بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاذۡكُرُوا اللّٰهَ فِىۡٓ اَيَّامٍ مَّعۡدُوۡدٰتٍ‌ؕ فَمَنۡ تَعَجَّلَ فِىۡ يَوۡمَيۡنِ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡهِ ۚ وَمَنۡ تَاَخَّرَ فَلَاۤ اِثۡمَ عَلَيۡه‌ِ ۙ لِمَنِ اتَّقٰى ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَاعۡلَمُوۡٓا اَنَّکُمۡ اِلَيۡهِ تُحۡشَرُوۡنَ

اور گنے چنے دنوں میں اللہ کو یاد کرو ‘ سو جس نے دو دنوں میں روانہ ہونے کی) جلدی کی تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے ‘ اور جس نے تاخیر کی اس پر (بھی) کوئی حرج نہیں ہے ‘ یہ (حکم) اس کے لیے جو اللہ سے ڈرے ‘ اور اللہ سے ڈرتے رہو ‘ اور جان لو کہ بیشک تم سب اسی کی طرف جمع کیے جاؤ گے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جس نے دو دنوں میں (روانہ ہونے کی) جلدی کی تو اس پر کوئی حرج نہیں ہے اور جس نے تاخیر کی اس پر (بھی) کوئی حرج نہیں ہے۔ (البقرہ : ٢٠٣)

قیام منی کی مدت کا بیان :

ملاجیون حنفی لکھتے ہیں :

جو شخص ایام منی میں سے صرف دس اور گیارہ تاریخ کو منی میں فقد دو دن ٹھہرا اور اس نے دو دن رمی کی اور تیسرے دن رمی نہیں کی اس پر کوئی حرج نہیں ہے ‘ اور جس نے تاخیر کی اور تیسرے دن بھی رمی کی اس پر بھی کوئی حرج نہیں ہے۔ صاحب ” ہدایہ “ نے یہ ذکر کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ جائز ہے کہ وہ طلوع فجر سے پہلے چوتھے دن بغیر رمی کے مکہ روانہ ہوجائے اور اگر چوتھے دن کی فجر منی میں طلوع ہوگئی تو وہ رمی کے بغیر مکہ روانہ نہیں ہوسکتا اور افضل یہ ہے کہ وہ چوتھے دن بھی منی میں ٹھہرے اور چوتھے دن کی رمی کرکے مکہ مکرمہ روانہ ہو ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کیا تھا اور اگر اس نے چوتھے دن زوال سے پہلے رمی کرلی تو یہ بھی امام ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ہے کیونکہ جب وہ رمی کو ترک کرسکتا ہے تو اس کو وقت سے پہلے بھی کرسکتا ہے۔ یہ قرآن کریم میں مسائل حج کا آخری عنوان ہے۔ (تفسیرات احمدیہ ص ٩٩۔ ٩٨‘ مطبوعہ مطبع کریمی ‘ بمبی)

البقرہ : ١٩٦ سے لے کر البقرہ : ٢٠٣ تک اللہ تعالیٰ نے مسائل حج سے متعلق آیات نازل کیں اور ان آیات کی تفسیر لکھنے کا حسین اتفاق ایام حج عشرہ ذوالحجہ میں پیش آیا اور تکبیرات کی تفسیر میں نے ایام تشریق میں لکھی اور بارہ ذوالحجہ ٤١٥ ھ کو ان آیات کی تفسیر مکمل ہوگئی۔ والحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین وعلی الہ و اصحابہ وازواجہ اجمعین “۔ الہ العلمین ! مجھے باقی قرآن مجید کی تفسیر بھی مکمل کرنے کی توفیق اور سعادت عطا فرما اور اس کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما ‘ اس کو تاقیام قیامت باقی ‘ آفرین اور اشاعت پذیر رکھ ‘ امین یا رب العلمین بجاہ حبیبک سید المرسلین “۔

حجاج کرام کے اجر وثواب اور ان سے مصافحہ کرنے کے متعلق احادیث وآثار :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام ابن ابی شیبہ ‘ شعبی سے روایت کرتے ہیں انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے یہ مناسک حج اس لیے بنائے ہیں تاکہ بنو آدم کے گناہوں کا کفارہ ہوجائیں۔ امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں روایت کیا ہے کہ حسن بصری سے پوچھا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ حج کرنے والا بخش دیا جاتا ہے ‘ انہوں نے کہا : بہ شرطی کہ وہ ان گناہوں کو ترک کردے جن کو پہلے کرتا تھا۔

امام اصبہانی نے ” ترغیب “ میں روایت کیا ہے کہ ابراہیم نے کہا کہ حجاج کے گناہوں میں آلودہ ہونے سے پہلے مصافحہ کرلو۔

امام اصبہانی نے روایت کیا ہے کہ حسن بصری سے پوچھا گیا کہ حج مبرور کی کیا تعریف ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ حج کرنے کے بعد دنیا سے مستغنی ہو اور آخرت میں راغب ہو۔

امام حاکم نے تصحیح حدیث کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم حج پورا کرلو تو جلد گھر کی طرف روانہ ہو اس سے زیادہ اجر ملے گا۔

امام مالک ‘ امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابو داؤد ‘ امام نسائی نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج یا عمرہ سے لوٹنے کے بعد کسی بلند جگہ کھڑے ہو کر تین مرتبہ تکبیر پڑھتے پھر یہ دعا کرتے : ” لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ وھو علی کل شی قدیر ائبون تائبون ‘ عابدون ساجدون لربنا حامدون صدق اللہ وعدہ ونصر عبدہ وھزم الاحزاب وحدہ “۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٣٧‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام عرض کرنے اور شفاعت طلب کرنے کے متعلق احادیث اور آثار :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام ابن حبان نے ” الضعفاء “ میں امام ابن عدی نے ” کامل “ میں اور امام دارقطنی نے ” العلل “ میں حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے حج کیا اور میری زیارت نہیں کی اس نے مجھ سے بےوفائی کی۔

امام سعید بن منصور امام ابو یعلی ‘ امام طبرانی ‘ امام ابن عدی ‘ امام بیہقی اور امام ابن عساکر نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے حج کیا اور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی گویا اس نے میری حیات میں میری زیارت کی۔ (سنن کبری ج ٥ ص ٢٤٦‘ المعجم الکبیر ج ١٢‘ ص ٣١٠‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢)

اماحکیم ترمذی ‘ امام بزار ‘ امام ابن خزیمہ ‘ امام بن عدی ‘ امام دارقطنی اور امام بیہقی نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی (کامل ابن عدی ج ٦ ص ٢٣٥‘ شعب الایمان ج ٣ ص ٤٩٠‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢‘ کنز العمال رقم الحدیث : ٤٢٥٨٣)

امام طبرانی حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص بغیر کسی اور کام کے صرف میری زیارت کے لیے آیا مجھ پر واجب ہے کہ میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں۔ (المعجم الکبیر ج ١٢ ص ٢٢٥)

امام طیالسی اور امام بیہقی نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی میں اس کی شفاعت کروں گا یا شہادت دوں گا اور جو شخص حرمین میں سے کسی ایک حرم میں فوت ہوگیا وہ قیامت کے دن امن والوں میں سے اٹھے گا۔ (سنن کبری ج ٥ ص ٢٤٥‘ شعب الایمان ج ٣ ص ٤٩٦)

امام بیہقی حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر پر آکر سلام عرض کرتے اور قبر کو چھوتے نہیں تھے ‘ پھر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کی قبر پر سلام عرض کرتے۔

امام بیہقی روایت کرتے ہیں کہ محمد بن منکدر نے کہا کہ میں نے حضرت جابر (رض) کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے پاس روتے ہوئے دیکھا انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری قبر اور منبر کے درمیان جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔

(صحیح مسلم ج ١ ص ٤٤٦‘ سنن کبری ج ٥ ص ٢٤٦‘ کشف الاستار ج ٢ ص ٥٦‘ کنزالعمال ج ١٢ ص ٢٦٠)

امام ابن ابی الدنیا اور امام بیہقی نے منیب بن عبداللہ بن ابی امامہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے دیکھا حضرت انس بن مالک (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر پر آکر کھڑے ہوئے اور بڑی دیر تک ہاتھ بلند کیے رہے بلند کیے رہے حتی کہ میں نے گمان کیا کہ وہ نماز کی نیت کررہے ہیں ‘ پھر سلام عرض کیا اور چلے گئے۔ (شعب الایمان ج ٣ ص ٤٩١)

امام بیہقی ‘ حاتم بن مروان سے روایت کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز کسی قاصد کو مدینہ میں بھیجتے تاکہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر سلام عرض کرے۔ (شعب الایمان ج ٣ ص ٤٩٢۔ ٤٩١)

امام بیہقی ‘ ابوحرب ہلالی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نے حج کیا ‘ جب وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد کے دروازہ پر آیا تو اس نے اپنی اونٹنی کو وہاں باندھ دیا ‘ پھر مسجد میں داخل ہوا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے پاس گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں ‘ میں آپ کے پاس اپنے گناہوں اور خطاؤں کے بوجھ تلے دبا ہوا آیا ہوں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے : (آیت) ” ولو انہم اذ ظلموا انفسھم “۔ الایہ “ (النساء : ٦٤) ” اگر یہ اپنی جانوں پر ظلم کربیٹھیں تو آپ کے پاس آکر اللہ سے استغفار کریں ‘ اور رسول اللہ بھی ان کی شفاعت کردیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا مہربان پائیں گے “ اور میں گناہوں سے بوجھل ہو کر آپ کے پاس آیا ہوں آپ اپنے رب کی حضور میری شفاعت کریں کہ وہ میرے گناہوں کو بخش دے اور آپ کی شفاعت کو قبول فرمائے۔ (شعب الایمان ج ٣ ص ٤٩٦۔ ٤٩٥) (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٢٣٨۔ ٢٣٧ ملتقطا مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران )

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 203