بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حَافِظُوۡا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الۡوُسۡطٰى وَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ قٰنِتِيۡنَ

تمام نمازوں کی پابندی کرو اور (خصوصا) درمیانی نماز کی ‘ اور اللہ کے سامنے ادب سے قیام کرو

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا کہ یا زوجہ نصف مہر سے کچھ مقدار معاف کر دے ‘ یا شوہر اس کو پورا مہر ادا کر دے اور فرمایا تھا کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ احسان اور نیکی کرنے کو فراموش نہ کرو ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نمازوں پر پابندی اور مداومت کرنے کا حکم دیا ہے ‘ کیونکہ نماز انسان کو بےحیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے اور اس کو نیکی اور اچھائی کے کاموں پر برانگیختہ کرتی اور قدر واجب سے زیادہ دینا بھی اچھائی کا کام ہے ‘ نیز پہلی آیت میں مخلوق پر شفقت کا حکم تھا اور اس آیت میں اللہ کی تعظیم کا حکم ہے تاکہ انسان حقوق اللہ اور حقوق العباد ‘ دونوں کی رعایت کرے ‘ نیز اس آیت سے بھی اللہ تعالیٰ نے اہل و عیال کے احکام بیان کیے اور اس آیت کے بعد پھر عائلی احکام بیان فرمائے اور درمیان میں پابندی اور دوام کے ساتھ نماز پڑھنے کا ذکر فرمایا اور اس میں یہ تنبیہ ہے کہ بیوی بچوں کے ساتھ تعلق ‘ محبت اور اس کے حقوقو کی ادئیگی میں اس قدر مشغول نہ ہوجانا کہ اپنے مولی کے حقوق کی ادائیگی کو بھول جاؤ اور امور خانہ داری اور دنیا داری میں اس قد منہمک نہ ہوجاؤ کہ نمازوں کے اوقات میں بھی بیوی بچوں کے گورکھ دھندوں میں پڑے رہو اور یاد خدا کو بالکل فراموش کر بیٹھو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لاتلھکم اموالکم ولا اولادکم عن ذکر اللہ “ ومن یفعل ذلک فاولئک ھم الخسرون “۔ (المنافقون : ٩)

ترجمہ : اے ایمان والو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں ‘ اور جنہوں نے ایسا کیا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں “۔۔

نماز کی حفاظت کا معنی یہ ہے کہ نماز کو اس کے مستحب وقت میں پڑھا جائے اور یہ کوشش کی جائے کہ نماز میں کسی قسم کا سہو اور نقصان واقع نہ ہو۔

حفاظت نماز کی تاکیدات اور نماز میں سستی اور اس کو ترک کرنے پر وعیدات :

حافظ جلال الدین سیوطی بیان کرتے ہیں :

امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ اور امام نسائی ‘ حضرت ابو ایوب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر عرض کیا : مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کر دے ‘ آپ نے فرمایا : اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ شریک نہ کرو ‘ نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کرو ‘ جب وہ شخص چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اگر اس شخص نے اس پر عمل کیا تو جنت میں داخل ہوجائے گا۔

امام ابو یعلی ‘ حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے دین کی جس چیز کو سب سے پہلے لوگوں پر فرض کیا وہ نماز ہے ‘ اور جو چیز سب سے آخر میں باقی رہے گی وہ نماز ہے اور سب سے پہلے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندوں کی نمازوں کو دیکھو ‘ اگر وہ مکمل ہوں تو مکمل لکھ دی جائیں گی ‘ اور اگر وہ ناقص ہوں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ‘ دیکھو کیا اس کے نوافل ہیں ؟ اگر اس کے نوافل ہوں گے تو فرائض کی کمی نوافل سے پوری کردی جائے گی ‘ پھر فرمائے گا : دیکھو اس کی زکوۃ پوری ہے ؟ اگر زکوۃ پوری ہو تو پوری لکھ دی جائے گی اور اگر ناقص ہو تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : دیکھو اس نے کوئی صدقہ کیا ہے ؟ اگر اس نے صدقہ کیا ہوگا تو اس صدقہ سے اس کی زکوۃ پوری کردی جائے گی۔

امام طبرانی نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن جس چیز کا سب سے پہلے بندے سے حساب لیا جائے گا وہ نماز ہے ‘ اگر نماز درست ہو تو باقی عمل بھی درست ہوں گے اور اگر نماز فاسد ہو تو باقی عمل بھی فاسد ہوں گے۔

امام طبرانی ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص امانت دار نہ ہو اس کا کوئی ایمان نہیں ‘ جس کا وضو نہ ہو اس کی کوئی نماز نہیں اور جس کی نماز نہ ہو اس کا کوئی دین نہیں ‘ دین میں نماز ایسی ہے جیسے جسم میں سر ہے۔

امام بزار ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کی نماز نہ ہو اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں۔

امام طبرانی ‘ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن جو شخص پانچ نمازیں لے کر آیا جن کے وضو ‘ ان کے اوقات اور ان کے رکوع اور سجود کی اس نے حفاظت کی ہوئی ہو ‘ اس شخص کے ساتھ اللہ کا عہد ہے کہ وہ اس کو عذاب نہیں دے گا ‘ اور جس نے ان میں سے کسی چیز میں کمی کی اس کے ساتھ اللہ کا کوئی عہد نہیں ہے ‘ اگر اللہ چاہے تو اس پر رحم فرمائے اور چاہے تو اس کو عذاب دے۔

امام طبرانی ‘ حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے تین چیزوں کی حفاظت کی وہ یقیناً (اللہ کا) ولی ہے اور جس نے ان کو ضائع کیا وہ یقیناً (اللہ کا) دشمن ہے : نماز روزہ اور جنابت “۔

امام طبرانی ‘ حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے وقت میں نماز پڑھی اور اس کے لیے مکمل وضو کیا اور نماز کے قیام ‘ خشوع ‘ رکوع ‘ اور سجود کو پوری طرح ادا کیا تو وہ نماز سفید اور روشن ہوگی اور اس شخص سے کہے گی : اللہ تعالیٰ تیری بھی اسی طرح حفاظت کرے جس طرح تو نے میری حفاظت کی ہے اور جس نے وقت نکلنے کے بعد نماز پڑھی ‘ اس کے لیے مکمل وضو نہیں کیا اور نہ اس کے خشوع ‘ رکوع اور سجود کو پوری طرح ادا کیا وہ نماز سیاہ اندھیری ہوگی اور کہے گی : اللہ تجھے بھی اس طرح ضائع کرے جس طرح تو نے مجھے ضائع کیا ہے حتی کہ جب اللہ چاہے گا اس نماز کو پرانے کپڑے میں لپیٹ کر اس شخص کے منہ پر مار دے گا۔

امام احمد ‘ امام طبرانی اور امام ابن مردویہ ‘ حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ہم ظہر کی نماز کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے ؟ ہم نے کہا : نہیں ! آپ نے فرمایا : تمہارا رب یہ فرماتا ہے کہ جس شخص نے نماز اپنے وقت میں پڑھی ‘ اس کی حفاظت کی اور اس کے حق میں معمولی سمجھ کر ضائع نہیں کیا اس کے ساتھ میرا یہ عہد ہے کہ میں اس کو جنت میں داخل کروں گا ‘ اور جس شخص نے نماز اپنے وقت میں نہیں پڑھی ‘ اس کی حفاظت نہیں کی ‘ اور اس کے حق کو معمولی جان کر ضائع کیا ‘ اس کے ساتھ میرا کوئی عہد نہیں ہے اگر میں چاہوں تو اس کو عذاب دوں اور اگر میں چاہوں تو اس کو معاف کردوں۔

امام دارمی حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت کی چابی نماز ہے۔

امام دیلمی حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نماز دین کا ستون ہے۔

امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون سی چیز دین میں سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز کو اپنے وقت میں پڑھنا ‘ جس شخص نے نماز کو ترک کیا اس کا کوئی دین نہیں ‘ نماز دین کا ستون ہے۔

امام ابن ماجہ ‘ امام ابن حبان ‘ امام حاکم تصحیح سند کے ساتھ اور امام بیہقی اپنی سنن میں روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مستقیم رہو اور تم ہرگز نہ رہ سکو گے اور جان لو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے اور مومن کے سوا اور کوئی شخص ہمیشہ باوضو ہرگز نہ رہ سکے گا۔

امام مسلم ‘ امام ابوداؤد ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابن ماجہ ‘ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کرتے ہیں : جس شخص کو اس سے خوشی ہو کہ وہ کل اللہ سے حالت اسلام میں ملاقات کرے ‘ اسے چاہیے کہ جب ان نمازوں کی اذان ہو تو وہ ان کی حفاظت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیے سنن الھدی کو مشروع کیا ہے اور ہمارے عہد میں منافق کے سوا اور کوئی جماعت کو نہیں چھوڑتا تھا ‘ اور ہم نے دیکھا ہے کہ ایک آدمی دو آدمیوں کے سہارے سے چل کر صف میں جا کر کھڑا ہوتا تھا ‘ اور ہر شخص کے لیے اس کے گھر میں نماز کی جگہ ہوتی ہے اور اگر تم نے اپنے گھروں میں نماز پڑھی اور اپنی مسجدوں کو چھوڑ دیا تو تم اپنے نبی کی سنت کو ترک کرو گے اور اگر تم نے اپنے نبی کی سنت کو ترک کیا تو تم کافر ہوجاؤ گے۔

اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ جس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو بہ طور استخفاف یا بہ طور اہانت ترک کیا وہ کافر ہوجائے گا ‘ یا کفر بہ معنی کفران نعمت ہے۔

امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ماجہ اور امام حاکم تصحیح سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن بندہ کے عمل سے جس چیز کا سب سے پہلے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہے ‘ اگر وہ صحیح ہوئی تو وہ کامیاب اور کامران ہوگیا اور اگر وہ فاسد ہوئی تو وہ ناکام اور نامراد ہوگیا اور اگر اس کے فریضہ میں کچھ کمی ہوئی تو رب فرمائے گا ‘ دیکھو میرے بندہ کا کوئی نفل ہے جس سے اس کا فرض پورا کیا جائے ‘ پھر باقی اعمال کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہوگا۔

امام احمد اور امام طبرانی نے حضرت ابو الطفیل عامر بن واثلہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص لوگوں کی ایک جماعت کے پاس سے گزرا اور ان کو سلام کیا ‘ لوگوں نے اس کے سلام کا جواب دیا ‘ جب وہ گزر گیا تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : بہ خدا ! میں اس شخص سے اللہ کے لیے بغض رکھتا ہوں ‘ لوگوں نے کہا : تم نے بہت بری بات کی ہے ‘ اے فلاں شخص ! جاؤ اس کو بلا کر لاؤ وہ شخص اس کو بلا کرلے آیا ‘ اور اس کو بتایا کہ اس کے متعلق کیا کہا گیا ہے ‘ وہ شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں گیا اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں مسلمانوں کی ایک مجلس کے پاس سے گزرا ‘ میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا ‘ جب میں چلا گیا تو ایک شخص نے میرے متعلق کہا : میں اللہ کے لیے اس شخص سے بغض رکھتا ہوں۔ یا رسول اللہ ! اس شخص کو بلائیے اور اس سے بغض کی وجہ معلوم کیجئے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو بلایا تو اس نے اعتراف کیا کہ اس نے کہا تھا ‘ اس نے کہا : یہ شخص میرا پڑوسی ہے بہ خدا ! میں نے اس کو فرض نماز کے سوا اور کوئی نماز پڑھتے نہیں دیکھا جس کو ہر نیک اور بد پڑھتا ہے ‘ اس نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پوچھئے کبھی میں نے نماز کو وقت سے مؤخر کر کے پڑھا یا اس کے وضو میں کوئی کمی کی ‘ یا رکوع اور سجود میں کوئی کوتاہی کی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا : نہیں پھر اس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے اس شخص کو رمضان کے سوا اور کوئی روزہ رکھتے نہیں دیکھا جس مہینہ میں ہر نیک وبد روزہ رکھتا ہے۔ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! اس سے پوچھئے میں نے کبھی روزہ کے حق میں کوئی کوتاہی یا کمی کی ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا : نہیں پھر اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میں نے زکوۃ کے سوا اس کو کبھی اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور زکوۃ تو ہر نیک و بد ادا کرتا ہے ‘ اس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے پوچھئے میں نے کبھی زکوۃ کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی یا کمی کی ؟ اس نے کہا نہیں ‘ آپ نے فرمایا : اٹھو ! یہ تم سے پہتر ہے۔

امام طبرانی نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے ان سے پوچھا گیا : اسلام کا کون سادرجہ افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : نماز اور جس نے نماز نہیں پڑھی اس کا کوئی دین نہیں۔

امام ابن شیبہ ‘ امام احمد ‘ امام ابو داؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام مسلم ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابن ماجہ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انسان اور اس کے کفر کے درمیان نماز کا ترک کرنا ہے۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام احمد ‘ امام ابوداؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام ابن حبان ‘ اور امام حاکم ‘ حضرت بریدہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہمارے اور ان کے درمیان نماز کا عہد ہے جس نے نماز کو ترک کیا اس نے کفر کیا۔

امام طبرانی نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کیا ہے کہ میرے محبوب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سات چیزوں کی نصیحت کی ‘ فرمایا : اللہ کے ساتھ بالکل شرک نہ کرو ‘ خواہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جائیں یا تم کو جلا دیا جائے یا تم کو سولی پر چڑھا دیا جائے ‘ اور نماز کو عمدا ترک نہ کرو کیونکہ جس نے عمدا نماز کو ترک کیا وہ ملت اسلام سے نکل گیا اور معصیت کا ارتکاب نہ کرو ‘ کیونکہ اس میں اللہ کی ناراضگی ہے اور شراب نہ پیو کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے۔

امام ترمذی اور امام حاکم نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نماز کے سوا اور کسی چیز کے ترک کو کفر نہیں کہتے تھے۔

امام طبرانی ‘ حضرت ثوبان (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کفر اور ایمان کے درمیان نماز ہے ‘ جس نے نماز ترک کیا اس نے شرک کیا۔

امام بزار اور امام طبرانی ‘ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب ان کی آنکھوں میں تکلیف ہوگئی تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کا علاج کرتے ہیں آپ چند دن نماز چھوڑدیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : نہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے نماز چھوڑ دی وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہوگا۔

امام ابن حبان حضرت بریدہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بارش کے دن جلدی نماز پڑھ لو کیونکہ جس نے نماز کو ترک کیا اس نے کفر کیا۔

امام اصبہانی ‘ حضرت عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے عمدا نماز ترک کیا اللہ اس کے عمل کو ضائع کردیتا ہے اور اس کا ذمہ اللہ سے بری ہوجاتا ہے حتی کہ وہ اللہ سے توبہ کرلے۔

امام ابن ابی شیبہ نے ” مصنف “ میں اور امام بخاری نے اپنی ” تاریخ “ میں حضرت علی (رض) سے روایت کیا کہ جس نے نماز نہیں پڑھی وہ کافر ہے اور ایک روایت ہے : اس نے کفر کیا۔

امام مالک نے نافع سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب نے اپنے عمال کی طرف لکھا کہ میرے نزدیک تمہارے کاموں میں سے سب سے اہم کام نماز ہے۔ جس نے نماز کی حفاظت کی اس نے اپنے دین کی حفاظت کی اور جس نے نماز کو ضائع کیا وہ باقی دین کو زیادہ ضائع کرنے والا ہے۔

امام ترمذی اور امام حاکم نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے بغیر عذر کے دو نمازوں کو جمع کیا اس نے گناہ کبیرہ کیا۔

امام نسائی اور امام ابن حبان نے حضرت نوفل بن معاویہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص کی ایک نماز فوت ہوگئی گویا اس کے اہل اور مال ہلاک ہوگئے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٢٩٨۔ ٢٩٤ ملتقطا مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

صلوۃ وسطی کے متعلق فقہاء اسلام کی آراء :

علامہ آلوسی حنفی بیان کرتے ہیں کہ : صلوۃ وسطی (درمیانی نماز) کی تعیین میں متعدد اقوال ہیں :

(١) اس سے مراد ظہر کی نماز ہے کیونکہ یہ دن کے وسط میں پڑھی جاتی ہے امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی مسلک ہے۔

(٢) اس سے مراد عصر کی نماز ہے ‘ کیونکہ یہ دن کی دو نماز اور رات کی دو نمازوں کے درمیان پڑھی جاتی ہے ‘ حضرت علی حضرت ابن عباس (رض) حسن اور متعدد صحابہ اور فقہاء کا یہی نظریہ ہے امام شافعی کا بھی یہی مسلک ہے۔

(٣) اس سے مراد مغرب کی نماز ہے ‘ کیونکہ یہ چار رکعت اور دو رکعت کی نمازوں کے درمیان متوسط ہے ‘ حضرت قبیصہ بن ذویب کا یہی نظریہ ہے۔

(٤) اس سے مراد عشاء کی نماز ہے ‘ کیونکہ یہ مغرب اور فجر کی نمازوں کے درمیان ہے جن میں قصر نہیں ہے۔

(٥) اس سے مراد فجر کی نماز ہے ‘ کیونکہ یہ دن اور رات کی نمازوں کے درمیان ہے ‘ نیز یہ وہ منفرد نماز ہے جو دوسری نماز کے ساتھ ملا کر نہیں پڑھی جاتی۔ حضرت معاذ ‘ حضرت جابر ‘ عطاء عکرمہ اور مجاہد کا یہی قول ہے۔

ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وتر ہے ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد چاشت کی نماز ہے ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد عید الفطر ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد عید الاضحی ہے ایک قول یہ ہے اس سے مراد تہجد ہے ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد نماز جمعہ ہے ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد جماعت کے ساتھ نماز ہے اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد صلوۃ خوف ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی اقوال ہیں۔ (روح المعانی ج ٢ ص ‘ ٢٥٦ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

زیادہ تر احادیث میں عصر کی نماز کو صلوۃ وسطی کہا گیا ہے اور ظہر اور فجر کی نماز کے متعلق بھی احادیث ہیں ‘ ہم اختصار کے ساتھ ان احادیث کا بیان کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق وبہ الا استعانۃ یلیق “۔

فجر کی نماز کے صلوۃ وسطی ہونے کے متعلق احادیث :

حافظ جلال سیوطی بیان کرتے ہیں : امام مالک نے ” موطا “ میں لکھا ہے کہ ہمیں حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت ابن عباس (رض) سے یہ حدیث پہنچی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ صلوۃ وسطی صبح کی نماز ہے ‘ اس حدیث کو امام بیہقی نے بھی اپنی ” سنن “ میں روایت کیا ہے۔

امام ابن جریر نے ابوالعالیہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے بصرہ کی جامع مسجد میں صبح کی نماز پڑھائی اور رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھی اور فرمایا : یہ وہ صلوۃ وسطی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا ہے۔

امام سعید بن منصور نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباسرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : صلوۃ وسطی صبح کی نماز ہے جس کو اندھیرے میں پڑھا جاتا ہے۔

امام ابن جریر نے حضرت جابربن عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ صلوۃ وسطی صبح کی نماز ہے۔

امام ابن ابی شیبہ نے حبان ازدی سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا : صلوۃ وسطی صبح کی نماز ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٣٠١‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

ظہر کی نماز کے صلوۃ وسطی ہونے کے متعلق احادیث :

امام طبرانی نے ” معجم اوسط “ میں ثقہ راویوں کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ صلوۃ وسطی کون سی نماز ہے تو انہوں نے کہا : ہم یہ کہتے تھے کہ صلوۃ وسطی وہ نماز ہے جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کعبہ کی طرف متوجہ کیا گیا اور وہ ظہر کی نماز ہے۔

امام احمد ‘ امام بخاری نے اپنی ” تاریخ “ میں ‘ امام ابوداؤد ‘ امام ابن جریر ‘ امام طحاوی ‘ امام ابو یعلی ‘ امام طبرانی اور امام بیہقی نے حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھتے تھے اور یہ نماز آپ کے اصحاب پر سب سے زیادہ دشوار تھی ‘ تب یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی “۔ (البقرہ : ٢٣٨)

نیز اس نماز سے پہلے بھی دو نمازیں ہیں اور اس کے بعد بھی دو نمازیں ہیں۔

امام طیالسی ‘ امام ابن ابی شیبہ نے ” مصنف “ میں امام بخاری نے اپنی ” تاریخ “ میں امام ابن ابی حاتم ‘ امام ابویعلی ‘ اور امام بیہقی نے زہرہ بن معبد سے روایت کیا ہے کہ ہم حضرت زید بن ثابت (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو لوگوں نے حضرت اسامہ کے پاس کسی کو بھیجا اور ان سے صلوۃ وسطی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ ظہر کی نماز ہے جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دوپہر کے وقت پڑھتے تھے۔

امام نسائی اور امام طبرانی نے زہری کی سند سے روایت کیا ہے کہ سعید بن مسیب نے کہا : میں لوگوں کے پاس بیٹھا تھا ‘ وہ اس میں بحث کر رہے تھے کہ صلوۃ وسطی کون سی نماز ہے ؟ میں ان میں سب سے کم سن تھا۔ انہوں نے مجھے حضرت زید بن ثابت (رض) کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے معلوم کروں کہ صلوۃ وسطی کون سی نماز ہے ؟ میں نے ان کے پاس جاکر پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ظہر کی نماز دوپہر میں پڑھاتے تھے ‘ لوگ اس وقت گھروں میں سوئے ہوئے ہوتے تھے اور بازاروں میں ہوتے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے ایک صف یا دو صفیں ہوتی تھیں ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی “۔ (البقرہ : ٢٣٨) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگ باز آجائیں ورنہ میں ان کے گھروں میں آگ لگا دوں گا۔

امام ابن جریر نے حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صلوۃ وسطی ظہر کی نماز ہے۔

امام بیہقی اور امام ابن عساکر نے حضرت سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے سنا کہ صلوۃ وسطی ظہر کی نماز ہے ‘ پھر وہاں سے حضرت ابن عمر (رض) کا گزر ہوا تو لوگوں نے حضرت ابن عمر (رض) سے معلوم کیا انہوں نے کہا : صلوۃ وسطی ظہر کی نماز ہے۔

امام ابن جریر نے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے اور امام ابن ابی شیبہ نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ صلوۃ وسطی ظہر کی نماز ہے۔ (روح المعانی ج ١ ص ٣٠٢۔ ٣٠١‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

عصر کی نماز کے صلوۃ وسطی ہونے کے متعلق احادیث :

امام عبدالرزاق ‘ امام ابن ابی شیبہ ‘ امام احمد ‘ امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابوداؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ماجہ ‘ امام ابن جریر اور امام بیہقی ‘ زر سے روایت کرتے ہیں ‘ انہوں نے کہا : عبیدہ سے کہو کہ وہ حضرت علی (رض) سے نماز وسطی کے متعلق سوال کریں ‘ انہوں سے سوال کیا تو حضرت علی (رض) نے جواب دیا : ہم یہ خیال کرتے تھے کہ صلوۃ وسطی فجر کی نماز ہے حتی کہ میں نے جنگ خندق کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ان کے ساتھ (جنگ میں) مشغول رہنے کی وجہ سے ہم صلوۃ وسطی صلوۃ العصر نہیں پڑھ سکے ‘ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔

امام عبدالرزاق ‘ امام ابن ابی شیبہ ‘ امام مسلم ‘ امام نسائی ‘ اور امام بیہقی شیتر بن شکل سے روایت کرتے ہیں ‘ انہوں نے کہا : میں نے حضرت علی (رض) سے صلوۃ وسطی کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا : ہمارا خیال یہ تھا کہ یہ صبح کی نماز ہے حتی کہ میں نے جنگ خندق کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے کیونکہ انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطی پڑھنے سے مشغول کردیا حتی کہ سورج غروب ہوگیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غروب آفتاب تک ظہر اور عصر کی نماز نہیں پڑھی تھی۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام ترمذی اور امام ابن حبان نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : صلوۃ وسطی نماز عصر ہے۔

امام ابن جریر ‘ امام ابن المنذر اور امام طبرانی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ خندق کے دن فرمایا : انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطی پڑھنے سے مشغول کردیا حتی کہ سورج غروب ہوگیا ‘ اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔

امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انہوں نے ہمیں صلوۃ وسطی صلوۃ عصر پڑھنے سے محروم کردیا ‘ اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں کو اور ان کے دلوں کو آگ سے بھر دے۔

امام احمد ‘ امام ابن جریر اور امام طبرانی نے حضرت سمرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (آیت) ” حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی “۔ (البقرہ : ٢٣٨) اور ہمارے لیے صلوۃ وسطی کا نام صلوۃ عصر رکھا۔

امام عبدالرزاق نے حضرت عبداللہ بن عمر بن عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کی عصر کی نماز فوت ہوگئی گویا اس کے اہل اور مال ہلاک ہوگئے۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ ربیع بن خثیم سے روایت کرتے ہیں : ان سے کسی شخص نے صلوۃ وسطی کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : تمام نمازوں کی حفاظت کرو صلوۃ وسطی انہیں میں سے کوئی ایک ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٠٥۔ ٣٠٣ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ادب سے قیام کرو۔۔ (البقرہ : ٢٣٨)

باتیں نہ کرنے اور خضوع اور خشوع سے نماز پڑھنے کا حکم “۔

امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابوداؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ امام ابن جریر ‘ امام ابن خزیمہ ‘ امام طحاوی ‘ امام ابن حبان ‘ امام طبرانی اور امام بیہقی ‘ حضرت زید بن اسلم (رض) سے روایت کرتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں نماز میں باتیں کیا کرتے تھے ‘ ہم میں سے ایک شخص اپنے ساتھ نماز میں کھڑے ہوئے شخص سے باتیں کرتا تھا ‘ حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” وقومو اللہ قنتین (البقرہ : ٢٣٨) پھر ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور باتیں کرنے سے منع کردیا گیا۔

امام عبدالرزاق ‘ امام ابن المنذر اور امام ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ پہلے مسلمان نماز میں باتیں کرتے تھے ‘ ایک شخص نماز میں اپنے بھائی کو کسی کام کا حکم دیتا تھا ‘ پھر یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” وقومو اللہ قنتین (البقرہ : ٢٣٨) پھر ان کو کلام سے روک دیا گیا ‘ قنوت کا معنی سکوت ہے اور قنوت کا معنی طاعت ہے۔

امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہم نماز میں باتیں کیا کرتے ہیں ‘ ایک شخص نماز میں اپنے ساتھی سے سرگوشی کرتا ‘ ہم ایک دوسرے کو سلام کرتے اور جواب دیتے ‘ حتی کہ میں ایک دن نماز میں شامل ہوا اور میں نے سلام کیا تو میرے سلام کا کسی نے جواب نہیں دینے اور کوئی چیز مانع نہیں تھی سوا اس کے کہ ہمیں نماز میں خاموش کھڑے رہنے اور باتیں نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور قنوت سکوت ہے۔

امام سعید بن منصور ‘ امام اصبہانی اور امام بیہقی نے اس آیت کی تفسیر میں مجاہد سے روایت کیا ہے رکوع ‘ خشوع اور رکوع بھی قنوت کا معنی ہے یعنی طویل قیام کرنا ‘ نظر نیچے رکھنا ‘ بازو جھکائے رکھنا اور اللہ سے ڈرتے رہنا ‘ اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے فقہاء جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ادھر ادھر التفات کرنے ‘ کنکریاں ہنانے ‘ آنکھیں بند کرنے ‘ کسی چیز کے ساتھ کھیلنے یا دنیاوی کاموں کے متعلق غور و فکر کرنے سے اللہ سے ڈرتے تھے۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام مسلم ‘ امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : افضل نماز وہ ہے جس میں طویل قنوت (قیام) ہو۔

امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابودادؤ ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہم نماز میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کرتے تھے اور آپ ہمیں جواب دیتے تھے۔ جب ہم نجاشی کے پاس سے واپس آئے ‘ ہم نے آپ کو سلام کیا ‘ آپ نے ہمیں جواب نہ دیا۔ ہم نے (نماز کے بعد) عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم آپ کو سلام کرتے تھے اور آپ جواب دیتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : نماز میں مشغولیت ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٠٢ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 239