أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ‌ؕ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا اكۡتَسَبَتۡ‌ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِيۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ‌ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَاۤ اِصۡرًا كَمَا حَمَلۡتَهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ‌‌ۚرَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ‌ ۚ وَاعۡفُ عَنَّا وَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا ۚ اَنۡتَ مَوۡلٰٮنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ

ترجمہ:

اللہ کسی شخص کو اس کی اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا ‘ جو اس (شخص) نے نیک کام کیے ہیں ان کا نفع (بھی) اس کے لیے ہے اور جو اس نے برے کام کیے ہیں ان کا نقصان (بھی) اس کے لیے ہے اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کرنا اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہ ڈالنا جن کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہمیں معاف فرما ‘ اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما ‘ تو ہمارا مالک ہے تو کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا۔ (البقرہ : ٢٨٦)

امام ابن جریر حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا ‘ تو صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم ہاتھ پاؤں اور زبان کے کاموں سے توبہ اور رجوع کرتے ہیں وسوسوں سے کیسے رجوع کریں تو جبریل اس آیت کو لے کر آئے : اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا ‘ بیشک تم وسوسوں سے باز رہنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

امام بخاری ‘ امام مسلم، امام ابودادؤ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے سینہ میں جو وسوسے آتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمالیتا ہے ‘ جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کریں اور ان کی بات نہ کریں۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٧٣٦‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو اس (شخص) نے نیک کام کیے ہیں ان کا نفع (بھی) اس کے لیے ہے ‘ اور جو اس نے برے کام کیے ہیں ان کا نقصان (بھی) اس کے لیے ہے۔ (البقرہ : ٢٨٦)

کسب اور اکتساب کا معنی اور شر کا اکتساب کے ساتھ مخصوص کرنے کی توجیہ :

جس کام کو انسان قصد اور ارادہ سے کرے اس کو کسب اور اکتساب کہتے ہیں ‘ اور خواطر اور وساوس میں انسان کے قصد اور ارادہ کا دخل نہیں ہوتا اس لیے ان پر گرفت نہیں ہوگی ‘ اسی طرح جو کام انسان سے نسیانا اور خطاء ہوجائے یا جو کام اضطراری طور پر صادر ہو ‘ اس پر بھی گرفت نہیں ہوگی۔

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوذر غفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان کاموں کو معاف کردیا جو خطاء ہوں ‘ نسیانا ہوں یا جن کاموں پر انہوں مجبور کیا گیا ہو۔ (سنن ابن ماجہ ص ‘ ١٤٧ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اہل لغت کے نزدیک کسب اور اکتساب کا معنی واحد ہے ‘ اور بعض نے کسب اور اکتساب میں فرق بیان کیا ہے ‘ کسب عام ہے خواہ انسان وہ کام صرف اپنے لیے کرے یا دوسرے کے لیے اور اکتساب اس کام کو کہتے ہیں جو صرف اپنے لیے کیا جائے زمخشری نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیر کے لیے کسب اور شر کے لیے اکتساب کو استعمال کیا ہے ‘ کیونکہ باب افتعال کا خاصہ ہے ! کسی چیز کو زیادہ محنت اور کوشش سے حاصل کرنا ‘ اور جب انسان کسی برے کام کی خواہش کرتا ہے تو اس کی تحصیل میں زیادہ عمل کرتا ہے اس کے لیے اکتساب فرمایا : اور بعض نے کہا : نیکی کے کام انسان کی فطرت کے مطابق ہوتے ہیں اس لیے ان کو کرنیکے لیے زیادہ کوشش نہیں کرنی پڑتی اور برائی کے کام چونکہ انسان کی فطرت کے خلاف ہوتے ہیں اس لیے ان کو کرتے وقت انسان کا نفس بوجھل ہوتا ہے اور انکے لیے زیادہ عمل کرنا پر تا ہے اس لیے ان کے لیے اکتساب فرمایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس کی سرشت میں خیر اور نیکی ہو وہ اگر برا کام کسی وجہ سے کرے گا تو اس کا ضمیر مزاحمت کرے گا اور اسے برائی کے لیے زیادہ دشواری ہوگی ‘ اور جس کی سرشت میں شر اور برائی ہو وہ برے کام کو زیادہ دلچپسی اور زیادہ کوشش سے کرے گا ‘ اس طرح ہر صورت میں برے کام میں زیادہ عمل ہوگا اس لیے برے کام کے لیے اکتساب کا لفظ فرمایا جس میں زیادہ عمل ہے کیونکہ زیادتی لفظ زیادتی معنی پر دلالت کرتی ہے۔

دوسروں کے عمل سے نفع یا ضرر پہنچنے کا بیان :

بہ ظاہر اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو صرف ان ہی کاموں کا نفع یا ضرر ہوگا جو اس نے خود کیے ہوں ‘ لیکن تحقیق یہ ہے کہ جن کاموں کے وجود میں آنے کے لیے کسی طور سے بھی کسی انسان کا دخل ہو تو اگر وہ اچھے کام ہیں تو اس کو ان کا نفع پہنچے گا اور اگر وہ برے کام ہوں تو اس کو ان کو ضرر پہنچے گا ‘ مثلا ایک آدمی نے مسجد بنوا دی یا لائبریری قائم کردی تو جب تک اس مسجد میں نمازیں پڑھی جاتی رہیں گی اس کو اس کا اجر ملتا رہے گا اور جب تک اس لائبریری میں کتابیں پڑھی جاتی رہیں گی اس کو اجر ملتا رہے گا اس طرح اولاد کے دعا کرنے سے اور کسی استاذ کے پڑھائے ہوئے علم سے اجر ملتا رہے گا ‘ اور جس شخص نے کوئی جوا خانہ ‘ قحبہ خانہ یا شراب خانہ بنایا ہے تو جب تک وہاں برائی کے کام ہوتے رہیں گے اس کے نامہ اعمال میں گناہ لکھے جاتے رہیں گے۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اون کے کپڑے پہنے ہوئے کچھ دیہاتی حاضر ہوئے ‘ آپ نے انکی بدحالی اور ضرورت کو دیکھا ‘ پھر آپ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی لوگوں نے کچھ توقف کیا جس سے آپ کے چہرہ انور پر کبیدگی کے آثار ظاہر ہوئے ‘ پھر ایک نصاری درہموں کی تھیلی لے کر آیا ‘ پھر دوسرا آیا اور پھر صدقہ لانے والوں کاتنانتا بندھ گیا ‘ حتی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مسلمانوں میں کسی نیک طریقہ کی ابتداء کی اور اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا تو اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی نہیں ہوگی اور جس شخص نے مسلمانوں میں کسی برے طریقہ کی ابتداء کی اور اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا تو اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اس شخص کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٤١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام بخاری بیان کرتے ہیں :

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بھی ظلما قتل کیا جائے گا اس کے گناہ میں ایک حصہ پہلے ابن آدم کا ہوگا (یعنی قابیل کا جس نے ہابیل کو ظلما قتل کیا تھا) کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا طریقہ نکالا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٧١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کرنا۔ (البقرہ : ٢٨٦)

خطاء ‘ نسیان اور جو کام جبرا کرائے جائیں ان پر مواخذاہ نہ کرنا :

امام ابن ماجہ ‘ امام ابن المنذر ‘ امام ابن حبان ‘ امام طبرانی ‘ امام دارقطنی ‘ امام حاکم اور امام بیہقی ‘ نے اپنی ” سنن “ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطاء ‘ نسیان اور جس کام پر اس کو مجبور کیا گیا ہو اس سے درگزر فرمالیا ہے۔

امام طبرانی نے اس حدیث کو حضرت ثوبان ‘ حضرت ابن عمر اور حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہم سے بھی روایت کیا ہے۔ اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اور امام ابن عدی نے ” کامل “ میں امام ابونعیم نے ” تاریخ “ میں اور امام سعید بن منصور نے اپنی ” سنن “ میں اس کو حسن سے روایت کیا ہے ‘ ہم اس سے پہلے امام مسلم کی روایت سے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی امام ابن جریر نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہ ڈالنا جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا۔ (البقرہ : ٢٨٦)

سابقہ امتوں کے سخت احکام :

امام ابن جریر نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ ہم کو ایسے احکام کا مکلف نہ کرنا جن کو ہم ادا نہ کرسکیں ‘ جس طرح ہم سے پہلے یہود و نصاری پر سخت احکام کا بوجھ ڈالا گیا ‘ وہ ان احکام پر عمل نہ کرسکے ‘ پھر اس کی سزا میں ان کو بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام داؤد ‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے عبدالرحمان بن حسنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بنو اسرائیل کے کپڑوں پر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے۔

امام ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ بنواسرائیل میں جب کوئی شخص گناہ کرتا تو اس سے کہا جاتا کہ تمہاری توبہ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرو ‘ سو وہ قتل کرتا ‘ اس امت سے ایسے سخت احکام کا بوجھ اٹھا لیا گیا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٧٧ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

سابقہ امتوں پر بہت سخت اور دشوار احکام تھے ان پر پچاس نمازیں فرض تھیں ‘ زکوۃ میں چوتھائی مال کو ادا کرنا فرض تھا ‘ نجس کپڑا کاٹے بغیر پاک نہیں ہوتا تھا۔ مال غنیمت حلال نہیں تھا ‘ مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے ‘ تیمم کی سہولت نہیں تھی ‘ قربانی کو کھانے کی اجازت نہیں تھی ‘ اونٹ کا گوشت حرام تھا ‘ چربی حرام تھی ‘ ہفتہ کے دن شکار کی اجازت نہ تھی ‘ کوئی گناہ کرتے تو فورا دنیا میں اس کی سزا مل جاتی تھی ‘ قصاص میں قتل کرنا لازم تھا ‘ شرک کی توبہ قتل کرنا تھی ‘ جس عضو سے گناہ ہوتا تھا اس کو کاٹ دیا جاتا تھا ‘ دیت کی سہولت نہیں تھی ‘ بعض گناہوں کی سزا میں ان کی صورتوں کو مسخ کرکے بندر اور خنزیر بنادیا جاتا تھا۔

سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت :

امام عبد بن حمید نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت جبرائل (علیہ السلام) نے سورة بقرہ کی آخری دو آیتوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پڑھا تو آپ نے کہا : آمین۔

امام احمد ‘ امام دارمی ‘ امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابو داؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ماجہ اور امام بیہقی نے اپنی ” سنن “ میں حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس نے رات میں سورة بقرہ کی آخری دو آیتوں کو پڑھا تو وہ اس کے لیے کافی ہیں۔

امام طبرانی نے حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت کیا ہے کہ سورة بقرہ کی آخری دو آیتوں کو بار بار پڑھو ‘ کیونکہ اللہ نے ان کی وجہ سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فضیلت دی ہے۔

امام احمد نے اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے سورة بقرہ کی آخری آیتیں عرش کی نیچے سے دی گئی ہیں مجھے سے پہلے یہ کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔

امام طبرانی نے سند جید کے ساتھ حضرت شداد بن اوس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے سے دوہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی اس میں سے دو آیتیں نازل کیں اور سورة بقرہ کو ان پر ختم کیا ‘ جس گھر میں تین راتیں ان دو آیتوں کو پڑھا جائے گا اس گھر میں شیطان نہیں ٹھہرے گا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٧٨ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

کلمات تشکر :

١٠ رمضان المبارک ١٤١٤ ھ۔ بہ مطابق ٢١ فروری ١٩٩٤ ء کو میں نے ” تبیان القرآن “ لکھنے کا آغاذ کیا تھا اسی سال اللہ نے تعالیٰ نے مجھے فریضہ حج کی ادائیگی سے نوازا اور اپنے کرم سے حج اکبر عطا کیا حج سے پہلے اور بعد حج کی مصروفیات اور تھکاوٹ کی وجہ سے لکھنے میں تاخیر ہوتی رہی ‘ ٢٨ فروری ١٩٩٥ ء کو مقدمہ تفسیر ‘ سورة فاتحہ اور پہلے پارہ کی تفسیر مکمل ہوئی ‘ ١٠ جولائی ١٩٩٥ ء کو دوسرے پارہ کی تفسیر مکمل ہوئی اور ١٢ ربیع الاول ١٤١٦ ھ۔ ١٠ اگست ١٩٩٥ ء کو سورة بقرہ کی تفسیر مکمل ہوگئی ‘ فالحمد للہ رب العالمین۔

١٠ رمضان المبارک کو ” تبیان القرآن “ کی پہلی جلد کا افتتاح ہوا اور بارہ ربیع الاول جشن آمد رسول کے مبارک دن یہ جلد مکمل ہوگئی ‘ اس جلد کا افتتاح اور اختتام مبارک ایام میں ہوا ہے سو الہ العلمین اس کتاب کو مبارک بنادے ‘ ہمارے دلوں کو قرآن مجید کی ہدایات سے معمور کردے اور ہماری روحوں کو احادیث مبارکہ کے انوار سے منور کردے اور ہمارے بدن اور ہمارے تمام اعضاء کو قرآن اور سنت کے تابع کردے۔ رب العلمین ! جس طرح تو نے ” تبیان القرآن “ کی اس پہلی جلد کو مکمل کرنے کی توفیق دی ہے اسی طرح اپنے کرم سے اس کی باقی جلدوں کو بھی مکمل کرنے کی سعادت عطا فرما ‘ اس کتاب کو مقبولیت عامہ عطا فرما اور تاقیامت اس کے فیض کے چشموں کو جاری رکھ اور اس کے مندرجہ جات پر مجھ سمیت سب کو عمل کی توفیق عطا فرما ‘ اس کتاب کو مخالفین کے لیے ہدایت اور موافقین کے لیے استقامت کا موجب بنا ‘ اس کو میرے لیے صدقہ جاری کر دے۔ مجھے ‘ میرے والدین کو ‘ میرے اقرباء کو ‘ میرے اساتذہ اور تلامذہ کو ‘ میرے احباب اور معاونین کو ”’ تبیان القرآن “ کے ناشر کاتب اور مصحح کو اور جملہ مسلمانوں کو دنیا اور آخرت کے مصائب ‘ آفات اور بلاؤں سے محفوظ اور مامون رکھ اور دنیا اور آخرت کی ہر خیر ‘ ہر سعادت اور ہر کامرانی عطا فرما۔ آمین۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین قائد المرسلین شفیع المذنبین وعلی الہ الطیبین الطاھرین و اصحابہ الکاملین الراشدین وازواجہ امھات المومنین وعلی اولیاء امتہ و علماء ملتہ من المفسرین والمحدثین والمجتھدین الراسخین اجمعین الی یوم الدین :

غلام رسول سعیدی غفرلہ ‘

خادم الحدیث ‘ دارالعلوم نعیمیہ :

٣١ رجب ٧٢٤١ ھ۔ ٩ اگست ٢٠٠٦ ء

فون : ٩٠٣٦٥١٢، ٠٣٠٠۔ ٤٤٧١٢٠٢، ٠٣٢١

سورۃ 2 – البقرة – آیت 286