أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نَزَّلَ عَلَيۡكَ الۡـكِتٰبَ بِالۡحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَيۡهِ وَاَنۡزَلَ التَّوۡرٰٮةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَۙ‏

ترجمہ:

اس نے حق کے ساتھ آپ پر کتاب نازل کی جو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں اور اس نے تورات اور انجیل کو نازل کیا

تفسیر:

قرآن مجید کا کتاب حق ہونا :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس نے حق کے ساتھ آپ پر کتاب نازل کی جو ان کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں اور اس نے تورات اور انجیل کو نازل کیا۔ اس کتاب سے پہلے لوگوں کی ہدایت کے لیے اور فرقان (حق اور باطل میں امتیاز کرنے والا) نازل کیا ‘ بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب منتقم ہے۔ (آل عمران : ٤۔ ٣)

جمہور مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ اس آیت میں کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور تنزیل کا معنی ہے کسی چیز کو بتدریج نازل کرنا۔ اور قرآن مجید آپ پر ضرورت اور مصلحت کے اعتبار سے ٢٣ سال میں نازل ہوا ہے حق کا معنی ہے صدق ‘ قرآن کریم کی دی ہوئی ماضی کی خبریں اور مستقبل کی پیش گوئیاں سب صادق ہیں اور قرآن مجید کے وعد اور وعید بھی صادق ہیں۔ اس لیے قرآن مجید حق ہے ‘ حق کا دوسرا معنی یہ ہے کہ جب کوئی اس وقت اس مقدار اور اس کیفیت میں آئی ہو کہ جس وقت ‘ مقدار اور جس کیفیت میں اس کو ہونا چاہیے اس لحاظ سے قرآن کریم کے احکام بھی حق ہیں کیونکہ وہ احکام صحیح وقت میں نازل ہوئے ‘ صحیح مقدار (مثلا ‘ کتنے فرائض ہوں) اور صحیح کیفیت (مثلا کون سی چیز فرض کی جائے اور کون سی حرام) کے ساتھ نازل ہوئے ‘ اس لیے قرآن مجید کی خبریں اور وعدے اور وعیدات بھی حق ہیں کیونکہ وہ صادق ہیں اور قرآن مجید کے احکام بھی حق ہیں کیونکہ وہ صحیح وقت ‘ صحیح مقدار اور صحیح کیفیت کے ساتھ نازل ہوئے ہیں اس آیت میں تورات اور انجیل کا ذکر ہے پہلے ہم تورات کی تحقیق کریں گے اس کے بعد انجیل کا بیان کریں گے۔ فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔

تورات کا معنی ‘ مصداق اور لفظی تحقیق :

بعض علماء نے کہا ہے کہ تورات کا لفظ توریہ سے ماخوذ ہے ‘ توریہ کنایہ کو کہتے ہیں چونکہ تورات میں زیادہ تر مثالیں ہیں اس لیے اس کو توریہ کہا گیا اور بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ عبرانی زبان کا لفظ ہے اور عبرانی زبان میں تورات کا معنی شریعت ہے۔ یہ دوسری رائے زیادہ صحیح ہے۔

تورات موجودہ بائبل (کتاب مقدس) کا ایک حصہ ہے ‘ کتاب مقدس کے دو اہم حصے ہیں۔

(١) پرانا عہد نامہ

(٢) نیا عہد نامہ۔ پرانا عہدنامہ نئے عہد نامے سے نستبا زیادہ ضخیم ہے ‘ کل بائبل تمام عیسائیوں کی مذہبی کتاب ہے لیکن یہودیوں کی مذہبی کتاب صرف پرانا عہد نامہ ہے۔

پرانے عہد نامہ کے مشمولات :

پرانا عہد نامہ یہودیوں کے مختلف مقدس صحیفوں کا مجموعہ ہے علماء یہود نے عہد نامہ قدیم کو تین حصوں میں تقیسم کیا ہے۔

(١) تورات : (٢) صحائف انبیاء (٣) صحائف مقدسہ۔ تورات کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ اس میں بنی نوع بشر کی پیدائش سے لے کر بنی اسرائیل کی تاریخ تک اور اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات تک بحث کی گئی ہے ‘ نبی اسرائیل کے لیے جو معاشرتی قوانین اور عبادات کے طریقے واضع کئے گئے تھے وہ سب اس میں مندرج ہیں۔ اصل تورات حسب ذیل پانچ صحیفوں پر مشتمل ہے۔

اصل تورات کے مشمولات :

(١) تکوین : اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے کے لوگوں کے احوال بیان کئے گئے ہیں تاکہ آل یعقوب نمایاں ہو اردو کی کتاب میں اس صحیفہ کا نام پیدائش ہے۔

(٢) خروج : اس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے لے کر ان کے اعلان نبوت اور کوہ طور پر جانے اور ان کو احکام دیئے جانے تک کے احوال مذکور ہیں۔

(٣) لاویین : اس میں خصوصیت کے ساتھ بنی اسرائیل کی عبادتوں کے طریقہ کا ذکر ہے اردو کی کتاب میں اس صحیفہ کا نام احبار ہے۔

(٤) عدادا : اس میں خروج کے بعد کے بنی اسرائیل کے احوال مذکور ہیں کہ کس طرح بنی اسرائیل نے اردن اور ماوراء اردن کا علاقہ فتح کیا نیز اس میں تدریجی احکام اور قوانین کا بھی ذکر ہے اردو کی کتاب میں اس صحیفہ کا نام گنتی ہے۔

(٥) تثنیہ : اس میں تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی گئی ہے اور قوانین کا ایک مجموعہ پیش کیا ہے ‘ یہ صحیفہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے ذکر پر ختم ہوتا ہے۔ یہ پانچ صحائف اصل تورات ہیں اس کے علاوہ عہدنامہ قدیم میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد میں آنے والے انبیاء پر نازل ہونے والے صحیفوں کو بھی شامل کیا گیا مثلا یوشع ‘ قضاۃ صمویل اور ملوک وغیرہ زبور بھی ان صحائف میں شامل ہے بعض صحائف کا جزو ہیں یہ کل ٣٤ صحیفے ہیں عہد نامہ قدیم (اردو) میں تورات کے پانچ صحائف کے یہ ٣٤ صحائف شامل ہیں شروع میں ان ٣٩ صحائف کی فہرست ہے یہ تمام صحائف عبرانی زبان میں تھے البتہ دانیال اور عزرا آرامی زبان میں تھے۔

موجودہ تورات کے متعلق یہودی اور عیسائی علماء اور مفکرین کا نظریہ :

پہلی صدی عیسوی تک تمام یہودی اور عیسائی علماء اور مفکرین کا نظریہ :

پہلی صدی عیسوی تک تمام یہودیوں اور عیسائی کا یہ متفقہ عقیدہ تھا کہ تورات باقی تمام صحائف سمیت یعنی مکمل عہدنامہ قدیم لفظا لفظا وحی منزل من اللہ ہے اور جو کچھ بھی بین الدفتین (اس جلد میں) ہے۔ وہ اللہ کا کلام ہے۔ اور یجن متوفی ٢٥٤ ء پہلا عیسائی عالم تھا جس نے یہ اعتراف کیا کہ عہد نامہ قدیم کی بعض عبارتیں معنوی طور سے صحیح نہیں ہیں اور بعض عبارات اخلاقی اعتبار سے پست اور مذموم ہیں ایک اور عیسائی عالم پوفری متوفی ٣٠٤ ء نے یہ خیال ظاہر کیا کہ صحیفہ دانیال بابل کی جلاوطنی کے زمانہ میں نہیں لکھا گیا بلکہ چار صدی بعد ضبط تحریر میں آیا اسی طرح ایک ہسپانوی یہودی عالم ابن عذراء متوفی ١١٦٧ ء نے تحقیق کی کہ صحائف خمسہ (تورات) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کی تالیف ہیں ‘ ایک فاضل جرمن عالم رائما روس متوفی ١٧٤٧ ء نے ایک ضخیم تصنیف شائع کی جس میں اس نے بائبل کے منزل من اللہ ہونے سے انکار کیا اسی طرح اور بہت سے محققین نے یہ ثابت کیا ہے کہ تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد تالیف کی گئی ہے اور موجودہ تورات مع بقیہ صحائف وحی الہی نہیں ہیں۔

حوادث روز گار کے ہاتھوں تورات کا تلف ہوجانا :

تاریخ سے ثابت ہے کہ حوادث زمانہ کے ہاتھوں تورات کئی بار تلف ہوئی ٧٠٥ قبل مسیح سے ١٣٥ ء تک فلسطین مسلسل مختلف حملہ آوروں اور فاتحین کی جو لانگاہ بنا رہا۔ ٧٠٠ ق م میں سنے کرب حملہ آور ہوا اور یروشلم کا محاصرہ کیا۔ ٥٨٦ ق م میں بخت نصر حملہ آور ہوا اور یروشلم کو تباہ کردیا اس تباہی میں تورات خاکستر ہوگئی اور یہودیوں کو مملکت بابل میں جلاوطن کردیا گیا۔ ٥٣٨ ق م سے لے کر ٣٣٢ ق م تک فلسطین ایران کے زیر اقتدار رہا۔ ٣٣٢ ق م سے لے کر ٣٢٣ ق م تک فلسطین سکندر اعظم کے زیر اقتدار رہا اور ٦٣ ق م سے لے کر ٣٩٥ ء تک فلسطین سلطنت روما کے زیراقتدار رہا۔ اس تفصیل سے ظاہر ہوگیا کہ یہودیوں کے اصل صحائف مقدسہ حوادث زمانہ کی نذر ہوگئے۔

تورات کی نشاۃ ثانیہ :

اس بات کا کوئی محقق تاریخی ثبوت نہیں ہے کہ موجودہ صحائف تورات کب مرتب ہوئے عام خیال یہ ہے کہ عزرا نبی (حضرت عزیر) نے ان کو دوبارہ مرتب کیا ایک مروجہ روایت کے مطابق حضرت عزرا نے ٩٤ صحائف ٤٠ روز میں پانچ کاتبوں کو لکھوائے جن میں سے ٣٤ صحائف اب عہد نامہ قدیم میں شامل ہیں اور باقی ٦٠ صحائف غیر مستند قرار دیئے گئے (انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا) عہد قدیم کا قدیم ترین نسخہ ٩١٦ ء کا تحریر شدہ ہے دوسری صدی عیسوی سے پہلے جو مخطوطات تھے وہ ایک دوسرے سے بہت مختلف تھے عبرانی متن میں ایسے آثار بھی پائے جاتے ہیں جن سے یہ بھی ہوتا ہے کہ اوائل زمانہ میں عبارت میں ردوبدل کرنا جائزسمجھا جاتا تھا۔ اتنا تو خود علماء یہود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ تورات میں ١٨ مقامات ایسے ہیں جہاں اوائل زمانہ میں کاتبوں نے عمدا ” تبدیلیاں کیں “ یہ تمام صحائف ایک مولف کے مرتب کئے ہوئے نہیں ہیں بلکہ رفتہ رفتہ اضافے ہوتے رہے اور وہ کئی مرحلوں سے گزرنے کے بعد موجودہ شکل میں پہنچے ہیں۔

یہود اصل تورات کو گم کرچکے تھے اور موجودہ تورات بعد میں مرتب کی گئی ہے اس کی شہادت پرانے عہدنامے میں بھی موجود ہے ‘ کیونکہ پرانے عہد نامے میں لکھا ہے کہ جب یوسیاہ بادشاہ کے اٹھارویں برس میں ہیکل سلیمانی کی دوبارہ مرمت ہوئی تو تورات اچانک مل گئی۔

اور سردار کاہن خلقیاء نے سافن منشی سے کہا کہ مجھے خداوند کے گھر میں توریت کی کتاب ملی ہے اور خلقیاہ نے وہ کتاب سافن کو دی اور اس نے اس کو پڑھا، اور سافن منشی بادشاہ کے پاس آیا اور بادشاہ کو خبر دی کہ تیرے خادموں نے وہ نقدی جو ہیکل میں ملی لے کر کارگزاروں کے ہاتھ میں سپرد کی جو خداوند کی گھر کی نگرانی رکھتے ہیں ‘ اور سافن منشی نے بادشاہ کو یہ بھی بتایا کہ کہ خلقیاہ کاہن نے ایک کتاب میرے حوالہ کی ہے اور سافن نے اسے بادشاہ کے حضور پڑھا، جب بادشاہ نے توریت کی کتاب کی باتیں سنیں تو اپنے کپڑے پھاڑے، اور بادشاہ نے خلقیاہ کاہن اور سافن کے لیے اخی قام اور میکایاہ کے بیٹے عکبور اور سافن منشی اور عسایاہ کو جو بادشاہ کا ملازم تھا یہ حکم دیا کہ، یہ کتاب جو ملی ہے اس کی باتوں کے بارے میں تم جا کر میری اور سب لوگوں اور سارے یہوداہ کی طرف سے خداوند سے دریافت کرو کیونکہ خداوند کا بڑا غضب اس سبب سے ہم پر بھڑکا ہے کہ ہمارے باپ دادا نے اس کتاب کی باتوں کو نہ سنا کہ جو کچھ اس میں ہمارے بارے میں لکھا ہے اس کے مطابق عمل کرتے۔

(٢۔ سلاطین۔ باب : ٢٢ آیت : ١٨۔ ٣) (عہد نامہ قدیم : ص ٣٨٨۔ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور)

موجودہ تورات کے موضوع اور محرف ہونے کے ثبوت میں داخلی شہادتیں :

موجودہ تورات میں حضرات انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق بہت ہی نازبیا اور توہین آمیز عبارات لکھی ہیں جس کتاب کے متعلق الہامی بلکہ اللہ اور رشد و ہدایت کا ذریعہ ہونے کا دعوی کیا جاتا ہو وہ کتاب یقینا “ ایسی نہیں ہوسکتی !

حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق لکھا ہے :

اور نوح کاشتکاری کرنے لگا اور اس نے ایک انگور کا باغ لگایا اور اس نے اس کی مے پی اور سے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈیرے میں برہنہ ہوگیا۔ (پیدائش : باب : ٩ آیت : ٢١۔ ٢٠) (عہد نامہ قدیم ص ١١ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی)

حضرت لوط (علیہ السلام) کے متعلق لکھا ہے :

اور لوط صغر سے نکل کر پہاڑ پر جا بسا اور اس کی دونوں بیٹیاں اس کے ساتھ تھیں کیونکہ اسے صغر میں بستے ڈر لگا اور وہ اور اس کی دونوں بیٹیاں ایک غار میں رہنے لگے، تب پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ ہمارا باپ بوڑھا ہے اور زمین پر کوئی مرد نہیں جو دنیا کے دستور کے مطابق ہمارے پاس آئے، آؤ ہم اپنے باپ کو مے پلائیں اور اس سے ہم آغوش ہوں تاکہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں، سو انہوں نے اسی رات اپنے باپ کو مے پلائی اور پہلوٹھی اندر گئی اور اپنے باپ سے ہم آغوش ہوئی پر اس نے نہ جانا کہ وہ کب لیٹی اور کب اٹھ گئی، اور دوسرے روز یوں ہوا کہ پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ دیکھ کل رات کو میں اپنے باپ سے ہم آغوش ہوئی آؤ آج رات بھی اس کو مے پلائیں اور تو بھی جا کر اس سے ہم آغوش ہو تاکہ ہم اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں، سو اس رات بھی انہوں نے اپنے باپ کو مے پلائی اور چھوٹی گئی اور اس سے ہم آغوش ہوئی پر اس نے نہ جانا کہ وہ کب لیٹی اور کب اٹھ گئی، سو لوط کی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہوئیں، (پیدائش باب : ١٩ آیت : ٣٦۔ ٣٠) (عہد نامہ قدیم ص ١٩ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی)

حضرت ہارون (علیہ السلام) کے متعلق ہے :

اور جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ نے پہاڑ سے اترنے میں دیر لگائی تو وہ ہارون کے پاس جمع ہو کر اس سے کہنے لگے کہ اٹھ ہمارے لیے دیوتا بنادے ‘ جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اس مرد موسیٰ کو جو ہم کو ملک مصر سے نکال کر لایا کیا ہوگیا، ہارون نے ان سے کہا تمہاری بیویوں اور لڑکوں اور لڑکیوں کے کانوں میں جو سونے کی بالیاں ہیں ان کو اتار کر میرے پاس لے آؤ چناچہ سب لوگ ان کے کاموں سے سونے کی بالیاں اتار اتار کر ان کو ہارون کے پاس لے آئے، اور اس نے ان کو ان کے ہاتھوں سے لے کر ایک ڈھالاہوا بچھڑا بنایا جس کی صورت میں چھینی سے ٹھیک کی تب وہ کہنے لگے اے اسرائیل یہی تیری وہ دیوتا ہے جو تجھ کو ملک مصر سے نکال کر لایا ِ ، یہ دیکھ کر ہارون نے اس کے آگے ایک قربان گاہ بنائی اور اس نے اعلان کردیا کہ کل خداوند کے لیے عید ہوگی، اور دوسرے دن صبح سویرے اٹھ کر انہوں نے قربانیاں چڑھائیں، اور سلامتی کی قربانیں گزرانیں، پھر ان ان لوگوں نے بیٹھ کر کھایا پیا اور اٹھ کر کھیل کود میں لگ گئے،

(خروج : باب : ٣٢ آیت : ٦۔ ١) (عہد نامہ قدیم ص ٨٤ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی)

حضرت داؤد (علیہ السلام) کے متعلق ہے :

اور شام کے وقت داؤد اپنے پلنگ پر سے اٹھ کر بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا اور چھت پر سے اس نے ایک عورت کو دیکھا جو نہا رہی تھی اور وہ عورت نہایت خوبصورت تھی، تب داؤد نے لوگ بھیج کر اس عورت کا حال دریافت کیا اور کسی نے کہا کیا وہ العام کی بیٹی بنت سبع نہیں جو حتی اور ریاہ کی بیوی ہے ؟ ، اور داؤد نے لوگ بھیج کر اسے بلالیا وہ اس کے پاس آئی اور اس نے اس سے صحبت کی (کیونکہ وہ اپنی ناپاکی سے پاک ہوچکی تھی) پھر وہ اپنے گھر کو چلی گئی، اور وہ عورت حاملہ ہوگئی سو اس نے داؤد کے پاس خبر بھیجی کہ میں حاملہ ہوں، اور داؤد نے یو آب کو کہلا بھیجا کہ حتی اور یاہ کو میرے پاس بھیج دے سویوآب نے حتی اور یاہ کو داؤد کے پاس بھیج دیا،

(٢ سمویل باب : ١١ آیت : ٧۔ ٢) (عہد نامہ قدیم ص ١١ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی)

چند آیات کے بعد مذکور ہے :

صبح کو داؤد نے یو آب کے لیے ایک خط لکھا اور اسے اور یاہ کے ہاتھ بھیجا، اور اس نے خط میں یہ لکھا کہ اور یاہ کو گھمسان میں سب سے آگے رکھنا اور تم اس کے پاس سے ہٹ جانا تاکہ وہ مارا جائے اور جاں بحق ہو، اور یوں ہوا کہ جو یوآب نے اس شہر کا ملاحظہ کرلیا تو اس نے اور یاہ کو ایسی جگہ رکھا جہاں وہ جانتا تھا کہ بہادر مرد ہیں، اور اس شہر کے لوگ نکلے اور یوآب سے لڑے اور وہاں داؤد کے خادموں میں سے تھوڑے سے لوگ کام آئے اور حتی اور یاہ بھی مرگیا، (٢۔ سمویل ‘ باب ١١‘ آیت : ١٨۔ ١٥) (عہد نامہ قدیم ص ٤۔ ٣٠٣ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی)

اس کے بعد مذکور ہے :

جب اور یاہ کی بیوی نے سنا کہ اس کا شوہر اور ریاہ مرگیا تو وہ اپنے شوہر کے لئے ماتم کرنے لگی، اور جب سوگ کے دن گزر گئے تو داؤد نے اسے بلوا کر اس کو اپنے محل میں رکھ لیا اور وہ اس کی بیوی ہوگئی اور اس سے اس کا ایک لڑکا ہوا پر اس کام سے جسے داؤد نے کیا تھا خداوند ناراض ہوا، (٢۔ سمویل ‘ باب ١١‘ آیت : ٢٧۔ ٢٦) (عہد نامہ قدیم ص ٣٠٤ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی)

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے متعلق ہے :

اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ بہت سی اجنبی عورتوں سے یعنی موآبی ‘ عمونی، ادومی ‘ صیدانی اور حتی عورتوں سے محبت کرنے لگا، یہ ان قوموں کی تھیں جن کی بابت خداوند نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ تم ان کے بیچ نہ جانا اور نہ وہ تمہارے بیچ آئیں کیونکہ وہ ضرور تمہارے دلوں کو اپنے دیوتاؤں کی طرف مائل کرلیں گی، سلیمان ان ہی کے عشق کا دم بھرنے لگا، اور اس کے پاس سات سو شہزادیاں اس کی بیویاں اور تین سو حر میں تھیں اور اس کی بیویوں نے اس کے دل کو پھیر دیا، کیونکہ جب سلیمان بڈھا ہوگیا تو اس کی بیویوں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کرلیا اور اس کو دل خداوند اپنے خدا کے ساتھ کامل نہ رہا جیسا کہ اس کے باپ داؤد کا دل تھا، کیونکہ سلیمان صدانیوں کی دیوی عسارات اور عمونیوں کے نفرتی ملکوم کی پیروی کرنے لگا، اور سلیمان نے خدا کے آگے بدی کی اور اس نے خدا وند کی پوری پیروی نہ کی جیسی اس کے باپ داؤد نے کی تھی، (١۔ سلاطین ‘ باب ١١‘ آیت : ٧۔ ١) (عہد نامہ قدیم ص ٣٤٠ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی)

اس کے بعد مذکور ہے :

اور خدا وند سلیمان سے ناراض ہوا کیونکہ اس کا دل خداوند اسرائیل کے خدا سے پھر گیا تھا۔ جس نے اسے دوبارہ دکھائی دے کر، اس کو اس بات کا حکم کیا تھا کہ وہ غیر معبودوں کی پیروی نہ کرے پر اس نے وہ بات نہ مانی جس کا حکم خداوند نے دیا تھا، اس سبب سے خداوند نے سلیمان کو کہا چونکہ تجھ سے یہ فعل ہوا اور تو نے میرے عہد اور میرے آئیں کو جن کا میں نے تجھے حکم دیا نہیں مانا اس لیے میں سلطنت کو ضرور تجھ سے چھین کر تیرے خادم کو دوں گا، (١۔ سلاطین ‘ باب ١١‘ آیت : ٧۔ ١) (عہد نامہ قدیم ص ٣٤ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی)

تورات سے جو اقتباسات ہم نے پیش کیے ہیں ان میں اس بات کی قوی شہادت ہے کہ موجودہ تورات مکمل وحی الہی نہیں ہے بلکہ اس میں بڑی حد تک تحریف کردی گئی ہے یہ کہنا تو صحیح نہیں کہ تورات تمام تر انسانی تالیف ہے کیونکہ اس میں اللہ کا کلام بھی موجود ہے اور ان ہی آیات کی قرآن مجید نے تصدیق کی ہے جیسا کہ ہم آگے چل کر تفصیل سے بیان کریں گے انشاء اللہ العزیز، سردست ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ تورات کے متعلق قرآن مجید کے کیا ارشادات ہیں :

اصل تورات کے منزل من اللہ ہونے کے متعلق قرآن مجید کے ارشادات :

قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تورات چند صحائف کا مجموعہ ہے :

(آیت) ” ام لم ینبا بما فی صحف موسیٰ “۔ (النجم : ٣٦)

ترجمہ کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ن ہے۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ تورات میں اصل اور متعقدات بھی بیان کئے گئے تھے اور تمام فروعی مسائل اور احکام شرعیہ کے لیے بھی ہدایت دی گئی تھی اور وہ بنواسرائیل کے لیے مکمل دستور حیات تھا۔

(آیت) ” واتینا موسیٰ الکتاب وجعلنہ ھدی لبنی اسرآئیل “۔ (ابنواسرائیل : ٢)

ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اسے بنو اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا۔

(آیت) ” وکتبنالہ فی الالواح من کل شیء موعظۃ و تفصیلا لکل شیء “۔ (الاعراف : ١٤٥)

ترجمہ : اور ہم نے ان کے لیے تورات کی تختیوں میں ہر شے سے نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی۔

قرآن مجید نے تورات کو ضیاء ‘ نصیحت ‘ فرقان ‘ ہدایت اور نور فرمایا :

(آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ وھارون الفرقان وضیآء وذکرا للمتقین (الانبیاء : ٤٨)

ترجمہ : اور بیشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو حق اور باطل میں امتیاز کرنے والے کتاب دی جو متقین کے لیے روشنی اور نصیحت ہے۔

(آیت) ” ولقد اتینا موس الکتاب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی بصآئر اللناس وھدی ورحمۃ لعلہم یتذکرون “۔ (القصص : ٤٣)

ترجمہ : اور بیشک ہم نے پہلے زمانہ کی قوموں کو ہلاک کرنیکے بعد موسیٰ کو کتاب دی درآں حالیکہ ان میں لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے دلیلیں ہیں اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت قبول کریں۔

قرآن مجید سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد کے انبیاء بھی تورات کے مطابق فیصلے کرتے تھے۔

(آیت) ” انا انزلنا التورۃ فیھا ھدی ونور یحکم بہا النبیون الذین اسلموا للذین ھادوا والربانیوں والاحبار بما استحفظوا من کتاب اللہ “ (المائدہ : ٤٤

ترجمہ : بیشک ہم نے تورایت کو نازل کیا جس میں ہدایت اور نور ہے اس کے مطابق انبیاء فیصلہ کرتے رہے جو ہمارے تابع فرمان تھے ‘ (ان لوگوں کا فیصلہ کرتے رہے) جو یہودی تھے اور اسی کے مطابق اللہ والے اور علماء فیصلہ کرتے رہے کیونکہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے۔

یہ بھی قرآن مجید کا امتیاز ہے ورنہ کسی اور مذہبی کتاب نے کسی دوسری مذہبی کتاب کی اس قدر تعریف اور ستائش نہیں کی۔

موجودہ تورات کے محرف ہونے متعلق قرآن مجید کے ارشادات :

قرآن مجید نے بیان کیا ہے کہ یہودی خود کتاب کو تصنیف کرتے تھے کہ یہ اللہ کا کلام ہے :

(آیت) ” فویل للذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عنداللہ لیشتروا بہ ثمنا قلیلا فویل لھم مما کتبت ایدیھم وویل لھم ممایکسبون “۔ (البقرہ : ٧٩)

ترجمہ : سو ان لوگوں کے لیے عذاب ہے جو اپنے ہاتھوں سے ایک کتاب تصنیف کریں پھر کہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے تاکہ اس کے بدلہ تھوڑی قیمت حاصل کرلیں ‘ سو اس کیلیے اس سبب سے عذاب ہے کہ انہوں نے کتاب تصنیف کی اور ان کے لیے اس کے معاوضہ میں کمائی حاصل کرنے کے سبب سے عذاب ہے۔

بعض اوقات یہود آیات کو بدل دیتے تھے اور بعض اوقات آیات کو چھپا دیتے تھے۔

(آیت) ” ولا تلبسوالحق بالباطل وتکتموا الحق وانتم تعلمون “۔ (البقرہ : ٤٢)

ترجمہ : اور حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جان بوجھ کر حق کو نہ چھپاؤ۔

بعض اوقات یہود تورات کا مطلب سمجھنے کے باوجود اس کی عبارت تبدیل کرتے تھے۔

(آیت) ” وقد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعد عقلوہ وھم یعلمون “۔ (البقرہ : ٧٥)

ترجمہ : بیشک ان (یہود) میں سے ایک گروہ تھا جو اللہ کا کلام سنتے تھے پھر اس کو سمجھنے کے باوجود اس میں دانستہ تحریف کردیتے تھے۔

(آیت) ” یحرفون الکلم عن مواضعہ ونسوا حظا مما ذکروا بہ ولا تزال تطلع علی خآئنۃ منھم “۔ (المائدہ : ١٣)

ترجمہ : وہ کلام میں اس کی جگہوں سے تحریف کردیتے ہیں اور جس حصہ کے ساتھ انکو نصیحت کی گئی تھی وہ اس کو بھول گئے ‘ اور آپ ہمیشہ ان کی خیانت پر مطلع ہوتے رہیں گے۔

(آیت) ” یحرفون الکلم من بعد مواضعہ “۔ (المائدہ : ٤١)

ترجمہ : اللہ کے کلام میں اس کے مواقع سے تحریف کردیتے ہیں :۔

(آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ الکتاب فاختلف فیہ “۔ (حم السجدۃ : ٤٥)

ترجمہ : اور بیشک ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی سو اس میں اختلاف کیا گیا۔

موجودہ تورات کی تصدیق کے متعلق قرآن مجید کی آیات۔

(آیت) ” وامنوا بماانزلت مصدقا لما معکم “۔ (البقرہ : ٤١)

ترجمہ : اور اس (قرآن) پر ایمان لاؤ جس کو میں نے نازل کیا ہے درآں حالیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرنے والا ہے جو تمہارے پاس ہے۔

(آیت) ” فانہ نزلہ علی قلبک باذن اللہ مصدقالما بین یدیہ “۔ (البقرہ : ٩٧)

ترجمہ : اس (جبریل) نے اللہ کے حکم سے (قرآن کو) ّآپ کے دل پر نازل کیا درآں حالیکہ وہ اس سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والا ہے۔

(آیت) ” وانزلنا الیک الکتاب بالحق مصدقا لمابین یدیہ من الکتاب ومھیمنا علیہ “۔ (المائدہ : ٤٨)

ترجمہ : اور ہم نے آپ پر یہ کتاب حق کے ساتھ نازل کی ہے درآں حالیکہ یہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو اس کے سامنے ہے اور اس کے محافظ اور نگہبان ہے۔

(آیت) ” ان ھذا القرآن یقص علی بنی اسرآئیل کثر الذی ھم فیہ یختلفون “۔ (النمل : ٧٦)

ترجمہ : بیشک یہ قرآن بنواسرائیل کے سامنے اکثر وہ باتیں بیان کرتا ہے جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں :

موجودہ تورات کی بعض وہ آیات جن کا قرآن مصدق ہے۔

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اصل تورات تلف ہوچکی تھی حضرت عزیر نے لوگوں سے سن کر تورات کی آیات کو جمع کیا تھا بعد میں ان صحائف میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور انکے بعد آنے والے نبیوں کے حالات زندگی اور ان کی سیرت کے واقعات کو بھی لکھا گیا ‘ جن پانچ صحائف کے مجموعہ کو تورات کہا جاتا ہے یعنی پیدائش ‘ خروج ‘ احبار ‘ گنتی اور استثناء۔ ان میں سے پیدائش میں تو انبیاء سابقین کے حالات درج ہیں اور دوسرے چار صحیفوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بعد کے انبیاء (علیہم السلام) کے حالت میں موجود ہیں ‘ قرآن مجید نے جو فرمایا ہے کہ وہ تورات کا مصدق ہے اس کا تعلق ان ہی آیات سے ہے ہم نے تورات کا مطالعہ کر کے بعض ان آیات کو تلاش کیا ہے جو قرآن کے معیار پر پوری اترتی ہیں ‘ اور ہم اب ان آیات کو بیان کر رہے ہیں تاکہ واضح ہوجائے کہ قرآن مجید کی تصدیق کا تعلق کن کن آیات سے ہے نیز یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ قرآن مجید نے تورات کو محرف اور موضوع بھی فرمایا ہے اور اس کی تصدیق بھی کی ہے ‘ اس کا اواضح مفہوم یہ ہے کہ کل موجودہ تورات کو قرآن مجید محرف اور موضوع نہیں فرماتا اور نہ کل کی تصدیق کرتا ہے ‘ ہم نے تورات کی بعض محرف عبارات کی مثالیں پیش کی تھیں اور اب بعض اصل آیات کی مثالیں پیش کر رہے ہیں لیکن یہ واضح رہے کہ محرف آیات اور اصل آیات کی یہ بعض مثالیں ہیں کل نہیں ہیں

سن اے اسرائیل ! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔ (استثناء باب : ٥‘ آیت : ٤) (عہد نامہ قدیم : ١٧٢)

اس کی تصدیق اس آیت میں ہے :

(آیت) ” والھکم الہ واحد لا الہ الا ھو الرحمن الرحیم “۔ (البقرہ : ١٦٣)

ترجمہ : اور تمہارا معبود ایک معبود ہے ‘ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ‘ وہ نہایت مہربان بہت رحم فرمانے ولا ہے۔

دیکھ آسمان اور آسمانوں کا آسمان اور زمین اور جو کچھ زمین میں ہے یہ سب خداوند تیرے خدا ہی کا ہے۔ (استثناء باب : ١٠‘ آیت : ١٥) (عہد نامہ قدیم : ص ١٧٢)

(آیت) ”۔ للہ ما فی السموات وما فی الارض “۔ (البقرہ : ٢٨٣)

ترجمہ : جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے۔

تم اپنے لئے بت نہ بنانا اور نہ کوئی تراشی ہوئی مورت یا لاٹ اپنے لیے کھڑی کرنا اور نہ اپنے ملک میں کوئی شبیہ دار پتھر رکھنا کہ اسے سجدہ کرو اس لیے کہ میں خدا ود تمہارا خدا ہوں۔ (احبار ‘ باب : ٢٦‘ آیت : ١) (عہد نامہ قدیم : ص ١٢٠)

(آیت) ” ولا تجعلوا مع اللہ الھا اخر “۔ (الذاریات : ٥١)

ترجمہ : اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ۔

(آیت) ” واتخذوا من دونہ الھۃ لا یخلقون شیئا وھم یخلقون ولا یملکون لانفسہم ضرا ولا نفعا ولا یملکون موتا ولا حیاۃ ولا نشورا “۔ (الفرقان : ٣)

ترجمہ : اور مشرکوں نے اللہ کو چھوڑ کر اور معبود بنالئے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرسکتے اور وہ خود پیدا کئے گئے ہیں اور وہ اپنے لئے کسی نقصان کے مالک ہیں اور نہ کسی نفع کے اور نہ وہ موت کے مالک ہیں اور نہ حیات کے اور نہ مرنے کے بعد اٹھنے کے۔

حضرت سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے موجودہ تورات میں بھی یہ بشارتیں موجود ہیں :

خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے یعنی تیرے ہی بھائیوں میں سے میری مانند ایک نبی برپا کرے گا۔ تم اس کی سننا، یہ تیری اس درخواست کے مطابق ہوگا جو تو نے خداوند اپنے خدا سے مجمع کے دن جو رب میں کی تھی کہ مجھ کو نہ تو خداوند اپنے خدا کی آواز پھر سننی پڑے اور نہ ایسی بڑی آگ ہی کا نظارہ ہو تاکہ میں مرنہ جاؤں، اور خداوند نے مجھ سے کہا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں سو ٹھیک کہتے ہیں، میں ان کے لیے ان کے بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی برپاکروں گا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالوں گا اور جو کچھ میں اسے حکم دوں گا وہی وہ ان سے کہے گا، (استثناء باب ١٨‘ آیت : ١٨۔ ٥١) (عہد نامہ قدیم : ص ١٨٤)

وہ کوہ فاران سے جلوہ گرہوا اور لاکھوں قدسیوں میں سے آیا۔ اس کے دہنے ہاتھ پر ان کے لئے آتشی شریعت تھی وہ بیشک قدموں سے محبت رکھتا ہے، (استثناء باب : ٣٣‘ آیت : ٢) (عہد نامہ قدیم : ص ٢٠١)

(آیت) ” الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل “۔ (الاعراف : ١٥٧)

ترجمہ : جو اس رسول نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جن کو وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔

(آیت) ” لقد جآء کم رسول من انفسکم عزیزعلیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم “۔ (التوبہ : ١٢٨)

ترجمہ : بیشک تمہارے پاس تم میں سے ایک عظیم رسول آگیا اس پر تمہارا مشقت میں پڑنا سخت گراں ہے وہ تمہاری بھلائی چاہنے میں بہت حریص ہے اور مومنوں پر نہایت مشفق اور بہت مہربان ہے۔

(آیت) ” وما ینطق عن الھوی، ان ھوالاوحی یوحی “۔ (النجم : ٤۔ ٣)

ترجمہ : وہ اپنی خواہش سے کلام نہیں کرتا وہی کہتا ہے جس کی اس پر وحی کی جاتی ہے۔

خداوند تیرے خدا نے تجھ کو روئے زمین کی اور سب قوموں سے چن لیا تاکہ اس کی خاص امت ٹھہرے۔ (استثناء باب : ٧‘ آیت : ٦) (عہد نامہ قدیم : ص ١٧٣)

(آیت) ” یبنی اسرآئیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم وانی فضلتکم علی العلمین “۔ (البقرہ : ٤٧)

ترجمہ : اے بنو اسرائیل میرے اس انعام کو یاد کرو جو میں نے تم پر کیا ہے اور یہ کہ میں نے تم کو (اس زمانہ کی) تمام قوموں پر فضیلت دی۔

خداوند تم کو اپنے زور دار ہاتھ سے نکال لایا اور غلامی کے گھر یعنی مصر کے بادشاہ فرعون کے ہاتھ سے تم کو مخلصی بخشی۔ (استثناء باب : ٧‘ آیت : ٨) (عہد نامہ قدیم : ص ١٧٣)

(آیت) ” واذ نجینکم من ال فرعون “۔ (البقرہ : ٤٩)

ترجمہ : اور یاد کرو جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی۔

اور اس نے مصر کے لشکر اور ان کے گھوڑوں اور رتھوں کا کیا حال کیا اور کیسے اس نے بحر قلزم کے پانی میں ان کو غرق کیا جب وہ تمہارا پیچھا کر رہے تھے اور خداوند نے ان کو کیسا ہلاک کیا کہ آج کے دن تک وہ نابود ہیں۔ (استثناء باب : ١١‘ آیت : ٤) (عہد نامہ قدیم : ص ١٧٧)

(آیت) ” واذ فرقنا بکم البحر فانجینکم واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون “۔ (البقرہ : ٥٠)

ترجمہ : اور جب ہم نے تمہارے لئے سمندر کو چیر دیا سو تم کو نجات دی اور ہم نے آل فرعون کو غرق کردیا درآں حالیکہ تم دیکھ رہے تھے۔

اور میں نے تمہارے گناہ کو یعنی اس بچھڑے کو جو تم نے بنایا تھا لے کر آگ میں جلایا پھر اسے کوٹ کوٹ کر ایسا پیسا کہ وہ گرد کی مانند باریک ہوگیا اور اس کی اس راکھ کو اس ندی میں جو پہاڑ سے نکل کر نیچے بہتی تھی ڈال دیا۔ (استثناء باب : ٩‘ آیت : ٢١) (عہد نامہ قدیم : ص ١٧٥)

(آیت) ” وانظر الی الھک الذی ظلت علیہ عاکفا لنحرقنہ ثم لننسفنہ فی الیم نسفا “۔ (طہ : ٩٧)

ترجمہ : (موسی نے سامری سے کہا) اپنے اس معبود کو دیکھ جس کی پوجا میں تو جم کر بیٹھا رہا ‘ ہم اس کو ضرور جلا ڈالیں گے پھر اس (کی راکھ) کو دریا میں بہا دیں گے۔

اور اس نے ان سے کہا خداونداسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تم اپنی اپنی ران سے تلوار لٹکا کر پھاٹک پھاٹک گھوم کر سارے لشکر گاہ میں اپنے اپنے بھائیوں اور اپنے اپنے ساتھیوں اور اپنے اپنے پڑوسیوں کو قتل کرتے پھرو۔ اور بنی لاوی نے موسیٰ کے کہنے کے موافق عمل کیا چناچہ اس دن لوگوں میں سے قریبا ” تین ہزار مرد کھیت آئے۔ (خروج ‘ باب : ٣٢‘ آیت : ٢٨، ٢٧) (عہد نامہ قدیم : ٨٥)

(آیت) ” واذ قال موسیٰ لقومہ یقوم انکم ظلمتم انفسکم باتخاذکم العجل فتوبوا الی بارئکم فاقتلوا انفسکم ذالکم خیرلکم عند بارئکم فتاب علیکم “۔ (البقرہ : ٩٤)

ترجمہ : اور جب موسیٰ نے اپنی امت سے کہا اے میری امت بیشک تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا سو اپنے خالق کی طرف توبہ کرو تو اپنی جانوں کو قتل کرو ‘ تمہارے خالق کے نزدیک یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ‘ سو اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی۔

اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزت کرنا جیسے خداوند تیرے خدا نے حکم دیا ہے۔ (استثناء باب : ٢٧‘ آیت : ١٦) (عہد نامہ قدیم : ص ١٧١)

لعنت اس پر جو اپنے یا ماں کو حقیر جانے اور سب لوگ کہیں آمین۔ (استثناء باب : ٢٧‘ آیت : ١٥) (عہد نامہ قدیم : ص ١٩٢)

(آیت) ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا، اما یبلغن عندک الکبر احدھما او کلھما فلا تقل لھما اف ولا تنھرھما وقل لھما قولا کریما۔ واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ و قل رب ارحمھما کما ربینی صغیرا “۔ (بنواسرائیل : ٢٤۔ ٢٣)

ترجمہ : اور آپ کے رب نے حکم فرمایا کہ اس (اللہ) کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں تو انہوں اف (تک) نہ کہنا اور نہ ان کو جھڑکنا اور ان کے ساتھ ادب سے بات کرنا۔ اور نرم ولی کے ساتھ ان کے سامنے عاجزی سے جھکے رہنا اور کہنا کہ اے میرے ان دونوں پر رحم فرما کیونکہ ان دونوں نے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔

تو اپنی ماں کے بدن کو جو تیرے باپ کا بدن ہے بےپردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیری ماں ہے تو اس کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا۔ تو اپنے باپ کی بیوی کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے باپ کا بدن ہے۔ تو اپنے بہن کے بدن کو چاہے وہ تیرے باپ کی بیٹی ہو چاہے تیری ماں کی اور خواہ وہ گھر میں پیدا ہوئی ہو خواہ اور کہیں بےپردہ نہ کرنا، تو اپنی پوتی یا نواسی کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا کیونکہ ان کا بدن تو تیرا ہی بدن ہے، تیرے باپ کی بیوی کی بیٹی جو تیرے باپ سے پیدا ہوتی ہے، تیری بہن ہے ‘ تو اس کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا، تو اپنی پھوپھی کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے باپ کی قریبی رشتہ دار ہے، تو اپنی خالہ کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیری ماں کی قریبی رشتہ دار ہے، تو اپنے باپ کے بھائی کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا یعنی اس کی بیوی کے پاس نہ جانا وہ تیری چچی ہے، تو اپنی بہو کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے بیٹے کی بیوی ہے سو تو اس کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا، تو اپنی بھاوج کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا کیونکہ وہ تیرے بھائی کا بدن ہے، تو کسی عورت اور اس کی بیٹی دونوں کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا اور نہ تو اس عورت کی پوتی یا نواسی سے بیاہ کر کے انمیں سے کسی کے بدن کو بےپردہ نہ کرنا کیونکہ وہ دونوں اس عورت کی قریبی رشتہ دار ہیں یہ بڑی خباثت ہے، تو اپنی سالی سے بیاہ کرکے اسے اپنی بیوی کی سوکن نہ بنانا کہ دوسری کے جیتے جی اس کے بدن کو بھی بےپردہ کرے۔ (احبار ‘ باب : ١٨‘ آیت : ١٨۔ ٧) (عہد نامہ قدیم : ١١٢۔ ١١١)

(آیت) ” ولا تنکحوا ما نکح ابآؤکم من النسآء الا ما قد سلف انہ کان فاحشۃ ومقتا وسآسبیلا۔ حرمت علیکم امھتکم وبنتکم واخواتکم وعمتکم وخلتکم وبنت الاخ وبنت الاخت وامھتکم التی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ وامھت نسآئکم وربآئبکم التی فی حجورکم من نسآئکم التی دخلتم بھن فان لم تکونوا دخلتم بھن فلا جناح علیکم وحلائل ابنآئکم الذین من اصلابکم وان تجمعوا بین الاختین الا ما قد سلف ان اللہ کان غفورا رحیما “۔ (النساء : ٢٣۔ ٢٢)

ترجمہ : جن عورتوں سے تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہے ان سے نکاح نہ کرو مگر جو گزر چکا ہے بیشک ایسا کام بےحیائی موجب غضب اور بہت ہی برا راستہ ہے، تم پر حرام کی گئیں ہیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور ان کی وہ بیٹیاں جو تمہارے زیر پرورش ہیں تو تمہاری ان بیویوں سے ہیں جن سے تم صحبت کرچکے ہو سو اگر تم نے ان سے صحبت نہیں کی ہے تو (ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں) تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اور (تم پر حرام کی گئی ہیں) تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں اور یہ کہ تم دو بہنوں کو (نکاح میں) جمع کرو مگر جو گزر چکا ہے بیشک اللہ بہت بخشنے والا ہے بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

اور تو عورت کے پاس جب تک وہ حیض کے سبب سے ناپاک ہے اس کے بدن کو بےپردہ کرنے کے لئے نہ جانا۔ (احبار ‘ باب : ١٨‘ آیت : ١٩) (عہد نامہ قدیم : ١١٢)

(آیت) ” فاعتزلوا النسآء فی المحیض ولا تقربوھن حتی یطھرن “۔ (البقرہ : ٢٢٢)

ترجمہ : عورتوں سے حالت حیض میں الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔

جو جانور آپ ہی مرجائے تم اسے مت کھانا۔ (استثناء باب : ١٤‘ آیت : ٢١) (عہد نامہ قدیم : ١٨٠)

فقط اتنی احتیاط ضرور رکھنا کہ تو خون کو نہ کھانا کیونکہ خون ہی تو جان ہے سو تو گوشت کے ساتھ جان کو ہرگز نہ کھانا۔ (استثناء باب : ١٢‘ آیت : ٢٣) (عہد نامہ قدیم : ١٧٩)

اور سؤر کو کیونکہ اس کے پاؤں الگ اور چرے ہوئے ہیں پر وہ جگالی نہیں کرتا وہ بھی تمہارے لیے ناپاک ہے۔ تم ان کا گوشت نہ کھانا۔ (احبار ‘ باب : ١١‘ آیت : ٨۔ ٧) (عہد نامہ قدیم : ١٠٣)

اور مردار یا درندہ کے پھاڑے ہوئے جانور کو کھانے سے وہ اپنے آپ کو نجس نہ کرلے۔ (احبار ‘ باب : ٢٢‘ آیت : ٨) (عہد نامہ قدیم : ١١٥)

(آیت) ” حرمت علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ والمنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبع الا ماذکیتم (المائدہ : ٣)

ترجمہ : تم پر حرام کیا گیا ہے مردار اور (رگوں سے بہایا ہوا) خون ‘ اور خنزیر کا گوشت اور جس پر وقت ذبح غیر اللہ کا نام پکارا گیا ‘ اور گلا گھٹ جانے والا اور چوٹ سے مارا ہوا ‘ اور گر کر مرا ہوا اور سینگ مارنے سے مرا ہوا اور جس کو درندے نے کھایا ہو مگر جس کو تم نے اللہ پر ذبح کرلیا ہو۔

اور تجھ کو ذرا ترس نہ آئے جان کا بدلہ جان ‘ آنکھ کا بدلہ آنکھ ‘ دانت کا بدلہ دانت ‘ ہاتھ کا بدلہ ہاتھ، اور پاؤں کا بدلہ پاؤں ہو۔ (استثناء باب : ١٩‘ آیت : ٢١) (عہد نامہ قدیم : ١٨٥)

(آیت) ” وکتبنا علیہم فیہا ان النفس بالنفس والعین بالعین والانف بالانف والاذن بالاذن السن بالسن والجروح قصاص “۔ (المائدہ : ٤٥)

ترجمہ : اور ہم نے ان پر تورات میں فرض کیا تھا کہ جان کا بدلہ جان اور آنکھ کا بدلہ آنکھ اور ناک کا بدلہ ناک اور کان کا بدلہ کان اور دانت کا بدلہ دانت اور زخموں میں بدلہ ہے۔

تو کسی گھناؤنی چیز کو مت کھانا، جن چوپایوں کو تم کھاسکتے ہو وہ یہ ہیں یعنی گائے بیل اور بھیڑ بکری، اور ہرن اور چکارا اور چھوٹا ہرن اور بزکوہی اور سابر اور نیل گائے اور جنگلی بھیڑ، (استثناء باب : ١٤‘ آیت : ٥۔ ٣) (عہد نامہ قدیم : ص ١٨٠)

پاک پرندوں میں سے تم جسے چاہو کھا سکتے ہو، لیکن ان میں سے تم کسی کو نہ کھانا یعنی عقاب اور استخوان خوار اور بحری عقاب، اور چیل اور باز اور گدھ اور ان کی اقسام، ہر قسم کا کوا۔ (استثناء باب : ١٤‘ آیت : ١٤۔ ١١) (عہد نامہ قدیم : ص ١٨٠)

(آیت) ” ویحل لھم الطیبت ویحرم علیہم الخبآئث “۔ (الاعراف : ١٥٧)

ترجمہ : وہ امی نبی ان کے لیے پاک چیزوں حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزیں حرام کرتے ہیں۔

تو اپنے بھائی کو سود پر قرض مت دینا خواہ وہ روپے کا سود ہو یا اناج کا یا کسی ایسی چیز کا سود ‘ جو بیاج پر دی جایا کرتی ہے۔ (استثناء باب : ٢٣‘ آیت : ١٩) (عہد نامہ قدیم : ص ١٨٨)

(آیت) ” واحل اللہ البیع وحرم الربوا “۔ (البقرہ : ٢٧٥)

ترجمہ : اور اللہ نے بیع کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔

جب تو خداوند اپنے خدا کی خاطر منت مانے تو اس کو پورا کرنے میں دیر نہ کرنا اس لیے کہ خداوند تیرا خدا ضرور اس کو تجھ سے طلب کرے گا تب تو گنہ گار ٹھہرے گا، لیکن اگر تو منت نہ مانے تو تیرا کوئی گناہ نہیں۔ (استثناء باب : ٢٣‘ آیت : ٢٢) (عہد نامہ قدیم : ص ١٨٨)

(آیت) ” ولیوفوا نذورھم “۔ (الحج : ٢٩)

ترجمہ : اور (اللہ کے لیے مانی ہوئی) اپنی نذریں پوری کریں۔

تو اپنے قبیلہ کی سب بستیوں میں جن کو خداوند تیرا خدا تجھ کو دے قاضی اور حاکم مقرر کرنا جو صداقت سے لوگوں کی عدالت کریں، تو انصاف کا خون نہ کرنا تو نہ تو کسی کی رورعایت کرنا اور نہ رشوت لینا کیونکہ رشوت دانشمند کی آنکھوں کو اند ھا کردیتی ہے اور صادق کی باتوں کو پلٹ دیتی ہے۔ (استثناء باب : ٢١‘ آیت : ١٩۔ ١٨) (عہد نامہ قدیم : ص ١٨٢)

(آیت) ” واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل “۔ (النساء : ٥٨)

ترجمہ : اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔

(آیت) ” ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بہا الی الحکام لتاکلوا فریقا من اموال الناس بالاثم وانتم تعلمون “۔ (البقرہ : ١٨٨)

ترجمہ : اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اور نہ (بہ طور رشوت) وہ مال حاکموں تک پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم گناہ کے ساتھ (ناجائز طور پر) جان بوجھ کر کھاؤ۔

اگر تم میری شریعت پر چلو اور میرے حکموں کو مانو اور ان پر عمل کرو، تو میں تمہارے لئے بروقت منہ برساؤں گا اور زمین سے اناج پیدا ہوگا اور میدان کے درخت پھلیں گے، یہاں تک کہ انگور جمع کرنے کے وقت تک تم داوتے رہو گے اور جوتنے بونے کے وقت تک انگور جمع کرو گے اور پیٹ بھر اپنی روٹی کھایا کرو گے اور چین سے اپنے ملک میں بسے رہو گے، اور میں ملک میں امن بخشوں گا اور تم سوؤ گے اور تم کو کوئی نہیں ڈرائے گا۔ (احبار باب : ٢٦‘ آیت : ٦۔ ٣) (عہد نامہ قدیم : ص ١٢٠)

(آیت) ” ولو انھم اقاموالتورۃ والانجیل وما انزل الیہم من ربھم لاکلوا من فوقہم ومن تحت ارجلھم “۔ (المائدہ : ٦٦)

ترجمہ : اور اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم رکھتے اور ان (احکام) کو قائم رکھتے جو ان کے لئے ان کے رب کی طرف سے نازل کئے گئے تو وہ ضرور اپنے اوپر سے اور پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔

جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اس کے نزدیک پہنچے تو پہلے اسے صلح کا پیغام دینا، اور اگر وہ تجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لئے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باجگرار بن تیری خدمت کریں ِ ، اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو تو اس کا محاصرہ کرنا، اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضہ میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کر ڈالنا، لیکن عورتوں اور بال بچوں اور چوپایوں اور اس کے شہر کے سب مال اور لوٹ کو اپنے لئے رکھ لینا اور تو اپنے دشمنوں کی اس لوٹ کو جو خداوند تیرے خدا نے تجھ کو دی ہو کھانا، ان سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے بہت دور ہیں اور ان قوموں کے شہر نہیں ہیں، پر ان قوموں کے شہروں میں جن کو خداوند تیرا خدا میراث کے طور پر تجھ کو دیتا ہے کسی ذی نفس کو جیتا نہ بچا رکھنا، بلکہ تو ان کو یعنی حتی اور اموری اور کنعانی اور فرزی اور حوی اور یبوسی قوموں کو جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم دیا ہے بالکل نیست کردینا، تاکہ وہ تم کو اپنے مکروہ کام کرنے نہ سکھائیں جو انہوں نے اپنے دیوتاؤں کے لئے کئے ہیں اور یوں تم خداوند اپنے خدا کے خلاف گناہ کرنے لگو۔ (استثناء باب : ٢٠‘ آیت : ١٨۔ ١٠) (عہد نامہ قدیم : ص ١٨٦۔ ١٨٥)

واضح رہے کہ عیسائیوں کے نزدیک بھی کفار کے خلاف جہاد کا یہ حکم باقی ہے منسوخ نہیں ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا :

یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں، کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین مل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تم سب کچھ پورا نہ ہوجائے، (متی ‘ باب : ٥‘ آیت : ١٨۔ ١٧) (نیاعہد نامہ : ص ٨)

جو غیر مسلم مستشرقین اسلام کے نظریہ جہاد پر اعتراض کرتے ہیں انہیں تورات اور انجیل کے ان اقتباسات کو غور سے پڑھنا چاہیے اب جہاد کے متعلق اسلام کا نظریہ ملاحظہ کریں :

(آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم وخذوھم واحصروھم واقعدوا لھم کل مرصد فان تابوا واقاموا الصلوۃ واتو الزکوۃ فخلوق سبیلھم “۔ (التوبہ : ٥)

ترجمہ : سو مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کردو اور انہوں پکڑو اور ان کا محاصرہ کرلو اور ان کی تاک میں ہر گھات کی جگہ بیٹھو پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔

(آیت) ” فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منا بعد واما فدآء حتی تضع الحرب اوزارھا ذلک (محمد : ٤)

ترجمہ : جب تمہارا کافروں سے مقابلہ ہو تو انکی گردنیں مارو حتی کہ جب تم ان کا اچھی طرح خون بہاچکو تو (قیدیوں کو) مضبوط باندھ لو پھر خواہ ان پر احسان کر کے انہیں (بلامعاوضہ) چھوڑ دو یا ان سے فدیہ لے کر چھوڑو حتی کہ لڑائی اپنے ہتھیار رکھ دے (حکم) یہی ہے۔

(آیت) ” فاتلوالذین لا یؤمنون باللہ ولا بالیوم الاخر ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ ولا یدینون دین الحق من الذین اوتوا الکتاب حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صغرون “۔ (التوبہ : ٢٩)

ترجمہ : اور اہل کتاب میں سے جو لوگ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اور جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اس کو حرام قرار نہیں دیتے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے ان سے قتال کرو حتی کہ وہ مطیع ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔

اسلام کے نظریہ جہاد کی زیادہ وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے ‘ امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب کسی شخص کسی بڑے یا چھوٹے لشکر کا امیر بناتے تو اس کو بالخصوص اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتے اور اس کے ساتھی مسلمانوں کو نیکی کی وصیت کرتے، پھر آپ فرماتے اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو جو شخص اللہ کے ساتھ کفر کرے اس کے ساتھ جنگ کرو ‘ خیانت نہ کرو ‘ عہد شکنی نہ کرو ‘ کسی شخص کے اعضاء کاٹ کر اس کی شکل نہ بگاڑو ‘ اور کسی بچہ کو قتل نہ کرو ‘ جب تمہارا اپنے مشرکین دشمنوں کے ساتھ مقابلہ ہو تو ان کو تین چیزوں کی دعوت دینا وہ ان میں سے جس کو بھی مان لیں اس کو قبول کرلینا ‘ اور جنگ سے رک جانا ‘ پہلے ان کو اسلام کی دعوت دو اگر وہ اسلام لے آئیں تو ان کا اسلام قبول کرلو اور ان سے جنگ نہ کرو ‘ اور ان سے یہ کہو کہ وہ اپنا شہر چھوڑ کر مہاجرین کے شہر میں آجائیں اور ان کو یہ بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کو وہ سہولتیں ملیں گی جو مہاجرین کو ملتی ہیں اور ان پر وہ ذمہ داریاں ہوں گی جو مہاجرین پر ہیں ‘ اور اگر وہ مہاجرین کے شہر میں آنے سے انکار کریں تو ان کو یہ خبر دے دو کہ پھر ان پر دیہاتی مسلمانوں پر حکم ہوگا ان پر مسلمانوں کے احکام جاری ہوں گے لیکن ان کو مال غنیمت اور مال فے سے جہاد کے بغیر کوئی حصہ نہیں ملے گا اگر وہ لوگ اس دعوت کو قبول نہ کریں تو پھر ان سے جزیہ کا سوال کرو ‘ اگر وہ اس کو تسلیم کرلیں تو تم بھی اس کو قبول کرلو اور ان سے جنگ نہ کرو اور اگر وہ اس کا انکار کریں تو پھر اللہ کی مدد کے ساتھ ان سے جنگ شروع کردو ‘ اور جب تم کسی قلعہ کا محاصرہ کرو اور قلعہ والے اللہ اور اس کے رسول کو (کسی عہد پر) ضامن بنانا چاہیں تو تم اللہ اور اس کے رسول کو ضامن نہ بنانا بلکہ اپنے آپ کو اور اپنے ساتھیوں کو ضامن بنانا۔ الحدیث۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٨٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اسلام کے نظریہ جہاد کی وضاحت سے یہ معلوم ہوگیا کہ تورات میں جس طرح کفار سے جزیہ لینے ورنہ ان کو قتل کرنے کا حکم ہے اسلام میں بھی یہی حکم ہے اور قرآن مجید میں اسی کا مصدق ہے باقی تفصیلات میں کچھ فرق ہے اسلام نے جہاد کو زیادہ بہتر اور معتدل انداز میں پیش کیا ہے اس ضمنی وضاحت کے بعد ہم پھر اصل موضوع کی طرف آرہے ہیں :

اگر تیری بستیوں میں کہیں آپس میں خون یا آپ کے دعوی یا آپس کی مار پیٹ کی بابت کوئی جھگڑے کی بات اٹھے اور اس کا فیصلہ کرنا تیرے لئے نہایت ہی مشکل ہو تو تو اٹھ کر اس جگہ جسے خداوند تیرا خدا چنے گا جانا، اور لاوی کاہنوں اور ان دنوں کے قاضیوں کے پاس پہنچ کر ان سے دریافت کرنا اور وہ تجھ کو فیصلہ کی بات بتائیں گے۔ (استثناء باب : ١٧‘ آیت : ٩۔ ٨) (عہد نامہ قدیم : ص ١٨٣)

(آیت) ” فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “۔ (النحل : ٤٣)

ترجمہ : اگر تم نہیں جانتے تو علم والوں سے پوچھو۔

اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسوب ہوگئی ہو اور کوئی دوسرا آدمی اسے شہر میں پاکر اس سے صحبت کرے، تو تم ان دونوں کو اس شہر کے پھاٹک پر نکال لانا اور ان کو تم سنگسار کردینا کہ وہ مرجائیں، لڑکی کو اس لئے کہ وہ شہر میں ہوتے ہوئے نہ چلائی اور مرد کو اس لئے کہ اس نے اپنے ہمسایہ کی بیوی کو بےحرمت کیا، یوں تو ایسی برائی کو اپنے درمیان سے دفع کرنا۔ (استثناء باب : ٢٢‘ آیت : ٢٤۔ ٢٣) (عہد نامہ قدیم : ص ١٨٧)

اس آیت کی تصدیق میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی :

(آیت) ” وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ فیہا حکم اللہ “۔ (المائدہ : ٤٣)

ترجمہ : وہ کیسے آپ کو منصف بناتے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات ہے اور اس میں اللہ کا حکم موجود ہے۔

سو یہ موجودہ تورات کی وہ آیات ہیں جن کا قرآن مجید مصدق ہے قرآن مجید کل موجودہ تورات کا مصدق نہیں ہے ورنہ کل موجودہ تورات کو محرف قرار دیتا ہے اور ہم نے موجودہ تورات سے دونوں قسم کی مثالیں پیش کردی ہیں۔

انجیل کا لفظی معنی ‘ مصداق اور لفظی تحقیق :

انجیل عبرانی زبان کا لفظ ہے عربی کے کسی لفظ سے مشتق نہیں ہے اور اس کا کوئی وزن نہیں ہے بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ لفظ نجل سے مشتق ہے نجل زمین سے پھوٹنے والے پانی کو کہتے ہیں اور چشمہ کے فراخ کرنے کو بھی کہتے ہیں انجیل بھی احکام الہی کا سرچشمہ ہے اور اس میں تورات کے مشکل احکام کو آسان کیا گیا ہے اس لیے میں بخل کی مناسبت پائی جاتی ہے، زمخشری نے کہا ہے کہ تورات اور انجیل دونوں عجمی زبان کے لفظ ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور اس نے حواری نسلا اور مذہبا، عیسائی تھے اور ان کی مذہبی زبان عبرانی تھی یا مغربی آرامی ‘ یونانی زبان میں انجیل کے معنی بشارت ہیں انجیل کو بشارت اسی لئے کہا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت دی۔ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” واذ قال عیسیٰ ابن مریم یبنی اسرآئیل انی رسول اللہ الیکم مصدقالمابین یدی من التورۃ ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “۔ (الصف : ٦)

ترجمہ : اور جب عیسیٰ بن مریم نے کہا : اے بنی اسرائیل بیشک میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں درآں حالیکہ میں اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں اور اس عظیم رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا نام احمد ہے۔

انجیل کی تاریخی حیثیت اور اس کے مشمولات :

ہر چند کہ اصل انجیل اب من وعن باقی نہیں ہے اور موجودہ اناجیل حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد تالیف کی گئی ہیں ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی زندگی کے آخری تین سالوں میں جو خطبات اور کلمات طیبات ارشاد فرمائے تھے ‘ آپ کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کے کافی عرصہ کے بعد آپ کے مختلف حواریوں اور شاگردوں نے آپ کی سیرت کو مرتب کیا اور اس سیرت میں اس وحی ربانی کو بھی درج کردیا جو حقیقت میں انجیل ہے ‘ پھر اس میں مرور زمانہ کے ساتھ ساتھ تغیرات ہوتے رہے اور کمی بیشی اور تحریف ہوتی رہی ‘ عبرانی زبان سے اس کو سو سے زیادہ زبانوں میں منتقل کیا گیا ‘ اس وقت دنیا میں چار انجیلیں موجود ہیں۔ متی کی انجیل ‘ مرقس کی انجیل ‘ لوقا کی انجیل اور یوحنا کی انجیل یہ انجیلیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی سیرت اور آپ کی تعلیمات پر مشتمل ہیں اور رسولوں کے اعمال ہیں یعنی حواریوں کے اور پولس ‘ پطرس ‘ یوحنا اور یعقوب کے مکاتب ہیں یعنی خطوط ‘ اور یوحنا کا مکاشفہ ہے ‘ اور جو مجموعہ ان تمام چیزوں پر مشتمل ہے اس کو نیا عہد نامہ کہتے ہیں ‘ اس کو کتاب مقدس اور بائبل بھی کہتے ہیں ‘ بائبل لاطینی زبان کا لفظ ہے اس کا معنی مجموعہ کتب ہے ‘ اور یہ لفظ الہامی نوشتوں کے مجموعہ کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ کیتھولک بائبل کے نوشتوں کی تعداد پروٹسٹنٹ بائبل کی تعداد سے زیادہ ہے ہم نے جو تفصیل درج کی ہے وہ پروٹسٹنٹ بائبل کے مطابق ہے۔

انجیل کے متعلق قرآن کی آیات :

(آیت) ” وقفینا علی اثارھم بعیسی ابن مریم مصدقا لما بین یدیہ من التورۃ واتینہ الانجیل فیہ ھدی ونور ومصدقالما بین یدیہ من التورۃ وھدی وموعظۃ للمتقین “۔ (المائدہ : ٤٦)

ترجمہ : ہم نے ان کے پیچھے ان قدموں کے نشان پر عیسیٰ بن مریم کو بھیجا درآں حالیکہ وہ تورات کی تصدیق کرنے والے تھے جو اس کے سامنے تھی اور ہم نے ان کو انجیل عطا فرمائی جس میں ہدایت اور نور ہے اور تورات کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس کے سامنے ہے اور (اصل انجیل) ہدایت اور نصیحت ہے متقین کے لئے۔

(آیت) ” ولیحکم اھل الانجیل بما انزل اللہ فیہ ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الفسقون “ (المائدہ : ٤٧)

ترجمہ : اور انجیل والے اس کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو اللہ کے نازل کئے ہوئے (احکام) کے مطابق فیصلہ نہ کرے تو وہی لوگ فاسق ہیں۔

(آیت) ” ولو انہم اقاموا التورۃ والانجیل وما انزل الیہم من ربھم لاکلوا من فوقہم ومن تحت ارجلھم “ (المائدہ : ٦٦)

ترجمہ : اور اگر وہ تورات اور انجیل اور جو (احکام) ان کے لئے ان کے رب کی طرف نازل ہوئے کو قائم رکھتے تو وہ ضرور اپنے اوپر سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔

(آیت) ” قل یاھل الکتب لستم علی شیء حتی تقیموا التورۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم “ (المائدہ : ٦٨)

ترجمہ : آپ کہئے اے اہل کتاب ! تمہارا دیندار ہونا اس وقت تک غیر معتبر ہے جب تک کہ تم تورات اور انجیل کو قائم نہ کرو اور ان احکام کو قائم نہ کرو جو تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے نازل کئے گئے ہیں۔

موجودہ انجیل کی بعض وہ آیات جن کا قرآن مصدق ہے۔

اس نے جواب میں کہا کہ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔ (متی : باب : ١٥ آیت : ٢٤) (نیا عہد نامہ ص ١٩۔ مطبوعہ پاکستان بائبل سوسائٹی لاہور)

(آیت) ” ورسولا الی بنی اسرآئیل “۔ (آل عمران : ٤٩)

ترجمہ : (مسیح عیسیٰ بن مریم) بنی اسرائیل کی طرف رسول ہوگا۔

اور ایک بڑی بھیڑ لنگڑوں ‘ اندھوں ‘ گونگوں ‘ ٹنڈوں اور بہت سے بیماروں کو اپنے ساتھ لے کر اس کے پاس آئی اور ان کو اس کے پاس پاؤں میں ڈال دیا اور اس نے انہیں اچھا کردیا۔ (متی : باب : ١٥ آیت : ٣٠) (نیا عہد نامہ ص ١٩)

اور ایک کوڑھی نے اس کے پاس آکر منت کی اور اس کے سامنے گھٹنے ٹیک کر اس سے کہا اگر تو چاہے تو مجھے پاک صاف کرسکتا ہے، اس نے اس پر ترس کھا کر ہاتھ بڑھایا اور اسے چھو کر اس سے کہا میں چاہتا ہوں تو پاک صاف ہوجا، اور فی الفور اس کا کوڑھ جاتا رہا اور وہ پاک صاف ہوگیا۔ (مرقس ‘ : باب : ١ آیت : ٤٠) (نیا عہد نامہ ص ٣٥)

وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ عبادت خانہ کے سردار کے ہاں سے لوگوں نے آکر کہا تیری بیٹی مرگئی، (الی قولہ) وہ اس پر ہنسنے لگے لیکن وہ سب کو نکال کر جہاں لڑکی پڑی تھی اندر گیا، اور لڑکی کا ہاتھا پکڑ کر اس سے کہا تلیتاقومی۔ جس کا ترجمہ ہے اے لڑکی میں تجھ سے کہتا ہوں اٹھ، وہ لڑکی فی الفور اٹھ کر چلنے پھرنے لگی کیونکہ وہ بارہ برس کی تھی اس پر لوگ بہت ہی حیران ہوئے۔ (مرقس ‘: باب : ٥ آیت : ٤٢۔ ٣٥) (نیا عہد نامہ ص ٣٩)

(آیت) ” وابرئی الاکمہ والابرص واحی الموتی باذن اللہ “۔ (آل عمران : ٤٩)

ترجمہ : میں مادر زاد اندھے کو اور کوڑھی کو شفایاب کرتا ہوں اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں۔

یہ نہ سمجھو کہ میں تورات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک کہ سب کچھ پورا نہ ہو۔ (متی : باب : ٥ آیت : ١٨۔ ١٧) (نیا عہد نامہ ص ٨)

(آیت) ” ومصدقالما بین یدی من التورۃ “۔ (آل عمران : ٥٠)

ترجمہ : میں تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں جو میرے سامنے ہے۔

اس نے ایک اور تمثیل ان کو سنائی کہ آسمان کی بادشاہی اس رائی کے دانے کی مانند ہے جسے کسی آدمی نے لے کر اپنے کھیت میں بودیا، تو وہ سب بیجوں سے چھوٹا تو ہے مگر جب بڑھتا ہے تو سب ترکاریوں سے بڑا اور ایسا درخت ہوجاتا ہے کہ ہوا کے پرندے آکر اس کی ڈالیوں پر بسیرا کرتے ہیں۔ (متی : باب : ١٣ آیت : ٣٢۔ ٣١) (نیا عہد نامہ ص ١٧)

(آیت) ” ومثلھم فی الانجیل کزرع اخرج شطاہ فازرہ فاستغلظ فاستوی علی سوقہ یعجب الزراع لیغیظ بھم الکفار “۔ (الفتح : ٢٩)

ترجمہ : انجیل میں ان کی مثل ایک کھیتی کی طرح ہے جس نے اپنی باریک سی کونپل نکالی تو اسے طاقت دی پھر وہ موٹی ہوگئی اور اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہوگئی جو کاشتکار کو بہت اچھی لگتی ہے، تاکہ کافروں کا دل جلائے۔

مانگوتو تم کو دیا جائے گا ‘ ڈھونڈو تو پاؤ گے ‘ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔ (متی : باب : ٧‘ آیت : ٧) (نیا عہد نامہ ص ١٠)

(آیت) ” وقال ربکم ادعونی استجب لکم “۔ (المومن : ٦٠)

ترجمہ : اور آپ کے رب نے فرمایا تم مجھ سے دعا کرو میں ضرور قبول کروں گا۔

اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہی۔ (متی : باب : ٦ آیت : ١٩) (نیا عہد نامہ ص ٩)

(آیت) الذی جمع وعددہ۔ یحسب ان مالہ اخلدہ۔ کلا لینبذن فی الحطمۃ “۔ (الھمزۃ : ٤۔ ٢)

ترجمہ : جس نے مال جمع کیا اور اسے گن گن کر رکھا وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال (دنیا میں) اسے ہمیشہ (زندہ) رکھے گا۔ ہرگز نہیں :! وہ چورا چورا کرنے والی میں ضرور پھینک دیا جائے گا۔

بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں، (متی : باب : ٦ آیت : ٢٠) (نیا عہد نامہ ص ٨)

(آیت) ” المال والبنون زینۃ الحیوۃ الدنیا والبقیت الصلحت خیر عند ربک ثوابا وخیر املا “ (الکہف : ٤٦)

ترجمہ : مال اور بیٹے دنیاوی زندگی کی زینت ہیں اور باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے رب کے حضور ثواب کے لئے بہتر ہیں اور امید کے لئے بہت اچھی۔

میں نے یہ باتیں تمہارے ساتھ رہ کر تم سے کہیں، لیکن مددگار یعنی روح القدس جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب باتیں سکھائے گا۔ اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا، میں تمہیں اطمینان دیئے جاتا ہوں اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں جس طرح دنیا دیتی ہے تمہیں اس طرح نہیں دیتا، تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے، تم سن چکے ہو کہ میں نے تم سے کہا کہ جاتا ہوں اور تمہارے پاس پھر آتا ہوں۔ اگر تم مجھ سے محبت رکھتے تو اس بات سے کہ میں باپ کے پاس جاتا ہوں خوش ہوتے کیونکہ باپ مجھ سے بڑا ہے، اور اب میں نے تم سے اس کے ہونے سے پہلے کہہ دیا ہے تاکہ جب ہوجائے تو تم یقین کرو، اس کے بعد میں تم سے بہت سی باتیں نہ کروں گا کیونکہ دنیا کا سردار آتا ہے اور مجھ میں اس کا کچھ نہیں۔ (یوحنا ‘: باب : ١٤‘ آیت : ٣٠۔ ٢٥) (نیا عہد نامہ ص : ٩٩)

(آیت) ” الذین یتبعون الرسول النبی الامی الذی یجدونہ مکتبوبا عندھم فی التورۃ والانجیل “۔ (الاعراف : ١٥٧)

ترجمہ : جو اس رسول نبی امی کی پیروی کرتے ہیں جن کو وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔

احکام اسلام بہ مقابلہ تعلیمات انجیل :

تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ زنا نہ کرنا، لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جس کسی نے بری خواہش سے کسی عورت پر نگاہ کی وہ اپنے دل میں اس کے ساتھ زنا کرچکا، پس اگر تیری دہنی آنکھ تجھے ٹھوکر کھلائے تو اسے نکال کر اپنے پاس سے پھینک دے کیونکہ تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ تیرے اعضاء میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنم میں نہ ڈالا جائے، اور اگر تیرا دہنا ہاتھ تجھے ٹھوکر کھلائے تو اس کو کاٹ کر اپنے پاس سے پھینک دے کیونکہ تیرے لئے یہی بہتر ہے کہ تیرے اعضاء میں سے ایک جاتا رہے اور تیرا سارا بدن جہنم میں نہ جائے۔ (متی : باب : ٥ آیت : ٣٠۔ ٢٧) (نیا عہد نامہ ص : ٨)

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ انسان اپنے جسم کے کسی عضو کو کاٹنے کا مجاز نہیں ہے اگر اس کے کسی عضو سے گناہ ہوجائے تو وہ صدق دل سے توبہ کرلے اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے معاف فرمادے گا۔

یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑے اسے طلاق نامہ لکھ دے، لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑے وہ اس سے زنا کراتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے۔ (متی : باب : ٥ آیت : ٣٢۔ ٣١) (نیا عہد نامہ ص : ٨)

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر بیوی کو بدچلنی کے علاوہ کسی اور سبب سے طلاق دی تو پھر بھی جائز ہے اور عدت کے بعد کوئی شخص اس سے نکاح کرلے تو یہ جائز ہے جائز نکاح کرنے کے بعد اس کے شوہر کا فعل زنا نہیں ہے۔

تم سن چکے ہو کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت، لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو کوئی تیرے دہنے گال پر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے، اور اگر کوئی تجھ پرنالش کرکے تیرا کرتا لینا چاہے تو چوغہ بھی اسے لینے دے، اور جو کوئی تجھے ایک کوس بیگار میں لے جائے اس کے ساتھ دو کوس چلا جا،

اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص زیادتی کرے تو اس سے اتنا ہی بدلہ لینا جائز ہے لیکن اسے معاف کردینا زیادہ بہتر ہے اور برائی کے جواب میں نیکی کرنا اور بھی زیادہ بہتر ہے لیکن کسی زیادتی اور برائی کرنے والے کو مزید زیادتی اور برائی کرنے کا موقع دینا صحیح نہیں ہے بلکہ یہ اس شخص کے ساتھ بدخواہی کرنے کے مترادف ہے۔

(آیت) ” وجزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ “۔ (الشوری : ٤٠)

ترجمہ : برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے پھر جو معاف کردے اور نیکی کرے تو اس کا اجر اللہ (کے ذمہ کرم) پر ہے۔

(آیت) ” ولمن صبر وغفر ان ذالک لمن عزم الامور “۔ (الشوری : ٤٣)

ترجمہ اور جو صبر کرے اور معاف کر دے تو یقینا یہ ضرور ہمت کے کاموں میں سے ہے۔

اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی جان کی فکر نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پئیں گے ؟ اور نہ اپنے بدن کی کہ کیا پہنیں گے ؟ کیا جان خوراک سے اور بدن پوشاک سے بڑھ کر نہیں ؟ ، ہوا کے پرندوں کو دیکھو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں تو بھی تمہارا آسمانی باپ ان کو کھلاتا ہے کیا تم ان زیادہ قدر نہیں رکھتے ؟ ، تم میں ایسا کون ہے جو فکر کر کے اپنی عمر ایک گھڑی بھی بڑھا سکے ؟ ، اور پوشاک کے لئے کیوں فکر کرتے ہو ؟ جنگلی سو سن کے درختوں کو غور سے دیکھو وہ کس طرح بڑھتے ہیں وہ نہ محنت کرتے ہیں نہ کا تتے ہیں۔ (متی : باب : ٦ آیت : ٢٨۔ ٢٥) (نیا عہد نامہ ص : ٩)

اسلام میں کھانے پینے اور پہننے کی فکر کرنا اور اس کے لئے حلال ذرائع سے کسب معاش کرنا پسندیدہ فعل ہے بہ شرطی کہ اس کے ساتھ ساتھ عبادت کرتا رہے اور اللہ تعالیٰ کے دیگر احکام کی اطاعت کرتا رہے۔

فاذا قضیت الصلوۃ فانتشروفی الارض وابتغوا من فضل اللہ “۔ (الجمعہ : ١٠)

ترجمہ : سو جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور (کاروبار میں) اللہ کا فضل تلاش کرو۔

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ایوب بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب نے ٹیلہ کی چوٹی سے قریش کے ایک آدمی کو آتے دیکھا۔ صحابہ نے کہا یہ شخص اللہ کے راستے میں ہے جو قتل کردیا جائے ؟ پھر فرمایا جو شخص اپنے اہل کو سوال سے روکنے کے لئے حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے اور جو شخص اپنے آپ کو سوال سے روکنے کے لئے حلال کی طلب میں نکلے وہ بھی اللہ کے راستے میں ہے البتہ جو شخص مال کی کثرت کی طلب میں نکلے گا وہ شیطان کے راستے میں ہے۔ (المصنف ج ٥ ص ٢٧٢۔ ٢٧١ مطبوعہ اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

جب شام ہوئی تو وہ ان بارہ کے ساتھ آیا، اور جب وہ بیٹھے کھا رہے تھے تو یسوع نے کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم میں سے ایک جو میرے ساتھ کھاتا ہے مجھے پکڑوائے گا، وہ دلگیرہونے لگے اور ایک ایک کرکے اس سے کہنے لگے کیا میں ہوں ؟ ، اس نے ان سے کہا وہ بارہ سے ایک ہے جو میرے ساتھ طباق میں ہاتھ ڈالتا ہے، کیونکہ ابن آدم تو جیسا اس کے حق میں لکھا ہے جاتا ہی ہے لیکن اس آدمی افسوس جس کے وسیلہ سے ابن آدم پکڑوایا جاتا ہے ! اگر وہ آدمی پیدانہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا ہوتا، (مرقس ‘ : باب : ١٤ آیت : ٢١۔ ١٧) (نیا عہد نامہ ص : ٤٨ )

وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ یہوداہ جو ان بارہ میں سے تھا اور اس کے ساتھ ایک بھیڑ تلواریں اور لاٹھیاں لئے ہوئے سردار کاہنوں اور فقیہوں اور بزرگوں کی طرف سے آپہنچی، اور اس کے پکڑوانے والے نے انہیں یہ نشان دیا تھا کہ جس کا میں بوسہ لوں وہی ہے اسے پکڑ کر حفاظت سے لے جانا، وہ آکر فی الفور اس کے پاس گیا اور کہا اے ربی ! اور اس کے بوسے لئے، انہوں نے اس پر ہاتھ ڈال کر اسے پکڑ لیا ان میں سے جو پاس کھڑے تھے ایک نے تلوار کھینچ کر سردار کاہن کے نوکر پر چلائی اور اس کا کان اڑادیا، یسوع نے ان سے کہا کیا تم تلواریں اور لاٹھیاں لے کر مجھے ڈاکو کی طرح پکڑنے نکلے ہو ؟ ، میں ہر روز تمہارے پاس ہیکل میں تعلیم دیتا تھا اور تم نے مجھے نہیں پکڑا لیکن یہ اس لئے ہوا ہے کہ نوشتے پورے ہوں، اس پر سب شاگرد اسے چھوڑ کر بھاگ گئے، مگر ایک جوان اپنے ننگے بدن پر مہین چادر اوڑھے ہوئے اس کے پیچھے ہو لیا اسے لوگوں نے پکڑا، مگر وہ چادر چھوڑ کر ننگا بھاگ گیا۔ (مرقس ‘ : باب : ١٤ آیت : ٥٢۔ ٤٣) (نیا عہد نامہ ص : ٤٩ )

انجیل کے اس بیان کے مطابق حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں میں سے ایک نے حضرت عیسیٰ کو پکڑوایا اور جب مخالفین پکڑنے آئے تو تمام حواری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو چھوڑ کر بھاگ گئے اس کے برعکس جب کفار قریش نے سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر کا ننگی تلواروں کے ساتھ محاصرہ کیا تو حضرت علی آپ کی جگہ آپ کے بستر پر لیٹ گئے غار ثور میں حضرت ابوبکر نے سانپ کے بل پر اپنی ایڑی رکھ دی سانپ نے متواتر ڈنک مارے مگر حضرت ابوبکر نے اپنی ایڑی نہ ہٹائی مبادا آپ کو کوئی گزند پہنچے ‘ صحیح مسلم میں ہے کہ جنگ بدر کے موقع پر خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ (رض) نے اٹھ کر کہا خدا کی قسم آپ فرمائیں تو ہم سمندر میں کود پڑیں ‘ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت مقداد نے کہا ہم موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں ہم تو آپ کے داہنے سے بائیں سے سامنے اور پیچھے سے لڑیں گے ‘ امام بیہقی نے روایت کیا ہے جب اہل مکہ حضرت زید بن دثنہ کو قتل کرنے کے لئے حرم سے باہر لے جانے لگے تو ابوسفیان نے کہا اے ابو زید ! میں تم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں یہ بتاؤ کہ کیا تم پسند کرتے ہو کہ اس وقت ہمارے پاس تمہاری جگہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوتے اور تمہارے بجائے ان کی گردن ماری جاتی ؟ حضرت زید نے کہا خدا کی قسم ! مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں ہے کہ میں اپنے اہل میں عافیت سے ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیر میں کانٹا چبھ جائے۔

اور تیسرے پہر کے قریب یسوع نے بڑی آواز کے ساتھ چلا کر کہا ایلی، ایلی لما شقتنی ؟ یعنی اے میرے خدا ! اے میرے خدا تو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا ؟ (متی : باب : ٢٧ آیت : ٤٦) (نیا عہد نامہ ص : ٣٣)

انجیل کی اس عبارت میں یہ تصریح ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا نے چھوڑ دیا اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق قرآن مجید میں ہے

(آیت) ” ماودعک ربک وما قلی “۔ (الضحی : ٣)

ترجمہ : آپ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ وہ آپ سے بیزار ہوا۔

انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق کتاب مقدس میں لکھا ہے :

کہ نبی اور کاہن دونوں ناپاک ہیں۔ ہاں میں نے اپنے گھر کے اندر ان کی شرارت دیکھی خداوند فرماتا ہے، اس لئے ان کی راہ ان کے حق میں ایسی ہوگی جیسے تاریکی میں پھسلنی جگہ وہ اس میں رگیدے جائیں گے اور وہاں گریں گے کیونکہ خداوند فرماتا ہے میں ان پر بلا لاؤں گا یعنی ان کی سزا کا سال، اور میں نے سامریہ کے نبیوں میں حماقت دیکھی ہے انہوں نے بعل کے نام سے نبوت کی میری قوم اسرائیل کو گمراہ کیا، میں نے یروشلم کے نبیوں میں ایک ہولناک بات دیکھی وہ زنا کار جھوٹ کے پیرو اور بدکاروں کے حامی ہیں یہاں تک کہ کوئی اپنی شرارت سے باز نہیں آتا۔ (یرمیاہ ‘: باب : ٢٣ آیت : ١٤۔ ١١) (عہد نامہ قدیم ص : ٧٣٦)

قرآن مجید حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب حضرت نوح ‘ حضرت داؤد ‘ حضرت سلیمان ‘ حضرت ایوب ‘ حضرت یوسف ‘ حضرت موسیٰ ‘ حضرت ہارون ‘ حضرت زکریا ‘ حضرت یحییٰ ‘ حضر عیسیٰ ‘ اور حضرت الیاس ‘ کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے :

(آیت) ” کل من الصالحین “۔ (الانعام : ٨٥)

ترجمہ : یہ سب ہدایت یافتہ اور صالح ہیں۔

اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) حضرت الیسع (علیہ السلام) ‘ حضرت یونس (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے۔

(آیت) ” وکلا فضلنا علی العلمین “۔ (الانعام : ٨٦)

ترجمہ : اور ہم نے ان سب کو ان کے زمانہ میں تمام جہان والوں پر فضیلت دی۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 3