بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ جَعَلۡنَا الۡبَيۡتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَاَمۡنًا ؕ وَاتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰهٖمَ مُصَلًّى‌ ؕ وَعَهِدۡنَآ اِلٰٓى اِبۡرٰهٖمَ وَاِسۡمٰعِيۡلَ اَنۡ طَهِّرَا بَيۡتِىَ لِلطَّآٮِٕفِيۡنَ وَالۡعٰكِفِيۡنَ وَالرُّکَّعِ السُّجُوۡدِ

اور (یاد کیجئے) جب ہم نے بیت اللہ (کعبہ) کو لوگوں کے لیے معبد اور امن کی جگہ بنادیا ‘ اور مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لو ‘ اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل سے تاکیدا فرمایا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ‘ اعتکاف کرنے والوں ‘ رکوع کرنے والوں کے لیے پاک رکھو

” مشابۃ “ کا معنی ہے : لوٹنے کی جگہ کیونکہ جو شخص بھی بیت اللہ سے واپس جاتا ہے وہ سیر نہیں ہوتا اور پھر دو بار وہاں جاتا ہے یا جانا چاہتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا معنی ہو : اجر وثواب کی جگہ ‘ کیونکہ عبادت پر جس قدر اجر وثواب یہاں ملتا ہے کہیں اور نہیں ملتا۔

حرم میں قصاص لینے اور حدود جاری کرنے کے متعلق مذاہب ائمہ :

” امنا “ کا معنی ہے : امن کی جگہ ‘ ہرچند کہ یہ بیت اللہ کی صفت ہے لیکن اس سے مراد پورا حرم ہے۔

اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے کہ کعبہ میں کسی پر حد نہیں جاری کی جائے گی لیکن باقی حرم میں بھی حد جاری کی جائے گی یا نہیں ؟ اس میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں کہ صحیح یہ ہے کہ حرم میں حد جاری کی جائے گی اور ” من دخلہ کان امنا “ منسوخ ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٢ ص ١١١ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

امام رازی شافعی لکھتے ہیں :

حرم میں حد جاری کرنا جائز ہے کیونکہ حضرت عاصم بن ثابت بن افلح اور حضرت خبیب کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ اگر وہ قادر ہوں تو ابوسفیان کو مکہ میں اس کے گھر میں قتل کردیں اور اس وقت مکہ حرم تھا ‘ اور قرآن مجید میں جو ہے : یہ امن کی جگہ ہے ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں جنگ نہیں کی جائے گی یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو قحط اور آفات سے امن کی جگہ بنادیا ہے۔ (تفسیر کبیر ج ١ ص ٤٧٢ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ جس شخص نے کسی اور جگہ جرم کیا ہو ‘ پھر وہ حرم میں آکر پناہ لے لے ‘ تو وہ مامون ہے لیکن اہل مکہ کو چاہے کہ وہ اس کو کوئی چیز فروخت کریں نہ کھلائیں نہ پلائیں اور نہ اس کو پناہ دیں نہ اس سے کلام کریں حتی کہ وہ حرم کی حدود سے نکل جائے اور جب وہ حرم کی حدود سے باہر آجائے تو اس پر حد جاری کردیں۔ امن کی جگہ بیت اللہ کی صفت ہے لیکن اس سے مراد پورا حرم ہے جیسے فرمایا : ” ھدیابالغ الکعبۃ “ قربانی جو کعبہ کو پہنچنے والی ہے۔ “ یہاں بھی کعبہ سے مراد پورا حرم ہے کیونکہ کعبہ اور مسجد حرام میں جانور کو ذبح نہیں کیا جاتا۔ (زادالمیسر ج ١ ص ١٤١‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں :

امام ابوحنفیہ (رح) کے نزدیک حرم میں کسی شخص سے قصاص لیاجائے گا نہ کسی پر حد جاری کی جائے گی ‘ اگر کسی مجرم نے حرم میں آکر پناہ لے لی تو اس پر کھانا پینا بند کردیا جائے گا اور اس سے کوئی معاملہ نہیں کیا جائے گا حتی کہ وہ حرم سے باہر آجائے اور جب وہ باہر آجائے گا تو اس پر حد جاری کردی جائے گی۔ (روح المعانی ج ١ ص ٣٧٨‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

امام ابوحنفیہ (رح) کی دلیل یہ آیت ہے :

(آیت) ” ومن دخلہ کان امنا “۔ (آل عمران : ٩٧)

ترجمہ : اور جو حرم میں داخل ہوا وہ مامون ہے۔

علامہ قرطبی مالکی نے جو کہا ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے ‘ اس پر انہوں نے کوئی دلیل قائم نہیں کی ‘ اور امام رازی شافعی نے جو لکھا ہے کہ حضرت عاصم اور حضرت خبیب (رض) کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ مکہ میں جا کر ابوسفیان کو قتل کردیں یہ برتقدیر صحت روایت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خصوصیت پر محمول ہے ‘ نیز امام رازی نے جو یہ ذکر کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ اس شہر میں جنگ نہیں کی جائے گی یا یہ شہر قدرتی آفات سے مامون ہے یہ تاویلات اس آیت سے مطابقت نہیں رکھتیں : جو حرم میں داخل ہوا وہ مامون ہے ‘ ظاہر قرآن میں امام ابوحنفیہ (رح) اور امام احمد کی تائید ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالو۔ (البقرہ : ١٢٥)

مقام ابراہیم کی تعیین کی تحقیق :

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کے دوران یہ جملہ معترضہ ہے اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ جب ہم نے کعبہ کو یہ عظمت اور جلالت عطا کی کہ اس کو مشرق اور مغرب سے لوگوں کے بار بار آنے کی جگہ بنادیا اور اس کو تمہارے لیے عبادت اور امن کی جگہ بنادیا اور اس کو تمام روئے زمین کے نمازیوں کے لیے قبلہ بنادیا تو جس شخص نے اس عظیم کعبہ کو بنایا ہے اس کے کھڑے ہونے کی جگہ کو تم اپنا مصلی بنالو۔

امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے کہا : میں نے اپنے رب کی تین چیزوں میں موافقت کی ہے ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کاش ہم مقام ابراہیم کو نماز پڑھنے کی جگہ بنالیں ! تو یہ آیت نازل ہوگئی : (آیت) ” واتخذوا من مقام ابرھم مصلی “۔ (البقرہ : ١٢٥) اور آیت حجاب میں ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کاش ! آپ اپنی ازواج کو یہ حکم دیں کہ وہ حجاب میں رہیں کیونکہ ان سے نیک اور بد (ہر قسم کا شخص) کلام کرتا ہے تو آیت حجاب نازل ہوگئی ‘ اور جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج غیرت میں مجتمع ہوگئیں تو میں نے کہا : اگر وہ تمہیں طلاق دے دیں تو بعید نہیں کہ ان کا رب تمہارے بدلہ میں ان کو تم سے بہتر بیویاں دے دے تو یہ آیت نازل ہوگئی : (آیت) ” عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن “ الایہ (التحریم : ٥)

نیزامام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ کے ساتھ طواف کئے ‘ پھر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعات نماز پڑھی ‘ اور صفا اور مردہ کے درمیان سعی کی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٥٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

علامہ قرطبی لکھتے ہیں :

مقام ابراہیم کی تعیین میں کئی اقوال ہیں ‘ عکرمہ اور عطاء نے کہا : پورا حج مقام ابراہیم ہے ‘ شعبی نے کہا : عرفہ ‘ مزدلفہ اور جمار مقام ابراہیم ہیں ‘ نخعی نے کہا : پورا حرم مقام ابراہیم ہے ‘ اور سب سے صحیح قول یہ ہے کہ وہ پتھر جس کو اب لوگ مقام ابراہیم کے عنوان سے پہچانتے ہیں اور جس کے پاس طواف کی دو رکعت پڑھتے ہیں ‘ وہ مقام ابراہیم ہے ‘ اور یہ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بیت اللہ کو دیکھا تو حجر اسود کی تعظیم دی ‘ اور پہلے تین طوافوں میں رمل کیا اور اس کے بعد چار طواف معمول کے مطابق چل کر کیے ‘ پھر مقام ابراہیم کی طرف گئے اور طواف کی دو رکعتیں پڑھیں ‘ اور امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس کو اس وقت بلند کردیا گیا تھا جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان پتھروں کے اٹھانے سے ضعف لاحق ہوا جو ان کو حضرت اسماعیل لا کر دے رہے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشان اس پتھر میں نقش ہوگئے تھے ‘ حضرت انس (رض) نے کہا : میں نے ” مقام “ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی انگلیوں ‘ ایڑیوں اور تلووں کے نشان ثبت دیکھے۔ سدی نے بیان کیا ہے کہ مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس کو حضرت اسمعیل کی زوجہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سر دھوتے وقت ان کے قدموں کے نیچے رکھا تھا۔ (تفسیر قرطبی ج ٢ ص ١١٣۔ ١١٢ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ‘ ١٣٨٧ ھ)

میں کہتا ہوں کہ امام بخاری کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں :

حضرت اسماعیل (علیہ السلام) پتھر لاتے تھے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ان پتھروں کو جوڑ کر لگاتے تھے ‘ جب کعبہ کی عمارت بلند ہوگئی تو وہ اس پتھر کو لائے اور اس کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے رکھا ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس پتھر پر کھڑے ہو کر بنانے لگے اور حضرت اسماعیل ان کو پتھر لا کر دے رہے تھے۔ (الحدیث) (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٧٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام رازی نے سدی کی روایت کو ترجیح دی ہے (تفسیر کبیر ج ١ ص ٤٧٣) لیکن صحیح یہ ہے کہ امام بخاری کی روایت کو ترجیح ہے۔ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بنانے کے حکم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک انبیاء کا مقام کس قدر بلند ہے اور آثار انبیاء سے برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (یاد کرو) جب ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا : اے میرے رب ! اس جگہ کو امن والا شہر بنا دے۔ (الایۃ) ۔ (البقرہ : ١٢٦)

آیا مکہ مکرمہ ابتداء آفرینش سے حرم ہے یا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے بعد سے ؟

اس میں اختلاف ہے کہ آیا مکہ مکرمہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا سے حرم بنایا اس سے پہلے حرم تھا ‘ ایک قول یہ ہے کہ جابر حکمران ‘ زلزلہ ‘ زمین کا دھنسنا ‘ قحط ‘ خشک سالی اور دیگر مصائب اور قدرتی آفات جو دوسرے شہروں میں نازل ہوتی ہیں مکرمہ ہمیشہ سے ان سے مامون اور محفوظ رہا ہے اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے ‘ امام بخاری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اس شہر کو اللہ نے اس دن حرام کیا جس دین آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ‘ پس یہ شہر اللہ کے حرام کرنے سے قیامت تک کے لیے حرام ہے اور مجھ سے پہلے اس شہر میں کسی کے لیے بھی جنگ کرنا جائز نہ تھا ‘ اور میرے لیے صرف دن کی ایک ساعت میں یہ جنگ کرنا جائز ہو اور اب یہ اللہ کے حرام کرنے سے قیامت تک کے لیے حرام ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٤٣٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

دوسرا قول یہ ہے کہ پہلے شہر مکہ حرم نہیں تھا ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے بعد یہ حرم ہوا ‘ اس کی دلیل یہ حدیث ہے :

امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن زید بن عاصم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم بنایا اور اہل مکہ کے لیے دعا کی اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم بنایا تھا اور میں مدینہ کے صاع اور مد میں اس سے دگنی برکت کی دعا کرتا ہوں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اہل مکہ کے لیے کی تھی۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٤٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ مکہ مکرمہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے بعد حرم بنا لیکن اس حدیث کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ اصل میں مکہ ابتداء آفرینش سے حرم ہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی تحریم کی تجدید اور تحریم کی بقاء اور دوام کے لیے دعا کی تھی ‘ اس وجہ سے ان کی طرف تحریم کی نسبت کی جاتی ہے۔

چونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا : میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا ‘ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا میں یہ کہا کہ اس میں رہنے والے مومنوں کو رزق عطا فرما ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جس نے کفر کیا میں اس کو (بھی) تھوڑا سا فائدہ پہنچاؤں گا ‘ پھر اس کو مجبور کرکے دوزخ میں ڈالوں گا ‘ اور وہ کیا برا ٹھکانا ہے A

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 125