أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَلَا تَمُوۡتُنَّ اِلَّا وَاَنۡـتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں ہرگز موت نہ آئے مگر مسلمان ہونے کی حالت میں

تفسیر:

ربط آیات :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل کتاب کے گمراہ کرنے سے خبردار فرمایا تھا اور اس کے بعد کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے تمام عبادات اور تمام خیرات کا جامع حکم بیان فرمایا : ان میں سے ایک حکم یہ ہے کہ اللہ سے ڈرو ‘ دوسرا حکم یہ ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اور تیسرا حکم یہ ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو ‘ اور ان میں ترتیب یہ ہے کہ انسان اللہ کی اطاعت عذاب کے خوف سے کرتا ہے یا ثواب کے شوق سے کرتا ہے ‘ اور عذاب کا خوف مقدم ہے کیونکہ دفع ضرر حصول نفع پر مقدم ہوتا ہے ‘ اس لیے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس طرح ڈرنے کا حق ہے تاکہ عذاب سے بچنے کے لیے انسان اللہ کی عبادتت کرے پھر اس کو موکد کرنے کے لیے فرمایا اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو اس کے بعد اللہ کی نعمتوں کو یاد کرنے کا حکم دیا تاکہ لوگ نعمت کے شوق میں عبادت کی طرف راغب ہوں۔ اور جو لوگ تصوف اور حال کے مدعی ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ نہ ہمیں ثواب سے غرض سے اور نہ عذاب کی فکر ہے ہم مولی کی عبادت مولی کے لیے کرتے ہیں وہ اپنی چادر سے زیادہ پیر پھیلاتے ہیں وہ خود فریب خوردہ ہیں اور لوگوں کو فریب دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جس طرح اللہ سے ڈرنے کا حق ہے۔ (آل عمران : ١٠٢)

آیا اللہ سے کماحقہ ڈرنے کا حکم محکم ہے یا منسوخ ؟ 

امام ابو نعیم احمد بن عبداللہ اصبہانی متوفی ٤٣٠ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ سے ڈرنے کا حق یہ ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اس کی نافرمانی نہ کی جائے اور اس کو یاد رکھا جائے اور اس کو بھولا نہ جائے اور اس کا شکر ادا کیا جائے اور اس کی ناشکری نہ کی جائے۔ (حلیۃ الاولیاء ج ٧ ص ٢٣٨‘ مطبوعہ بیروت)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری نے بھی اس حدیث کو متعدد اسانید کے ساتھ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے (جامع البیان ج ٤ ص ٤٠۔ ١٩)

حافظ سیوطی نے اس حدیث کو امام عبدالرزاق ‘ امام طبرانی اور امام حاکم کے حوالوں سے ذکر کیا ہے۔ (الدرالمنثور ‘ ج ٢ ص ٥٩‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

اس میں اختلاف ہے کہ یہ آیت منسوخ ہے یا نہیں ‘ امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ آیت منسوخ نہیں ہے ‘ اور اللہ سے اس طرح ڈرنا جس طرح ڈرنے کا حق ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں کما حقہ جہاد کیا جائے اور اس سلسلہ میں انسان کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرے ‘ اور عدل و انصاف قائم کیا جائے ‘ خواہ وہ فیصلہ اس کے ماں باپ اور اس کی اولاد کے خلاف ہو ‘ اور حق بات کہنے میں کسی کی پرواہ نہ کی جائے اور اللہ کے تمام احکام کی اطاعت کی جائے اور اس کی تمام نافرمانیوں سے اجتناب کیا جائے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے ” حق تقاۃ “ کی جو تفسیر کی ہے اس میں کون سی بات ناقابل عمل ہے ؟ بلکہ ان تمام باتوں پر عمل کرنا واجب ہے ‘ اسی لیے صحیح یہی ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں ہے۔

بعض فقہاء تابعین نے کہا یہ آیت منسوخ ہے ‘ امام ابن جریر طبری روایت کرتے ہیں :

قتادہ نے کہا پہلے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پھر اللہ تعالیٰ نے تخفیف اور آسانی کو نازل کیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے ضعف کی وجہ سے ان پر رحمت نازل فرمائی اور یہ آیت نازل فرمائی :

(آیت) ” فاتقوا اللہ ما استطعتم “۔ (التغابن : ١٦)

ترجمہ : سو جہاں تک تم سے ہو سکے تم اللہ سے ڈرتے رہو۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٢٠‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ سے کما حقہ ڈرنے کا معنی یہ ہے کہ تمام گناہوں سے اجتناب کیا جائے ‘ اور اگر اس کو منسوخ مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ بعض گناہوں کا کرنا مباح ہو ‘ اور ان دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں ہے کیونکہ تمام احکام پر عمل کرنا اور تمام گناہوں سے بچنا استطاعت کے مطابق ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو استطاعت سے زیادہ مکلف نہیں کرتا ‘ مثلاکسی شخص کا پیر کٹا ہوا ہو اور وہ وضو میں پیر نہ دھوئے تو وہ گنہ گار نہیں ہوگا ‘ اسی طرح بلغاریہ میں رہنے والے عشاء کی نماز کا وقت نہیں پاتے تو وہ عشاء کی نماز نہ پڑھنے کی وجہ سے گنہ گار نہیں ہوں گے ‘ قرب قیامت میں جب کوئی زکوۃ لینے والا نہ ہوگا تو کوئی شخص شخص زکوۃ کی عدم ادائیگی کی وجہ سے گنہگار نہیں ہوگا ‘ اور جو شخص کسی دائمی مرض (مثلا ذیابیطس یا بلند فشار دم) کی وجہ سے رمضان کے روزے نہ رکھے تو وہ گنہگار نہیں ہوگا ‘ اسی طرح حلال دوائیں نہ ملنے کی وجہ سے جو شخص حرام دواؤں سے علاج کرے وہ بھی گنہگار نہیں ہوگا ‘ معاشرتی ‘ عمرانی اور دینی ضرورتوں (مثلا حج اور عمرہ کے سفر) کی وجہ سے جو شخص پاسپورٹ سائز کا فوٹو کھنچوائے تو وہ بھی گنہگار نہیں ہوگا ‘ اسی طرح ضرورت کی بناء پر ضبط ولادت کرنا یا اسقاط حمل کرانا یانس بندی کرانا ان میں سے کوئی چیز بھی گناہ نہیں اور نہ تقوی کے خلاف ہے کیونکہ انسان اللہ سے ڈرنے اور احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا حسب استطاعت ہی مکلف ہے۔

تقوی کے متعلق احادیث :

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سینے کی طرف تین بار اشارہ کرکے فرمایا کہ تقوی یہاں ہے۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣١٧ کراچی)

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ سے یہ نصیحتیں کون حاصل کرے گا تاکہ ان پر عمل کرے یا ان پر عمل کرنے والوں کو ان کی تعلیم دے ؟ حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا میں یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور پانچ نصیحتیں گنوائیں ‘ آپ نے فرمایا حرام کاموں سے بچو تم سب سے زیادہ عبادت گزار ہوجاؤ گے ‘ اللہ کی تقسیم پر راضی رہو تم سب سے زیادہ غنی ہوجاؤ گے ‘ اپنے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کرو تم مومن (کامل) ہوجاؤ گے ‘ لوگوں کے لیے وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو تم (کامل) مسلمان ہوجاؤ گے ‘ زیادہ ہنسا نہ کرو کیونکہ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہوجاتا ہے۔

عطیہ سعیدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی بندہ اس وقت تک متقین میں شمار نہیں ہوگا جب تک کہ وہ کسی مباح کام کو بھی اس خدشہ سے ترک نہ کردے کہ شاید اس میں حرج ہو۔

میمون بن مہران بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی بندہ اس وقت تک متقین میں شمار نہیں ہوگا جب تک کہ وہ کسی مباح کو بھی اس خدشہ سے ترک نہ کر دے کہ شاید اس میں حرج ہو۔

میمون بن مہران بیان کرتے ہیں کہ کوئی بندہ اس وقت تک متقی نہیں ہوگا جب کہ وہ اپنے نفس کا اس طرح محاسبہ نہ کرے جس طرح وہ اپنے شریک کا محاسبہ کرتا ہے کہ اس کا کھانا کہاں سے آیا ؟ اس کا لباس کہاں سے آیا ؟ (جامع ترمذی ص ‘ ٣٥٤۔ ٣٣٥ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

لفظ تقوی کا لغوی اور شرعی معنی : 

وقی اور وقایہ کا معنی ہے کس چیز کو ایذا اور ضرر سے محفوظ رکھنا ‘ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” ووقھم عذاب الجحیم “۔ (الدخان : ٥٦)

ترجمہ : اور اللہ تعالیٰ نے ان کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھا۔

تقوی کا معنی ہے نفس کو اس چیز سے محفوظ رکھنا جس سے اس کو ضرر کا خوف ہو ‘ اور شریعت میں تقوی کا معنی ہے نفس کو گناہ کے کاموں سے محفوظ رکھنا ‘ تقوی ممنوعات کے ترک کرنے سے حاصل ہوتا ہے ‘ اور اس کا کمال بعض مباحات کے ترک سے حاصل ہوتا ہے ‘ جیسا کہ حدیث میں ہے حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں جن کا اکثر لوگوں کو علم نہیں ہے سو جس شخص نے مشتبہات کو ترک کردیا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کرلیا ‘ اور جو شخص مشتبہات میں واقع ہوگیا وہ اس چرواہے کی طرح ہے جو ممنوعہ چراگاہ کے گرد اپنے جانور چراتا ہے ‘ وہ اس خطرہ میں ہے کہ اس کے جانور ممنوعہ چراگاہ میں منہ مار لیں ‘ سنو ! زمین پر اللہ کی ممنوعہ چراگاہ وہ کام ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام کردیا ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٣)

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” فمن اتقی واصلح فلا خوف علیہم ولا ھم یحزنون “۔ (الاعراف : ٣٥)

ترجمہ : جن لوگوں نے تقوی کیا اور نیکی اختیار کی ان پر کوئی خوف ہوگا اور وہ غمگین ہوں گے۔

تقوی کے کئی مدارج ہیں جن کا قرآن مجید میں بیان ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والا ہو وہ اللہ سے ڈرے ‘ (یعنی متقی بنے) اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ قوی ہو وہ اللہ پر توکل کرے ‘ اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ قوی ہو وہ اللہ پر توکل کرے ‘ اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ لوگوں میں سب سے زیادہ غنی ہو اس کا اعتماد اپنے قبضہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی عطا پر ہو ‘ حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا معصیت پر اصرار کو ترک کرنا اور اپنی عبادات پر اعتماد نہ کرنا تقوی ہے۔ حسن بصری نے کہا تقوی یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو اختیار نہ کرو اور یہ یقین رکھو کہ تمام کام اللہ کے قبضہ وقدرت میں ہیں ‘ ابراہیم بن ادہم نے کہا تقوی یہ ہے کہ جس طرح تم مخلوق کے لیے اپنے ظاہر کو مزین کرتے ہو اسی طرح تم خالق کے لیے اپنے باطن کو مزین کرو ‘ ایک قول یہ ہے کہ تقوی یہ ہے کہ تقوی یہ ہے کہ تم سیرت مصطفے کے راستہ پر چلو ‘ دنیا کو پس پشت ڈال دو ‘ اپنے نفس میں اخلاق اور وفا کو لازم کرلو “ حرام اور جفا سے اجتناب کرو۔ قرآن مجید میں ایک جگہ یہ فرمایا کہ قرآن انسانوں کے لیے ہدایت ہے ‘ دوسرے مقام پر یہ فرمایا قرآن مجید متقین کے لیے ہدایت ہے ‘ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انسان وہی ہیں جو صاحب تقوی ہیں اور جن میں تقوی نہیں ان میں انسانیت نہیں ‘ یہ تقوی کی کیا کم فضیلت ہے ! شرعا متقی وہ شخص ہے جو اپنی ذات اور عذاب الہی کے درمیان اپنی عبادات اور طاعات کو حفاظت کا ذریعہ اور آڑ بنا دیتا ہے ‘ تقوی کی اصل خوف ہے ‘ وہ خوف جو اللہ تعالیٰ کے جلال ذات ‘ اس کی عظیم قدرت اور اس کے عذاب کی معرفت سے دل میں پیدا ہوتا ہے اور معرفت کا محل دل ہے (یعنی دماغ ہے) اس لیے آپ نے سینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : تقوی یہاں ہے۔

قرآن مجید اور احادیث میں سائنسی زبان استعمال نہیں کی گئی بلکہ ان میں عرف اور محاورہ کی زبان ہے اور عرف میں دماغ پر دل کا اطلاق کیا جاتا ہے (اس کی پوری تحقیق شرح صحیح مسلم جد رابع ص ٤١٤۔ ٤١٣ میں ہے)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تمہیں ہرگز موت نہ آئے مگر مسلمان ہونے کی حالت میں۔ (آل عمران : ١٠٢)

اس آیت کا معنی اس کو مستلزم ہے کہ تمہاری زندگی میں کسی لمحہ بھی کفر نہ آنے پائے اور تم ہمیشہ اسلام پر ثابت قدم رہو ‘ انسان کو چاہیے کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے اسلام پر ثابت قدم رہنے کی دعا کرتا رہے۔

تاحیات اسلام پر قائم رہنے کے حکم کا ایک حدیث سے تعارض اور اس کا جواب : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک شخص طویل زمانہ تک اہل جنت کے عمل کرتا ہے پھر اس کے اعمال کا خاتمہ دوزخیوں کے اعمال پر کیا جاتا ہے اور ایک شخص طویل زمانہ تک دوزخیوں کے عمل کرتا ہے پھر اس کا خاتمہ جنتیوں کے اعمال پر کیا جاتا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کسی ایک شخص کی خلقت کو اس کی ماں کے پیٹ میں چالیس دن جمع کیا جاتا ہے پھر وہ جمع ہوا خون بن جاتا ہے ‘ پھر چالیس دن بعد وہ گوشت کا ٹکڑا بن جاتا ہے ‘ پھر چالیس دن کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو بھیج کر اس میں روح پھونک دیتا ہے اور اس کو چار کلمات لکھنے کا حکم دیتا ہے ‘ اس کا رزق ‘ اس کی مدت حیات ‘ اس کا عمل اور یہ کہ وہ شقی ہے یا سعید ہے ‘ سو اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ تم میں سے ایک شخص اہل جنت کے عمل کرتا رہتا ہے ‘ حتی کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے ‘ پھر اس پر وہ لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے عمل کرتا ہے اور دوزخ کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے پھر اس پر وہ لکھا ہوا غالب آجاتا ہے اور وہ جنتیوں کے عمل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہوجاتا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٣٣٤۔ ٣٣٢‘ ملتقطا مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

بظاہر اس حدیث سے یہ اشکال ہوتا ہے کہ اسلام اور اعمال صالحہ انسان کے اختیار میں نہیں ہیں بلکہ اس کے پیدا ہونے سے پہلے جو کچھ اس کے متعلق لکھ دیا گیا ہے کہ وہ سعید (جنتی) یا شقی (دوزخی) ہے اسی کے مطابق اس کا خاتمہ ہوگا ‘

جب کہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ ” تمہیں ہرگز موت نہ آئے مگر مسلمان ہونے کی حالت میں “ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام پر قائم رہنا اور نیک اعمال پر ثابت قدم رہنا انسان کے اختیار میں ہے اور اس طرح اس آیت اور اس حدیث میں تعارض ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ازل میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ انسان اپنے ارادہ اور اختیار سے اپنی عمر کے آخری حصہ میں کیا کرے گا اور وہ آخری عمر میں اہل جنت میں کے عمل کرے گا ‘ یا اہل دوزخ کے عمل کرے گا ‘ اسی علم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس کی ماں کی پیٹ میں لکھوا دیا ‘ لہذا انسان اپنی آخری عمر میں جو عمل کرتا ہے وہ اپنے اختیار اور ارادہ سے کرتا ہے جبر سے نہیں کرتا ‘ جبر اس وقت ہوتا جب وہ نیک عمل کرنا چاہتا اور اس کی مرضی کے خلاف کوئی غیر مرئی طاقت اس سے برے عمل کرا لیتی جیسے کوئی انسان اپنی بیوی کو طلاق نہ دینا چاہتا ہو اور کوئی شخص اس کی کنپٹی پر پستول رکھ کر جبرا اس سے طلاق کہلوا لیتا ‘ اور ظاہر ہے کہ انسان نہ صرف حیات کے آخری حصہ میں بلکہ پوری زندگی میں پوری آزادی کے ساتھ اپنے اختیار اور ارادہ سے عمل کرتا ہے خواہ وہ عمل نیک ہو یا بد اور جو کچھ اس نے کرنا ہے وہی لکھا گیا ہے یہ بات نہیں ہے کہ جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اس نے کرنا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” وکل شیء فعلوہ فی الزبر۔ وکل صغیر و کبیرمستطر۔ (القمر : ٥٣۔ ٥٢)

ترجمہ : ہر وہ کام جس کو انہوں نے کیا ہے نوشتوں میں ہے۔ ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھا ہوا ہے۔۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو کچھ بندوں نے کیا ہے وہ لکھا ہوا ہے یہ نہیں فرمایا جو کچھ لکھا ہوا ہے وہ بندوں نے کرنا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ علم معلوم کے مطابق ہے معلوم علم کے مطابق نہیں ہے۔ زیر بحث آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تمہیں ہرگز موت نہ آئے مگر مسلمان ہونے کی حالت میں ‘ یعنی تم اپنے اختیار اور ارادہ سے تاحیات اسلام پر قائم رہو ‘ اور اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ انہوں نے اسلام پر قائم رہنا ہے یا نہیں ‘ اور اسی علم کے مطابق ان کی پیدائش سے پہلے جب وہ ماں کے پیٹ میں تھے اللہ تعالیٰ نے اس کو فرشتوں سے لکھوادیا سو یہ حدیث قرآن مجید کی اس آیت کے منافی اور معارض اور جبر کی موجب نہیں ہے۔

مفتی محمد شفیع متوفی ١٣٩٦ ھ بھی اس بحث کو چھیڑا ہے لیکن ان کے جواب سے اصل اشکال دور نہیں ہوتا وہ لکھتے ہیں :

بعض روایات حدیث میں جو یہ آیا ہے کہ بعض آدمی ایسے بھی ہوں گے کہ ساری عمر اعمال صالحہ کرتے ہوئے گزر گئی آخر میں کوئی ایسا کام کر بیٹھے جس سے سارے اعمال حبط و برباد ہوگئے یہ ایسے ہی لوگوں کو پیش آسکتا ہے جن کے عمل میں اول اخلاص اور پختگی نہیں تھی واللہ اعلم (معارف القرآن ج ٢ ص ١٢٨‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٣٩٧ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 102