sulemansubhani نے Wednesday، 6 May 2020 کو شائع کیا.
حدیث نمبر224 روایت ہے حضرت عدی ابن ثابت سے ۱؎ وہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے راوی اسے مرفوع کیا فرماتے ہیں کہ نماز میں چھینک،اونگھ،جمائی،حیض،قے اور نکسیر شیطان سے ہیں ۲؎(ترمذی) شرح ۱؎ تابعی ہیں،انصاری ہیں،کوفی ہیں،ابن حبان اور ابو حاتم نے انہیں ثقہ کہا،بعض محدثین نے کہا ہے کہ یہ غالی […]
Like this:
Like Loading...
مکمل تحریر پڑھیے »
ٹیگز:-
حضرت عدی ابن ثابت ,
قے ,
حدیث ,
نکسیر ,
نماز ,
ترمذی ,
شیطان ,
حیض ,
جمائی ,
چھینک ,
اونگھ
sulemansubhani نے Wednesday، 6 May 2020 کو شائع کیا.
حدیث نمبر218 روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز میں جمائی شیطان کی طرف سے ہے تو جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو بقدر طاقت دفع کرے ۱؎(ترمذی)اور ترمذی کی دوسری روایت میں اور ابن ماجہ میں ہے کہ اپنا ہاتھ اپنے […]
Like this:
Like Loading...
مکمل تحریر پڑھیے »
ٹیگز:-
سنن ابن ماجہ ,
سنن ترمذی ,
حدیث ,
جمائی ,
حضرت ابوہریرہ ,
رسول اﷲ ,
نماز ,
ترمذی ,
ابن ماجہ ,
شیطان ,
رسول اﷲﷺ ,
جامع ترمذی
sulemansubhani نے Tuesday، 5 May 2020 کو شائع کیا.
حدیث نمبر211 بخاری کی روایت میں حضرت ابوہریرہ سے ہے فرمایا تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو بقدر طاقت دفع کرے اور نہ کہے”ھا”کیونکہ یہ شیطان سے ہے کہ وہ اس سے ہنستا ہے ۱؎ شرح ۱؎ چنانچہ اگر نماز میں “ہاہ” منہ سے نکل جائے تو نماز جاتی رہے گی […]
Like this:
Like Loading...
مکمل تحریر پڑھیے »
sulemansubhani نے Tuesday، 5 May 2020 کو شائع کیا.
حدیث نمبر210 روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی نماز میں جمائی لے تو جہاں تک ہوسکے دفع کرے کیونکہ شیطان داخل ہوجاتا ہے ۱؎(مسلم) شرح ۱؎ جمائی دفع کرنے کی تین صورتیں ہیں:ایک یہ کہ جمائی آتے وقت یہ […]
Like this:
Like Loading...
مکمل تحریر پڑھیے »
sulemansubhani نے Monday، 12 November 2018 کو شائع کیا.
آداب مجلس کا بیان اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایاکہ ’’یایھا الذین آمنوا اذا قیل لکم تفسحوا فی المجلس فافسحوا یفسح اللہ لکم واذا قیل انشزوا فانشزوا یرفع اللہ الذین اٰمنوامنکم والذین اوتوا العلم درجات‘‘۔ (پارہ ۲۷؍رکوع ۲) ترجمہ:۔اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دے دو تو تم […]
Like this:
Like Loading...
مکمل تحریر پڑھیے »