وہ (امام احمد رضا علیہ الرحمۃ) اس کے اہل ہیں کہ ان کے نام سے قبل اور بعد میں کوئی بھی فضیلت کا خطاب لگایا جائے۔” (معارف رضا 1986ء ، صفحہ102)

مجدد اما م احمد رضا علیہ الرحمۃ علم و فضل کا وہ خورشید ہیں کہ جس کی جلوہ گری انیسویں صدی عیسویں کے نصف آخر تا بیسویں صدی کے ربع اوّل کے عرصہ پر محیط ہے، اور یہ دور جس قدر پر آشوب تھا بلاد اسلامیہ میں کوئی دور بھی ایسا نہیں گذرا، فتنوں کی بیخ کنی اور فسادِ اُمت کے ذمہ دار مفسدین کو بے نقاب کرنے کیلئے امام احمد رضا نے فقہی بصیرت اور مدبرانہ فراست کے ذریعے ملت کی راہنمائی کا جو فریضہ انجام دیا وہ صرف آپ ہی کا خاصہ تھا۔ آپ نے جو شمع عشق رسالت فروزاں کی وہ آج بھی ملت کیلئے مینارہئ نور ہے۔ اور آئندہ بھی اس کی چمک دمک ماند نہیں پڑے گی۔ (انشاء اللہ جل مجدہ، و الرّسول علیہ الصلوٰۃ والسلام)

امام احمد رضا کا سینہ علوم و معارف کا خزینہ اور دماغ فکر و شعور کا گنجینہ تھا، اپنے بیگانے سب ہی معترف ہیں کہ شخصی جامعیت، اعلیٰ اخلاق و کردار، قدیم و جدید وعلوم و فنون میں مہارت ، تصانیف کی کثرت ، فقہی بصیرت ، احیاء سنت کی تڑپ، قوانین شریعت کی محافظت، زہد و عبادت اور روحانیت کے علاوہ سب سے بڑھ کر قیمتی متاع و سرمایہ عشق ختمی مرتبت (علیہ الصلوٰۃ والتسلیم) میں ان کے معاصرین میں ان کا کوئی ہم پلہ نہ تھا اور غالباً نہیں، بلکہ یقینا آج بھی سطور بالا صفات میں عالم اسلام میں امام احمد رضا کا ہمسر کوئی پیدا نہیں ہوا۔ آپ کی اسی انفرادیت کے بارے میں سید ریاست علی قادری علیہ الرحمۃ کہتے ہیں:

”امام احمد رضا کی شخصیت میں بیک وقت کئی سائنس داں گم تھے ، ایک طرف ان میں ابن الہیثم جیسی فکری بصارت اور علمی روشنی تھی تو دوسری طرف جابر بن حیان جیسی صلاحیت، الخوارزمی اور یعقوب الکندی جیسی کہنہ مشقی تھی، تو دوسری طرف الطبری ، رازی اور بو علی سینا جیسی دانشمندی، فارابی ، البیرونی ، عمر بن خیام، امام غزالی اور ابن ارشد جیسی خداداد ذہانت تھی دوسری طرف امام ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کے فیض سے فقیہانہ وسیع النظری اور غوث الاعظم شیخ عبدالقادرجیلانی علیہ الرحمۃ سے روحانی وابستگی اور لگاؤ کے تحت عالی ظرف امام احمد رضا کا ہر رخ ایک مستقل علم و فن کا منبع تھا ان کی ذہانت میں کتنے ہی علم و عالم ،گُم تھے۔” (معارف رضا جلد ششم صفحہ 124)

شمسی تقویم کی بیسویں صدی عیسوی اور قمری تقویم کی چودھویں صدی ہجری میں شانِ تجدّد اور محی ملت و دین کی حامل ذات امام احمد رضا کے سوا کسی اور کی قرار نہیں دی جاسکتی، اور اس صدی کو جیسے مجدّد و مصلح کی ضرورت تھی وہ تمام کمالات و اوصاف بدرجہ اتم اعلیٰ حضرت میں نظر آتے ہیں۔ دین اسلام کی اساسیات اور ایمان کی جملہ فروعات و جُزئیات پر بیک وقت مشرق و مغرب سے حملے ہورہے تھے ، ایسے موقع پر ضرورت تھی کہ مشرق میں فتنہ اُٹھانے والے مُنافقین کا مقابلہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لازوال ہتھیار سے کیا جائے اور مغرب کے مُلحد سائنس دانوں کے کائنات سے متعلق گمراہ کن نظریات کا مقابلہ کلامِ الٰہی کی شایانِ شان تفسیر، ”لَا تَبْدِیْلَ لِکَلِمَاتِ اللّٰہ” کی بَدیہیات و یقینیات کے اجالے میں کیا جائے۔ چودھویں صدی ہجری میں ملت اسلامیہ کی اصلاح کیلئے جن علمی گوشوں اور شعبہ ہائے حیات میں قولاً و عملاً کام کی ضرورت تھی وہ تمام تقاضے امام احمد رضا علیہ الرحمۃ نے پورے کئے ایک ایک علم پر لکھا۔۔۔۔۔۔ اور ایک ایک فن پر لکھا ۔۔۔۔۔۔اور لکھتے ہی چلے گئے ۔۔۔۔۔۔مردہ علوم کو کئی صدیوں بعد زندہ کیا، بعض علوم اپنی اختراعات سے خود ایجاد فرمائے۔ امام کے اسلوب تحریر میں امام اعظم سے لے کر دیگر علماء و دانشور اور ہئیت دان کے کارناموں سے مزین دوسری صدی تا ساتویں صدی ہجری کی تصویر نظر آنے لگی، اسلامیان ہند ہی نے نہیں بلادِ عرب ومغرب اور افریقہ نے بھی اپنے اسلاف کے ماضی کو جیتا جاگتا محسوس کیا، تہذیب و تمدن اسلامی کے تابناک دور کی روشنی امام احمد رضا کی تحریروں سے پھوٹتی محسوس ہوئی۔

ماہر رضویات ، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود مظہری مجدّدی ایجاد و اختراع کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں:

”ایجاد و اختراع کا دار و مدار فکر و خیا ل پر ہے، خیال کو اساسی حیثیت حاصل ہے ، قرآن کریم میں خیالوں کی ایک دنیا آباد ہے اور عالم یہ ہے 

مجبور یک نظر آ، مختار صد نظر جما! 

ہر خیال اپنے دامن میں صدیوں کے تجربات و مشاہدات سمیٹے ہوئے ہے ، جس نے قرآن کی بات مانی اس نے مختصر زندگی میں صدیوں کی کمائی کمالی۔ امام احمد رضا انہیں سعادت مندوں میں سے تھے جنہوں نے سب کچھ قرآن سے پایا، وہ قرآن کا زندہ معجزہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم لدّنی اور فیض سماوی سے نوازا تھا۔” (امام احمد رضا اور علوم جدیدہ و قدیمہ ، مطبوعہ اداریہ مسعودیہ کراچی، صفحہ ٨۔٧)

زمانہ طالب علمی میں ایک مرتبہ امام احمد رضا کو جیومیٹری کی گتھیاں سلجھاتے ہوئے دیکھ کر والد گرامی حضرت مولانا نقی علی خان نے فرمایا، ”بیٹا یہ تمام علوم تو ذیلی و ضمنی ہیں تم علوم دینیہ کی طرف متوجہ رہو، بارگاہِ رسالت سے یہ علوم تمہیں خود عطا کر دیے جائیں گے۔” پھر واقعی دنیا نے دیکھا کہ کسی کالج و یونیورسٹی اور کسی سائنسی علوم میں ماہر کی شاگردی کے بغیر تمام سائنسی علوم عقلیہ و نقلیہ حاصل ہوئے اور ایسے مشاق ہوگئے کہ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر سر ضیاء الدین کو ریاضی کے ایک لا ینحل مسئلہ کے جواب کیلئے امام احمد رضا سے رجوع کرنا پڑا اور امام احمد رضا نے فی البدیہہ جواب لکھ کر دیا، جبکہ ڈاکٹر سر ضیاء الدین صاحب مسئلہ کے حل کیلئے جرمنی جانا چاہتے تھے۔ بریلی کے بوریا نشین کی جدید علوم و فنون پر اس مہارت کو ڈاکٹر سر ضیاء الدین ملاحظہ کرکے حیران و ششدر تو تھے ہی مزید حیرانگی اس وقت بڑھی جب یہ معلوم ہو اکہ اس مولوی صاحب نے کسی غیر ملکی درسگاہ سے علوم جدیدہ کی تحصیل کیلئے کبھی رجوع نہیں کیا بلکہ یہ ذات خود ہی مرجع ہے۔ خلائق میں سے کوئی دنیا کیلئے اور کوئی دین کیلئے یہیں رجوع کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے بیساختہ کہا کہ علم لدنی کے بارے میں صرف سنا ہی تھا آج آنکھوں سے دیکھ لیا۔ اعلیٰ حضرت نے علوم سائنس میں اپنی خداداد مشاقی کی بنیاد پران علوم کی قد آور شخصیات بابائے طبعیات ڈیمو قریطس(٣٧٠ قبل مسیح) بطلمیوس (قبل مسیح) ، ابن سینا (٩٨٠ تا ١٠٣٧ئ) نصیر الدین طوسی (متوفی ٦٧٢ئ) ، کوپر نیکس (١٤٧٣ء تا ١٥٤٢ئ) کپلر (١٥٧١ ء تا ١٦٣٠ئ) ، ولیم ہر شل(سترہویں صدی عیسویں) ، نیوٹن (متوفی ١٧٢٧ئ) ملا جونپوری (متوفی ١٦٥٢ئ) گلیلیو (١٦٤٢ئ) آئن اسٹائن (١٨٧٩ تا ١٩٥٦ئ) اور البرٹ ایف پورٹا (١٩١٩ئ) کے نظریات کا ردّ اور ان کا تعاقب کیا ہے ، جبکہ ارشمیدس (متوفی ٢١٢ ق۔م) کے نظریہ وزن ، حجم و کمیت ، محمد بن موسیٰ خوارزمی (٢١٥ھ/٨٣١ء ) کی مساوات الجبراء اور اشکال جیومیٹری، یعقوب الکندی (٢٣٥ھ /٨٥٠ئ) ، امام غزالی (٤٥٠ھ تا ٥٠٥ھ/١٠٥٩ء تا ١١١٢ئ)، امام رازی (٥٤٤ھ تا ٦٠٦ھ /١١٤٩ء تا ١٢١٠ئ) کے فلسفہئ الہٰیات، ابو ریحان البیرونی (٣٥١ھ تا ٤٤٠ھ/٩٧٣ء تا ١٠٤٨ئ) ، ابن الہیثم (٤٣٠ھ/١٠٣٩ئ) ، عمر الخیام (٥١٧ھ /١١٢٣ئ) کے نظریاتِ ہیّت و جغرافیہ، ڈیمو قریطس کے نظریہ ایٹم اور جے جے ٹامس کے نظریات کی تائید کی اور دلائل عقلیہ سے پہلے آیات قرآنیہ پیش کیں۔ امام احمد رضا پر یہ عطا۔۔۔۔۔۔یہ نوازش۔۔۔۔۔۔یہ کرم ۔۔۔۔۔۔یہ عنایت ۔۔۔۔۔۔ یہ التفات۔۔۔۔۔۔یہ فیض ۔۔۔۔۔۔سب کچھ محض اس بنا پر تھا کہ اعلیٰ حضرت کو اسلام کی عظیم انقلابی قوت جذبہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حاصل تھا اور اسی والہانہ عشق سے مسلمانوں کی دینی ترقی ، سیاسی کامیابی ، علم کی ترویج، معاشی و عمرانی استحکام اور ثقافتی و تمدنی الغرض ہر سطح کی کامیابیاں و کامرانیاں وابستہ ہیں حقیقت ہے کہ جسے محبت رسول کا صادق جذبہ ہاتھ آگیا دین و دنیا کی تما م دولت اسی کے دامن میں آکر سمٹ جاتی ہیں ، امام احمد رضا کا یہی تجدیدی کارنامہ ہے جس کے سب ہی معترف ہیں۔

دنیا میں جہاں کہیں بھی غلبہ دین اسلام یا احیاء اسلامی کی تحریکیں اٹھی ہیں وہ عشق رسول علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مرہونِ منت رہی ہیں انگلستان کے ایک مشہور مستشرق پروفیسر ایچ ۔ اے گب نے اپنی کتاب اسلامک کلچر میں لکھا ہے، 

”تاریخ اسلام میں بارہا ایسے مواقع آئے ہیں کہ اسلام کے کلچر کا شدت سے مقابلہ کیاگیا ہے لیکن بایں ہمہ مغلوب نہ ہوسکا اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صوفیا کا اندازِ فکر فوراً اس کی مدد کو آجاتا تھا اور اس کو اتنی قوت و توانائی بخش دیتاتھا کہ کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہ کرسکتی تھی ۔(اسلامک کلچر ، صفحہ ٢٦٥، مطبوعہ لندن ١٩٤٢ء)

صوفیا کا یہیپیغام ”محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ” تھا کہ جسے اعلیٰ حضرت نے اپنی تمام زندگی اپنا کر اپنی تصنیفات و تالیفات کی روشنائی کے ذریعے ملت اسلامیہ کو منور کیا، آپکو معلوم تھا کہ اگر مسلمانوں کے دل عشق رسالت مآب اسے خالی ہوگئے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت بھی نہ تو انہیں اپنی کھوئی عظمت واپس دلا سکتی ہے اور نہ اصلاح و تجدید کی ہزاروں تحریکیں انہیں اپنی منزل مراد تک پہنچا سکتی ہیں۔ مغربی استعمار کی مذمو م سازش یہی تھی کہ مسلمانوں میں سے جذبہ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو نکال دیا جائے، جس کی طرف شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے بھی یوں اشارہ کیا ہے:۔

یہ فاقہ کش جو موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روح محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بدن سے نکال دو

فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو

اعلیٰ حضرت کا یہ تجدیدی کارنامہ ہے کہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بشری و انسانی اوصاف و کمالات کے ساتھ ساتھ معجزاتی و نورانی پہلوؤں کے بلند و بالا کمالات نبوت اور فضائل و شمائل کو احاطہ تحریر میں لاکر ملت اسلامیہ کی روحانی اقدار کو تنزلی کا شکار ہونے سے بچالیا ، آپ نے اپنی علمی درسگاہ اور روحانی خانقاہ بریلی سے ، اس پر فتن دور میں ملتِ اسلامیہ کے سفینے کو ساحل مراد تک پہنچانے کیلئے جو کچھ ضروری تھا وہ اقدامات کیے۔ ہندوستان کے مشہور و ممتاز عالم و ادیب مولانا عبدالجبار رہبر اعظمی اپنے مقالہ میں نہایت جامعیت سے اعلیٰ حضرت کا تذکرہ یوں فرماتے ہیں،

”جب شاطرانِ مذہب نے قرآن کے تراجم میں کتر بیونت کرکے اسلامیوں کے عقائد پر حملہ کرنا چاہا تو اس قوم کو قرآن عظیم کا صحیح ترجمہ دیا، جب فریب کاروں نے اس کی تفسیر میں اپنی رائے شامل کرکے قوم کو گمراہ کرنا چاہا تو مسلمانوں کو ہوشیار رکھنے کیلئے” تمہید ایمان بآیات القرآن ”دیا، جب اہل ضلالت نے ملت کو سنت کا نام لیکر احادیث کے غلط معانی و مطالب بتانے شروع کیے تو اس نے اہلِ ایمان کو سینکڑوں کتابیں دیں۔ جب اہل بدعت نے تقلید کے لباس میں غیر مقلدیت اور فقہ کے روپ میں حیلہ سازیوں اور گمراہیوں سے امت کے اعتقادات و اعمال کو زخمی کرنا چاہا تو اس نے قوم کو وہ لازوال فتاویٰ دیے جو اپنے دلائل و براہین سے ہمیشہ تابندہ رہیں گے۔ دشمنانِ اسلام نے جب اس ذات قدوس اور بے عیب خدا پر کذب کے معنی درست کرکے اسلامی عقیدہ توحید پر ضرب لگانے کی کوشش کی تو اس کا قلم ان کیلئے شمشیر خار شگاف بنا، جب شاتمانِ نبوت نے مسلمانوں کے عقائد نبوت کو مجروح کرنا چاہا تو اس کا قلم ان پر ذوالفقارِ حیدری بن کر ٹوٹا۔ جب دین و مذہب کے ڈاکوؤں نے مومنوں کے سینوں سے عظمت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھین لینے کا خواب دیکھا تو ان کے خوابوں کے قلعے کو تعبیر سے پہلے اسکی زبان، قلم اور عمل نے مسمار کر کے رکھ دیا، جب مکاروں نے پیری اور شیخی کے لبادے اوڑھ کر ملت کے دل کے فانوس میں بزرگانِ دین و عمائدین اسلام کی عقیدت کے جلتے چراغ کو بجھانے کیلئے ناپاک تمناؤں کے محلات تعمیر کئے تو اس نے سعی پیہم سے ان کو زمین بوس کرکے تہس نہس کردیا۔ جب مولویت نما عیاروں نے آثار اسلام اور مقامات مقدسہ کی عزمت و حرمت کو غلامان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دماغ سے نکال پھینکنے کی جرأت کی تو اس کی زبان پاک اور قلم بیباک نے ان کی چالاکیوں کے پردوں کو چاک کیا سنئے کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے، مسیح موعود کے نام کا فتنہ ہو یا مہدی معہود کے نام کا ، شانِ نبوت کی توہین کا ہو یا فضائل رسالت کیتنقیص کا ، نیچریت کا ہو یا دہریت کا ، تقلیدی ہو یا غیر مقلدیت کا ، تفضیلیت کا ہو یا رافضیت کا ، خارجیت کا ہو یا بدعیت کا ان تمام فتنوں کے سینوں میں اس کا قلم اسلام و سنیت کی شمشیر و سناں بن کر اُترگیا اور اس کی زبانِ حق ترجمان اسلامیوں کیلئے سپر بن گئی۔

وہ رضا کے نیزے کی مار ہے کہ عدو کے سینے میں غار ہے
کسے چارہ جوئی کا وار ہے ؟ کہ یہ وار وار سے پار ہے

(ماہنامہ قاری دہلی امام احمد رضا صفحہ ٢٧٠)

امام احمد رضا کے تمام مجددانہ کمالات جذبہ عشق رسول میں مضمر ہیں۔

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی (اقبال)

امام احمد رضا کے علم نے تمام شعبہ ہائے علوم کا آپ کی شخصیت نے بحیثیت قائد و راہنما تمام شعبہ ہائے حیات کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ جناب سید محمد جیلانی بن سید محامد اشرف ایڈیٹر ”المیزان” بمبئی امام احمد رضا کے تبحر علمی کے متعلق یوں ر قمطراز ہوتے ہیں،

”اگر ہم ان کی علمی و تحقیقی خدمات کو ان کی 66سالہ زندگی کے حساب سے جوڑیں تو ہر 5گھنٹے میں امام احمد رضا ایک کتاب ہمیں دیتے نظر آتے ہیں ، ایک متحرک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کا جو کام تھا امام احمد رضانے تن تنہا انجام دے کر اپنی جامع شخصیت کے زندہ نقوش چھوڑے۔(المیزان، امام احمد رضا نمبر مارچ ١٩٧٦ئ)

سچ کہا ہے شاعر نے۔

معارف کا سمندر موجزن ہے جسکے سینے میں
وہ مقبولِ درِ خیر البشر احمد رضا تم ہو

وادی رضا کی کوہِ ہمالہ رضا کا ہے
جس سمت دیکھئے وہ علاقہ رضا کا ہے

اگلوں نے بہت کچھ لکھا ہے علم دین پر
لیکن جو اس صدی میں ہے تنہا رضا کا ہے

امام احمد رضا کی ایک ہزار سے زائد تصنیفات (مطبوعہ و غیر مطبوعہ) کے جائزہ کے بعد محققین کی قطعی جدید تحقیق کے مطابق یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ایک سو بیس١٢٠ قدیم و جدید، دینی ، ادبی، اور سائنسی علوم پر امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کو دسترس حاصل تھی۔ راقم نے زیر نظر مضمون کے آخر میں ١٢٠ علوم و فنون کا شماریاتی جدول دے دیا ہے تاکہ کوئی اس تعداد کو مبالغہ نہ سمجھے۔

١٢٠ علوم میں ٤٠یا اس سے زائد کا تعلق دینی علوم کی اساس و فروع سے ہے جبکہ ادب سے متعلق ١٠ ، روحانیت سے متعلق٨، تنقیدات و تجزیہ و موازنہ سے متعلق ٦ اور طب و ادویات سے متعلق ٢ علوم کے علاوہ بقایا ٥٤ علوم کا تعلق علوم عقلیہ (سائنس) سے ہے ۔ امام احمد رضا محدث و فاضل بریلوی کی سائنسی علوم پر کتب و رسائل کی تعداد ایک سو پچاس سے زائد ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری صاحب لکھتے ہیں: ”امام احمد رضا نے یہ رسائل (جدید علوم و سائنس) اُردو، فارسی، اور عربی تینوں زبانوں میں تحریر فرمائے ہیں۔ بعض رسائل و کُتب کی ضخامت سو صفحات سے بھی زیادہ ہے۔” (دیباچہ حاشیہ جامع الافکار ، صفحہ ٣)

اعلیٰ حضرت کے علوم کی فہرست کے مطالعہ سے قبل قارئین کے علم میں یہ بات ضرور ہونی چاہئے کہ فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ نے حافظ کتب الحرم شیخ اسماعیل خلیل مکی کو جو عربی میں سند اجازت دی ہے اس میں 55علوم و فنون کا ذکر فرمایا ہے محدث بریلوی کے اپنے قلم فیض رقم سے مندرجہ 55علوم و فنون کی فہرست نہایت جامع ہے جس میں بعض علوم فی زمانہ متعدد شاخوں و شعبوں میں تقسیم ہوگئے ہیں اور ان کی شناخت کیلئے علیحدہ عنوانات ماہرینِ تعلیم مختص کر چکے ہیں۔ امام احمد رضا کی تصنیفات میں مرقوم مضامین ان علوم سے بھی بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ جن کا تذکرہ امام احمد رضا نے اپنے علوم کی فہرست میں نہیں کیا ہے آپ کو ان پر دسترس حاصل تھی مثلاً ، معیشت اور اس کے ضمنی علوم تجارت، بینکاری، اقتصادیات اور مالیات کا اعلیٰ حضرت نے شمار نہیں کیا لیکن اسلامیان ہند کی فلاح کیلئے تدابیر بیان کرتے ہوئے مجدد اعظم کی ذات میں ماہر بنکار، وزیر خزانہ و مالیات اور معلم اقتصادیات کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کے بیان کردہ علوم کی ترتیب یوں ہے

(١) علم القران (٢)حدیث (٣)اصول حدیث (٤) فقہ حنفی (٥) کتب فقہ جملہ مذاہب (٦) اصولِ فقہ (٧) جدل مہذب (٨) علم تفسیر (٩) عقائد و کلام (١٠) نحو (١١) صرف (١٢)معانی (١٣) بیان (١٤) بدیع (١٥) منطق (١٦) مناظرہ (١٧) فلسفہ (١٨) تکسیر (١٩) ھئیات(٢٠) حساب (٢١) ہندسہ (٢٢) قرأت (٢٣) تجوید (٢٤) تصوف (٢٥) سلوک (٢٦) اخلاق (٢٧) اسماء الرجال (٢٨) سیر (٢٩) تاریخ (٣٠) لغت (٣١) ادب معہ جملہ فنون (٣٢) ارثما طیقی (٣٣) جبر و مقابلہ (٣٤) حساب سینی (٣٥) لوگارثمات (٣٦) توقیت (٣٧) مناظرہ مرایا (٣٨) علم الاکر (٣٩) زیجات (٤٠) مثلث کروی (٤١) مثلث سطح (٤٢) ہیاۃ جدیدہ (٤٣) مربعات (٤٤) جفر (٤٥) زائرچہ (٤٦) نظم عربی (٤٧) نظم فارسی (٤٨) نظم ہندی (٤٩) نثر عربی (٥٠) نثر فارسی (٥١) نثر ہندی (٥٢) خط نسخ (٥٣) نستعلیق (٥٤) تلاوت مع تجوید (٥٥) علم الفرائض (الاجازۃ الرضویہ)

اب آپ ١٢٠ علوم کی مفصل فہرست ملاحظہ فرمائیں تاہم محققین اور علماء کرام سے ملتمس ہوں کہ استدراک پر فقیر کی اصلاح بھی فرمائیں۔

امام احمد رضا کی علمی و تحقیقی کہکشاں کے ١٢٠ ستاروں کی فہرست

قرأت
Recitation of the Holy Quran

تجوید
Phonography Spelling

تفسیر
Explanation of Quran

اصولِ تفسیر
Principal of Explanation

رسم الخط القرآن
Writership In Deffrent style of quranic letters

علم حدیث
Tradition of the Holy Prophet

اصول حدیث
Principal of God’s Masenger’s Traddition

اسانید حدیث
Documentry Proof of Traditions Citation of Authorities

اسماء الرجال
Cyclpedia of Narrator Tradition Branch of knowledge Judging Merits

جرح و تعدیل
Critical Examination

تخریج احادیث 
Talk & Put Referencess of Traditions

لغت حدیث
Colloquial Language of Traditions.

فقہ
Islamic Law

اصول فقہ
Islamic Jurisprudence

رسم المفتی
Legal Opinion Judicial Verdict

علم الفرائض
Law of Inheritance and Distribution

علم الکلام
Scholastic Philosophy

علم العقائد
Article of Faith

علم البیان
Metaphor

علم المعانی
Rhetoric

علم البلاغت
Figure of Speach

علم المباحث
Dialectics

مناظرہ
Polemic

علم الصرف
Etymology Morphology

علم النحو
Syntax (Arabic Grammer)

علم الادب
Literature

علم العروض
Science of Prosody

علم البرو البحر
(Ilm-ul-Barr-Wal-Baher)

علم الحساب
Arithmetic

ریاضی
Mathemetic

زیجات
Astronomical Tables

تکسیر
Fractional Numeral Maths

علم الہندسہ
Geometry

جبر ومقابلہ (الجبرائ)
Algebra

مثلثات(مسطح وکروی)
Trigonometry

ارثما طیقی
Greek Airthmetic

علم تقویم
Almanac

لوگارتھم
Logarethim

علم جفر
Numerology Cum Literology

رمل
Geomancy

توقیت
Reckoning of Time

اوفاق (علم الوفق)
۔۔۔۔۔

نجوم
Astrology

فلکیات
Study in form of Heavens

ارضیات
Geology

علم مساحت الارض
Geodesy Survey (Mensuration)

جغرافیہ
Geography

طبیعات
Physics

مابعد الطبیعات
Metaphysics

کیمیا
Chemistry

معدنیات
Mineralogy

طب و حکمت
Indigenous Syustem of Medicine

ادویات
Pharmacology

نباتات
Botany (Phytonomy)

شماریات
Statistics

اقتصادیات
Political Economy

معاشیات
Economics

مالیات
Finances

تجارت
Trade (Commerce)

بنکاری
Banking

زراعت
Agricultureal Study

صوتیات
Phonoetics (Phonology)

ماحولیات
Ecology (Environment)

سیاسیات
Politics (Strategy)

موسمیات
Meterorology

علم الاوزان
Weighing

شہریات
Civics

علم عملیات
Practicalism

سیرت نگاری
Bio Graphy of Holy Prophet

حاشیہ نگاری
Citation

نثر نگاری
Composition

تعلیقات
Scholia

تشریحات
Detailed Comments

تحقیقات
Research Study

تنقیدات
Critiqe Philosophy

ردّات
Rejection

شاعری
Poetry

حمدو نعت
Hamd – wa – Naat

فلسفہ (قدیم و جدید)
Phylosophy

منطق
Logic

تاریخ گوئی
Compose Achronogram

علم الایام
۔۔۔

تعبیر الرویاء
Interpretation of Dreams

رسم الخط نستعلیق، شکستہ و مستقیم
۔۔۔

استعارات
Figuration

خطبات
Oratory

مکتوبات
letters

ملفوظات
۔۔۔

پندو نصائح
Holmily

اذکار (اوراد و َ وظائف)
Prayers and Supplications

نقوش و تعویزات و مربعات
۔۔۔

علم الادیان
Comparative Religions

ردّ موسیقی
Refutation of the Music

عمرانیات
Socialogy

حیاتیات
Biology

مناقب
۔۔۔

علم الانساب
Genealogy

فضائل
Preference Study

زائرچہ و زائچہ
۔۔۔

سلوک
۔۔۔

تصوف
Mystagology

مکاشفات
Spirtual Study

علم الاخلاق
Ethics

تاریخ و سیر
History & Biography

صحافت
Journalism

حیوانیات
Zoology

فعلیات
Physiology

علم تخلیق کائنات
Cosmology

نفسیات
Psychology

علم البدیع
Science Dealing with Rhetorical (Divices)

لسانیات
Linguistics (Languages, Philology)

نظم عربی و فارسی و ہندی
Arabic, Persion & Hindi Peotry

نثرعربی و فارسی و ہندی
Arabic, Persion & Hindi Composition

ھئیت (قدیم و جدیدہ)
Old & Modren Astronomy

ارضی طبیعات
Geo Physics

علم خلیات
Cytology

قانون
Law

علم الاحکام
Take & Put Referencess of Ordinancess

علم قیافہ
Physiognomy

سالماتی حیاتیات
Molecular Biology

امام احمد رضا محدث بریلوی علیہ الرحمۃ کی تصنیفات و تالیفات میں مصروفیات ہر یوم ہوا کرتی تھیں لیکن بعض تصنیفات کے تاریخی نام اس اعتبار سے طے فرماتے کہ سالِ تالیف اور اشاعت دونوں اس سے ترشح ہوجائیں ، مثلاً آپ نے نعتیہ قصائد کا عنوان ”حدائقِ بخشش” رکھا جو کہ ١٣٢٥ھ کو واضح کرتا ہے ۔ رسالہئ ہٰذا ،اس سال ١٣٢٦ھ کے ماہِ صفر میں شائع ہو رہا ہے اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت علیہ الرحمۃ کی ان تصنیفات کے بارے میں اپنے قارئین کو آگاہ کیا جائے جو ١٣٢٦ھ کو لکھی گئیں اور شائع ہوئیں، (جیسا کہ گذشتہ سال ١٤٢٥ ھ ”حدائق بخشش” کے١٠٠ برس پورے ہونے پر ”انجمن ضیائِطیبہ” نے ”ضیاء حدائق بخشش” کی اشاعت کا اہتمام کیاتھا ۔) اس طرح ہم اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کی تصنیفات کے ١٠٠ برس مکمل ہونے پر ،اللہ تبارک و تعالیٰ عز صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمہ، اور آقائے دوجہاں علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں نذرانہ سپاس پیش کریں کہ یہ تصنیفات آج بھی ملتِ اسلامیہ کیلئے راہنما ہیں۔

١۔ ”تمہید ایمان با آیاتِ قرآن”(١٣٢٦ھ )اس عظیم تالیف میں قرآنی آیات کی روشنی میں یہ ثابت کیا ہے کہ شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ادنیٰ گستاخی کفر ہے۔اس رسالے کی اشاعت مختلف سنّی اداروں سے تاحال لاکھوں کی تعداد میں ہوچکی ہے اور مطالعہ کرنے والے بدعقیدگی سے محفوظ ہوکر راہ یاب اور کامیاب ہوگئے ہیں۔
٢۔ ”البیان شافیا لفونو غرافیا ”(١٣٢٦ھ) فونو گراف سُننے سے متعلق سائنسی انداز میں استدلال کیا گیا ہے۔
٣۔ ”الرد الناہز علی ذام النہی الحاجز”(١٣٢٦ھ) بعض جاہلوں اور علمائے سوء کی زبان درازی کا جواب۔ 
٤۔ ”بدرالانوار فی آداب الآثار ”(١٣٢٦ھ) تبرکات و آثار ِ بزرگانِ دین سے متعلق فقہی احکامات پر مبنی ۔
٥۔ ” مفاد الجر فی الصلوٰۃ بمقبرۃِ او جنب قبر” (١٣٢٦ھ) قبر یا مقبرہ شریف کے پاس نماز پڑھنے کی تحقیق ۔
٦۔ ” فقہ شہنشاہ دان القلوب بیدِ المحبوب” (١٣٢٦ھ) سرورِ کائنات اکو شہنشاہ کہنے کی تحقیق۔
٧۔ ”چابک لیث بر اہلِ حدیث ” (١٣٢٦ھ) ربّ ذوالجلال عزوجل کی جناب اور حضور رحمۃاللعالمین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بار گاہ میں وہابیہ کے عقائد ِ فاسدہ کا ردّ۔
٩۔ ”المبین ختم النّبیین”(١٣٢٦ھ) نبی آخر الزماں علیہ الصلوٰۃ والسلام کے خطاب ”خاتم النبیین ”میں حروف ”الف” اور ”لام” (یعنی اسم معرفہ) کی تحقیق۔

حضرتِ فاطمہ کی طرف منسوب ایک موضوع روایت

حضرتِ فاطمہ کی طرف منسوب ایک موضوع روایت

امام اہل سنت، اعلی حضرت رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ خاتون جنت، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی نسبت یہ بیان کرنا کہ روز محشر وہ برہنہ سر و پا ظاہر ہوں گی، امام حسن و حسین کے خون آلود اور زہر آلود کپڑے کاندھے پر ڈالے ہوئے اور نبی کریم ﷺ کے دندان مبارک جو جنگ احد میں شہید ہوئے تھے، اسے ہاتھ میں لیے ہوئے بارگاہِ الہی میں حاضر ہوں گی اور عرش کا پایہ پکڑ کر ہلائیں گی اور خون کے معاوضے میں گنہگار امت کو بخشوائیں گی، یہ صحیح ہے یا نہیں؟

امام اہل سنت جواباً لکھتے ہیں کہ یہ سب محض جھوٹ، افترا، کذب، گستاخی اور بے ادبی ہے- مجمع اولین و آخرین میں ان کا برہنہ تشریف لانا جن کو برہنہ سر کبھی آفتاب نے بھی نہ دیکھا، وہ کہ جب صراط پر گزر فرمائیں گی تو زیر عرش سے منادی ندا کرے گا کہ اے اہل محشر اپنے سر جھکا لو اور اپنی آنکھیں بند کر لو کہ فاطمہ بنت محمد ﷺ صراط پر گزر فرمائیں گی پھر وہ نور الہی ایک برق کی طرح ستر ہزار حوریں جلوے میں لیے ہوئے گزر فرمائے گا-

(ملخصاً: احکام شریعت، ج1، ص160)

عبد مصطفی