بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كُتِبَ عَلَيۡکُمُ الۡقِتَالُ وَهُوَ كُرۡهٌ لَّـكُمۡ‌ۚ وَعَسٰۤى اَنۡ تَكۡرَهُوۡا شَيۡـــًٔا وَّهُوَ خَيۡرٌ لَّـکُمۡ‌ۚ وَعَسٰۤى اَنۡ تُحِبُّوۡا شَيۡـــًٔا وَّهُوَ شَرٌّ لَّـكُمۡؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم پر جہاد فرض کیا گیا ہے اور وہ تم پر دشوار ہے اور ہوسکتا ہے کہ تم پر کوئی چیز شاق گزرے اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو اور ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہارے نزدیک اچھی ہو اور وہ تمہارے حق میں بری ہو ‘ اور اللہ ہی کو علم ہے اور تمہیں علم نہیں ہے۔ (البقرہ : ٢١٦)

جہاد کی تعریف اور اس کی اقسام :

اس سے پہلے آیت : ٢١٤ سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ جنت میں داخل ہونے کے لیے سختیاں اور مشقتیں برداشت کرنی پڑیں گی پھر آیت : ٢١٥ میں اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی ایک مشقت ہے ‘ اور اب اس آیت میں جہاد کی مزید مشقت برداشت کرنے کا حکم دیا ہے۔ جہاد کا لغوی معنی ہے : اللہ کے دشمنوں سے جہاد جنگ کرنے میں اپنی پوری وسعت اور طاقت کو خرچ کرنا ‘ اور جہاد کا شرعی معنی ہے : اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے کفار سے جنگ میں اپنی پوری طاقت اور وسعت کو خرچ کرنا۔

جہاد کی دو قسمیں ہیں : فرض عین اور فرض کفایہ ‘ اسلام کی تبلیغ کے لیے کافروں کو اسلام کی دعوت دینا اور اگر وہ اسلام کو قبول نہ کریں تو پھر ان کو جزیہ ادا کرنے کے لیے کہنا اور اگر وہ اس کو بھی قبول نہ کریں تو پھر ان سے جہاد کرنا فرض کفایہ ہے اور اگر کسی اسلامی شہر پر کافر حملہ کریں تو اس شہر کے مسلمان پر اپنے شہر کے دفاع کے لیے جہاد کرنا فرض عین ہے اور اگر اس شہر کے مسلمان اپنا دفاع نہ کرسکیں تو اس کے قریب کے شہر والوں پر جہاد کرنا فرض عین ہوجائے گا۔ علی ھذا القیاس اگر ایک اسلامی ملک اپنے دفاع کی اسطاعت نہ رکھے تو اس کے قریب کے ملک پر جہاد کرنا فرض عین ہوگا۔

علامہ کا سانی حنفی نے لکھا ہے : اگر جہاد کے لیے روانہ ہونے کا مسلمانوں کو عام حکم دیا جائے تو جہاد فرض عین ہے اور اگر عام حکم نہ ہو تو جہاد فرض کفایہ ہے اور بعض مسلمانوں کے جہاد کرنے سے باقی مسلمانوں سے جہاد کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے۔ (بدائع الصنائع ج ٧ ص ٩٨‘ مطبوعہ ایچ۔ ایم۔ سعید اینڈ کمپنی ‘ ١٤٠٠ ھ)

جہاد کرنے میں عزت اور جہاد ترک کرنے میں ذلت کا بیان :

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو مکہ میں توحید کا حکم دیا اور نماز پڑھنے کا ‘ زکوۃ ادا کرنے کا حکم دیا اور مشرکین کے ساتھ جنگ کرنے سے منع کیا اور جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو باقی فرائض نازل ہوئے اور مسلمانوں کو کفار سے جنگ کرنے کی اجازت دے دی گئی ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی کہ تم پر قتال (جہاد) فرض کردیا گیا ہے ‘ اور قتال سے ممانعت کے بعد تم کو قتال کی اجازت دے دی گئی ہے اور اگرچہ یہ طبعا تم پر گراں اور بھاری ہے لیکن انجام کار تمہارے لیے خیر ہے کیونکہ کافروں کو مغلوب کرکے تم ایک اسلامی ریاست قائم کرسکو گے اور آزادی کے ساتھ باعزت طریقہ سے زندگی گزار سکو گے اور اسلام کے تمام احکام پر بےخوف وخطر عمل کرسکو گے ‘ اور جنگ کے ذریعہ تم کو دشمنوں کا جو مال غنیمت حاصل ہوگا اس سے تم پر خوش حالی آئے گی اور اگر تم راہ حق میں شہید ہوگئے ‘ تو تمہارے لیے بےپناہ اجر ہے اور اگر تم کافروں سے جہاد نہیں کرو گے تو وقتی طور پر تمہیں آرام ملے گا لیکن مآل کار تمہارے ملک پر کافر قبضہ کرکے تمہیں آزادی سے محروم کردیں گے۔ تمہیں اپنا غلام بنالیں گے اور پھر تم کو ذلت اور خواری کی زندگی گزارنی ہوگی۔

جہاد کے درجات اور اجر وثواب کے متعلق احادیث :

حافظ سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام احمد ‘ امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ماجہ ‘ اور امام بیہقی نے (شعب الایمان میں) حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا ‘ آپ سے کہا گیا کہ پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ‘ آپ سے عرض کیا گیا : پھر کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : حج مبرور۔ امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے افضل عمل نماز کو اس کے وقت میں پڑھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔

امام ترمذی ‘ امام بزار ‘ امام حاکم اور امام بیہقی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے ایک شخص کا جنگل میں میٹھے پانی کے ایک چشمہ سے گزر ہوا ‘ اس نے سوچا : کاش میں لوگوں کو چھوڑ کر یہیں رہ جاؤں ‘ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت لے کر یہیں آجاؤں گا ‘ جب اس نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا : ایسانہ کرو ‘ ساٹھ سال اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے تمہارا ایک وقت اللہ کی راہ میں گزارنا افضل ہے ‘ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کردے اور تم کو جنت میں داخل کر دے ! اللہ کی راہ میں جہاد کرو ‘ جو شخص اونٹنی کا دودھ دوہے جانے کے وقت برابر بھی اللہ کی راہ میں جہاد کرتا ہے اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔

امام طبرانی نے فضالہ بن عبید سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام کے تین درجے ہیں : ادنی ‘ اوسط ‘ اور اعلی ‘ ادنی درجہ کا اسلام یہ ہے کہ جس میں عام مسلمان ہیں ‘ تم جس سے بھی سوال کرو گے وہ کہے گا : میں مسلمان ہوں ‘ اور اوسط درجہ میں بعض مسلمانوں کے عمل بعض سے افضل ہوتے ہیں اور سب سے اعلی درجہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ہے۔

امام بزار نے حضرت حذیفہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسلام کے آٹھ حصے ہیں ‘ اسلام (قبول کرنا) ایک حصہ ہے ‘ نماز ایک حصہ ہے ‘ زکوۃ ایک حصہ ہے ‘ روزہ ایک حصہ ہے ‘ حج بیت اللہ کا حصہ ہے۔ نیکی کا حکم دینا ایک حصہ ہے ‘ برائی سے روکنا ایک حصہ ہے اور جہاد فی سبیل اللہ ایک حصہ ہے ‘ اور وہ شخص نامراد ہے جس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

امام مسلم ‘ امام ابوداؤد ‘ امام نسائی ‘ امام حاکم اور امام بیہقی نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص جہاد کرنے کی تمنا کیے بغیر مرگیا وہ نفاق کے ایک حصہ کے ساتھ مرا ہے۔

امام احد ‘ امام بخاری ‘ امام ترمذی اور امام نسائی نے عبدالرحمان بن جبران (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کے پیر اللہ کی راہ میں غبار آلودہ ہوئے اللہ ان پیروں پر جہنم کی آگ حرام کردیتا ہے۔

امام حاکم ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ تین آنکھیں ایسی ہیں جن کو دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی : ایک وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں نکال دی گئی ‘ دوسری وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں جاگتی رہی اور تیسری وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روتی رہی۔

امام عبدالرزاق ‘ امام احمد ‘ امام ابوداؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام ابن حبان ‘ امام حاکم اور امام بیہقی حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اونٹنی کا دودھ دوہنے کے برابر وقت میں جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہوگئی اور جس شخص نے صدق دل سے شہادت کے حصول کی دعا کی وہ مرجائے یا قتل کردیا جائے اس کو شہادت کا اجر ملے گا ‘ اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہو ‘ وہ قیامت کے دن اسی طرح زخمی اٹھے گا ‘ اس کے خون کا رنگ زعفران کی طرح ہوگا اور اس سے مشک کی خوشبو آرہی ہوگی۔

امام مسلم ‘ امام ترمذی ‘ اور امام حاکم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت کے دروازے تلواروں کے سایوں کے نیچے ہیں۔

امام طبرانی نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے روایت کیا ہے کہ جو قوم جہاد کو ترک کردیتی ہے اللہ اس پر عام عذاب بھیجتا ہے۔ امام بیہقی نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب لوگ دنیاداری ‘ روپے پیسے اور کھیتی باڑی میں منہمک ہوجائیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کو ترک کردیں اور بیع عینہ کریں ‘ تو اللہ تعالیٰ ان پر مصیبتیں نازل فرماتا ہے اور جب تک وہ اپنے دین کی طرف رجوع نہ کریں وہ مصیبتیں ان سے دور نہیں کرتا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٢٤٩۔ ٢٤٤‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ النجفی ایران )

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 216