أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ يَاۡكُلُوۡنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوۡمُوۡنَ اِلَّا كَمَا يَقُوۡمُ الَّذِىۡ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيۡطٰنُ مِنَ الۡمَسِّ‌ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَالُوۡۤا اِنَّمَا الۡبَيۡعُ مِثۡلُ الرِّبٰوا‌ ۘ‌ وَاَحَلَّ اللّٰهُ الۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ الرِّبٰوا‌ ؕ فَمَنۡ جَآءَهٗ مَوۡعِظَةٌ مِّنۡ رَّبِّهٖ فَانۡتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَؕ وَاَمۡرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ‌ؕ وَمَنۡ عَادَ فَاُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

ترجمہ:

جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن صرف اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کردیا ہو ‘ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع سود ہی کی مثل ہے ‘ اور اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے ‘ سو جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آگئی پس وہ (سود سے) باز آگیا تو جو کچھ وہ پہلے چکا ہے وہ اس کا ہوگیا اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ‘ اور جس نے دوبارہ اس کا اعادہ کیا تو وہی لوگ دوزخی ہیں ‘ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ،

تفسیر:

صدقہ کے بعد سود کی آیات ذکر کرنے کی مناسبت :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اللہ کی راہ میں صدقہ دینے کا ذکر کیا تھا اور اب ان آیتوں میں سود کو حرام کرنے کا ذکر فرما رہا ہے ‘ صدقہ میں انسان کسی ظاہری اور دنیاوی معاوضہ کے بغیر ضرورت مند کو اپنے مال سے کچھ دیتا ہے اور اپنے مال کو کرتا ہے ‘ جب کہ سود میں انسان ضرورت مند کو اپنے مال سے کچھ دیتا ہے اور اپنے مال کو کرتا ہے ‘ جب کہ سود میں انسان ضرورت مند کو قرض دے کر ایک مدت معینہ کے بعد اس سے اصل رقم سے ایک معین زیادتی کو وصول کرتا ہے اور اپنے ما کو بڑھاتا ہے ‘ صدقہ دینے والا بلامعاوضہ اپنا مال دیتا ہے ‘ اور سود کھانے والا بلامعاوضہ دوسرے کا مال لیتا ہے ‘ صدقہ دینے والے کے مال میں اللہ برکت دیتا ہے اور سود کھانے والے کی برکت مٹاتا ہے ‘ صدقہ دینے والے کی نظر صرف آخرت پر ہوتی ہے اور سود لینے والے کی نظر صرف دنیا پر ہوتی ہے ‘ صدقہ کا باعث خدا ترسی اور ہمدردی ہے اور سود کا محرک خدا سے بےخوفی اور خود غرضی ہے صدقہ دینے والا مشکلات میں مبتلا لوگوں کو سہارا دیتا ہے ‘ اور سود کھانے والا مصیبت کے مارے لوگوں کی رگوں سے خون نچوڑ لیتا ہے ‘ یوں سود کھانا ‘ صدقہ دینے کی مکمل ضد ہے اور ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے ‘ اس وجہ سے قرآن مجید ایمان کے بعد کفر کا نور کے بعد ظلمت کا اور جنت کے بعد دوزخ کا ذکر فرماتا ہے اور یہ پر صدقہ کے بعد سود کا ذکر فرمایا ہے ‘ سود لینے کو سود کھانے سے تعبیر فرمایا ہے کیونکہ جو چیز لے لی جائے اس کی واپسی امکان ہوتا ہے اور جو چیز کھالی جائے اس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں رہتا ‘ اس سے کسی چیز کی وصول یابی کا شدید ہونا ظاہر ہوتا ہے ‘ اسی لیے سود لینے والوں کو سود خور کہا جاتا ہے ‘ سود کو عربی میں ربا کہتے ہیں ‘ ہم اس ربا کا لغوی اور اصطلاحی معنی بیان کریں گے ‘ پھر ربا کی دو قسمیں ربا النسیۂ اور ربا الفضل بیان کریں گے ‘ ربا الفضل میں ائمہ اربعہ کی بیان کی بیان کردہ علت پر سیر حاصل بحث کریں گے ‘ ربا الفضل کی حرمت کی وجہ بیان کریں گے اور بینک کے سود کے مجوزین کے دلائل بیان کریں گے ‘ ان کے شبہات کے جوابات پیش کریں گے ‘ دارالحرب میں سود کی بحث کا اور دارالکفر میں کافروں کے مال ہڑپ کرنے کا ذکر کریں گے ‘ اس کے بعد اس رکوع کی آیات کی تفسیر بیان کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق۔

رباکا لغوی معنی :

لغت میں ربا کے معنی زیادتی ‘ بڑھوتری اور بلندی ہیں ‘ علامہ زبیدی لکھتے ہیں علامہ راغب اصفہانی نے کہا ہے کہ اصل مال پر زیادتی کو ربا کہتے ہیں اور زجاج نے کہا ہے کہ ربا کی دو قسمیں ہیں ‘ ایک ربا حرام ہے اور دوسرا حرام نہیں ہے۔ ربا حرام ہر وہ قرض ہے جس میں اصل رقم سے زیادہ وصول کیا جائے یا اصل رقم پر کوئی منفعت لی جائے اور ربا غیر حرام یہ ہے کہ کسی کو ہدیہ دے کر اس سے زیادلے جائے۔ (تاج العروس شرح القاموس ج ١٠ ص ١٤٣‘ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ)

علامہ عینی نے ” شرح المہذب “ کے حوالے سے لکھا ہے کہ ربا کو الف ‘ واؤ یا تینوں کے ساتھ لکھنا صحیح ہے یعنی ربا ‘ ربو اور ربی۔ (عمدۃ القاری ج ١١ ص ‘ ١٩٩ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

ربا کا اصطلاحی معنی :

اصلاح شرع میں ربا کی دو قسمیں ہیں : ربا النسیۂ (اس کو رباالقرآن بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کو قرآن مجید نے حرام کیا ہے) اور ربالفضل (اس کو رباالحدیث بھی کہتے ہیں) ۔ ربا الفضل یہ ہے کہ ایک جنس کی چیزوں میں دست بدست زیادتی کے عوض بیع ہو ‘ مثلا چار کلو گرام گندم کو نقد آٹھ کلو گرام گندم کے عوض فروخت کیا جائے۔ ربا الفضل کن چیزوں میں ہے اس میں ائمہ اربعہ کا اختلاف ہے ‘ جس کو انشاء اللہ ہم تفصیل سے بیان کریں گے۔ ربا النسیءۃ یہ ہے کہ ادھار کی میعاد پر معین شرح کے ساتھ اصل رقم سے زیادہ وصول کرنا یا اس پر نفع وصول کرنا۔ آج کل دنیا میں جو سود رائج ہے اس پر بھی یہ تعریف صادق آتی ہے۔

علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں : علامہ ابن اثیر نے کہا ہے کہ شریعت میں ربا بغیر عقد بیع کے اصل مال پر زیادتی ہے اور ہمارے نزدیک ربا یہ ہے کہ مال کے بدلے میں مال میں جو مال بلا عوض لیا جائے مثلا کوئی شخص دس درہم کو گیارہ درہم کے بدلے میں فروخت کرے تو اس میں ایک درہم زیادتی بلاعوض ہے۔ (عمدۃ القاری ج ١١ ص ‘ ١١٩ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

علامہ ابن اثیر نے جو تعریف کی ہے وہ ربا النسیءۃ پر صادق آتی ہے اور علامہ عینی نے جو تعریف کی ہے وہ ربا النسیءۃ پر اس لیے صادق نہیں آتی کیونکہ اس میں ادھار کا ذکر نہیں ہے اور چونکہ اس میں مجانست کی قید نہیں ہے اس لیے ربا الفضل پر بھی صادق نہیں آتی۔

ربا النسیءۃ کی صحیح اور واضح تعریف امام رازی نے کی ہے ‘ لکھتے ہیں : ربا النسیءۃ زمانہ جاہلیت میں مشہور اور معروف تھا۔ وہ لوگ اس شرط پر قرض دیتے تھے کہ وہ اس کے عوض ہر ماہ (یا ہر سال) ایک معین رقم لیا کریں گے اور اصل رقم مقروض کے ذمہ باقی رہے گی ‘ مدت پوری ہونے کے بعد قرض خواہ مقروض سے اصل رقم کا مطالبہ کرتا اور اگر مقروض اصل رقم ادا نہ کرسکتا تو قرض خواہ مدت اور سود دونوں میں اضافہ کردیتا ‘ یہ وہ ربا ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھا۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٣٥١ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

رباالفضل کی تعریف اور اس کی علت کے متعلق مذاہب اربعہ :

رباالفضل یہ ہے کہ ایک مخصوص مال کو اس کی مثل سے نقد زیادتی کے ساتھ یا ادھار فروخت کیا جائے مثلا پانچ کلوگرام گندم کو دس کلو گرام گندم کے عوض نقد فروخت کیا جائے یا پانچ کلوگرام کو پانچ کلوگرام گندم کے عوض ایک سال کے ادھار پر فروخت کیا جائے اس کو رباالحدیث بھی کہتے ہیں ‘ کیونکہ امام مسلم نے حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سونا سونے کے عوض ‘ چاندی چاندی کے عوض ‘ گندم گندم کے عوض ‘ جو جو کے عوض ‘ کھجور کھجور کے عوض ‘ نمک نمک کے عوض برابر فروخت کرو اور نقد بہ نقد اور جب یہ اجناس مختلف ہوجائیں تو پھر جس طرح چاہو فروخت کرو بشرطیکہ نقد بہ نقد ہوں ‘ اور ایک روایت میں ہے : جس نے زیادہ لیا یا زیادہ دیا اس نے سودی کاروبار کیا۔ دینے والا اور لینے والا دونوں برابر ہیں ‘ اور ایک روایت میں ہے کہ ایک دینار کو دو دیناروں کے بدلہ میں اور ایک درہم کو دو درہم کے بدلہ میں فروخت نہ کرو۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٦۔ ٢٥۔ ٢٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

علامہ نووی لکھتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چھ چیزوں میں رباالفضل کے حرام ہونے کی تصریح کی ہے ‘ سونا ‘ چاندی ‘ گندم ‘ جو ‘ چھوارے اور نمک ‘ غیرمقلدین کہتے ہیں کہ ان چھ چیزوں کے علاوہ اور کسی چیز میں کمی و زیادتی کیساتھ بیع حرام نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ قیاس کے منکر ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام فقہاء یہ کہتے ہیں کہ حرمت کا یہ حکم ان چھ چیزوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ جو چیزیں ان کے معنی میں شریک ہوں ان میں بھی تفاضل کے ساتھ بیع حرام ہے ‘ پھر ان فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ ان چھ چیزوں میں حرمت ربا کی علت کیا ہے ؟ امام شافعی نے کہا : سونے اور چاندی میں علت حرمت ان کا جنس ثمن سے ہونا ہے اس لیے باقی وزنی چیزوں میں کمی اور بیشی کے ساتھ بیع حرام نہیں ہوگی ‘ کیونکہ علت حرمت مشترک نہیں ہے ‘ امام شافعی نے فرمایا باقی چار چیزوں میں علت حرمت کھانے کی جنس سے ہونا ہے ‘ سو ہر کھانے کی چیز میں تفاضل کے ساتھ بیع حرام ہوگی ‘ امام مالک کا قول سونے اور چاندی میں امام شافعی کی طرح ہے اور باقی چیزوں میں ان کے نزدیک علت حرمت خوراک کے لیے ذخیرہ ہونے کی صلاحیت ہے سو انہوں نے منقی میں تفاضل کو حرام قرار دیا ہے کیونکہ گندم اور جو کی طرح اس کا بھی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے ‘ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ سونے اور چاندی میں علت وزن ہے اور باقی چار چیزوں میں علت ماپنا ہے پس ہر وہ چیز جس کی بیع وزن اور ماپنے سے ہوتی ہو اتحاد جنس کی صورت میں اس کی تفاصل کے ساتھ بیع حرام ہے ‘ اور سعید بن مسیب ‘ امام احمد اور امام شافعی کا قول قدیم یہ ہے کہ ان چارچیزوں میں علت حرمت طعام کا وزن یا ماپ کے ساتھ فروخت ہونا ہے اس بنا پر کھانے پینے کی جو چیزیں عددا فروخت ہوتی ہیں جیسے انڈا وغیرہ ان میں تفاضل ہے ساتھ بیع حرام نہیں ہے ‘ نیز فقہاء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ ایک سود والی جنس کو دوسری سود والی جنس کے ساتھ کمی وبیشی اور ادھار کے ساتھ فروخت کرنا جائز ہے مثلا سونے کی گندم کے بدلے میں یا چاندی کی جو کے بدلے میں کمی اور بیشی کے ساتھ بیع کی جائے اور اس پر بھی اجماع ہے کہ ایک سود والی جنس کی اپنی جنس کے ساتھ ادھار بیع جائز نہیں ہے اور سود والی جنس کی اپنی جنس کے بدلے میں تفاضل کے ساتھ نقد بیع بھی جائز نہیں ہے ‘ مثلا سونے کی سونے کے بدلے میں ادھار بیع جائز ہے نہ نقد تفاضل کے ساتھ۔ (شرح مسلم ج ٢ ص ٢٤۔ ٢٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام ابوالقاسم خرقی حنبلی لکھتے ہیں ہر وہ چیز جو وزن یا مانپ کے ذریعہ فروخت کی جائے اس کی اس جنس کے بدلہ میں تفاضل سے بیع جائز نہیں ہے۔ ١ (علامہ ابوالقاسم عمر بن الحسین بن عبداللہ بن احمد الخرقی متوفی ٣٣٤ ھ مختصر الخرقی مع المغنی ج ٤ ص ٢٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) (اور یہی امام ابوحنیفہ کا نظریہ ہے)

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : امام احمد سے دوسری روایت یہ منقول ہے کہ سونے اور چاندی میں حرمت کی علت ثمنیت ہے اور باقی چیزوں میں طعم حرمت کی علت ہے اور یہی امام شافعی کا مذہب ہے۔ (المغنی ج ٤ ص ‘ ٢٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : امام احمد سے تیسری روایت یہ ہے کہ سونے اور چاندی کے علاوہ حرمت کی علت یہ ہے کہ وہ چیز جنس طعام سے ہو اور ماپ یا وزن سے بکتی ہو ‘ لہذا جو چیزیں عددا فروخت ہوتی ہیں ان کی کمی اور بیشی کے ساتھ بیع جائز ہوگی۔ (المغنی ج ٤ ص ‘ ٢٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

علامہ وشتانی مالکی لکھتے ہیں : امام مالک کے نزدیک سونے اور چاندی میں حرمت کی علت ثمنیت ہے اور باقی چار میں حرمت کی علت خوراک کا ذخیرہ ہونا یا خوراک کی صلاحیت ہے۔ (اکمال اکمال المعلم ج ٤ ص ٢٧٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت)

امام مالک کے مذہب پر نوٹ اور دوسرے سکوں میں سود کا ہونا بالکل واضح ہے ‘ کیونکہ ان میں ثمنیت موجود ہے۔ علامہ ابوالحسین مرغینانی حنفی لکھتے ہیں : ہمارے نزدیک حرمت کی علت قدر مع الجنس ہے۔ (ہدایہ اخیرین ص ٧٧‘ مطبوعہ شرکت علمیہ ملتان)

رباالفضل میں ائمہ کی بیان کردہ علت کا ایک جائزہ :

ائمہ کرام نے احادیث مبارکہ کو سامنے رکھ کر حتی المقدور اس امر کی سعی اور کوشش فرمائی ہے کہ سود کے لیے کوئی اصول وضع کیا جاسکے کیونکہ یہ ظاہر کہ احادیث میں جن چھ چیزوں (سونا ‘ چاندی ‘ گندم ‘ جو ‘ کھجور ‘ اور نمک) میں زیادتی کے ساتھ بیع کرنے کو ربا فرمایا ہے ‘ ان میں حصر نہیں ہے بلکہ ان چیزوں کو بطور مثال ذکر کیا ہے ‘ اسی لیے ائمہ اور مجتہدین نے انتہائی محنت اور جانفشانی سے ان چیزوں میں کوئی امر مشترک تلاش کرکے اس کو علت ربا اقرار دیا ہے جیسا کہ مذکور الصدر تفصیل سے ظاہر ہوچکا ہے۔ ان بزرگوں نے نہایت کاوش کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات مبارکہ کو سمجھا اور سمجھایا ہے ‘ ہم نے جب ان احادیث پر غور کیا تو ہم اس نتیجہ پر پہنچے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے : ” اذا اختلف النوعان فبیعوا کیف شئتم، (صحیح مسلم ج ٢ ص ٢٥‘ مطبوعہ اصح المطابع ‘ کراچی) جب دونوع مختلف ہوجائیں تو جس طرح چاہو فروخت کرو “ اور جب ان میں اختلاف نہ ہو تو فرمایا : مثلا بمثل فروخت کرو اور مثل میں مساوات کا مطلب ہے قدر میں مساوات اور قدر وزن ‘ کیل اور عدد تینوں کو شامل ہے جس طرح ایک کلو یا ایک صاع گندم دو کلویا دو صاع گندم کے برابر نہیں ہیں ‘ اسی طرح ایک درجن اخروٹ اور انڈے دو درجن اور انڈوں کی مثل اور برابر نہیں ہے۔ یہ ایک بالکل بدیہی بات ہے اور اس میں کوئی خفاء نہیں ہے اور اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں بھی وزنا کیلا (ماپ کے ذریعہ) یا عددا فروخت ہوتی ہیں خواہ وہ از قبیل ثمن ہوں یا از قبیل طعام ہوں یا عام استعمال کی چیزیں ہوں ‘ لائق ذخیرہ ہوں یا نہ ہوں جب ان کی بیع مثلا بمثل یعنی وزن ماپ یا عدد کے اعتبار سے برابر برابر اور یدابید یعنی نقد کی جائے گی تو وہ جائز ہوگی اور اگر وزن ‘ عدد یاماپ میں زیادتی کے ساتھ یا ادھار بیع ہوگی تو ناجائز اور حرام ہوگی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حرمت ربا کی سلسلہ میں جتنی بھی احادیث روایت کی گئی ہیں سب میں مثلا بمثل کی قید ہے اور فقہاء نے مثل کا معنی قدر کیا ہے وزن ‘ ماپ اور عدد تینوں کو شامل ہے ‘ یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آسکی کہ ایک کلو یا ایک صاع گندم تو دو کلو یا دو صاع گندم کے غیر مثل ہوں اور ایک درجن انڈے یا اخروٹ دو درجن انڈوں یا اخروٹوں کے غیر مثل نہ ہوں اس لیے مثل میں جس طرح وزنی اور ماپ والی چیزیں شامل ہیں اسی طرح عددی چیزیں بھی شامل ہیں اور اس پر سب سے واضح دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” للذکر مثل حظ الانثیین “۔ (النساء : ١١) مرد کے لیے عورتوں کی دو مثل (دوگنا) حصہ ہے “۔ فرض کیجئے لڑکی کو ایک کلو چاندی ملتی ہے تو لڑکے کو دو کلو چاندی ملے گی ‘ لڑکی کو ایک سو صاع گندم ملتی ہے تو لڑکے کو دو سو صاع گندم ملتی ہے تو لڑکے کو دو سو صاع گندم ملے گی اور اگر لڑکی کو ایک ہزار روپے ملتے ہیں تو لڑکے کودو ہزار روپے ملیں گے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ مثل ‘ ماپ ‘ والی ‘ وزنی ‘ عددی ہر قسم کی مساوی چیز کو کہتے ہیں ‘ حدیث شریف میں ہے ‘ امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت عثمان بن عفان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دینار کو دو دینار کو دو دینار اور ایک درہم کو دو درہموں کے عوض نہ فروخت کرو۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٢٤‘ سنن کبری ج ٥ ص ٢٧٨)

اس حدیث سے واضح ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد کے مطابق جس طرح وزنی اور ماپ والی ایک نوع کی دو چیزوں میں زیادتی کے ساتھ بیع ربا ہے اسی طرح ایک نوع کی عددی چیزوں میں بھی زیادتی کے ساتھ بیع ربا ہے۔ ان دلائل کی روشنی میں بہ ظاہر یہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ یہ کہا جائے کہ ایک نوع کی دو چیزیں خواہ وہ از قبیل طعام ہوں یا استعمال ہوں یاثمن ہوں اگر ان کی بیع کمی یا زیادتی کے ساتھ ہو خواہ کمی یا زیادتی عدد میں ہو یا کیل میں ہو یا وزن میں ہو یا بیع ادھار ہو تو وہ ربا ہے اور اگر اور نقد بیع ہو تو جائز اور صحیح ہے۔ (ھذا ما عندی والعلم التام عند اللہ۔

امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ایک نوع کی ماپ اور تول والی چیزوں میں سود ہے ‘ ان کے نزدیک علت رباماپ اور تول اور اشتراک جنس ہے ‘ وہ عددی چیزوں میں حرمت ربا کے قائل نہیں ہیں مثلا وزنا بکتا ہے اس لیے ایک کلو گرام سیب کو دو کلوگرام سیب کے عوض فروخت کرنا ان کے نزدیک سود ہے اور کیلے عددا فروخت ہوتے اس لیے ایک درجن کیلوں کو دو درجن کیلوں کو دو درجن کیلوں کے عوض فروخت کرنا ان کے نزدیک سود نہیں ہے ‘ اور یہ انتہائی تعجب خیز امر ہے کہ سیب میں زیادتی کے ساتھ بیع سود ہو اور کیلوں میں زیادتی کے ساتھ بیع سود نہ ہو۔ بعض چیزوں میں چیزوں میں عدد اور و زنا فروخت ہونے کا عرف بدلتا رہتا ہے ‘ مثلا پشاور میں پہلے روٹی تول کر فروخت ہوتی تھی اور اب عددا فروخت ہوتی ہے اور اخروٹ تول کر بھی بکتے ہیں او عدد بھی فروخت ہوتے ہیں یعنی آپ اگر عددا اخروٹ خریدیں تو سو کے بدلے میں دو سو اخروٹ لے سکتے ہیں اور یہ سود نہیں ہے اور وزنا خریدیں تو ایک کلو کے بدلہ میں دو کلو اخروٹ نہیں لے سکتے اور یہ سود ہے ‘ بعض شہروں میں مالٹے ایک ہی دکان پر عددا بھی بکتے ہیں اور تول کر بھی اور یہ بڑی حیرت انگیز بات ہوگی کہ ایک ہی دکان دار سے ایک چیز کو و زنا زیادتی کے ساتھ لینا سود ہو اور عددا لینا سود نہ ہو ‘ ہوسکتا ہے کہ اس کوئی توجیہ ہو لیکن میری ناقص فہم میں یہ بات نہیں آسکی۔ رہا یہ کہ بعض احادیث میں ایک حیوان کی دو حیوانوں کے ساتھ بیع کا جواز ہے تو اولا تو یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شارع ہیں ‘ جس کا چاہیں استثناء فرما دیں ‘ اس لیے یہ حدیث خلاف قیاس ہونے کی وجہ سے اپنے مورد میں بند رہے گی۔ ثانیا ہوسکتا ہے کہ اس کی یہ وجہ ہو کہ جس طرح دو غیر جاندار چیزوں میں عین کے لحاظ سے مساوات ہوتی ہے اس طرح دو جاندار چیزوں میں عینا مساوات نہیں ہوتی اور صفات میں فرق ہوتا ہے مثلا ایک غلام عالم ہو تو وہ دس جاہل غلاموں سے قیمتی ہوگا ‘ ایک گھوڑا اعلی نسل کا ہو تو وہ ادنی نسل کے دس گھوڑوں سے قیمتی ہوگا ‘ اس وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حیوان کی دو حیوانوں کے ساتھ بیع جائز فرمائی ہو اور آپ کی تمام حکمتوں کو کون جان سکتا ہے۔

امام شافعی کے نزدیک حرمت کی علت طعم اور ثمنیت ہے ‘ لہذا تمام کھانے پینے کی چیزوں اور سونے اور چاندی میں ہم جنس چیزوں کی زیادتی کے ساتھ بیع ان کے نزدیک سود ہے لیکن جو چیزیں کھانے پینے کی اور ثمن نہ ہوں ‘ مثلا تانبا ‘ پیتل ‘ چونا ‘ کپڑا اور لکڑی وغیرہ ان میں امام شافعی کے نزدیک ہم جنس اشیاء کی زیادتی کے ساتھ بیع سود نہیں ہے اور یہ عجیب و غریب بات ہے کہ ایک کلو چاندی کی دو کلو چاندی کے بدلہ میں بیع سود ہو اور ایک کلوتانبا یا پیتل کی دو کلو تانبے یا پیتل کے بدلہ میں بیع سود نہ ہو اور تانبا ‘ پیتل ‘ چونا کپڑے وغیرہ میں امام شافعی کے نزدیک سود نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک سود ہے اور کھانے پینے کی عددی اشیاء مثلا انڈے اور اخروٹ میں امام حنیفہ کے نزدیک سود نہیں ہے ‘ اور امام شافعی کے نزدیک سود ہے۔

امام مالک کے نزدیک حرمت کی علت ثمن ہونا اور خوراک کا قابل ذخیرہ ہونا ہے ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ تانبا ‘ پیتل ‘ لوہا ‘ لکڑی اور دیگر عام استعمال کی اشیاء میں زیادتی کے ساتھ بیع کرنا ان کے نزدیک سود نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ان اشیاء میں زیادتی کے ساتھ بیع کرنا سود ہے۔

اور طعام کے علاوہ استعمال کی جو چیزیں عددا فروخت ہوتی ہیں : جیسے پین ‘ پنسل ‘ ہتھیار ‘ میز ‘ کرسی ‘ اور عام فرنیچر ان میں زیادتی کے ساتھ بیع کرنا کسی امام کے نزدیک بھی سود نہیں ہے یعنی ایک انڈے یا ایک اخروٹ کی دو انڈوں یا دو اخروٹوں کے بدلے میں بیع کرنا امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک سود ہے۔ لیکن ایک پین یا ایک بندوق کی دو پین یا دو بندوقوں کے بدلہ میں بیع کرنا کسی امام کے نزدیک سود نہیں ہے اور یہ انتہائی عجیب بات ہے۔

ربا الفضل کی حرمت کا سبب :

ربا الفضل اس زیادتی کو کہتے ہیں جو ایک ہی جنس کی دو چیزوں کے دست بدست لین دین میں ہو۔ رسول اللہ نے ربو الفضل کو اس لیے حرام قرار دیا ہے کہ اس سے ربا النسئیۃ کا دروازہ کھلتا ہے اور انسان میں وہ ذہنیت پرورش پاتی ہے جس کا آخری ثمرہ سود خوری ہے یہ حکمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دینار کو دو دیناروں کے عوض اور ایک درہم کو دو درہموں کے بدلے میں نہ فروخت کرو ‘ مجھے خوف ہے کہیں تم سود خوری میں نہ مبتلا ہوجاؤ۔

علامہ علی متقی نے یہ حدیث طبرانی کے حوالے سے بیان کی ہے۔ (کنزالعمال ج ٤ ص ١٨٧۔ ١١٧‘ مطبوعہ بیروت)

ظاہر ہے کہ ایک جنس کی دو چیزوں کی آپس میں بیع کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب کہ اتحاد جنس کے باوجود ان کی نوعیتیں مختلف ہوں ‘ مثلا چاول اور گندم کی ایک قسم کی دوسری قسم کے ساتھ بیع ہو یا سونے کی ایک قسم کی دوسری قسم کے ساتھ بیع ہو۔ ایک جنس کی مختلف اقسام کی چیزوں کا کمی وبیشی کے ساتھ تبادلہ کرنے سے اس ذہنیت کے پرورش پانے کا اندیشہ ہے جو بالآخر سود خوری اور ناجائز نفع اندوزی تک جا پہنچتی ہے ‘ اس لیے شریعت نے یہ قاعدہ مقرر کردیا ہے کہ ایک جنس کی مختلف اقسام کے باہمی تبادلہ کی اگر ضرورت ہو تو یا تو برابر مبادلہ کرلیا جائے اور ان کی قیمتوں میں جو فرق ہو اس کو نظر انداز کردیا جائے یا ایک چیز کا دوسری چیز سے براہ راست تبادلہ کرنے کے بجائے ایک شخص اپنی چیز کو روپوں کے عوض بازار کے بھاؤ پر فروخت کرے اور دوسرے شخص سے اس کی چیز بازار کے بھاؤ پر خریدے۔

گندم کی گندم کے بدلے میں بیع کو برابر برابر نقد ہو تو جائز کیا گیا ہے اور ادھار کو حرامم کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مثلا زید آج دس کلو گرام گندم فروخت کرتا ہے اور اس کے بدلے میں چھ ماہ بعد عمرو سے دس کلو گرام گندم لیتا ہے تو یہ عین ممکن ہے کہ جس وقت زید گندم فروخت کررہا ہے اس وقت گندم کی قیمت پانچ روپے فی کلوہو اور جب عمر وہ اس کو اس کے بدلے میں گندم دے گا اس وقت گندم کی قیمت آٹھ روپیہ کلو ہو تو زید کو پچاس روپیہ کے بدلہ میں چھ ماہ بعد کی مدت کے عوض اسی حاصل ہوگئے اور یہی سود ہے۔

نفع اور سود میں فرق :

اللہ تعالیٰ نے بیع کو جائز کہا ہے اور سود کو ناجائز کہا ہے اور ان میں فرق بالکل واضح ہے ‘ ہم دکاندار سے پانچ روپیہ کی چیز چھ روپے میں بہ خوشی خرید لیتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہرچند کہ یہ چیز پانچ روپے کی ہے لیکن اس چیز پر دکاندار کی محنت ‘ ذہانت اور وقت کا خرچ ہوا ہے اور اس ایک زائد روپے کو ہم اس کی ذہنی اور جسمانی محنت کا عوض قرار دیتے ہیں لیکن جب ایک شخص پانچ روپے پر ایک روپیہ سود لیتے ہے تو اس ایک روپیہ میں وقت کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہوتی جس کو اس ایک روپیہ کا بدل قرار دیا جاسکے اس لیے تجارت میں نفع لینا جائز ہے اور روپیہ پر سود لینا جائز نہیں ہے۔

بینک کے سود کے مجوزین کے دلائل :

معیشت کے بعض جدید مفکرین یہ کہتے ہیں : قرآن مجید میں ربا اس خاص سود کو کہا گیا ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھا۔ کوئی غریب شخص شادی ‘ بیماری یا کفن دفن کی کسی نجی ضرورت میں مہاجن سے قرض لیتا تھا اور کسی مصیبت زدہ شخص کی مدد کرنے کے بجائے اس سے قرض پر سود لینا بیشک ظلم اور سنگ دلی ہے ‘ اسی وجہ سے قرآن مجید میں اس سود کو حرام کیا گیا ہے۔ لیکن آج کل کا مروجہ سود اس سے بالکل مختلف ہے ‘ آج کل بینکوں سے غریب اور مصیبت زدہ شخص قرض نہیں لیتے ‘ بلکہ متمول اور سرمایہ دار تاجر اور صنعت کار قرض لیتے ہیں اور ان سے قرض کی رقم پر بینک جو سود وصول کرتا ہے وہ ان پر کوئی ظلم نہیں ہے کیونکہ اگر وہ بینک کو چودہ فیصد سود ادا کرتے ہیں تو خود قرض کی رقم سے وہ ساٹھ ستر فیصد تک کماتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بینک سے قرض لے کر ایک کارخانہ لگاتے ہیں اور اس کارخانے سے پھر سے وہ ساٹھ ستر فیصد تک کماتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بینک سے قرض لے کر ایک کارخانہ لگاتے ہیں اور اس کارخانے سے پھر دوسرا تیسرا کارخانہ لگ جاتا ہے ‘ اس طرح تاجروں کی تجارت میں اضافہ ہوجاتا ہے ‘ اس لیے اگر بینک کو وہ چودہ فی صد سو دیتے ہیں تو ان پر یہ کوئی بوجھ نہیں ہے ‘ اور بینک میں روپیہ عام لوگوں کا جمع کیا ہوا ہوتا ہے اس لیے اگر بینک عام لوگوں کو سات آٹھ فیصد سود ادا کرے تو بینک پر کوئی بوجھ نہیں پڑتا ‘ سرمایہ دار اور بینک دونوں خوشی سے سود ادا کرتے ہیں ‘ کسی پر ظلم نہیں ہے اور چونکہ بینکوں میں عموما غریب اور متوسط لوگ اپنی فاضل بچت کی رقمیں جمع کراتے ہیں تو سود کے ذریعہ ان کو سات فیصد سالانہ کا فائدہ پہنچتا رہتا ہے۔ غرضیکہ زمانہ جاہلیت کاربا غریبوں سے سود لیتا تھا اور اس زمانہ کی ترقیاتی سکیم بینکوں کے ذریعہ غریبوں کو سود دیتی ہے۔ وہ رباغرباء پر ظلم تھا اور یہ غریبوں کی خوشحالی اور مال کی ترقی کا سبب ہے اس لیے شخصی اور نجی ضروریات کے قرضوں پر سود ناجائز ہونا چاہیے اور تجارتی قرضوں پر بینک کا سود جائز ہونا چاہیے

بینک کے سود کے جائز ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ افراط زر کی وجہ سے روپے کی قدر (vAlue) دن بدن گرتی جا رہی ہے اور اجناس کی قیمت بڑھتی جارہی ہے۔ اب سے انتیس سال پہلے (١٩٦٦ ء میں) سونا ‘ ایک سو روپیہ تولہ تھا ‘ اصلی دیسی گھی پانچ روپیہ کلو ‘ ڈالڈا دو روپیہ کلو ‘ دیسی انڈا دو آنے کا ‘ تنوری روٹی ایک آنے کی ‘ دودھ آٹھ آنے کلو اور ڈاک کا لفافہ چھ پیسے (ڈیڑھ آنے کا) ملتا تھا اور اب (١٩٩٥ ء میں) سونا تقریبا پانچ ہزار روپیہ تولہ ‘ دیسی گھی ایک سو تیس روپیہ کلو ‘ ڈالڈا گھی چالیس روپیہ کلو ‘ دیسی انڈا تین روپیہ کا ‘ تنوری روٹی ڈیڑھ روپیہ کی ‘ دودھ اٹھارہ روپیہ کلو اور ڈاک کالفافہ ڈیڑھ کا ہوگیا۔ اس تجزیہ سے معلوم ہوتا ہے کہ انتیس سال میں روپیہ کی قدر بارہ سے لے کر پچاس گنا (پچیس سو فیصد سے لے کر پانچ ہزار فی صد تک) گرگئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے انتیس سال پہلے بینک میں سو روپیہ رکھوایا تھا اب اس کی قیمت دو چار روپیہ رہ گئی ہے اور اگر سونے کے بھاؤ سے تناسب کیا جائے تو اب تک سوروپیہ تقریبا دو روپے کا رہ گیا ہے اگر اس سوروپیہ پر سال بہ سال بینک کا سود لگتا رہتا تو اس کی ساکھ کسی حد تک بحال رہتی اور جو لوگ بینک میں اپنی فاضل بچتوں کو جمع کراتے ہیں ان کا نقصان نہ ہوتا اس لیے بینک کا سود جائز ہونا چاہیے۔

مجوزین سود کے دلائل کے جوابات :

اس سلسلہ میں پہلے یہ بات جان لینی چاہیے کہ قرآن مجید نے مطلقا سود کو حرام کیا ہے ‘ خواہ نجی ضروریات کے قرضوں پر سود ہو یا تجارتی قرضوں پر سود ہو ‘ خواہ اس سود سے غریبوں کو نقصان ہو یا فائدہ اللہ تعالیٰ نے امارت اور غربت کا فرق کیے بغیر سود کو علی الاطلاق حرام کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” احل اللہ البیع وحرم الربوا “ (البقرہ : ٢٧٥)

ترجمہ : اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا امابقی من الربوا ان کنتم مؤمنین۔ فان لم تفعلوا فاذنوا بحرب اللہ ورسولہ “۔ (البقرہ : ٢٧٩۔ ٢٧٨)

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اگر تم مومن ہو تو (زمانہ جاہلیت کا) باقی ماندہ سود چھوڑ دو ۔ اور اگر تم ایسا نہ کرو تو اللہ اور اس کے رسول کے طرف سے اعلان جنگ سن لو !

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سود کو مطلقا حرام کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سود مفرد کو بھی حرام کیا ہے اور (آیت) ” لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ “۔ (آل عمران : ١٣٠) دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ “ فرما کر سود مرکب کو بھی حرام کیا ہے اور ہر جگہ مطلقا سود کو حرام کیا ہے اور نجی اور کاروباری قرضوں کا فرق نہیں کیا علاوہ ازیں تاریخ اور حدیث سے ثابت ہے کہ زمانہ جاہلیت میں کاروباری قرضوں پر سود لینے کا بھی عام رواج تھا۔

ابن جریر : ”(آیت) ” وذروا مابقی من الربوا “۔ (البقرہ : ٢٧٨) کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یہ وہ سود تھا جس کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں لوگ خریدوفروخت کرتے تھے۔

علامہ سیوطی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے اپنی اپنی اسانید کے ساتھ سدی سے یہ روایت بیان کی ہے کہ یہ آیت حضرت عباس بن عبد المطلب اور بنو مغیرہ کے ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ یہ دونوں زمانہ جاہلیت میں شریک تھے اور انہوں نے ثقیف کے بنو عمرو بن عمیر میں لوگوں کو سودی قرض پر مال دے رکھے تھے۔ جب اسلام آیا تو ان دونوں پر بڑا سرمایہ سود میں لگا ہوا تھا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٦٦ مطبوعہ مطبعہ میمنہ ‘ مصر ‘ ١٣١٤ ھ)

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں بڑے بڑے تاجر خوردہ فروشوں کے ہاتھ ادھار پر مال فروخت کرتے تھے اور اس پر سود لگاتے تھے اور اس سے واضح ہوگیا کہ زمانہ جاہلیت میں کاروباری اور تجارتی قرضوں پر سود لگانے کا عام رواج تھا اور اس کو الربوا کہا جاتا تھا۔ قرآن مجید میں عموم کے صیغہ سے سود کی ممانعت کی ہے خواہ وہ سود نجی قرضوں پر ہو یا تجارتی قرضوں پر۔

رہا دوسرا اعتراض کہ بینک کے سود کے ناجائز قرار دینے کی بناء پر افراط زر کی وجہ سے روپیہ کی قدر گرجاتی ہے ‘ اگر بینک سے سود نہ لیا جائے تو بیس بائیس سال بینک میں رکھوایا ہوا ایک سو روپیہ سوا تین روپے کا رہ جائے گا اور یہ نقصان بینک سے سود نہ لینے کی وجہ سے ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمان ہونے کے ناطے سے ہمارا ایمان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے اور اس کے منع کردہ کام سے بچنے کی وجہ سے اگر ہمیں کوئی مادی نقصان ہوتا ہے تو ہمیں اس کو خوشی سے گوارا کرنا چاہیے۔ مسلمان کے نزدیک نفع اور نقصان کا معیار دنیاوی اور مادی اعتبار سے نہیں ہے بلکہ اخروی اور معنوی اعتبار سے ہے۔ دنیاوی اور مادی اعتبار سے زکوۃ ‘ قربانی اور حج کے لیے زرکثیر خرچ کرنا بھی مال کا ضیاع ہے اور نقصان ہے تو کیا اس مادی نقطہ نظر سے ان تمام مالی عبادات کو خیر باد کہہ دیا جائے گا ؟ اور جب مسلمان مالی عبادات کو چھوڑنے پر تیار نہیں ہیں تو سود کھا کر اللہ اور رسول سے اعلان جنگ کے لیے کیسے تیار ہوسکتے ہیں ؟ ایک سچے مسلمان کے نزدیک سود چھوڑنے کی وجہ سے روپے کی قدر کا کم ہوجانا خسارہ نہیں ہے بلکہ اصل خسارہ یہ ہے کہ سود لینے کی وجہ سے آخرت برباد ہوجائے !

اس سوال کا دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ نقصان دراصل ہماری ایک اجتماعی تقصیر کی سزا ہے اور یہ وہ یہ کہ ہم نے اسلامی طریقہ مضاربت کو رواج نہیں دیا ‘ کرنا یہ چاہیے کہ لوگ اپنے روپے کو بینک کی معرفت کاروبار میں لگائیں اور بینک ان کا ان کا روپیہ امانت رکھنے کی بجائے ان سے ایک عام شراکت نامہ طے کرے اور ایسے تمام اموال کو مختلف قسم کے تجارتی ‘ صنعتی زراعتی یا دوسرے ان جائز کاروبار میں جو بینک کے دائرہ عمل میں آسکتے ہوں لگائے اور اس مجموعی کاروبار سے جو منافع حاصل ہو ‘ اسے ایک طے شدہ نسبت کے ساتھ ان لوگوں میں اس طرح تقسیم کر دے جس طرح خود بینک کے حصہ داروں میں منافع تقسیم ہوتا ہے۔

افراط زر کی صورت میں اصل زر کو بحال رکھنے کا حل :

ڈالر ‘ ین ‘ پونڈ اور ریال وغیرہ مستحکم کرنسی ہیں اور عرف اور تعامل سے یہ مقرر اور ثابت ہے کہ ان کی قدر برقرار رہتی ہے ‘ پاکستان ‘ بھارت ‘ بنگلہ دیش اور دیگر پس ماندہ ممالک کی طرح افراط زر کی نتیجہ میں وقت گزرنے کے ساتھ ان کی قدر میں کمی نہیں ہوتی سو جو شخص چار پانچ سال یا زائد عرصہ کے لیے بینک میں اپنا پیسہ رکھنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنی رقم کو ڈالرز یا کسی اور مستحکم کرنسی میں منتقل کرکے ان بینکوں میں رقم رکھے جو غیر ملکی کرنسی میں بھی اکاؤنٹ کھولتے ہیں اسی طرح جو شخص کسی دوسرے شخص کو ملکی کرنسی میں مثلا ایک ہزار روپے قرض دیتا ہے اور وہ شخص اس کو دس سال بعد ایک ہزار روپے واپس کرتا ہے تو دس سال بعد اس ایک ہزار روپے کی قدر ایک سو روپے رہ جائے گی اس ضرر سے بچنے کا بھی یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنی رقم کو ڈالر میں منتقل کرکے قرض دے اور جتنے ڈالر دیے تھے اتنے ہی واپس لے لے۔

بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر اس نے ملکی کرنسی میں رقم قرض دی تھی اور مثلا دس سال بعد اس کی قدر کم ہوگئی تو وہ اب بھی دس سال پہلے کی ملکی کرنسی جتنے ڈالر کے مساوی تھی دس سال بعد اتنی ملکی کرنسی واپس لے سکتا ہے مثلا پہلے ایک ہزار روپے جتنے ڈالر کے مساوی تھے دس سال بعد اگر اتنے ڈالر کے دس ہزار روپے بنتے ہیں تو وہ دس ہزار روپے لے سکتا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں وہ بہرحال ایک ہزار روپے دے کر دس ہزار روپے لے رہا ہے اور معنوی طور پر خواہ ان کی قدر برابر ہو لیکن یہ صورۃ اصل رقم سے زائد لینا ہے اور ظاہری اور صوری طور پر اس کے سود ہونے میں کوئی شک نہیں ہے ‘ نیز چونکہ یہ پہلے سے طے نہیں کیا گیا اس لیے یہ موجب نزاع بھی ہے ‘ افراط زر سے بچنے کے لیے ملکی کرنسی کو سونے چاندی سے بدل کر قرض دینا بھی جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ سونے چاندی میں ادھار جائز نہیں ہے۔

دارالحرب کے سود میں جمہور فقہاء کا نظریہ :

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں ؛ دارالحرب میں سود اسی طرح حرام ہے جس طرح دارالسلام میں حرام ہے (امام احمد) امام مالک ‘ امام اوزاعی ‘ امام ابویوسف ‘ امام شافعی اور امام اسحاق کا بھی یہی مذہب ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا کہ مسلمان اور حربی کے درمیان دارالحرب میں ربا جاری نہیں ہوگا اور ان سے ایک روایت یہ بھی ہے کہ دو شخص دارالحرب میں مسلمان ہوگئے تو ان کے درمیان ربا نہیں ہوگا اور ان کے اموال مباح ہیں۔ (امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو دارالحرب میں احکام شرعیہ نافذ کرنے کی ولایت حاصل نہیں ہے ‘ یہ مطلب نہیں ہے کہ دارالحرب میں مسلمانوں کا سود کھانا جائز ہے۔ (سعیدی غفرلہ)

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : ہمارے دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” حرم الربوا “ (البقرہ : ٢٧٥) اللہ تعالیٰ نے سود کو حرام کردیا “ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” الذین یاکلون الربوا لا یقومون الا کما یقوم الذی یتخبطہ الشیطن من المس “۔ (البقرہ : ٢٧٥) جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے شیطان نے مخبوط الحواس کردیا ہو “ نیز فرمایا : (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوا “۔ (البقرہ : ٢٧٨) اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور باقی ماندہ سود چھوڑ دو “ اور احادیث میں بالعموم تفاضل کی ممانعت ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا اس نے سودی معاملہ کیا ‘ باقی احادیث میں بھی اسی طرح تفاضل کی ممانعت ہے اور اس لیے کہ جو کام (مسلمانوں پر) دارالسلام میں حرام ہیں وہ دارالحرب میں بھی حرام ہیں جس طرح مسلمان میں سود کا لین دین حرام ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ نے جس حدیث کا ذکر کیا ہے وہ مرسل ہے جس کی صحت کا ہمیں علم نہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس حدیث میں لا نفی کی بجائے نہی کے لیے ہو ‘ یعنی مسلمان دارالحرب میں حربی سے سود نہ لیں ‘ اور جس چیز کو قرآن مجید نے علی العموم والا طلاق حرام کردیا ہے اور سنت مشہورہ سے بھی اس کی علی الاطلاق حرمت ثابت ہے اور اس کے حرام ہونے پر اجماع ہوچکا ہے ‘ اس کے عموم اور اطلاق کو ایسی خبر مجہول کے سبب سے ترک کردینا جائز نہیں ہے جو کسی کتاب صحیح میں ہے نہ مسند میں نہ کسی معتمد اور مستند کتاب میں ہے ‘ اور اس کے علاوہ یہ کہ وہ حدیث مرسل ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس میں لا نفی کا نہ ہو بلکہ نہی کا ہو جیسے اللہ تعالیٰ کے اس قول میں ہے : (آیت) ” فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج “۔ (البقرہ : ١٩٧) حج میں جماع ‘ فسوق اور لڑائی جھگڑا نہیں ہے “ (المغنی ٤ ج ٤٧ ص ‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

دارالحرب کے سود میں فقہاء احناف کا نظریہ :

علامہ ابوالحسن مرغینانی لکھتے ہیں : مسلمان اور حربی کے مابین دارالحرب میں ربا نہیں ہے۔ اس میں امام ابویوسف اور امام شافعی رحمہما اللہ کا اختلاف ہے ‘ وہ اس پر قیاس کرتے ہیں کہ حربی جب امان لے کر دار الاسلام میں آئے تو اس سے سود لینا جائز نہیں ہے ‘ اور ہماری دلیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ حدیث ہے : مسلمان اور حربی کے مابین دارالحرب میں ربا نہیں ہے ‘ اور اس لیے بھی کہ دارالحرب میں ان کا مال مباح ہے خواہ مسلمان جس طریقہ سے ان کا مال حاصل کرے وہ مال مباح ہے بشرطیکہ دھوکا نہ دے اور عہد شکنی نہ کرے ‘ اور مستامن پر قیاس کرنا اس لیے صحیح نہیں ہے کہ جب وہ امان لے کر دارالاسلام میں داخل ہوا تو اس کے مال کا لینا ممنوع ہوگیا۔ (ہدایہ اخیرین ص ٦٨‘ مطبوعہ مکتبہ شرکتہ علمیہ ملتان)

دارالحرب میں جواز ربا والی حدیث کی فنی حیثیت :

علامہ زیلعی حنفی لکھتے ہیں : امام بیہقی نے امام شافعی کی ” کتاب السیر “ کے حوالے سے اس حدیث کو ” معرفۃ “ میں ذکر کیا ہے ‘ امام شافعی نے کہا : امام ابو یوسف کہتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ نے فرمایا : بعض مشائخ نے مکحول سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اہل حرب کے مابین ربا نہیں ہے ‘ میرا گمان ہے کہ آپ نے فرمایا : اور اہل اسلام کے مابین ‘ امام شافعی نے فرمایا : یہ ثابت ہے نہ اس میں کوئی حجت ہے۔ (نصب الرایہ ج ٤ ص ٤٤‘ مطبوعہ مجلس علمی ‘ سورت ‘ ہند)

علامہ ابن ہمام نے بھی اس حدیث کی فنی حیثیت کے بارے میں یہی کچھ نقل کیا ہے۔ (فتح القدیر ج ٦ ص ‘ ١٧٨ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

دارالحرب میں ربا کے متعلق فقہاء احناف کے دلائل کا تجزیہ :

ائمہ ثلاثہ اور امام ابویوسف نے کہا ہے کہ مکحول کی روایت اول تو ثابت نہیں ہے اور برتقدیر ثبوت اس میں قرآن مجید اور احادیث صحیحہ مشہورہ سے معارضہ کی صلاحیت نہیں ہے۔ علامہ ابن ہمام نے اس کے جواب میں یہ کہا ہے کہ قرآن مجید نے جو ربا کو مطلقا حرام کیا ہے وہ مال محظور میں حرام کیا ہے اور حربی کا مال مباح ہے اور اس توجیہ کا تقاضایہ ہے کہ اگر مکحول کی یہ مرسل روایت نہ بھی ہوتی تب بھی دارالحرب میں روایت نہ بھی ہوتی تب بھی دارالحرب میں حربی سے سود لینا مباح ہوتا۔ (فتح القدیر ج ٦ ص ‘ ١٧٨ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ ‘ سکھر)

علامہ ابن ہمام کا یہ جواب اس لیے صحیح نہیں ہے کہ وہ ” مال محظور “ کی قید لگا کر اپنی رائے سے قرآن مجید کے عموم اور اطلاق کو مقید کر رہے ہیں اور جب قرآن مجید کے عموم اور اطلاق کے مزاحم ہو سکے۔ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ مشہورہ نے علی الاطلاق سود کو حرام کردیا ہے ‘ خواہ مسلمان سے سود لیا جائے یا کافر سے اور کافر خواہ حربی ہو یا ذمی اور دارالاسلام میں سود لیا جائے یا دارالحرب میں ‘ قرآن مجید نے ہر قسم کے سود کو حرام کردیا ہے اور اس عموم کو نہ مکحول کی مرسل اور غیر ثابت روایت سے مقید کیا جاسکتا ہے نہ علامہ ابن ہمام کی رائے سے۔

مکحول کی روایت کا محمل :

اگر یہ فرض کرلیا جائے تو مکحول کی یہ روایت صحیح ہے اور واقعی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فرمایا ہے : ” لا ربزبین المسلم والحربی “۔ مسلمان اور حربی میں سود نہیں ہے “ تو اس حدیث کی حسب ذیل توجہیات ہیں :

اول : اس حدیث میں ” لا “ نفی کا نہیں ہے بلکہ نہیں کا ہے اور اس کا معنی ہے : مسلمان اور حربی کے مابین سود کی ممانعت ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے : (آیت) ” فلا رفث ولا فسوق ولاجدال فی الحج “۔ (البقرہ : ١٩٧) حج میں جماع ‘ فسوق اور لڑائی جھگڑا نہیں ہے “ یعنی ان افعال کی ممانعت ہے۔

ثانی : اس حدیث میں حربی سے مراد محض غیر ذمی کافر نہیں ہے بلکہ برسرجنگ قوم کا ایک فرد مراد ہے اور جس قوم کے ساتھ حالت جنگ قائمہو اس کو ہر طرح سے جانی اور مالی اعتبار سے زک پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے ‘ اس لیے اس قوم کے کسی حربی کافر سے اگر کسی مسلمان نے سودی معاملہ کے ذریعہ اس کا مال لے لیا تو وہ اس کا مالک ہوجائے گا۔

ثالث : لاربوکا یہ مفہوم نہیں ہے کہ حربی کافر سے جو سود لیا جائے گا وہ سود نہیں ہے بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ درالحرب میں رہنے والا مسلمان اگرچہ حربی کافر سے سود لیتا ہے تو اگرچہ یہ فعل گناہ ہے لیکن قانون اور حرمت اور ممانعت سے مستثنی ہے یعنی مسلمان حکومت اس شخص سے باز پرس نہیں کرسکتی کہ تم نے یہ عقد فاسد کیوں کیا ہے اور سود کیوں لیا ہے اور اس مسلمان کو اس کے اس غلط کام پر سزا نہیں دے سکتی کیونکہ دارالحرب میں رہنے والامسلمان ‘ مسلمانوں کی ولایت میں نہیں ہے اور اس پر اسلامی ریاست کے احکام جاری نہیں ہوسکتے ‘ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

(آیت) ” والذین امنوا ولم یھاجروا مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجروا “۔ (الانفال : ٧٢)

ترجمہ : اور جو لوگ ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے (دارالاسلام میں) نہیں آئے ان پر تمہاری کوئی ” ولایت “ نہیں ہے حتی کہ وہ ہجرت کرلیں۔

اس آیت میں یہ اصول بتایا گیا ہے کہ ولایت کا تعلق صرف ان مسلمانوں سے ہوگا جو دارالاسلام کے باشندے ہوں ‘ یہ آیت دارالاسلام سے باہر کے مسلمانوں کو (دینی اخوت کے باوجود) دارالاسلام کے مسلمانوں کے ساتھ سیاسی اور تمدنی رشتے سے خارج کردیتی ہے اس عدم ولایت کے نتیجے میں دارالاسلام اور دارالحرب کے مسلمان ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوسکتے اور ایک دوسرے کے قانون والی نہیں ہوسکتے ہم نے جو یہ بیان کیا ہے کہ دارالحرب میں بھی سود لینا گناہ ہے اور ” لاربوبین المسلم والحربی “ کا مفاد یہ ہے کہ اس پر سود لینے کی دنیاوی سزا جاری نہیں ہوگی کیونکہ وہ مسلمانوں کی ولایت میں نہیں ہے اس کی تائید علامہ سرخسی کی ذکر کردہ ان احادیث سے ہوتی ہے :

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجران کے نصاری کی طرف لکھا : جس شخص نے سود لیا ‘ ہمارے اور اس کے درمیان کوئی عہد نہیں ہے ‘ اور مجوس ہجر کی طرف لکھا : یا تو تم سود چھوڑ دو یا اللہ اور اس کے رسول سے اعلان جنگ قبول کرلو۔ (المبسوط ج ١٤ ص ٥٨ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

نصاری نجران اور مجوس ہجر حربی تھے لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں بھی اپنے علاقوں میں سود لینے کی اجازت نہیں دی اور جب آپ نے حربی کافروں کو سود لینے کی اجازت نہیں دی ہے تو آپ دارالحرب کے مسلمانوں کو سود خوری کی اجازت کب دے سکتے ہیں !

پیر محمد کرم شاہ الازہری نے مکحول کی روایت کی توجیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ حالت اضطرار میں مسلمان حربی کافر سے سود لے سکتا ہے۔ ١ (ماہنامہ ضیائے حرم ربیع الاول ١٤٠٨ ھ) یہ توجیہ صحیح نہیں ہے کیونکہ سود دینے میں تو اضطرار ہوسکتا ہے مثلا کسی شخص کو اپنی ناگزیر ضرورت میں بغیر سود کے قرض نہ ملے لیکن سود لینے میں اضطرار کا کوئی تعلق نہیں ہے ‘ سود لینے کی وجہ صرف مال کی حرص اور جلب زر کی خواہش ہوتی ہے۔

دارالحرب کے سود کے بارے میں امام ابوحنیفہ کے قول کی وضاحت :

امام اعظم نے جو یہ کہا ہے کہ دارالحرب میں مسلمان اور حربی کے درمیان ربا نہیں ہے ان کی بھی اس قول سے یہی مراد ہے کہ چونکہ دارالحرب مسلمانوں کی ولایت میں نہیں ہے اس لیے مسلمان حکام وہاں کسی مسلمان کے سود لینے پر اس سے مواخذہ نہیں کریں گے اور اس کا مالک ہوجائے گا لیکن اس کا یہ فعل گناہ ہے اور وہ اس پر اخروی عذاب کا مستحق ہے ‘ اس کی وضاحت علامہ سرخسی کی اس عبارت سے ہوتی ہے۔

امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ دارالاسلام کی حفاظت میں آنے سے پہلے اسلام سے جو عصمت ثابت ہوتی ہے وہ صرف امام کے حق میں ہے ‘ احکام کے حق میں نہیں ہے ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر ان دو مسلمانوں میں سے کوئی ایک دوسرے کا مال یا اس کی جان تلف کردے تو اس پر ضمان نہ ہوگا حالانکہ وہ اس فعل کی وجہ سے گنہگار ہوگا ‘ دراصل احکام میں عصمت صرف دارالاسلام میں رہنے سے ہوتی ہے ‘ نہ کہ دین کی وجہ سے ‘ کیونکہ دین تو حق شرع کے لحاظ سے ان لوگوں کو روکتا ہے جو اس دین کا اعتقاد رکھتے ہیں اور جو اس کا اعتقاد نہیں رکھتے ان کو نہیں روکتا ‘ اس کے برخلاف جب انسان دارالاسلام میں ہوں تو اس کے مال کی حفاظت اس شخص سے بھی کی جائے گی جو اس کی حرمت کا اعتقاد رکھتا ہے یا اس دین کا اعتقاد نہیں رکھتا پس گناہ ہونے کی حیثیت سے جو عصمت ثابت ہے اس اعتبار سے ہم نے کہا : ان کا یہ فعل مکروہ ہے اور قانون کے لحاظ سے عدم عصمت کی بناء (چونکہ مسلمانوں کی ولایت میں نہیں ہے) ہم نے یہ کہا کہ اس کا لیا ہوا مال واپس کرنے کا حکم نہیں دیا جائے کیونکہ ان میں سے ہر ایک جب دوسرے کا مال لیتا ہے تو محض لینے کی وجہ سے ہی اس مال کا مالک ہوجاتا ہے۔ (المبسوط ج ١٤ ص ٥٨ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

امام اعظم کا یہ اصول ہے کہ اگر مسلمان دارالحرب میں کوئی عقد فاسد کرے تو ہو اس سے مالک تو ہوجائے گا لیکن اس کا یہ فعل گناہ ہے۔ علامہ سرخسی لکھتے ہیں :

اگر دو حربی مسلمان ہوجائیں اور دارالحرب سے ہجرت نہ کریں اور آپس میں سود کا معاملہ کریں تو میں اس کو مکروہ (تحریمی) قرار دیتا ہوں لیکن یہ سود واپس نہیں کروں گا اور یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے۔ (المبسوط ج ١٤ ص ٥٨ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

ان عبارات سے یہ بات بالکل واضح ہوگئی ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اگر دارالحرب میں رہنے والے مسلمان آپس میں سود لیں یا مسلمان حربی کافر سے سود لے تو وہ اس سود کا مالک تو ہوجائے گا لیکن سود لینے والا مسلمان بہرحال گنہ گار ہوگا۔

کیا سود اور دیگر عقود فاسدہ کے ذریعہ حربی کافروں کا پیشہ بٹورنا جائز ہے ؟

جب مسلمان کسی کافر قوم سے بر سرجنگ ہوں اس وقت کافروں کا ملک دارالحرب ہوتا ہے اور اس وقت دارالحرب کے کافروں کی جان اور اموال مباح ہیں لیکن جن ممالک سے مسلمان بر سرجنگ نہیں ہیں ان سے سفارتی تعلقات قائم کیے ہوئے ہیں اور ان کے ہاں پاسپورٹ اور ویزے میں آناجانا جاری اور معمول ہے اور ان ممالک میں مسلمانوں کو جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ حاصل ہے بلکہ وہاں انہیں اسلامی احکام پر عمل کر نیکی بھی آزادی ہے جیسے امریکہ ‘ برطانیہ ‘ کینیڈا ‘ اور جرمنی وغیرہ ‘ ایسے ممالک دارالحرب نہیں ہیں بلکہ دارالکفر ہیں اور ایسے ممالک کے کافروں کے اموال ان پر مباح نہیں ہیں۔ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ کافروں کا مال مسلمانوں پر مباح ہے خواہ جس طرح حاصل ہو بشرطیکہ اس سے مسلمانوں کا وقار مجروح نہ ہو ‘ ان کا استدلال قرآن مجید کی اس آیت سے ہے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا الاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم “۔ (النساء : ٢٩)

ترجمہ اے ایمان والو ! آپس میں اپنے اموال کو ناحق نہ کھاؤ الا یہ کہ تمہاری آپس کی رضا مندی سے تجارت ہو۔

اس آیت سے یہ لوگ اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ قرآن مجید نے مسلمانوں کو آپس میں ناجائز طریقے سے مال کھانے سے منع کیا ہے اور اگر مسلمان کافروں کا مال ناجائز طریقے سے کھا لیں تو اس سے منع نہیں کیا گیا سو مسلمانوں کے لیے کفار کے اموال عقد فاسد سے یا ناجائز طریقے سے کھانا جائز ہے۔

یہ استدلال اس لیے صحیح نہیں ہے کہ قرآن مجید کا عام اسلوب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مکارم اخلاق سے مسلمانوں کو خطاب کرتا ہے لیکن اس سے قرآن کا منشا یہ نہیں ہے کہ نیکی صرف مسلمانوں کے ساتھ کی جائے اور کفار کے ساتھ سلوک میں مسلمان نیکیوں کو چھوڑ کر بدترین برائیوں پر اتر آئیں حتی کہ کفار کے نزدیک مسلمان ایک خائن اور بدکردار قوم کے نام سے معروف ہوں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” ولا تکرھوا فتیتکم علی البغآء ان اردن تحصنا لتبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا، (النور : ٣٣)

ترجمہ : اور اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کروجب کہ وہ پاک دامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم (اس بدکاری کے کاروبار کے ذریعہ) دنیا کا عارضی فائدہ طلب کرو۔

کیا اس آیت کی رو سے مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی دارالکفر میں کافر عورتوں کا کوئی قحبہ خانہ کھول کر کاروبار کرنا شروع کردیں ؟

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول و تخونوا امنتکم وانتم تعلمون “۔۔ (الانفال : ٢٧)

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو درآں حالیکہ تم جانتے ہو۔۔

کیا اس آیت سے مسلمانوں کے لیے یہ جائز ہے کہ کافروں کی امانتوں میں خیانت کرلیا کریں ؟

(آیت) ” ولا تتخذوا ایمانکم دخلا بینکم “۔ (النحل : ٩٤)

ترجمہ : اور اپنی قسموں کو آپس میں دھوکا دینے کے لیے بہانہ نہ بناؤ۔

کیا اس آیت کا یہ معنی ہے کہ کافروں سے دروغ حلفی میں کوئی مضائقہ نہیں ؟

(آیت) ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لہم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ “۔ (النور : ١٩)

ترجمہ : بیشک جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لیے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہے۔

کیا اس آیت سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ کافروں میں بےحیائی اور بدکاری کو پھیلانا جائز اور صواب ہے اور اخروی ثواب کا موجب ہے ؟

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا منشاء یہ ہے کہ اخلاق اور کردار کے اعتبار سے دنیا میں مسلمان ایک آئیڈیل قوم کے لحاظ سے پہچانے جائیں ‘ غیر اقوام مسلمانوں کے اعلی اخلاق اور کردار کو دیکھ کر متاثر ہوں ‘ مسلمانوں کی امانت اور دیانت کی ایک عالم میں دھوم ہو ‘ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ کفار قریش ہزار اختلاف کے باوجود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راست بازی ‘ بارسائی ‘ امانت اور دیانت کے معترف اور مداح تھے۔ اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں تلوار اور جہاد سے زیادہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باکمال سیرت کا حصہ ہے۔ مسلمانوں کی کفار سے لڑائی تیر تفنگ کی نہیں اصول اور اخلاق کی لڑائی ہے ‘ اس کا نصب العین زر اور زمین کا حصول نہیں بلکہ دنیا میں اپنے اصول اور اقدار کو پھیلانا ہے۔ اب اگر اس نے اپنے مکارم اخلاق ہی کو کھودیا اور خود ہی ان اصولوں اور تعلیمات کو قربان کردیا جن کو پھیلانے کے لیے وہ کھڑا ہوا تو پھر اس میں اور دوسری اقوام میں کیا فرق رہے گا اور کس چیز کی وجہ سے اس کو دوسروں پر فتح حاصل ہوگی اور کس قوت سے وہ دلوں اور روحوں کو مسخر کرسکے گا ؟

جو لوگ دارالکفر میں حربی کافروں سے سود لینے کو جائز کہتے ہیں اور حربی کافروں کے اموال کو عقد فاسد کے ساتھ لینے کو جائز قرار دیتے ہیں وہ اس پر کیوں غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے اس عمل کی مذمت کی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کا حق کھانے کے لیے یہ مسئلہ گھڑ لیا تھا کہ عرب کے امی جو ہمارے مذہب پر نہیں ہیں ان کا مال جس طرح ملے روا ہے ‘ غیر مذہب والوں کی امانت میں خیانت کی جائے تو کچھ گناہ نہیں خصوصا وہ عرب جو اپنا آبائی وطن چھوڑ کر مسلمان بن گئے ہیں ‘ خدا نے ان کا مال ہمارے لیے حلال کرد یا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” منھم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک الا ما دمت علیہ قآئما ذلک بانھم قالوالیس علینا فی الامین سبیل ویقولون علی اللہ الکذب وھم یعلمون “۔۔ (آل عمران : ٧٥)

ترجمہ : اور ان یہودیوں (میں سے) بعض ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک اشرفی امانت رکھو تو جب تک تم انکے سر پر کھڑے نہ رہو وہ تم کو واپس نہیں دیں گے ‘ یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے کہہ دیا کہ امیوں (مسلمانوں) کا مال لینے سے ہماری پکڑ نہیں ہوگی اور یہ لوگ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں ‘۔

غور کیجئے جو لوگ دارلکفر میں حربی کافروں سے سود لینے اور عقد فاسد پر ان سے معاملے کو جائز کہتے ہیں ان کے عمل میں اور یہودیوں کے اس مذموم عمل میں کیا فرق رہ گیا ؟

حضرت ابوبکر کے قمار کی وضاحت :

جو لوگ حربی کافروں سے سود لینے کو جائز کہتے ہیں ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر نے مکہ میں ابی بن خلف سے اہل روم کی فتح پر شرط لگائی تھی ‘ اس وقت مکہ دارالحرب تھا ‘ حضرت ابوبکر نے ابی بن خلف سے شرط جیت کر وہ رقم وصول کرلی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں رقم لینے سے منع لینے سے منع نہیں کیا تھا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ حربی کافروں سے قمار اور دیگر عقود فاسدہ کے ذریعہ رقم بٹورنا جائز ہے۔

یہ استدلال بالکل بےجان ہے کیونکہ حضرت ابوبکر کے شرط لگانے کا ذکر جن روایات میں ہے وہ باہم متعارض ہیں۔ قاضی بیضاوی ‘ بغوی ‘ علامہ آلوسی اور دیگر مفسرین نے بغیر کسی سند کے یہ واقعہ ذکر کیا ہے جس میں حضرت ابوبکر کے شرط جیتنے کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نے ابی بن خلف سے یہ شرط لگائی کہ اگر تین سال کے اندر رومی ایرانیوں سے ہارگئے تو وہ دس اونٹ دیں گے اور اگر تین سال کے اندر رومی ایرانیوں سے جیت گئے تو ابی کو دس اونٹ دینے ہوں گے پھر جب حضور سے اس شرط کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا ‘ بضع کا لفظ تین سے لے کر نو تک بولا جاتا ہے تم شرط اور مدت دونوں کو بڑھا دو ‘ پھر حضرت ابوبکر نے نو سال میں سو اونٹوں کی شرط لگائی جس ساتواں سال شروع ہوا اور ابن ابی حاتم اور ابن عساکر کی روایت میں ہے کہ جنگ بدر کے دن رومی ایرانیوں پر غالب آگئے ‘ حضرت ابوبکر نے ابی کے روثاء سے اونٹ لے لیے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وہ اونٹ لے کر آئے ‘ آپ نے فرمایا : یہ سحت (مال حرام) ہے ‘ اس کو صدقہ کردو حالانکہ اس وقت تک حرمت قمار کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ (روح المعانی ج ٢١ ص ١٨‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

علامہ آلوسی نے ترمذی کے حوالے سے بھی حضرت ابوبکر کے جیت جانے کا واقعہ لکھا ہے لیکن یہ علامہ آلوسی کا تسامح ہے۔ ” جامع ترمذی “ میں حضرت ابوبکر کے شرط ہارنے کا ذکر ہے ‘ حافظ ابن کثیر نے بھی ترمذی کے حوالے سے ہارنے ہی کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ تابعین کی ایک جماعت نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور مفسرین کی ذکر کردہ مذکور الصدر روایت کا عطاء خراسانی کے حوالے سے بیان کیا ہے اور اس کو اغرب قرار دیا ہے۔ (تفسیر القرآن العظیم ج ٥ ص ٣٤٢۔ ٣٤١“ مطبوعہ دار الاندلس ‘ بیروت)

” جامع ترمذی “ کی روایت کا متن یہ ہے :

نیار بن اسلمی بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئیں : (آیت) ” الم۔ غلبت الروم۔ فی ادنی الارض وھم من بعد غلبھم سیغلبون۔ فی بضع سنین۔ (الروم : ٤۔ ١) الم اہل روم قریب کی زمین میں (فارس سے) مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد چندسالوں میں غالب ہوجائیں گے “۔ جن دنوں یہ آیات نازل ہوئیں ان دنوں میں ایرانیوں کو رومیوں پر برتری تھی اور مسلمانوں کی خواہش تھی کہ رومی ایرانیوں پر فتح پاجائیں کیونکہ وہ اور رومی اہل کتاب تھے ‘ اور اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے :

(آیت) ” ویومئذ یفرح المؤمنون ، A بنصر اللہ ‘ ینصر من یشآء وھو العزیز الرحیم ‘۔ (الروم ٥۔ ٤)

ترجمہ : جس دن مسلمان اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے ‘ اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے مدد کرتا ہے وہ عزیز رحیم ہے “۔

اور قریش یہ چاہتے تھے کہ ایرانی غالب ہوجائیں کیونکہ وہ دونوں نہ اہل کتاب تھے نہ بعثت پر ایمان رکھتے تھے ‘ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضرت ابوبکر نے مکہ کے اطراف میں یہ اعلان کردیا ‘ الم اہل روم قریب کی زمین میں (فارس سے) مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے چند سالوں میں غالب آجائیں گے۔ قریش کے کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر سے یہ کہا : تمہارے پیغمبر یہ کہتے ہیں کہ چند سالوں میں رومی ایرانیوں پر غالب ہوجائیں گے کیا ہم اس پر شرط نہ لگائیں ‘ حضرت ابوبکر نے کہا : کیوں نہیں ‘ اور یہ قمار کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ تھا ‘ پھر حضرت ابوبکر اور مشرکین نے شرط لگائی ‘ مشرکین نے کہا : بضع سنین “ تین سالوں سے لے کر نو سال تک ہے ‘ تم ہمارے درمیان اس کی درمیانی مدت طے کرلو ‘ پھر انہوں نے یہ مدت چھ سال طے کی ‘ پھر چھ سال گزر گئے اور رومی غالب نہ ہوئے ‘ پھر مسلمانوں نے حضرت ابوبکر پر تنقید کی کہ انہوں نے ” بضع سنین “ کو چھ سال کیوں قرار دیا ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو ” بضع سنین “ فرمایا تھا (اور وہ نو سال تک کو کہتے ہیں) امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے (جامع ترمذی ص ‘ ٢٦٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ابوبکر کے قمار سے جو یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ حربی کافروں کا مال ناجائز طریقے سے بھی لینا جائز ہے ‘ اس روایت کی تحقیق کے بعد اس کے حسب ذیل جواب ہیں :

(١) حضرت ابوبکر کے قمار کا واقعہ جن روایات سے ثابت ہے وہ مضطرب ہیں ‘ بعض روایات میں حضرت ابوبکر کے جیتنے کا ذکر ہے اور بعض میں ہارنے کا ذکر ہے اور مضطرب روایات سے استدلال صحیح نہیں ہے۔

(٢) قمار کا یہ واقعہ بالاتفاق حرمت قمار سے پہلے کا ہے کیونکہ یہ شرط فتح مکہ سے پہلے لگائی گئی تھی اور قمار کی حرمت سورة مائدہ میں نازل ہوئی ہے جو مدینہ میں سب سے آخر میں نازل ہوئی تھی۔

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مال کو نہ خود قبول فرمایا نہ حضرت ابوبکر کو لینے دیا ‘ بلکہ فرمایا : یہ مال حرام ہے ‘ اس کو صدقہ کردو (اس میں یہ دلیل ہے کہ جب انسان کسی مال حرام سے بری ہونا چاہیے تو برأت کی نیت سے اس کو صدقہ کردے)

دارالحرب ‘ دارالکفر اور دارالاسلام کی تعریفات :

شمس الائمہ سرخسی دارالحرب کی تعریف بیان کرتے ہیں ہوئے لکھتے ہیں :

خلاصہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک دارالحرب کی تین شرطیں ہیں ‘ ایک یہ کہ اس پورے علاقے میں کافروں کی حکومت ہو اور درمیان میں مسلمانوں کا کوئی ملک نہ ہو ‘ دوسری یہ کہ اسلام کی وجہ سے کسی مسلمان کی جان ‘ مال اور عزت محفوظ نہ ہو ‘ اسی طرح ذمی بھی محفوظ نہ ہو ‘ تیسری شرط یہ ہے کہ اس میں شرک کے احکام ظاہر ہوں۔

یہ تعریف اس مالک پر صادق آئے گی جس ملک سے مسلمان عملا برسرجنگ ہوں ‘ اس ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہ ہوں اور وہاں کسی مسلمان کی اس کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے جان ‘ مال اور عزت محفوظ نہ ہو جیسا کہ کسی زمانہ میں اسپین میں تھا وہاں ایک ایک مسلمان کو چن چن کر قتل کردیا گیا ‘ وہاں مذہب اسلام پر قائم رہنا قانونا جرم تھا۔ ایسے ملک سے مسلمانوں پر ہجرت کرنا فرض ہے۔ فقہاء احناف نے حربی کافروں کی جان اور مال کے مباح ہونے کی جو تصریح کی اس سے اسی دارالحرب کے باشندے مراد ہیں۔

کافروں کے وہ مالک جن سے مسلمانوں کے سفارتی تعلقات ہیں ‘ تجارت اور دیگر انواع کے معاہدات ہیں ‘ پاسپورٹ اور ویزے کے ساتھ ایک دوسرے کے ملک میں آتے جاتے ہیں ‘ مسلمانوں کی جان ‘ مال اور عزت محفوظ ہیں بلکہ مسلمانوں کو وہاں اپنے مذہبی شعائر پر عمل کرنے کی بھی آزادی ہے جیسے امریکا ‘ برطانیہ ‘ ہالینڈ ‘ جرمنی اور افریقی ممالک ‘ یہ ملک دارالحرب نہیں ہیں بلکہ دارالکفر ہیں۔ فقہاء احناف نے اسلامی احکام پر عمل کر نیکی آزادی کے پیش نظر ایسے ملکوں کو دارالا سلام کہا ہے لیکن یہ حکما دارالاسلام ہیں حقیقۃ دارالکفر ہیں۔ بعض اوقات فقہاء دارالکفر پر مجازا دارالحرب کا اطلاق بھی کردیتے ہیں لیکن یہ مالک اور اسلامی احکام پر عمل کی آزادی کی وجہ سے کبھی ان پر دارالاسلام کردیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن صرف اس شک کی طرح کھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کردیا ہو۔ (البقرہ : ٢٧٥)

قیامت میں سود خور کے مخبوط الحواس ہو کر اٹھنے سے جن چڑھنے پر استدلال اور اس کا جواب :

حضرت عوف بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے آپ کو ان گناہوں سے بچاؤ جن کی مغفرت نہیں ہوگی ‘ مال غنیمت میں خیانت کرنے سے ‘ سو جس نے خیانت کی وہ قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز کو لے کر آئے گا ‘ اور سود کھانے سے ‘ سو جس نے سود کھایا وہ قیامت کے دن مخبوط الحواس پاگل کی طرح اٹھے گا ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن صرف اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کردیا ہو۔ (البقرہ : ٢٧٥)

قیامت میں سود خور کے مخبوط الحواس ہو کر اٹھنے سے جن چڑھنے پر استدلال اور اس کا جواب :

حضرت عوف بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے آپ کو ان گناہوں سے بچاؤ جن کی مغفرت نہیں ہوگی ‘ مال غنیمت میں خیانت کرنے سے ‘ سو جس نے خیانت کی وہ قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز کو لے کر آئے گا ‘ اور سود کھانے سے ‘ جس نے سود کھایا وہ قیامت کے دن مخبوط الحواس پاگل کی طرح اٹھے گا ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : جو لوگ سود کھاتے ہیں : وہ قیامت کے دن صرف اس شخص کی طرف اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جس کو شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کردیا ہو۔ (معجم کبیر ج ١٨ ص ‘ ٦٠ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سود خوروں کی یہ علامت بنادے گا ‘ اور قیامت کے مجمع عظیم میں جو شخص پاگلوں کی طرح مخبوط الحواس کھڑا ہوگا اسے دیکھ کر قیامت کے دن سب پہچان لیں گے کہ یہ شخص دنیا میں سود خور تھا۔

مس کا اصل معنی چھونا ہے ‘ بعض اوقات اس کا استعمال کسی برائی اور مصیبت پہنچنے کے لیے بھی ہوتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے ‘ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے دعا کی :

(آیت) ” انی مسنی الشیطن بنصب و عذاب “۔۔ (ص : ٤١)

ترجمہ : شیطان نے مجھے بڑی اذیت اور سخت تکلیف پہنچائی ہے ‘۔

نیک بندوں پر تو شیطان کا اس سے زیادہ اثر نہیں ہوتا کہ وہ ان کو کسی اذیت اور آزمائش میں مبتلا کردے ‘ لیکن عام لوگ جن کی رگوں میں شیطان سیال خون کی طرح دوڑتا ہے ‘ ان میں سے جو فاسق وفاجر ہوتے ہیں کبھی کبھی ان کی عقل اور دماغ پر بھی شیطان کا تسلط ہوجاتا ہے ‘ اور وہ پاگلوں کی طرح کپڑے پھاڑتے ہیں ‘ اور منہ سے جھاگ اڑاتے ہوئے ‘ پریشان حال ‘ پراگندہ بال جدھر سینگھ سمائے خاک اڑاتے پھرتے ہیں۔ ان کو یہ سزا اس لیے دی جائے گی کہ دنیا میں سود خور اپنا مال بڑھانے کی حرص میں اس طرح دیوانہ ہوچکا تھا کہ اس کو نہ خوف خدا تھا نہ کسی ضرورت مند اور مصیبت زدہ پر اس کو ترس آتا تھا اور سودخوری کی محبت میں وہ بالکل مجنون ہوچکا تھا ‘ اس لیے قیامت کے دن اس کو پاگلوں کی طرح مخبوط الحواس اٹھایا جائے گا۔ اہل عرب پاگل شخص کو مجنون کہتے ہیں یعنی یہ آسیب زدہ شخص ہے یا اس پر جن بھوت کا سایہ ہے یا جن کے چھونے کی وجہ سے یہ پاگلوں کی سی حرکتیں کررہا ہے اور مخبوط الحواس اٹھے گا ‘ عرب کے اسی اسلوب اور محاورہ کے مطابق قرآن مجید نے یہ بیان کیا ہے، کہ قیامت کے دن سود خور پاگلوں کی طرح مخبوط الحواس اٹھے گا اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کسی آدمی پر جن چڑھ جاتا ہے پھر اس کے جسم پر جن کا تصرف ہوتا ہے ‘ جن اس کی زبان سے باتیں کرتا ہے اور مافوق الفطرت کام کرتا ہے قرآن مجید اس مفہوم کی تائید اور تصدیق نہیں کررہا جیسا کہ علامہ آلوسی نے سمجھا ہے۔

علامہ آلوسی لکھتے ہیں :

کبھی کسی جسم میں ایک متعفن روح داخل ہوجاتی ہے جس کی اس جسم کی روح کے ساتھ مناسبت ہو ‘ پھر اس شخص پر مکمل جنون طاری ہوجاتا ہے اور بعض اوقات یہ بخاری (متعفن روح) انسان کے حواس پر غالب ہو کر اس کو معطل کردیتا ہے پھر یہ خبیث روح اس کے جسم پر مستقل تصرف کرتی ہے ‘ اس کی زبان سے کلام کرتی ہے اور اس کے اعضاء میں تصرف کرتی ہے اور جس شخص کے جسم میں یہ روح تصرف کرتی ہے اسے اس کا بالکل شعور نہیں ہوتا ‘ اور یہ چیز محسوس اور مشاہدہ میں ہے ‘ اس کا صرف وہی شخص انکار کرے گا جو مشاہدات کا منکر ہوگا (روح المعانی ج ٣ ص ‘ ٤٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

علامہ آلوسی بڑے پائے کے محقق ہیں ‘ ہمارے دل میں ان کا بڑا احترام ہے اس کے باوجود وہ انسان ہیں اور انسانی فروگزاشت سے خالی نہیں ہیں ‘ یہ جو کچھ انہیں نے لکھا ہے تحقیق کے خلاف لکھا ہے اللہ تعالیٰ کسی انسان کے جسم پر کسی اور روح کو تصرف کرنے کا اختیار نہیں دیتا اللہ تعالیٰ نے انسان کو احکام شریعہ کا مکلف کیا ہے ‘ یہ چیز اس قاعدہ کے خلاف ہے ‘ نیز اگر ایسا ہو تو ایک آدمی کو قتل کردے گا اور بعد میں کہہ دے گا کہ یہ کام میں نے نہیں کیا ‘ مجھے اس کا پتا نہیں ‘ مجھ پر اس وقت کسی جن کا اثر تھا یہ قتل اسی نے کیا ہے اسی طرح ہر شخص کوئی بھی قانون شکنی کرکے عدالت سے یہ کہہ کر بری ہوسکتا ہے کہ اس قانون شکنی کے وقت میں کسی خبیث جن کے زیر اثر تھا اور یوں دنیا فتنہ و فساد کی آماجگاہ بن جائے گی اور امن اور سکون غارت ہوجائے گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع سود ہی کی مثل ہے ‘ اور اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ (البقرہ : ٢٧٥)

ربا اور بیع کا فرق :

اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ سود خوروں کو قیامت کے دن مجنون اور مخبوط الحواس شخص کی طرح اس سے لیے اٹھایا جائے گا کہ وہ دنیا میں کہا کرتے تھے کہ بیع سود ہی کی مثل ہے ‘ یہ ظاہر ان کو یوں کہنا چاہتے تھا کہ سود بیع ہی کی مثل ہے ‘ لیکن انہوں نے گا کہ وہ دنیا میں کہا کرتے تھے کہ بیع کہ سود ہی کی مثل ہے ‘ بہ ظاہر ان کو یوں کہنا چاہیے تھا کہ سود بیع ہی کی مثل ہے لیکن انہوں نے سود کے جائز اور حلال ہونے میں مبالغہ کیا ‘ اور جواز اور حلت میں سود کو اصل اور مشبہ بہ قرار دیا ‘ ان کا یہ قیاس فاسد تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے صریح عبارت سے ان کا رد کرتے ہوئے فرمایا : اللہ نے بیع کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔

سود خوروں کا یہ کہنا کہ سود بیع کی طرح ہے بداہۃ باطل ہے ‘ سود اور بیع کے فرق کی بہت سی وجوہ ہیں جن میں سے بعض حسب ذیل ہیں :

(١) بیع میں تاجر دس روپے کی چیز کو مثلا بارہ روپے کی بیچتا ہے اور دس روپے کی چیز پر دو روپے زائد لیتا ہے اور سود میں سود خور ایک ماہ کے لیے مثلا دس روپے قرض دیتا ہے اور اس کے عوض بارہ روپے وصول کرتا ہے ‘ اور اس سے اصل رقم پر وہ روپے زائد وصول کرتا ہے ‘ کیونکہ ان دونوں میں یہ فرق ہے کہ تاجر دس روپے کی چیز کو منڈی سے تھوک فروشوں سے تھوک کے حساب سے زیادہ مقدار میں خریدتا ہے ‘ وہاں سے کسی گاڑی میں وہ سامان لاد کر لاتا ہے ‘ پھر وہ چیز بارہ روپے میں فروخت کرتا ہے ‘ اس پورے عمل میں اس دو پے کے نفع پر تاجر کا وقت ‘ اس کی محنت اور اس کی ذہانت صرف ہوئی ہے اس لیے خریدار اس نفع کو تاجر کا جائز حق سمجھتا ہے اور وہ یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگر وہ اپنا وقت اور کرایہ خرچ کرکے منڈی جائے تب بھی اس کو تھوک فروشوں سے تھوک کے بھاؤ پر یہ چیز نہیں ملے گی ‘ اس کے برعکس سود خور دس روپے پر ایک ماہ بعد جو دو رپے زائد لے رہا ہے اس کے لیے اس کیوقت ‘ محنت اور ذہانت میں سے کوئی چیز خرچ نہیں ہوئی۔

(٢) تاجر جب اپنا روپیہ تجارت میں لگاتا ہے تو اس میں نفع اور نقصان کے دونوں امکان ہیں ‘ اس کے برعکس سود خور جو اپنے روپے پر سود وصول کررہا ہے اس کو نقصان کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

(٣) تجارت میں مبیع اور قیمت کے تبادلہ کے بعد بیع مکمل ہوجاتی ہے لیکن سود میں اصل رقم واپس کرنے کے بعد اس پر سود در سود کا سلسلہ عرصہ دراز تک قائم رہتا ہے۔

ربا کو بہ تدریج حرام کرنے کا بیان :

شراب کی طرح سود کو بھی اللہ تعالیٰ نے بہ تدریج حرام کیا ہے ‘ سب سے پہلے مکہ مکرمہ میں سود کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی :

(آیت) ” وما اتیتم من ربالیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عنداللہ واما اتیتم من زکوۃ تریدون وجہ اللہ فاولیئک ھم المضعفون “۔۔ (الروم : ٣٩)

ترجمہ : اور جو مال تم سود حاصل کرنے کے لیے دیتے ہو تو وہ مال لوگوں کے مال میں شامل ہو کر بڑھتا ہی رہے ‘ تو وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا ‘ اور جو تم اللہ کی رضا جوئی کے لیے زکوۃ دیتے ہو تو وہی لوگ اپنا مال (بکثرت) بڑھانے والے ہیں۔

اس آیت میں صراحۃ سود کو حرام نہیں فرمایا : صرف اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے :

سود کے متعلق یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی اور باقی آیات مدینہ میں نازل ہوئیں دوسری آیت یہ ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا : یہود کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی ایسی پاک چیزیں حرام کردیں جو پہلی ان کے لیے حلال کی گئی تھیں اور اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہ کثرت روکتے تھے ‘ نیز فرمایا :

(آیت) واخذھم الربوا وقدنھوا عنہ واکلہم اموال الناس بالباطل “۔ (النساء : ١٦١ )

اور ان کے سود لینے کی وجہ سے حالانکہ انکو سود لینے سے منع کیا گیا ہے اور اس وجہ سے کہ وہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے۔

اس آیت میں بھی مسلمانوں کو سودی کا کاروبار سے صراحۃ منع نہیں فرمایا صرف یہ اشارہ فرمایا کہ یہود پر عتاب کی وجہ ان کا سودی کاروبار تھا پھر یہ آیت نازل فرمائی :

(آیت) ”۔ یایھا الذین امنوا لا تاکلوا الربوا اضعافا مضعفۃ (آل عمران : ١٣٠)

ترجمہ : اے ایمان والو ! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ۔

اس آیت میں بھی مطلقا سود سے منع نہیں فرمایا بلکہ سود در سود سے منع فرمایا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زیر بحث آیت میں مطلقا سود کو حرام فرما دیا :

(آیت) ”۔ واحل اللہ البیع وحرم الربوا “۔ (البقرہ : ٢٧٥)

ترجمہ : اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کردیا۔

نیز فرمایا :

(آیت) ”۔ یایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وذروا مابقی من الربوا ان کنتم مؤمنین “۔۔ (البقرہ : ٢٧٨)

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور باقی ماندہ سود کو چھوڑ دو ‘ اگر تم مومن ہو “۔

ربا کو حرام قرار دینے کی حکمتیں :

اسلام نے حرکت اور عمل کی تعلیم دی ہے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک ‘ ہمسایوں سے ہمدردی ‘ فقراء اور مساکین اور دیگر ضرورت مندوں کے ساتھ شفقت اور ایثار کی تلقین کی ہے ‘ اسلام کسی ایسے کسب کی اجازت نہیں دیتا جس میں انسان کی کوشش اور جدوجہد کا دخل نہ ہو وہ صدقہ کرنے اور قرض حسن دینے کی ترغیب دیتا ہے اور ضرورت مندوں کے استحاصل سے منع کرتا ہے ‘ اور ہر اس چیز کو حرام قرار دیتا ہے جو عداوت ‘ بغض ‘ مناقشہ اور نزاع کا موجب ہے ‘ اور کینہ ‘ حسد ‘ حرص اور طمع کی بیخ کنی کرتا ہے اور مال کو صرف جائز اور مشروع طریقہ سے لینے کی اجازت دیتا ہے جس میں کسی پر ظلم نہ ہو ‘ اور چند ہاتھوں میں دولت کے مرتکز ہوجانے کو ناپسند کرتا ہے ان اصولوں کی روشنی میں ربا کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں ہے اس لیے ربا کے حرام ہونے کی حسب ذیل وجوہ ہیں۔

(١) سودخوری کی وجہ سے انسان بغیر کی عمل کے پیسہ کمانے کا عادی ہوجاتا ہے کیونکہ سود کے ذریعہ تجارت یا صنعت وحرفت میں کوئی جدوجہد کیے بغیر پیسہ حاصل ہوجاتا ہے۔

(٢) سود میں بغیر کسی عوض کے نفع ملتا ہے اور شریعت نے بغیر حق شرعی کے مال لینے کو ناجائز قرار دیا ہے اور کمزوروں اور ناداروں کے استحاصل سے منع کیا ہے۔

(٣) سودخوری کی وجہ سے مفلسوں اور ناداروں کے دلوں میں امراء اور سرمایہ داروں کے خلاف کینہ اور بغض پیدا ہوتا ہے۔

(٤) سودخوری کی وجہ سے صلہ کرنے ‘ صدقہ و خیرات کرنے اور قرض حسن دینے ایسے مکارم اخلاق مٹ جاتے ہیں پھر انسان ضرورت مند غریب کی مدد کرنے کے بجائے اس کو سود پر قرض دینے کو ترجیح دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جس شخص کے پاس اس کے رب کی طرف سے نصیحت آگئی پس وہ (سود سے) باز آگیا تو جو کچھ وہ پہلے لے چکا ہے وہ اس کا ہوگیا اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور جس نے دوبارہ اس کا اعادہ کیا تو وہی لوگ دوزخی ہیں وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔۔ (البقرہ : ٢٧٥)

سود خور کے لیے دائما دوزخ کی وعید کی توجیہ :

یعنی جس شخص کو سود کا حرام ہونا معلوم ہوگیا ‘ اور وہ سودی خوری سے رک گیا تو سود کی تحریم سے پہلے وہ جو کچھ لے چکا ہے وہ اس سے واپس نہیں لیا جائے گا ‘ اور اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے ‘ اس کی دو تفسیریں ہیں ‘ ایک یہ کہ اگر اللہ چاہیے تو اس کو آئندہ سود خوری سے محفوظ رکھے گا اور اگر چاہے گا تو ایسا نہیں کرے گا ‘ دوسری تفسیر یہ ہے کہ جو شخص نصیحت پہنچنے کے بعد اخلاص اور صدق نیت سے سود خوری چھوڑ دے گا اس کو اللہ تعالیٰ جزا دے گا ‘ یا اللہ جو چاہے گا اس کے متعلق فیصلہ فرمائے گا ‘ کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے کیونکہ وہی مالک اور حاکم علی الاطلاق ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ جس نے دوبارہ سود لیا تو وہی لوگ دوزخی ہیں وہ اسی میں ہمیشہ رہیں اس سے معتزلہ نے یہ استدلال کیا ہے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہمیشہ دوزخ میں رہتا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص جائز اور حلال سمجھ کر دوبارہ سود لے وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا ‘ کیونکہ حرام قطعی کو حلال سمجھنا کفر ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص سود کے حرام ہونے کے بعد دوبارہ سود لے وہ دوزخ میں دائما رہنے کا مستحق ہے ‘ یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو یہ سزا نہ دے تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ وعید مشیت کے ساتھ مقید ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرے گا اور اس کی جزا اس کو دے گا ‘ جس مومن نے سود لیا ‘ اس کا ایمان بھی تو ایک نیکی ہے ‘ اگر اس کو ہمیشہ دوزخ میں رکھا گیا تو اس کے ایمان کی اس کو جزا نہیں ملے گی اس لیے ضروری ہے کہ کچھ عرصہ دوزخ میں سزا دینے کے بعد اسے جنت میں بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنی برائی اور نیکی دونوں کی جزا پالے ‘ اس لیے یہ آیت مشیت کے ساتھ مقید ہے ‘ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو دوزخ میں دائما رکھے گا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ ایسا نہیں چاہیے گا کیونکہ اس نے فرمایا ہے : جس نے نیکی کی اس کو اس کی نیکی کی جزا ملے گی۔

(آیت) ” فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرا یرہ “۔۔ (الزلزال : ٧)

ترجمہ : سو جس نے ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کی وہ اس (کی جزا) کو دیکھے گا “۔۔

چوتھا جواب یہ ہے کہ زیادہ عرصہ دوزخ سے سزا دینے کو اللہ تعالیٰ نے مجازا دوام کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 275