بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَسۡـــَٔلُوۡنَكَ عَنِ الشَّهۡرِ الۡحَـرَامِ قِتَالٍ فِيۡهِ‌ؕ قُلۡ قِتَالٌ فِيۡهِ كَبِيۡرٌ ‌ؕ وَصَدٌّ عَنۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَ کُفۡرٌ ۢ بِهٖ وَالۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ وَاِخۡرَاجُ اَهۡلِهٖ مِنۡهُ اَكۡبَرُ عِنۡدَ اللّٰهِ ‌‌ۚ وَالۡفِتۡنَةُ اَکۡبَرُ مِنَ الۡقَتۡلِ‌ؕ وَلَا يَزَالُوۡنَ يُقَاتِلُوۡنَكُمۡ حَتّٰى يَرُدُّوۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِکُمۡ اِنِ اسۡتَطَاعُوۡا ‌ؕ وَمَنۡ يَّرۡتَدِدۡ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَيَمُتۡ وَهُوَ کَافِرٌ فَاُولٰٓٮِٕكَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ ‌‌ۚ وَاُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

لوگ آپ سے ماہ حرام میں جنگ کے متعلق پوچھتے ہیں ‘ آپ کہیے کہ اس ماہ میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے ‘ اور (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام جانے سے روکنا اور ساکنین حرم کو وہاں سے نکالنا ‘ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بڑا گناہ ہے ‘ اور فساد ڈالنے کا گناہ قتل سے زیادہ بڑا ہے ‘ اور وہ (کافر) تم سے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے ‘ حتی کہ اگر ان کے بس میں ہو تو وہ تمہیں دین سے پھیر دیں ‘ اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہوگیا اور وہ حالت کفر میں مرگیا تو ان لوگوں کے (نیک) اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور وہ لوگ جہنمی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

ربط آیات اور شان نزول :

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر قتال اور جہاد کو فرض کردینے کے متعلق آیات نازل کی تھیں اس لیے یہاں اس سوال کی گنجائش تھی کہ آیا حرمت والے مہینے میں بھی قتال جائز ہے یا نہیں ؟ ادھر دو ہجری میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے احوال پر نظر رکھنے کے لیے حضرت عبداللہ بن جحش کی قیادت میں ایک لشکر بھیجا تھا۔ اس لشکر میں سے ایک شخص نے عمرو بن حضرمی نام کے ایک مشرک کو قتل کردیا ‘ مؤرخین کا اس میں اختلاف ہے کہ آپ نے یہ لشکر جمادی الاخری میں بھیجا تھا یا رجب میں ‘ بہرحال عمرو بن حضرمی کا قتل رجب میں ہوا (اور وہ حرمت والا مہینہ ہے) اس پر مشرکین نے مسلمانوں پر اعتراض ‘ کیا کہ ایک طرف تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے دین پر عمل کی دعوت دیتے ہیں ‘ ادھر ان کے پیروکاروں کا یہ حال ہے کہ انہوں نے ماہ حرام میں ایک شخص کو قتل کردیا ‘ حالانکہ حرمت والے مہینہ میں قتال کرنا ملت ابراہیم کے مطابق حرام ہے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ یہ لوگ آپ سے ماہ حرام میں جنگ کے متعلق پوچھتے ہیں ‘ آپ کہیے کہ اس ماہ میں قتال کرنا بڑا گناہ ہے ‘ لیکن لوگوں کو اسلام کے قبول کرنے سے منع کرنا اور اللہ کے ساتھ کفر کرنا اور لوگوں کو مسجد حرام میں جانے سے روکنا اور ساکنین حرم کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی بڑھ کر گناہ ہے ‘ تو جو لوگ ان بڑے گناہوں میں ملوث ہیں وہ کس منہ سے ماہ حرام میں قتال کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن جحش کے لشکر کی تفصیل امام ابن جریر طبری نے اس طرح بیان کی ہے :

حضرمی کے قتل کی تاریخ کی تحقیق :

ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ رجب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن جحش (رض) کو آٹھ مہاجرین کے ساتھ روانہ کیا ‘ اور واقدی کا گمان یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ساتھ بارہ مہاجرین کو روانہ کیا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن جحش کو ایک خط دیا اور فرمایا : دو دن سفر کرنے کے بعد اس خط کو کھول کر پڑھنا اور اس میں درج ہدایات پر عمل کرنا اور کسی کو مجبور نہ کرنا ‘ اس خط میں لکھا تھا کہ تم نخلہ (مکہ اور طائف کے درمیان ایک مقام) پہنچ جاؤ ‘ قریش کا ایک قافلہ وہاں سے گزرے گا ‘ تم اس کی گھات لگا کر بیٹھو اور اس کے احوال کی خبر ہمیں پہنچاؤ ‘ حضرت عبداللہ بن جحش نے خط پڑھ کر اپنے اصحاب کو سنایا ‘ وہ سب بہ خوشی ان کے ساتھ جانے پر تیار ہوگئے۔ جب وہ معدن میں پہنے تو حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عتبہ بن غزوان کے اونٹ گم ہوگئے ‘ وہ دونوں اپنے اپنے اونٹوں کی تلاش میں نکل گئے اور حضرت عبداللہ بن جحش اپنے بقیہ اصحاب کے ساتھ نخلہ میں پہنچ گئے ‘ وہاں سے قریش کا ایک تجارتی قافلہ گزرا جس میں خوراک اور دیگر تجارتی سامان تھا ‘ اس قافلہ میں عمرو بن الحضرمی ‘ عثمان بن عبداللہ بن مغیرہ اس کا بھائی نوفل وغیرہ تھے۔ مسلمانوں نے ان کو دیکھ کر انہیں دھمکایا اور اس قافلہ کو روک لیا اور ان کے متعلق غور کیا ‘ اس دن رجب کی آخر تاریخ تھی ‘ بعض نے کہا : اگر تم نے ان کو چھوڑ دیا تو یہ حرم میں پہنچ جائیں گے اور تم سے محفوظ ہوجائیں گے اور اگر تم نے ان سے جنگ کی تو تم ماہ حرام میں جنگ کرنے کا ارتکاب کرو گے۔ وہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ ان سے جنگ کی جائے اور جس کو قتل کرسکیں اس کو قتل کردیں ‘ باقی کو گرفتار کرلیں اور ان کا مال لوٹ لیں ‘ پھر حضرت واقد بن عبداللہ تمیمی نے تیر مار کر عمرو بن الحضرمی کو قتل کردیا اور عثمان بن عبداللہ اور حکم بن کیسان کو گرفتار کرلیا ‘ اور نوفل بن عبداللہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا ‘ حضرت عبداللہ بن جحش اس قافلہ کے سامان اور دو قیدیوں کو لے کر اپنے اصحاب کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچ گئے ‘ ان لوگوں نے اس مال غنیمت کا پانچواں حصہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے الگ کرلیا تھا اور باقی آپس میں تقسیم کرلیا تھا ‘ یہ اسلام میں پہلا مال غنیمت اور پہلا خمس تھا ‘ جب یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا : میں نے تم کو ماہ حرام میں قتال کرنے کا حکم نہیں دیا تھا ‘ ان کا قافلہ اور دو قیدی وہاں ٹھہرے رہے آپ نے اس میں سے کسی چیز کو بھی لینے سے انکار کردیا ‘ اس وقت ان مسلمانوں کو بہت پشیمانی ہوئی اور دیگر مسلمانوں نے بھی ان کو ملامت کی اور کہا : تم نے وہ کام کیا ہے جس کا تمہیں حکم نہیں دیا گیا تھا ‘ تم نے ماہ حرام میں قتال کیا حالانکہ تم کو لڑنے کا حکم دیا گیا تھا ‘ ادھر قریش نے طعنہ دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے اصحاب نے ماہ حرام کو حلال کرلیا ہے اور اس ماہ میں خون ریزی کی ہے اور لوٹ مار کی ہے ادھر یہودیوں نے اس واقعہ کو خوب اچھالا اور کہا : واقد بن عبداللہ نے جنگ کی آگ بھڑکا دی ہے اور حضرمی کے قتل سے جنگ کی نوبت آگئی ہے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ تم سے ماہ حرام قتال کے متعلق دریافت کرتے ہیں ‘ ان سے کہیں کہ یہ گناہ ہے اور اس سے بھی بڑا گناہ وہ ہے جو تم کر رہے ہو ‘ لوگوں کو اسلام قبول کرنے سے روکتے ہو ‘ اللہ کا کفر کرتے ہو ‘ مسلمانوں کو مسجد حرام جانے نہیں دیتے اور ساکنین حرم کو وہاں سے نکالتے ہو ‘ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مسلمانوں کا غم دور ہوا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس قافلہ اور قیدیوں پر قبضہ کرلیا ‘ قریش نے ان دو قیدیوں کا فدیہ بھیجا ‘ آپ نے فدیہ لے کر ان کو آزاد کردیا ‘ ان میں سے حکم بن کیسان مسلمان ہوگئے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس مدینہ منورہ ہی میں رہے حتی کہ بیر معونہ کے واقعہ میں شہید ہوگئے۔ (رض) (تاریخ الام والملوک ج ٢ ص ١٢٦۔ ١٢٤ مطبوعہ دارالقلم ‘ بیروت)

علامہ ابن اثیر جزری نے بھی اسی طرح اس واقعہ کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ‘ اس کے بعد لکھا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ جس دن حضرمی کو قتل کیا گیا وہ جمادی کا آخری دن تھا اور رجب کی پہلی شب تھا (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٨٠ مطبوعہ دارالکتب العربیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٠ ھ)

حافظ ابن کثیر نے ابن اسحاق کے حوالے سے پہلی اور امام احمد اور امام بیہقی کے حوالے سے دوسری لکھی ہے اور لکھا ہے کہ اللہ ہی جانتا ہے کون سی روایت صحیح ہے۔ (البدایہ والنہایہ ج ٣ ص ٢٥٢۔ ٢٤٨‘ مطبوعہ دارا الفکر بیروت ‘ ١٣٩٣ ھ)

اکثر وبیشترمفسرین نے یہ لکھا ہے کہ مسلمانوں کو مغالطہ ہوگیا تھا ‘ انہوں نے سمجھا کہ یہ جمادی کی آخری تاریخ ہے لیکن درحقیقت وہ رجب کی پہلی تاریخ تھی اور انہوں نے دانستہ ماہ حرام میں قتال نہیں کیا تھا ‘ انہوں نے سمجھا کہ یہ جمادی کی آخری تاریخ ہے لیکن در حقیقت وہ رجب کی پہلی تاریخ تھی ‘ اور انہوں نے دانستہ ماہ حرام میں قتال نہیں کیا تھا ‘ لیکن قرآن مجید کی اس آیت سے ابن اسحاق کی روایت کی تائید ہوتی ہے کہ انہوں نے دانستہ ماہ حرام میں قتال کیا تھا ‘ تب ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے یہ فعل گناہ ہے لیکن جو تم کر رہے ہو وہ اس سے بڑھ کر گناہ ہے اور امام ابن جریر طبری اور علامہ جزری وغیرہم نے اسی پر اعتماد کیا ہے۔

حرمت والے مہینوں میں ممانعت قتال کے منسوخ ہونے کی تحقیق :

چار مہینوں میں جنگ کرنا حرام ہے : ذوالقعدہ ‘ ذوالحجہ ‘ محرم اور رجب ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے تین مہینوں میں لوگ حج کے لیے اور حج سے واپسی کا سفر کرتے ہیں اور رجب میں عمرہ کا سفر کرتے ہیں ‘ ان مہینوں کو اشہر حرام (حرامت والے مہینے) کہتے ہیں ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ ہی سے ان مہینوں میں جنگ نہ کرنے کا دستور چلا آرہا تھا تاکہ لوگ زمانہ امن میں حج اور عمرہ کا سفر کریں ‘ اس میں اختلاف ہے کہ یہ حرمت اب بھی قائم ہے یہ منسوخ ہوگئی ‘ جمہور کی رائے یہ ہے کہ یہ حرمت منسوخ ہوگئی اور ان کی دلیل یہ آیت ہے :

(آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “۔ (التوبہ : ٥)

ترجمہ : تم مشرکین کو جہاں پاؤ انہیں قتل کردو۔

وجہ استدلال یہ ہے کہ اس آیت میں ہر جگہ مشرکین کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور ہر جگہ ان کو قتل کرنے کا عموم اس بات کو مستلزم ہے کہ ہر زمانہ اور ہر وقت میں ان کو قتل کیا جائے اور ہر زمانہ میں حرمت والے مہینے بھی داخل ہیں ‘ لہذا ان مہینوں میں بھی مشرکین کو قتل کیا جائے گا ‘ اس سے ظاہر ہوا کہ ان مہینوں میں قتال کرنے کی حرمت اب منسوخ ہوگئی۔

علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ ان مہینوں میں قتال کی حرمت اس سے منسوخ ہوگئی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثقیف سے ماہ حرام میں قتال کیا تھا اور آپ نے ماہ حرام میں قتال کے لیے ابو عامر کو اوطاس روانہ کیا تھا۔

عطاء نے کہا ہے کہ یہ حرمت منسوخ نہیں ہوئی ‘ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے تھے کہ لوگوں کے لیے حرم میں اور حرمت والے مہینوں میں جنگ کرنا جائز نہیں ‘ الا یہ کہ ان کو مدافعانہ جنگ کرنی پڑے ‘ اور حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرمت والے مہینوں میں جنگ نہیں کرتے تھے الا یہ کہ آپ سے جنگ کی جائے اور آپ کو مدافعانہ جنگ کرنی پڑے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ان مہینوں میں جنگ کرنا گناہ کبیرہ ہے۔

اس آیت کا غیر منسوخ ہونا اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ ابن وہب نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرمی کے قتل کی دیت ادا کی اور مال غنیمت اور دونوں قیدیوں کو واپس کردیا ‘ نیز اس کے بعد جو قتال کی آیات نازل ہوئیں وہ زمانہ کے اعتبار سے عام ہیں اور یہ آیت خاص ہے اور عام خاص کو بالا تفاق منسوخ نہیں کرتا۔ (البحر المحیط ج ٢ ص ٢٨٥۔ ٢٨٤ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں :

ہمارے آئمہ احناف کے نزدیک خاص کو عام سے منسوخ کرنا جائز ہے اور حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : یہ آیت منسوخ ہے اور ماہ حرام میں قتال کرنا جائز ہے ‘ البتہ عطاء نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ (روح المعانی ج ٢ ص ‘ ١٠٩‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

علامہ قرطبی مالکی لکھتے ہیں :

جمہور کے نزدیک اس آیت کا حکم منسوخ ہے ‘ البتہ عطاء نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ٤٣ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

علامہ ماوردی شافعی لکھتے ہیں :

زہری نے کہا : حرمت والے مہینوں میں قتال کی ممانعت کا حکم منسوخ ہوگیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ “۔ (التوبہ : ١٤٦)

ترجمہ : اور تم تمام مشرکوں سے جنگ کروجس طرح وہ تم سب سے جنگ کرتے ہیں :

اور عطاء نے کہا : یہ حکم منسوخ نہیں ہوا اور پہلا قول صحیح ہے کیونکہ بہ کثرت احادیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھوازن سے حنین میں اور ثقیف سے طائف میں ان مہینوں میں جنگ کی اور آپ نے ابوالعاص (یا ابوعامر) کو اوطاس میں ان مہینوں میں جنگ کے لیے بھیجا اور قریش سے قتال کے لیے بیعت رضوان بھی ذوالقعدہ میں ہوئی تھی۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٢٧٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

علامہ ابن جوزی حنبلی لکھتے ہیں :

عطاء قسم کھا کر کہتے تھے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی ‘ اور سعید بن مسیب اور سلیمان بن یساریہ کہتے تھے کہ ماہ حرام میں قتال کرنا جائز ہے وہ سورة توبہ : ١٩ اور توبہ : ٥، سے استدلال کرتے ہیں ‘ جن میں مشرکین سے بالعموم قتال کرنے کا حکم دیا ہے اور تمام شہروں کے فقہاء کا یہی قول ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ٢٧٣‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ)

قاضی ثناء اللہ مظہری کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں ہے ‘ ان کے نزدیک ان مہینوں میں ابتداء قتال کرنا جائز نہیں ہے ‘ البتہ مدافعانہ جنگ جائز ہے ‘ ان کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔

(آیت) ” ان عدۃ الشھور عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتب اللہ یوم خلق السموت والارض منھا اربعۃ حرم ذلک الدین القیم ‘ فلا تظلموا فیھن انفسکم “۔ (التوبہ : ٣٦)

ترجمہ : بیشک اللہ کے نزدیک اس کی کتاب میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے ‘ جس دن سے اس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ‘ یہی صحیح دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔

لیکن قاضی مظہری نے اس آیت کے دوسرے حصے پر غور نہیں کیا جس سے جمہور ان مہینوں کی حرمت کے منسوخ ہونے پر استدلال کرتے ہیں ‘ وہ یہ ہے :

(آیت) ” وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ “۔ (التوبہ : ٣٦)

ترجمہ : اور تم تمام مشرکوں سے قتال کروجس طرح وہ تم سے قتال کرتے ہیں :

قاضی مظہری نے لکھا ہے کہ خاص کا عام ہے منسوخ ہونا قطعی نہیں ہے ‘ شوافع کا اس میں اختلاف ہے۔ (تفسیر مظہری ج ١ ص ٢٦٣۔ ٢٦١‘ مطبوعہ بلوچستان بک ڈپو ‘ کوئٹہ)

لیکن انہوں نے اس پر غور نہیں کیا کہ شوافع کے نزدیک بھی یہ آیت منسوخ ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرمت والے مہینوں میں قتال کیا ہے ‘ اس کے معارض انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف کا محاصرہ شوال میں کیا تھا ‘ لیکن یہ جمہور کے خلاف نہیں ہے کیونکہ جمہور نے یہ کہا ہے کہ طائف اور حنین کی جنگیں شوال سے لے کر ذوالقعدہ کے بعض ایام تک جاری رہیں اور ذوالقعدہ ماہ حرام ہے۔

امام ابن جریر طبری لکھتے ہیں :

ہم نے جو کہا ہے کہ سورة توبہ : ٣٦ سے یہ آیت منسوخ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بہ کثرت احادیث مشہورہ میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ھوازن سے حنین میں اور ثقیف سے طائف میں جنگ کی اور ابوعامر کو مشرکین سے جنگ کے لیے طائف میں بھیجا اور یہ جنگیں شوال اور ذوالقعدہ کے بعض ایام میں ہوئیں ‘ اور ذوالقعدہ ماہ حرام ہے ‘ اگر ان مہینوں میں قتال اور جہاد حرام اور گناہ ہوتا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان مہینوں میں قتال نہ کرتے کیونکہ آپ سب سے زیادہ حرام اور معصیت سے اجتناب کرنے والے تھے ‘ دوسری دلیل یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کے تمام جامعین اس پر متفق ہیں کہ قریش کے خلاف جنگ کرنے کی بیعت رضوان ذوالقعدہ میں منعقدہ ہوئی تھی ‘ اگر بالفرض حضرت عثمان کو کفار قریش نے قتل کردیا ہوتا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا قصاص لینے کے لیے ان سے ذوالقعدہ میں جنگ کرتے اور وہ ماہ حرام ہے ‘ اور اگر کوئی شخص یہ کہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ان مہینوں میں قتال کرنا ان مہینوں میں جنگ کو حرام قرار دینے سے پہلے ہے تو وہ جاہل ہوگا کیونکہ زیر بحث آیت جس میں ان مہینوں میں قتال کو بڑا گناہ فرمایا ہے اس وقت نازل ہوئی جب حضرت عبداللہ بن جحش (رض) کے لشکر کے ایک مسلمان نے عمرو بن الحضرمی کو قتل کردیا تھا ‘ اور یہ واقعہ دو ہجری جمادی الاخرۃ کا ہے اور حنین اور طائف کا واقعہ شوال وذوالقعدہ آٹھ ہجری کو پیش آیا۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ٢٠٦ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

ہمارے نزدیک اس بحث میں جمہور کا قول صحیح ہے جن کے نزدیک ان مہینوں میں جنگ کی حرمت منسوخ ہے اور علامہ قاضی مظہری کی رائے صحیح نہیں ہے۔

جب کہ کفار کا مسلمانوں سے قتال کرنا صرف اس لیے تھا کہ ان کو دین حق سے پھیر کردیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور وہ کافر تم سے ہمیشہ جنگ کرتے رہیں گے ‘ حتی کہ اگر ان کے بس میں ہو تو وہ تمہیں تمہارے دین سے پھیر دیں ‘ اور جب وہ دین باطل پر ہونے کے باوجود تم کو دین سے پھیرنے کی سعی کرتے ہیں تو تم دین حق پر ہونے کی وجہ سے اس بات کے زیادہ حق دار ہو کہ تم ہمیشہ دین حق پر قائم رہو ‘ اور ان کو کامیاب نہ ہونے دو ‘ کیونکہ تمہارا اعتماد اللہ پر ہے اور ان کا اعتماد اپنی قوت پر ہے اور جو اپنے آپ پر اعتماد کرے وہ ضائع ہوجاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو شخص کفار کے ڈالے ہوئے شبہات کا شکار ہوگیا اور دین حق سے مرتد ہوگیا اس کا کیا حکم ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہوگیا اور وہ حالت کفر میں ہی مرگیا تو ان لوگوں کے (نیک) اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے اور یہ لوگ جہنمی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔۔ (البقرہ : ٢١٧)

مرتد کی تعریف اور اس کا شرعی حکم :

جو مسلمان صاحب عقل ہو ‘ مکلف ہو اور بغیر نیند اور نشہ کے دین اسلام سے منحرف ہو کر کوئی اور دین قبول کرلے وہ مرتد ہے ‘ عام ازیں کہ اس کا کفر کو اختیار کرنا قولا ہو یا فعلا ‘ اور عام ازیں کہ اس کا قول سنجیدگی سے ہو یا استہزاء یا عنادا ہو۔

علامہ شمس الدین سرخسی حنفی لکھتے ہیں :

جب کوئی مسلمان معاذ اللہ مرتد ہوجائے تو اس پر اسلام پیش کیا جائے اور اسلام کے خلاف جو اس کے شبہات ہیں ان کو زائل کیا جائے اگر وہ مسلمان ہوجائے تو فبہا ورنہ اس کو اسی جگہ قتل کردیا جائے ‘ البتہ اگر وہ مہلت طلب کرے تو اس کو تین دن کی مہلت دی جائے ‘ حضرت علی ‘ حضرت ابن مسعود ‘ حضرت معاذ وغیرہم سے مروی ہے کہ مرتد کو قتل کرنا واجب ہے۔ (المبسوط ج ١٠ ص ٩٨‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

علامہ ابن قدامہ نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر ‘ حضرت عمر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت علی ‘ حضرت معاذ ‘ حضرت ابوموسی ‘ حضرت ابن عباس اور حضرت خالد (رض) سے مرتد کو قتل کرنے کا حکم منقول ہے اور اس کا انکار نہیں کیا گیا ‘ لہذا قتل مرتد پر اجماع ہوگیا۔ (المغنی ج ٩ ص ١٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

قتل مرتد پر قرآن اور سنت سے دلائل :

(آیت) ” قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونہم اویسلمون “۔ (الفتح : ١٦)

ترجمہ : ان پیچھے رہنے والے دیہاتیوں سے آپ فرما دیجئے ‘ عنقریب تم ایک ایسی قوم (مرتدین اہل یمامہ) کی طرف بلائے جاؤ گے جو سخت جنگجو ہوگی ‘ تم ان سے لڑتے رہو گے یا وہ مسلمان ہوجائیں گے۔

اس آیت سے وجہ استدلال یہ ہے کہ مرتدین کے لیے صرف دو راستے ہیں یا ان سے جنگ کی جائے یا وہ مسلمان ہوجائیں ‘ تیسری کوئی صورت نہیں ہے۔ امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کردو۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٢٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس حدیث کو امام ابوداؤد۔ ١ (امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ ‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٢٤٦ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ترمذی۔ ٢ (امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ ‘ جامع ترمذی ص ٢٣٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام نسائی۔ ٣ (امام احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٢ ھ ‘ سنن نسائی ج ٢ ص ‘ ١٦٩‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ابن ماجہ۔ ٤ (امام ابو عبداللہ محمد بن یزید بن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ، سنن ابن ماجہ ص ١٨٢ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب، کراچی)

اور امام احمد۔ ٥ (امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ، مسنداحمد ج ١ ص ٣٢٢ ،۔ ٢٨٣۔ ٢٨٢۔ ٧۔ ٢، ج ٥ ص ٢٣١ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت، ١٣٩٨ ھ) نے بھی روایت کیا ہے۔

امام مالک روایت کرتے ہیں :

حضرت زید بن اسلم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کی گردن اڑا دو ۔ (موطا امام مالک ص ٦٤١‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ پاکستان ‘ لاہور)

امام عبدالرزاق روایت کرتے ہیں :

حضرت معاویہ بن حیرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنے دین کو تبدیل کرے اس کو قتل کردو۔ (المصنف ج ١٠ ص ١٦٨ مبطوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور اس کو امام ابن ابی شیبہ نے بھی روایت کیا ہے۔ (المصنف ج ١٠ ص ١٣٩ مبطوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ١٤٠٦ ھ)

مرتدہ کو قتل کرنے کے متعلق مذاہب فقہاء اور فقہاء احناف کے دلائل :

علامہ ابن قدامہ نے لکھا ہے کہ امام احمد ‘ امام مالک اور امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ مرتد خواہ مرد ہو یا عورت اس کو قتل کردیا جائے گا۔ ان کی دلیل یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کردو ‘ اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ صحابہ میں سے حضرت علی اور تابعین میں سے حسن بصری اور قتادہ کا یہی مؤقف ہے ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ عورت نہ کرو۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٨٤) اور جب عورت کو کفر اصلی کیوجہ سے قتل نہیں کیا جاتا تو کفر طاری کی وجہ سے بھی قتل نہیں کیا جائے گا ‘ نیز حضرت ابوبکر نے بنو حنیفہ کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنالیا تھا اور ان میں ایک عورت حضرت علی کو دی تھی ‘ جس سے محمد بن حنیفہ پیدا ہوئے اور حضرت ابوبکر نے محضر صحابہ میں یہ کام کیا تھا ‘ اس لیے اس پر اجماع ہوگیا (المغنی ج ٩ ص ١٦ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

امام دارقطنی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب عورتیں اسلام سے مرتد ہوجائیں تو ان کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ (سنن دارقطنی ج ٣ ص ‘ ١١٨ مطبوعہ نشرالسنۃ ‘ ملتان)

اس حدیث کو امام محمد نے بھی راویت کیا ہے۔ (کتاب الاثار ص ١٢٨‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن ‘ کراچی ‘ ١٤٠٧ ھ)

امام ابن ابی شیبہ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب عورتیں اسلام سے مرتد ہوجائیں تو ان کو قتل نہیں کیا جائے گا لیکن ان کو قید کیا جائے گا اور ان کو اسلام کی دعوت دی جائے گی۔ امام ابن ابی شیبہ نے عطاء اور حسن سے بھی اس قول کو روایت کیا ہے۔

کیا مرتد کو قتل کرنا آزادی فکر کے خلاف ہے ؟

بعض مخالفین اسلام اور مستشرقین قتل مرتد کے حکم پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ حکم آزادی فکر اور حریت اعتقاد کے خلاف ہے اس کا جواب یہ ہے کہ شریعت نے فکر کو علی الاطلاق اور بےلگام نہیں چھوڑا ‘ مثلا اگر کسی شخص کا یہ نظریہ ہو کہ زنا کرنا اور چوری کرنا درست ہے تو کیا اس کو مسلمانوں کی لڑکیوں سے بدکاری کرنے اور اموال چرانے کے لیے آزاد چھوڑ دیا جائے گا ؟ اور اگر کسی کا یہ نظریہ ہو کہ قتل کرنا درست ہے تو اس کو قتل کرنے کے لیے بےمہار چھوڑ دیا جائے گا ؟ اور اگر ان اخلاقی مجرموں کو سزا دی جائے تو کیا یہ آزادی فکر اور حریت اعتقاد کے خلاف ہوگا ؟

تمام دنیا کے ملکوں میں یہ قاعدہ ہے کہ اگر کوئی شخص حکومت وقت کے خلاف بغاوت کرے اور حکومت کو الٹنے اور انقلاب کے پروگرام بنائے تو ایسے شخص کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے ‘ پھر کیا ایسے شخص کو موت کی سزا دینا آزادی فکر اور حریت اعتقاد کے خلاف نہیں ہے ؟ جب کہ تمام دنیا میں باغیوں اور ملک کے غداروں کو موت کی سزا دی جاتی ہے اور جب ملک کے غدار کو موت کی سزا دینا حریت فکر اور آزادی رائے کے خلاف نہیں ہے تو دین کے غدار کو موت کی سزا دینا کیونکر آزادی رائے کے خلاف ہوسکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں انصاف اور امن کے لیے آزادی رائے اور حریت فکر کو بےلگام اور بےمہار نہیں چھوڑا جاسکتا ‘ ورنہ کسی کی جان ‘ مال ‘ عزت اور آبرو کا کوئی تحفظ نہیں ہوگا ‘ اس لیے ضروری ہے کہ فکر اور اعتقاد کے لیے حدود اور قیود مقرر کی جائیں اور ان حدود کا تقرر یا عقل محض سے ہوگا یا وحی الہی سے ‘ اگر ان حدود کا تقرر عقل محض سے کیا جائے تو ان حدود میں غلطی ‘ خطاء ظلم اور جور کا امکان ہے اس لیے ان حدود اور قیود میں وحی پر اعتماد کرنا ہوگا اور یہ وحی الہی ہے جس نے مرتد کی سزا قتل کرنا بیان کی ہے ‘ جیسا کہ ہم قرآن مجید ‘ احادیث صریحہ ‘ اور آثار صحابہ وتابعین سے واضح کرچکے ہیں۔

بعض مستشرقین کہتے ہیں کہ مرتد کو قتل کی سزا دینا خود قرآن مجید کے خلاف ہے ‘ کیونکہ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” لا اکراہ فی الدین “۔ (البقرہ : ٢٥٦) دین (قبول کرنے) میں جبر نہیں ہے “۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت کافر اصلی کے متعلق ہے یعنی جو ابتداء کافر ہو ‘ مرتد کے بارے میں نہیں ہے کیونکہ پوری آیت اس طرح ہے :

(آیت) ” لا اکراہ فی الدین ‘ قد تبین الرشد من الغی فمن یکفر بالطاغوت ویؤمن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی ‘، لاانفصام لھا “۔ (البقرہ : ٢٥٢)

ترجمہ : دین (قبول کرنے) میں جبر نہیں ہے ‘ ہدایت گمراہی سے خوب واضح ہوچکی ہے ‘ جو شخص شیطان کے حکم کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو بیشک اس نے ایسا مضبوط دستہ تھام لیا جو کبھی نہیں ٹوٹے گا۔

ارتداد سے نیک عمل ضائع ہونے کے متعلق مذاہب فقہاء :

امام شافعی کے نزدیک ارتداد سے نیک عمل اس وقت تک باطل نہیں ہوتے جب تک اس شخص کی موت اتداد پر نہ ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہوگیا اور وہ حالت کفر میں مرگیا تو ان لوگوں کے نیک اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے ‘ لہذا ایک شخص نے وضو کیا اور وہ معاذ اللہ مرتد ہوگیا ‘ پھر وضو ٹوٹنے سے پہلے وہ مسلمان ہوگیا تو وہ اس وضو سے نماز پڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص نے حج کرلیا اور پھر وہ مرتد ہوگیا اور دوبارہ پھر وہ مرتد ہوگیا اور دوبارہ پھر مسلمان ہوگیا تو اب اگر وہ صاحب استطاعت ہے تو اس پر دوبارہ حج فرض نہیں ہوگا ‘ اسی طرح اگر کوئی صحابی العیاذ باللہ مرتد ہوگیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد دوبارہ مسلمان ہوگیا تو وہ بدستور صحابی ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک اور امام احمد کے نزدیک صرف ارتداد سے نیک عمل ضائع ہوجاتے ہیں ‘ لہذا اگر کسی شخص نے وضو کیا اور مرتد ہوگیا تو اس کا وضو ٹوٹ گیا ‘ اگر اس نے حج کیا تھا تو وہ ضائع ہوگیا اور مسلمان ہونے کے بعد صاحب استطاعت ہونے کے بعد اس پر از سر نو حج اسلام فرض ہوگا ‘ اسی طرح جو صحابی العیاذ باللہ مرتد ہوگیا تو اس کا شرف صحابیت باطل ہوگیا ‘ اب اگر وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد مسلمان ہوا ہے تو وہ تابعی کہلائے گا صحابی نہیں ہوگا۔ ائمہ ثلاثہ کی دلیل یہ ہے کہ اس آیت میں دو جرم اور دو سزائیں بیان کی ہیں ‘ ایک جرم ہے : مرتد ہونا ‘ دوسرا جرم ہے۔ تاحیات مرتد رہنا اور ارتداد پر ہی مرنا اور رجوع الی الاسلام نہ کرنا ‘ اور ایک سزا ہے : ان کے اعمال کا ضائع ہونا اور دوسری سزا ہے : ہمیشہ جہنم میں رہنا۔ پہلی سزا کا تعلق پہلے جرم کے ساتھ ہے اور دوسری سزا کا تعلق دوسرے جرم کے ساتھ یعنی مرتد ہونے سے نیک اعمال ضائع ہوجائیں گے اور اگر وہ مرتے دم تک مرتد رہا تو جہنمی ہوگا۔ اب ہم اس چیز کو مفسرین اور فقہاء کے حوالے سے بیان کرتے ہیں۔

قاضی بیضاوی لکھتے ہیں :

نیک اعمال کے ضائع ہونے کے لیے ارتداد کو موت کے ساتھ مقید فرمایا ہے جیسا کہ امام شافعی کا مذہب ہے۔ (انوار التنزیل ص ٤٧ دار فراس للنشر والتوزیع ‘ مصر)

قاضی ابوبکر بن العربی مالکی لکھتے ہیں :

ائمہ کا اس میں اختلاف ہے کہ نفس ارتداد سے نیک عمل ضائع ہوتے ہیں یا جب تک ارتداد پر اس کی موت نہ ہو نیک عمل ضائع نہیں ہوتے ‘ امام شافعی کے نزدیک جب تک وہ تادم مرگ مرتد نہ رہے اس کے نیک عمل ضائع نہیں ہوتے اور امام مالک کے نزدیک نفس ارتداد سے نیک عمل ضائع ہوجاتے ہیں۔ ثمرہ اختلاف یہ ہے کہ ایک آدمی نے حج کیا ‘ پھر مرتد ہوگیا ‘ پھر مسلمان ہوگیا تو امام مالک کے نزدیک اس پر دوبارہ حج فرض نہیں ہے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک “۔ (الزمر : ٦٥)

ترجمہ : اگر آپ نے (بہ فرض محال) شرک کیا تو آپ کے (نیک) عمل ضائع ہوجائیں گے۔

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نفس ارتداد سے عمل ضائع ہوجاتے ہیں۔ اس آیت میں خطاب آپ سے ہے اور مراد آپ کی امت ہے کیونکہ آپ کا مرتد ہونا شرعا محال ہے۔ شافعی یہ کہتے ہیں : بلکہ اس آیت سے آپ ہی مراد ہیں اور یہ آیت بہ طور تغلیظ ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے بلند مرتبہ کے باوجود یہ فرمایا ہے کہ اگر آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے عمل ضائع ہوجائیں گے تو تمہاری کیا حیثیت ہے ! (احکام القرآن ج ١ ص ‘ ٢٠٧ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ)

(اللہ جانے اس تقریر سے امام شافعی کا مدعا کیسے پورا ہوگا) ہمارے مؤقف پر یہ آیات بالکل واضح ہیں :

(آیت) ” ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ “۔ (المائدہ : ٥)

ترجمہ : اور جس نے ایمان لانے سے انکار کیا تو اس کا (نیک) عمل ضائع ہوگیا۔

(آیت) ” ولو اشرکوا لحبط عنھم ماکانوا یعملون “۔۔ (الانعام : ٨٨)

ترجمہ : اور اگر وہ شرک کرتے تو ان کے (نیک) اعمال ضائع ہوجاتے۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرون “۔۔ (الحجرات : ٤)

ترجمہ : اے ایمان والو ! اس نبی کی آواز پر آواز بلند نہ کرو اور ان کے سامنے بلند آواز سے اس طرح باتیں نہ کرو جس طرح تم ایک دوسرے سے بلند آواز سے باتیں کرتے ہو ورنہ تمہارے (نیک) عمل ضائع ہوجائیں گے اور تمہیں شعور بھی نہیں ہوگا۔

یعنی اگر کسی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے (گستاخانہ لہجہ میں) بلند آواز سے بات کی تو وہ مرتد ہوجائے گا ‘ اس کے نیک عمل ضائع ہوجائیں گے۔ ان تمام آیات میں نیک اعمال ضائع ہونے کا سبب نفس ارتداد کو قرار دیا ہے اور اس کو موت کے ساتھ مقید نہیں فرمایا اور یہ ائمہ ثلاثہ کے مؤقف پر واضح دلیل ہے۔

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں :

اگر کوئی مسلمان مرتد ہوگیا تو وہ وضو کے بغیر نماز نہیں پڑھ سکتا خواہ اس نے ارتداد سے پہلے وضو کیا ہو۔ امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک اور امام شافعی نے کہا : ارتداد سے اس کا وضو باطل نہیں ہوگا۔ (المغنی ج ١ ص ١١٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ)

علامہ ابن قدامہ کو یہاں بیان مذاہب میں تسامح ہوا ہے ‘ امام ابوحنیفہ اور امام مالک کے نزدیک بھی اس کا وضو باطل ہوگیا ‘ البتہ امام شافعی کے نزدیک اس کا وضو نہیں ٹوٹا۔

علامہ آلوسی حنفی لکھتے ہیں :

امام شافعی کے نزدیک ارتداد پر موت سے نیک عمل ضائع ہوتے ہیں ؛ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک صرف ارتداد سے نیک عمل ضائع ہوجاتے ہیں۔ ثمرہ اختلاف یہ ہے کہ ایک شخص نے مثلا ظہر کی نماز پڑھی اور مرتد ہوگیا اور ظہر کا وقت ختم ہونے سے پہلے دوبارہ مسلمان ہوگیا تو امام شافعی کے نزدیک اس ہر ظہر کی نماز کا اعادہ نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر ظہر کی نماز کا اعادہ ہے کیونکہ ارتداد سے اس کی پہلے پڑھی ہوئی نماز باطل ہوگئی۔ (روح المعانی ج ٢ ص ١١١‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 217