قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوۡنِىۡ يُحۡبِبۡكُمُ اللّٰهُ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡؕ‌ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ- سورۃ 3 – آل عمران – آیت 31

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوۡنِىۡ يُحۡبِبۡكُمُ اللّٰهُ وَيَغۡفِرۡ لَـكُمۡ ذُنُوۡبَكُمۡؕ‌ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

ترجمہ:

آپ کہیے اگر تم اللہ سے محبت کے دعویدار ہو تو میری پیروی کرو ‘ اللہ تمہیں اپنا محبوب بنا لے گا اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا نہایت رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اتباع رسول کے حکم کا شان نزول اور آیات سابقہ سے مناسبت “۔

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار سے محبت اور دوستی رکھنے سے منع فرمادیا تھا اور صرف اہل اللہ کے ساتھ محبت کرنے کی اجازت دی تھی اور جب کہ بعض کفار بھی اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے کا دعوی کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کی علامت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اور آپ کی پیروی کرنا ہے جو آپ کا پیروکار ہے وہ اللہ تعالیٰ محب ہے اور جو آپ کی پیروی سے محروم ہے وہ اللہ کی محبت سے محروم ہے۔

مخلوق کے کمال کی معراج یہ ہے کہ وہ اللہ سے محبت کرے اور اللہ کی ان پر عنایت یہ ہے کہ وہ ان سے محبت کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی محبت کے حصول کے لئے تمام مخلوق پر یہ واجب کردیا ہے کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اور آپ کی اطاعت کریں ‘ امام احمد ‘ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر موسیٰ تمہارے سامنے زندہ ہوتے تو میری اتباع کرنے کے سوا ان کے لئے کوئی امر جائز نہ ہوتا۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٣٣٨‘ مطبوعہ بیروت) تو جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر بھی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع واجب ہے تو جو لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف منسوب اور ان کے امتی ہیں ان پر تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع بطریق اولی واجب ہوگی۔ اسی طرح جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا آسمان سے نزول ہوگا تو وہ بھی آپ کی شریعت کی اتباع کریں گے ‘ امام بخاری نے روایت کیا ہے : حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس وقت تمہارا کیا مرتبہ ہوگا جب تم میں ابن مریم کا نزول ہوگا اور امام تم میں سے ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٩٠‘ مطبوعہ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ) سو جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کریں گے تو ان کی ملت کے پیروکاروں پر بہ طریق اولی واجب ہے کہ وہ ہمارے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کریں۔

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے پہلی آیتوں میں بطور تہدید اور وعید لوگوں کو نبی کریم پر ایمان لانے کی دعوت دی اور اب ایک اور طریقہ سے ان کو آپ پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ یہود یہ کہتے تھے کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کہئے کہ اگر تم سے محبت کے دعوے دار : دوسری روایت یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد حرام میں گئے وہاں قریش بتوں کو سجدہ کر رہے تھے ‘ آپ نے فرمایا اے جماعت قریش ! بہ خدا تم ملت ابراہیم کی مخالفت کر رہے ہو۔ قریش نے جواب دیا ہم اللہ کی محبت میں ان کی عبادت کررہے ہیں تاکہ یہ بت ہمیں اللہ کے قریب کردیں ‘ تو یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ کہئے کہ اگر تم اللہ کی محبت کے دعوے دار ہو تو میری اتباع کرو ‘ ایک اور روایت یہ ہے کہ عیسائیوں نے کہا ہم اللہ کی محبت مسیح کی تعظیم کرتے ہیں تو یہ آیت نازل ہوئی ‘ خلاصہ یہ ہے کہ جو فریق بھی اللہ کی محبت کا مدعی ہو اور اس کی رضا اور اس کی اطاعت کا طالب ہو تو آپ اس سے کہئے کہ اگر تم اللہ کی محبت کے دعوی میں صادق ہو تو اللہ کے حکم کو مانو اور اس پر عمل کرو ‘ اور اللہ کا حکم یہ ہے کہ میری اتباع کرو۔

محبت کا معنی اور اللہ اور رسول کی محبت کی تحقیق :

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں :

انسان جس چیزانسان جس چیز کو اپنے گمان کے مطابق اچھا گمان کرے اس چیز کے ارادہ کرنے کو محبت کہتے ہیں ‘ اس کی تین صورتیں ہیں۔ انسان لذت کی وجہ سے محبت کرتا ہے جیسے انسان عمدہ کھانوں اور حسین عورتوں سے محبت کرتا ہے ‘ اور کبھی انسان نفع کی وجہ سے محبت کرتا ہے جیسے انسان اطباء اور حکماء سے محبت کرتا ہے اور کبھی انسان فضل اور کمال کی وجہ سے محبت کرتا ہے جیسے انسان علماء اور اولیاء اللہ سے محبت کرتا ہے ‘ بہادروں اور سخیوں سے محبت کرتا ہے ‘ ملک اور قوم کے لئے نمایاں کام کرنے والے سے محبت کرتا ہے۔ کبھی ایک چیز کو دوسری چیز پر ترجیح دینے کو بھی محبت کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” الذین یستحبون الحیاۃ الدنیا علی الاخرۃ “۔ (ابراھیم : ٣)

ترجمہ جو لوگ دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں “۔

اللہ تعالیٰ جو بندہ سے محبت کرتا ہے اس کا معنی ہے وہ ان پر انعام واکرام کرتا ہے اور اس کو اپنی رحمت اور مغفرت سے نوازتا ہے۔

(آیت) ” واللہ یحب المحسنین “۔ (آل عمران : ١٣٤)

اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے (یعنی ان کو ثواب عطا فرماتا ہے۔ )

اور جو بندہ اللہ سے محبت کرتا ہے اس کا معنی ہے بندہ اللہ کے رب اور اس کی رضا کا طالب ہے (المفردات ص ‘ ١٠٥ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

ابن عرفہ نے کہا اہل عرب کے نزدیک کسی شے کے ارادہ اور اس کے قصد کو محبت کہتے ہیں ‘ ازہری نے کہا اور اس کے رسول کی محبت کا معنی یہ ہے کہ ان کی اطاعت کی جائے اور ان کے احکام پر عمل کیا جائے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی بندہ سے محبت کا معنی یہ ہے کہ وہ اس کو اپنی مغفرت سے نوازے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ” بیشک وہ کافروں سے محبت نہیں کرتا۔ “ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کافروں کو نہیں بخشے گا۔ سہل بن عبداللہ نے کہا اللہ سے محبت کی علامت قرآن سے محبت کرنا ہے اور قرآن سے محبت کی علامت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرنا ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کی علامت سنت سے محبت کرنا ہے اور ان سب سے محبت کی علامت آخرت سے محبت کرنا ہے اور آخرت سے محبت کی علامت یہ کہ قدر ضرورت کے علاوہ دنیا سے بغض رکھے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٦١۔ ٦٠ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ)

اللہ کی محبت کا حصول جن نفوس قدسیہ کی محبت پر موقوف ہے :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوگا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد ‘ اس کی اولاد اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس پالے گا۔ یہ کہ اسے اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ محبوب ہوں ‘ اور وہ جس شخص سے محبت کرے تو صرف اللہ کے لئے محبت کرے اور اس کے نزدیک کفر میں لوٹنا آگ میں ڈالے جانے کی طرح مکروہ ہو۔

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایمان کی علامت انصار سے محبت کرنا اور نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٧‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے اصحاب کے متعلق اللہ سے ڈرو میرے بعد ان کو طعن اور تشنیع کانشانہ نہ بناؤ جس نے ان سے محبت رکھی اس نے میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا ‘ اس نے میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا ‘ جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو وہ عنقریب اس کو اپنی گرفت میں لے لے گا (جامع ترمذی ص ‘ ٥٤٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے حسن اور حسین (رضی اللہ عنہما) سے محبت رکھی اس نے مجھ سے محبت رکھی اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔ (سنن ابن ماجہ ص ‘ ١٣ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص میرے ولی سے عداوت رکھتا ہے میں اس سے اعلان جنگ کردیتا ہوں (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٦٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل ندا کرتا ہے کہ اللہ فلاں بندہ سے محبت رکھتا ہے تم اس سے محبت رکھو تو جبرائیل اس بندہ سے محبت کرتا ہے ‘ پھر جبرائیل آسمان والوں میں ندا کرتا ہے کہ اللہ فلاں بندہ سے محبت کرتا ہے تم اس سے محبت رکھو تو آسمان والے اس سے محبت رکھتے ہیں پھر اس بندہ کے لئے زمین میں مقبولیت رکھی دی جاتی ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٨٩٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کی محبت کے لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت رکھنا ‘ آپ کے اصحاب اور اہل بیت سے محبت رکھنا اور آپ کی امت کے اولیاء اللہ سے محبت رکھنا ضروری ہے اور جو شخص ان نفوس قدسیہ کی محبت سے محروم ہو وہ کبھی اللہ کی محبت حاصل نہیں کرسکتا۔

اس آیت میں یہ فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرنے والوں کو اللہ اپنا محبوب بنا لیتا ہے سو ہم قرآن اور سنت کی روشنی میں وہ افعال بیان کرنا چاہتے ہیں جن کو کرنے سے اللہ بندے کو اپنا محبوب بناتا ہے اور وہ افعال جن کو کرنے سے بندہ اللہ کی محبت سے محروم رہتا ہے۔

ان افعال اور عبادات سے اللہ محبت کرتا ہے۔

(آیت) ” واحسنوا ان اللہ یحب المحسنین “۔ (البقرہ : ١٩٥)

ترجمہ : اور نیکی کرو بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(آیت) ” ان اللہ یحب التوابین ویحب المتطھرین “۔ (البقرہ : ٢٢٢)

ترجمہ : پس بیشک اللہ، توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور پاکیزگی حاصل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ rnّ (آیت) ” فان اللہ یحب المتقین “۔ (آل عمران : ٧٦)

ترجمہ : پس بیشک اللہ ‘ اللہ سے ڈرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(آیت) ” واللہ یحب الصابرین “۔ (ال عمران : ١٤٦)

ترجمہ : اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(آیت) ” ان اللہ یحب المتوکلین (ال عمران : ١٥٩)

ترجمہ : بیشک اللہ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

(آیت) ” ان اللہ یحب المقسطین “۔ (المائدہ : ٤٢)

ترجمہ : بیشک اللہ انصاف کرنے والون سے محبت کرتا ہے۔

(آیت) ” ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفا کا نھم بنیان مرصوص “۔ (الصف : ٤)

ترجمہ : بیشک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ فرماتا ہے جو شخص میرے ولی سے عداوت رکھتا ہے میں اس سے اعلان جنگ کردیتا ہوں ‘ جن چیزوں سے بندہ میرا تقرب حاصل کرتا ہے ان میں ان سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے جن کو میں نے اس پر فرض کیا ہے ‘ اور بندہ نوافل کے ساتھ ہمیشہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتی کہ میں اس کو اپنا محبوب بنالیتا ہوں پھر میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ ہوجاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کے ہاتھ ہوجاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پیر ہوجاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اس کو ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اس کو ضرور پناہ دیتا ہوں ‘ اور میں کسی کام کے کرنے میں اتنی تاخیر نہیں کرتا جتنی بندہ مومن کی روح قبض کرنے میں تاخیر کرتا ہوں وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اسے رنجیدہ کرنے کو ناپسند کرتا ہوں۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٦٣‘ مطبوعہ کراچی)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ یہود کی ایک جماعت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئی انہوں نے کہا السام علیکم (تم پر موت ہو) حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں میں نے اس کو سمجھ لیا میں نے کہا تم پر موت اور لعنت ہو ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ٹھہرو ! اے عائشہ ! اللہ تعالیٰ ہر معاملہ میں نرمی کرنے سے محبت کرتا ہے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٨٩٠ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت سہل بن سعد (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ ! مجھے ایسا عمل بتلائیے جب میں وہ عمل کرلوں تو اللہ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی محبت کریں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا سے بےرغبتی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے ہاتھوں میں جو چیزیں ہیں ان سے بےرغبتی کرو تو لوگ تم سے محبت کریں گے۔

حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس بندہ مومن سے محبت کرتا ہے جو تنگ دست ہو ‘ سوال سے بچتا ہو اور عیال دار ہو۔ (سنن ابن ماجہ ص ٣٠٣، ٣٠٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

جن افعال سے اللہ تعالیٰ محبت نہیں کرتا :

(آیت) ” ولا تعتدوا ان اللہ لا یحب المعتدین “۔ (البقرہ : ١٩٠)

ترجمہ : اور حد سے نہ بڑھو ‘ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

(آیت) ” واللہ لا یحب کل کفار اثیم “۔ (البقرہ : ٢٧٦)

ترجمہ : اور اللہ کسی ناشکرے ‘ گنہ گار سے محبت نہیں کرتا :

(آیت) ” واللہ لا یحب الظلمین “۔ (آل عمران : ٥٧)

ترجمہ : اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔

(آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما “ (النساء : ١٠٧)

ترجمہ : بیشک کسی خائن اور بڑے گنہ گار سے محبت نہیں کرتا۔

(آیت) ” لا یحب اللہ الجھر بالسوٓء من القول الا من ظلم “۔ (النساء : ١٤٨)

ترجمہ : اللہ اس شخص سے محبت نہیں کرتا جو بری بات کو آشکارا کرے۔

(آیت) ” واللہ لا یحب المفسدین “۔ (المائدہ : ٦٤)

ترجمہ : اور اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا :

(آیت) ” ولا تسرفوا ان اللہ لا یحب المسرفین “۔ (الاعراف : ٣١)

ترجمہ : اور فضول خرچ نہ کرو بیشک اللہ فضول خرچ کرنے والوں سے محبت نہیں رکھتا۔

(آیت) ” انہ لا یحب المستکبرین “ (النحل : ٢٣)

ترجمہ : بیشک وہ تکبر کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا :

(آیت) ” ان اللہ لا یحب الفرحین “۔ (القصص : ٧٦)

ترجمہ : بیشک اللہ اترانے والوں سے محبت نہیں کرتا۔

(آیت) ” ان اللہ لا یحب کل مختال فخور “۔ (لقمان : ١٨)

ترجمہ : بیشک اللہ کسی اکڑنے والے متکبر سے محبت نہیں کرتا۔

حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ مال ضائع کرنے سے ‘ زیادہ سوال کرنے سے ‘ اور بحث کرنے سے محبت نہیں کرتا۔ اس حدیث کو امام ابویعلی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ١ ص ٣٠٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

حضرت علی ابن طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ جاہل بوڑھے ‘ ظالم امیر اور متکبر فقیر سے محبت نہیں کرتا اس حدیث کو امام بزاز نے روایت کیا ہے اور اس میں حارث نام کا راوی ضعیف ہے (مجمع الزوائد ج ٨ ص ‘ ٧٥ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

امام ابوبکرعبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥‘ ھ روایت کرتے ہیں :

بنوضمرہ کے ایک شخص نے اپنے والد سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ ماں باپ کی نافرمانی سے محبت نہیں کرتا۔ (المصنف ج ٨ ص ٤٩ مطبوعہ ادارۃ القرآن ٗکراچی ٗ ١٤٠٦ ھ)

امام سلیمان بن احمد طبرانی روایت کرتے ہیں :

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل بد خلق اور بد زبان سے محبت نہیں کرتا۔ (المعجم الکبیر ج ١ ص ١٦٥‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 31

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.