بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يُّعۡجِبُكَ قَوۡلُهٗ فِى الۡحَيٰوةِ الدُّنۡيَا وَيُشۡهِدُ اللّٰهَ عَلٰى مَا فِىۡ قَلۡبِهٖۙ وَهُوَ اَلَدُّ الۡخِصَامِ

اور لوگوں میں سے ایک شخص ایسا ہے جس کی بات آپ کو دنیا کی زندگی میں اچھی لگتی ہے اور وہ اپنے دل کے خلوص پر اللہ کو گواہ بناتا ہے حالانکہ وہ سب سے زیادہ جھگڑالو ہے

دنیا اور آخرت کو برباد کرنے والا :

آیات حج میں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا بیان فرمایا تھا جو صرف دنیا میں رغبت کرتا ہے اور صرف دنیا کے حصول کی دعائیں کرتا ہے اور اس شخص کا ذکر فرمایا تھا جو دنیا میں اور آخرت میں رغبت کرتا ہے اور دونوں کے لیے دعا کرتا ہے ‘ عقلی طور پر یہاں دو قسمیں اور بھی ہیں ‘ ایک وہ شخص جس کی رغبت دنیا میں ہو نہ آخرت میں ‘ ان آیات میں اس شخص کا ذکر ہے ‘ اور دوسری قسم وہ ہے جس کی رغبت صرف آخرت میں ہو اور وہ آخرت کی خاطر دنیا کو چھوڑ دے ‘ ان آیات کے بعد آیت : ٢٠٧‘ میں اسی شخص کا ذکر آرہا ہے ‘ پہلے اللہ تعالیٰ نے اس منافق کا ذکر فرمایا جو دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کرتا ہے۔

یہ آیت اخنس بن شریق کے متعلق نازل ہوئی ہے ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور کہا : میں اسلام لانے کا رادہ کرتا ہوں اور قسم کھائی کہ وہ صرف اسی لیے آیا ہے ‘ پھر جب آپ کے پاس سے اٹھا تو باہر جا کر مسلمانوں کے اموال کو تباہ کردیا ‘ امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

سدی بیان کرتے ہیں کہ اخنس بن شریق ثقفی بنو زہرہ کا حلیف تھا ‘ وہ مدینہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا اور اسلام کا اظہار کیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی باتیں اچھی لگیں اس نے کہا : میں اسلام قبول کرنے کے ارادہ سے آیا ہوں ‘ اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اپنی بات میں سچاہوں ‘ پھر جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے اٹھا تو مسلمانوں کے کھیتوں اور گدھوں کے پاس سے گزرا اس نے مسلمانوں کے کھیتوں میں آگ لگا دی اور ان کے گدھوں کی کونچیں کاٹ دیں تب اس کے متعلق یہ آیات نازل ہوئیں۔ (جامع البیان ج ٢ ص ١٨٢۔ ١٨١‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

” الدالخصام “ (سخت جھگڑالو) کا بیان :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

مجاہد نے کہا : جو شخص کج بحث ‘ ہٹ دھرم اور ظالم ہو وہ ” الدالخصام “ ) ہے۔

امام احمد ‘ امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی اور امام بیہقی ‘ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے مبغوض شخص ’ A الدالخصام “ (بہت جھگڑا کرنے والا) ہے۔

امام ترمذی اور امام بیہقی (رح) نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے گنہ گار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہو۔

امام بیہقی نے عبدالکریم الجذری سے روایت کیا ہے کہ متقی کبھی جھگڑا نہیں کرتا۔ امام بیہقی نے ابن عمرو بن العلاء سے روایت کیا ہے کہ جب دو شخص جھگڑا کرتے ہیں تو جو زیادہ برا ہوتا ہے وہ غالب آجاتا ہے۔

امام احمد ‘ حضرت ابودرداء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ تمہارے گناہ کے لیے یہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ لڑتے رہو اور تمہارے ظلم کے لیے یہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہو اور تمہارے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ باتیں کرتے رہو ماسوا اس گفتگو کے جو اللہ کے متعلق کی جائے ‘ نیز امام احمد ‘ حضرت ابو درداء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جو بہت باتیں کرتا ہے وہ بہت جھوٹ بولتا ہے اور جو بہت قسمیں کھاتا ہے وہ بہت گناہ کرتا ہے اور جو بہت جھگڑا کرتا ہے اس کا دین سلامت نہیں رہتا۔ (جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ ‘ الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٢٣٩ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران) اس کے بعد فرمایا :

اور جب اس منافق سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو اور اللہ کی نافرمانی نہ کرو تو وہ ضد اور تکبر میں آکر اور بڑھ چڑھ کر فساد کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 204