منکرین حدیث کے شبہات اورانکا ازالہ

 

منکرین حدیث کے شبہات اورانکا ازالہ

 

منکرین حدیث قرآن کے سوا تمام سرما یۂ شریعت کو مہمل قرار دیتے ہیں ۔انکار حدیث کا شوشہ زمانۂ قدیم میں معتزلہ وخوارج نے چھوڑاتھا لیکن ایک دو صدی کے بعد وہ خود ہی اس دنیا سے ناپید ہوگئے اور ان کا یہ فتنہ بھی اپنی موت آپ مرگیا تھا ۔

ہزار سال سے زیادہ گزرجانے کے بعد پھر مسلمان کہلانے والے لوگوں کی بے راہ روی اور نکتہ چینی حدسے بڑھی اور انہوں نے بھی وہی طریقہ اپنایا جو عقل وخرد سے بعید تھا اور اس سلسلہ میں وہ دراصل مستشرقین کے ریزہ خوار اورزلہ رباتھے ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ جس طرح بھی ہو اسلام کو بے بنیاد ثابت کیاجائے ،یاپھرا سکی بنیادوں میں وہ خامیاں بیان کی جائیں جس سے اسلامی تعلیمات کی حقیقت ایک افسانہ کے سوا کچھ بھی نہ رہے ۔اس مقصد کے حصول کیلئے انہوں نے ہرحربہ استعمال کیا ۔چونکہ اس خبیت مقصد میں عیسائی اور یہودی ہم پیالہ وہم نوالہ تھے لہذا دونوں نے مل جل کر سرتوڑکوششیں شروع کیں اورعلوم اسلامیہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ بے سروپا اعتراضات کی بوچھار بھی شروع کردی ۔

سب سے پہلے انہوں نے نشانۂ تنقید قرآن عظیم کوبنایا کہ اسلامی تعلیم کایہ ہی اصل منبع تھا ،ایک عرصہ گذر گیا اور وہ یہ ہی ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ یہ کوئی الہامی کتاب نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کے رسول ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا خود ساختہ کلام ہے ۔ اور اس میں تغیروتبدل ممکن ہیـ۔ لیکن طویل مدت گذرجانے کے باوجود وہ اس میں کوئی تبدیلی نہ لاسکے ۔کیونکہ قرآن عظیم کی حفاظت کا ذمہ خود خدا وندقدوس نے لیاتھا ،جو اس میں تبدیلی کی راہیں پیداکرنے کی کوشش کریگا وہ خود ہی خائب وخاسر رہیگا ۔ بہت لوگوں نے اس قبیح فعل کا ارتکاب کیا تو دنیا نے ان کا عبرتناک انجام دیکھا۔

مستشرقین نے جب اس میدان میں اپنے کو شکست خوردہ پایا تودوسرا حملہ انہوں نےاحادیث مصطفی علیہ التحیۃ والثناء پر کیا ۔

اس سلسلہ میں انہوں نے اسلامی ذخیرہ کا شب وروزمطالعہ کیا ،اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر اگرچہ انکا ایمان نہیں ہے لیکن اپنے اسلاف کی طرح اتناضرور جانتے ہیں کہ یہ آخری رسول ہیں ۔اور یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول کا دامن کبھی جھوٹ سے داغدار نہیں ہوتا۔

رسول کا فرمان حق ہوتاہے اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہوتی ۔

اورتجربہ نے یہ بھی انہیں بتادیا کہ مسلمان کبھی بھی اپنے رسول کے فرامین کا منکر نہیں ہوگا اور وہ اپنا سب کچھ قربان کرکے بھی سنت رسول سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہوگا ۔پھر بھی وہ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئے چنانچہ مستشرقین میں سب سے پہلے ایک یہودی مستشرقگو لڈزیہ رنے حدیث کے خلاف زہرافشائی کی۔

مولانا پیرکرم شاہ ازہری لکھتے ہیں ۔

گولڈزیہر نے اپنے بے بنیاد خیالات کا اظہار اپنی کتاب دراسات محمدیہ میں کیا ہے جو ۱۸۹۰ء میں جرمن زبان میں شائع ہوئی ۔ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد حدیث پر تحقیق کیلئے یہ کتاب اہل مغرب کی بنیادی دستاویز بن گئی ۔ بیشتر مستشرقین اس کتاب کے حوالے سے اپنے نتا ئچ فکر پیش کرتے رہے ۔

پروفیسر شاخت نے فقہی احکام سے متعلق احادیث پر کام کیا ،گلیوم کی ’’ٹریڈ یشنز آف اسلام ‘‘ وجود میں آئی جو گولڈزیہر کی تحقیقات کا چربہ تھی ، مارگولیتھ نے گولڈزیہر کے افکار کی روشنی میں اپنے نطریات پیش کئے ، علاوہ ازیں دوسرے مستشرقین مورست ،فون کریمر ،مویر، کیتانی اورنکسن وغیرہ نے بھی اس میدان میں اپنے نتائج فکر بیان کئے ہیں جوسارے کےسارے کم وبیش گولڈزیہر ہی کی صدائے باز گشت ہیں ۔( ضیا ء النبی ۷/۱۹)

دراسات محمدیہ کے تعلق سے مولانا موصوف یوں وضاحت کرتے ہیں کہ فانملر گولڈزیہر کی حدیث کے متعلق تحقیقات کا نچوڑ ان الفاظ میں پیش کرتاہے ۔

گولڈزیہر احادیث پاک کو پہلی اوردوسری صدی ہجری میں اسلام کے دینی ،تاریخی اوراجتماعی ارتقاء کا نتیجہ قرار دیتاہے ۔لہذا گولڈزیہر کے نقطۂ نگاہ سے حدیث کو اسلام کے دوراول یعنی عہد طفولیت کی تاریخ کیلئے قابل اعتماد ستاویزقرار نہیں دیا جاسکتا ۔کیونکہ حدیث ان کوششوں کانتیجہ ہے جواسلام کے دور عروج میں اسلام کے ارتقاء کیلئے کی گئیں ۔

گولڈزیہر اس بات پر بڑے پرزور دلائل پیش کرتاہے کہ اسلام متحارب قوتوں کے درمیان ارتقائی منازل طے کرتاہوا منظم شکل میں رونماہوا ۔وہ حدیث کی تدریجی ارتقاء کی بھی تصویر کشی کرتاہے اور بزعم خویش نا قابل تردید دلائل سے یہ ثابت کرتاہے کہ حدیث کس طرح اپنے زمانہ کی روح کا عکس تھا اورکس طرح مختلف نسلوں نے احادیث کی تشکیل میں اپنا کردار اداکیا اور کس طرح اسلام مختلف گروہ اورفرقے اپنے اپنے موقف کو ثابت کرنے کیلئے مؤسس اسلام کا سہارا لیتے تھے اورکس طرح انہوں نے ایسی باتوں کو اپنے رسول ( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ) کی طرف منسوب کیا جو انکے موقف کی حمایت کرتی تھیں ۔(ضیاء النبی ۷/۱۸)

مزید لکھتے ہیں ۔

گولڈزیہر نے حدیث پاک کے متعلق جوزہر افشانیاں کی ہیں ان کا خلاصہ ڈاکٹر محمود حمدی زقزوق نے مصطفی السباعی کے حوالے سے ان الفاط میں پیش کیا ہے ۔

اس طرح اموی دور میں جب امویوں اور علمائے صالحین کے درمیان نزاع نےشدت اختیار کی تواحادیث گڑھنے کا کام ہیبت ناک سرعت سے مکمل ہوا ۔ فسق وارتداد کا مقابلہ کرنے کیلئے علماء نے ایسی احادیث گڑھنی شروع کردیں جو اس مقصد میں انکی مدد کرسکتی تھیں۔ اسی زمانہ میں اموی حکومت نے بھی علماء کے مقابلے میں یہ کام شروع کردیا ، وہ خود بھی احادیث گڑھتی اورلوگوں کو بھی ایسی احادیث گڑھنے کی دعوت دیتی جو حکومتی نقطہ نظر کے موافق ہوں۔ حکومت نے بعض ایسے علماء کی پشت پناہی بھی کی جواحادیث گڑھنے میں حکومت کاساتھ دیتے تھے ، احادیث گڑھنے کا معاملہ سیاسی مسائل تک محدود نہ رہا بلکہ آگے بڑھکر دینی معاملات اورعبادات میں بھی داخل ہوگیا اور کسی شہر کے لوگ جن باتوں کو اپنے خیال کے مطابق نہیں سمجھتے تھے انکے خلاف حدیثیں گڑھ لیتے تھے ،احادیث گڑھنے کا یہ کام دوسری صدی ہجری میں

بھی جاری رہا۔(ضیاء النبی ۷/۱۹)

ان اقتباسات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ انکا ر حدیث سے متعلق کیسا خطرناک منصوبہ تیار کیا گیا اور پھر اسکو علی الاطلاق مسلمانوں کی ہواوہوس ،نفس پرستی اور جاہ طلبی کے نتیجہ میں رونما ہونے والاایک افسانہ بناکر پیش کرنے کی مذموم کوشش کی گئی جبکہ سلاطین اسلام کی طرف جعلی احادیث کی نسبت تاریخ اسلام سے ناواقفی کا نتیجہ ہے ۔تفصیل آگے ملاحظہ

کریں ۔

گوہڈ زیہرکی اس ساری خرافات میں صرف اتنی بات صحیح ہے کہ عہد قدیم میں کچھ لوگوں نے نیک نیتی اور کچھ نے بد نیتی کے ساتھ وضع حدیث کی کوشش کی لیکن یہ ساری جد و جہد رائیگاں گئی اور خیر القرون کے مبارک و مسعود ماحول نے ان سارے اقوال کو ذخیرئہ حدیث سے کاٹ چھانٹ کر الگ کردیا ۔

یہ وہ دور تھا جبکہ دنیا ان نفوس قدسیہ سے خالی ہوچکی تھی جنہوں نے شمع رسالت سے بلاواسطہ اکتساب فیض کیا تھا ،صحابہ کرام کا مقدس گروہ اپنے فیوض وبرکات ، عشق وعرفان اور علم وآگہی کی روشنیاں پھیلاکر اس عالم فانی سے رخصت ہوچکاتھا ۔لیکن انہوں نے اپنے پیچھے

ایسے قدسی صفات نفوس چھوڑے تھے جنکے شعور وآگہی کالوہا عامۃ المسلمین ہی نہیں بلکہ علم وافضل کے کوہ شامخ اوراسلام کے بطل جلیل بھی مانتے تھے اورسلاطین وقت جنکی عزت وکرامت کے سامنے سرخمیدہ رہتے ،اس جماعت کو تابعین اور ائمۂ مجتہدین کے نام سے تاریخ اسلام نے اپنے صفحات میں محفوظ کرلیا ہے ۔ ان حضرات کی شبانہ روز یہ ہی جدوجہد رہتی تھی کہ حق کو باطل سے ممتاز کریں ،احادیث صحیحہ کو موضوع اور من گڑہت اقوال سے جداکرکے خط امتیاز قائم کردیں تاکہ آئندہ لوگوں کو سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے میں دشواری نہ ہو ۔

مستشرقین کا مطمع نظر تو واضح طور پر اسلام کی بیخ کنی ہے ، کسی اصول وضابطۂ اسلامیمیں اصلاح ہرگز مقصود نہیں ہوتی بلکہ ناصح بنکر تخریب کاری ان کا محبوب مشغلہ رہتاہے ۔

ذخیرہ حدیث میں موضوع روایات کی آمیزش آج مستشرقین کی کوئی اپنی تحقیق نہیں بلکہ ائمہ ٔ علم وفن روزاول ہی سے اس سے ہوشیار رہے ہیں ۔اسی لئے انہوں نے جرح وتدیل اوراسماء الرجال کا عظیم فن ایجاد کیا جسکے تحت تقریباً پانچ لاکھ راویان حدیث کی سیرت وسوانح تیارکی گئی جوتاریخ عالم میں اپنی مثال آپ ہے ۔

وضع حدیث کی جانچ پرکھ کیلئے ان مضبوط ومستحکم دلائل کے ذریعہ دودھ کادودھ اور پانی کا پانی کردیاگیا ۔مراتب حدیث متعین کئے اورہر حیثیت سے کھرے کھوٹے کی تمیز کیلئے اصول وضع کئے گئے ، بعد کے لوگوں نے ان سب کو باقاعدہ مدون کرکے رہتی دنیا تک کیلئے مشعل راہ بنادیا ۔ انکے یہ اصلاحی کارنامے ہردور میں عزت کی نگاہ سے دیکھے گئے اور برملا اعتراف کرنےمیں کبھی کسی انصاف پسند شخص نے چون وچرا نہ کی ۔

اس اجمال کی تفصیل قارئین آئندہ اوراق میں ملاحظہ فرمائینگے ،یہاں مجھے یہ بتانا ہے کہ انکار حدیث کا فتنہ کس انداز سے اٹھاتھا اور اب کہاں تک جاپہونچا ۔ دشمنان اسلام کی ریشہ دوانیوں سے شکایت ہی کیا ،انکا وطیرہ اور روز مرہ کا معمول ہی یہ رہاہے کہ اسلام کی ترقی میں رخنہ اندازی سے پیش آئیں ۔کیونکہ علوم اسلامیہ کی ترویج واشاعت انکو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ ہاں ان لوگوں سے ضرور شکوہ ہے جو کلمہ تو اللہ ورسول کا پڑھتے ہیں لیکن ان اسلام دشمن طاقتوں سے مرعوب ہوکر انکی تحقیق کو اپنے لئے واجب الاذعان ماننا ہرفرض سے اہم فرض گردانتے ہیں، اگر کسی بیچارے مستشرق نے تعصب وعناد کی عینک لگاکر اپنی خود ساختہ تحقیق پیش کردی تواس کی ہاں میں ہاں ملانا اپنے لئے سرمایہ ٔآخرت سمجھ لیتے ہیں ۔ یہ لوگ خود اپنے آپ کو بھی فریب دیتے ہیں اورامت مسلمہ کو بھی اپنے فریب میں مبتلا کرنے سے ایک آن نہیں تھکتے ۔ایسے لوگ رہبری کے بھیس میں رہزنی کرنے کے خوگرہیں اس لئے ان سے ہوشیار رہنا ازبس ضروری ہے ۔

منکرین حدیث بالفاظ دیگر اہل قرآن نے مستشرقین سے سیکھ کر ذخیرئہ احادیث پر کچھ تغیروتبدل کے ساتھ اعتراضات کئے ہیں ،اس جماعت کے سرخیل عبداللہ چکڑالوی ،احمد دینامرتسری ،اسلم جیراجپوری، محمد حسین عرشی اورغلام احمد پرویز وغیرہم ہیں ۔

یہاں ان کے چند مشہور شبہات کے جواب مقصود ہیں تاکہ ہمارے قارئین ان سےخبردار اورہوشیار رہیں ۔ یہ شبہات منکرین کی کتاب ’’دو اسلام‘‘ وغیرہ سے ماخوذ ہیں ۔

شبہ ۱۔تمام فقہائے اسلام اس بات کو بالاتفاق مانتے ہیں کہ جیسے جیسے زمانہ گذرتاگیا جعلی حدیثوں کاایک جم غفیر اسلامی قوانین کاایک جائز اورمسلم ماخذ بنتا چلاگیا۔

جواب ۔ یہ بات بالکل بے بنیاد اورسراسر خلاف واقع ہے کہ ائمہ فقہ اس بات پر متفق ہیں ۔

امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کتاب الآثار ،اور آپکے تلامذہ میں امام ابویوسف ،امام محمد ،امام حسن بن زیاد وغیرہم رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شاندار حدیثی خدمات سے اہل علم واقف ہیں اور آئندہ تفصیلات آرہی ہیں ۔ان حضرات کی جدوجہد نے روزاول ہی اس سیلاب پر بندباندھ دیاتھا کہ موضوع احادیث شرعی امورمیں دخیل نہ ہونے پائیں ۔صحیح کوغلط بلکہ ضعیف تک سے جداکرکے اس بات کی صراحت کردی گئی تھی کہ جملہ احادیث نہ استدلال میں مساوی ہیں اور نہ عمل میں ۔عقیدہ وعمل میں کام آنے والی احادیث کے مراتب متعین کردیئے گئے تھے، اورامام اعظم قدس سرہ کے شرائط توبجائے خود اتنے سخت تھے کہ آج تک لوگوں کویہ شکوہ ہے کہ انہوں نے احادیث رسول کا اکثرذخیرہ لائق اعتناہی نہیں سمجھا ،حالانکہ یہ بھی تعصب وعناد پر مبنیہے ،آئندہ آپ اسکی بھرپور وضاحت ملاحظہ کرینگے کہ حقیقت حال کیا ہے ۔

امام مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک لاکھ احادیث سے مؤطالکھی ،علم حدیث کی عظمت اورکمال احتیاط دونوں ہی آپکو ملحوظ تھیں ،اولاً نوہزار احادیث پر مشتمل تھی لیکن آپ اسکو باربار قرآن عظیم پرپیش کرتے رہے اوراب تعداد چھ سوسے کچھ اوپر ہے ۔پھریہ کیونکر متصور کہ اس میں جعلی حدیثیں ہونگی ۔

امام شافعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورآپکے اصحاب توعلم روایت ہی کے خوگرتھے ،پوریزندگی نشر حدیث وفقہ میں گذری ۔

اورآخرمیں امام احمدبن حنبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنکی علم حدیث میں رفعت شان مسلم چیزہے ۔کہتے ہیں ساڑھے سات لاکھ احادیث کے حافظ تھے ،ان سے آپکی مسند میں ستائیسہزارایک سو احادیث ہیں ۔

یہ ہے ائمہ اربعہ کی علم حدیث میں منصف مزاجی اوران کامحتاط رویہ ،پھروہ کون فقہاء ہیں جنہوں نے جعلی حدیثوں کو ماخذ بنایا اورقانون اسلام کی حیثیت دی ۔

ائمہ مذاہب اورحدیث وفقہ کی بابغۂ روز گار شخصیات میں سے کسی کانام پیش کئے بغیر بالعموم یہ حکم صادر کردینا ظلم ہے اوروہ حضرات اس سے بہت بلند تھے ۔ہاں یہودونصاری کے نام نہاد محققین مستشرقین کی طرف سے ایسا الزام ہوتاتو ان سے جائے شکایت ہی کیا انہوں نے توجلیل القدر صحابہ کرام مثل ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورعظیم ائمۂ حدیث مثل امام بخاری علیہ رحمۃ الباری وغیرہم کوبھی نہ چھوڑا ،انکوبھی نشانہ تنقید بنایا،توکیاہم اہل اسلام انکی خاطر اپنے اصول اوراپنی حقیقی تاریخ سے دست بردار ہوجائینگے ؟ آئندہ اوراق میں آپ ان اساطین ملت کی خدمات جلیلہ پر مشتمل تفصیلات پڑھکر خود فیصلہ کرلیںگے ۔

واقعہ یوں ہے کہ جس وقت سے جعلی حدیثیں ظاہر ہوناشروع ہوئیں اسی وقت سے محدثین ،ائمہ مجتہدین اورفقہائے عظام نے اپنی تما م تر کوششیں اس چیز پربھی مرکوز رکھیںکہ یہ گندانالہ اسلامی قوانین کے سوتوں میںنفوذ نہ کرنے پائے ۔ویسے توہرطرح کی احادیث کی چھان بین شروع ہوئی لیکن وہ احادیث خصوصی توجہ کامرکز بنیں جن سے عقائدشرعیہ ا صلیہ اوراحکام فرعیہ فقہیہ متعلق تھے ۔اسلامی عدالتوں کے قاضی بھی اس معاملہ میں کسی طرح کی فروگذاشت سے کام نہیں لیتے تھے بلکہ سخت چوکنے رہتے تھے۔

شبہ ۲۔جھوٹی حدیثیں خود محمدرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں ظاہر ہوناشروع ہوگئی تھیں ۔

جواب۔ یہ شبہ بھی پادرہواہے ۔یوں توگھر بیٹھے خیالی پلائو کوئی بھی پکا سکتاہے لیکن اس سے حقیقت نہیں بدلتی ۔اس دورپرآشوب میں ایک آزاد خیال شخص کیاکچھ نہیں کہہ سکتا جبکہ واقعی اورحقیقی چیزوں کا منہ چڑانے میں اس خیرالقرون میں بھی کوئی کسر نہیں اٹھارکھی گئی ۔کہنے والوں نے تو یہ بھی کہاتھا کہ یہ قرآن کلام الہی نہیں بلکہ محمد( صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کااپنا کلا م ہے۔عقل وخرد سے کام لینا سب کو نصیب نہیں ہوتا ۔

قابل غور ہے یہ بات کہ جب وہ صحابہ کرام جنکا عشق رسول اس نہایت کوپہونچاہواتھا کہ مجلس رسول میں بیٹھکر ادب رسول کا لحاظ اس حدتک کرتے کہ ان کا سکوت وجمود سراٹھا نے تک کی اجازت نہ دیتا اورایسا محسوس کیاجاتا گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں ،وہ مقدس جماعت کبھی ایساکرسکتی تھی کہ عمداً حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب کردے ۔جبکہ دوسری طرف انہوں نے یہ فرمان واجب الاذعان سن رکھا تھاکہ :۔

ومن کذب علی متعمدافلیتبواٗ مقعدہ من النار 

جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ باندھا اس نے اپنا ٹھکا ناجہنم میں بنایا۔

یہ ہی وجہ تھی کہ بہت صحابہ کرام نہایت احتیاط سے کام لیتے اوراحادیث کی روایت میں محتاط رویہ اپناتے ،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو روایت حدیث کے وقت بہت مواقع پر لرزہ براندام ہوجاتے کہ مباداہم سے کوئی لغزش ہوجائے ،آپ مکثرین صحابہ کرام میں شمار نہیں کئے گئے حالانکہ اولین سابقین میں ہیں ،سفر وحضر میں ساتھ رہے بعض صحابہ آپکو اہلبیت نبوت سے سمجھتے تھے ،صاحب النعل والوسادۃ مشہور تھے ،پھربھی آپکی مرویات ایک ہزار کی تعداد کو نہ پہونچیں ،یہ اسی غایت احتیاط کانتیجہ تھا۔

ہاں ایسا ممکن کہ کوئی سر پھرامنکر رسالت صرف بدنام کرنے کی غرض سے ایسا کرگذرے اور حضورکی جانب آپکی حیات مقدسہ میں غلط بات منسوب کردے اور حضور کواطلاع نہ دی گئی ہوتو پھراسکی ذمہ داری نہ حضور پر ہے اور نہ صحابہ کرام پر ۔لیکن یہ ہمت کرنا

بھی کوئی معمولی کام نہیں تھا ۔اس طرح کا بس ایک آدھ واقعہ بیان کیاجاتاہے کہ:۔

زمانہ جاہلیت میں ایک شخص مدینہ کے گردونواح میں بسنے والے ایک قبیلہ بنولیث کی لڑکی سے شادی کرناچاہتاتھا ،انہوں نے انکارکردیا ،ہجرت کے اوائل میں وہ شخص جبہ ودستارسے آراستہ اس قبیلہ میں پہونچا اورکہا : مجھے حضور نے اس قبیلہ کاحاکم بنایاہے ،قبیلہ والوں نے اسکو اپنے یہاں قیام کی اجازت تودیدی لیکن پوشیدہ طورپر ایک شخص کو بارگاہ رسالت میں بھیج کرتحقیق کرائی ،حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دشمن خداہے ،اس نے جھوٹ بکا ،لہذااسکو قتل کردینا اورمردہ ملے تواسکی لاش کوجلادینا ۔ یہ صاحب واپس ہوئے تودیکھا کہ سانپ کے کاٹنے سے وہ شخص مرچکا ہے لہذااسکی لاش کوجلادیاگیا ،حضر ت بریدہ رضی اللہ تعالیٰعنہ فرماتے ہیں ، اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا۔من کذب الخ۔(الکامل بن عدی، عن بریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، ۴/۵۴)

لیکن اس واقعہ کو وضع حدیث سے جیسا کچھ تعلق ہے وہ اہل علم سے پوشیدہ نہیں ۔

شبہ ۳۔ بعد میں جھوٹی حدیثیں اتنی بڑھ گئیں کہ حضرت عمرنے اپنی خلافت میں

روایت حدیث پرپابندی لگادی ،بلکہ اس سے منع تک کردیا۔

جواب ۔ امیرالمؤمنین حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں توجھوٹی حدیثیں نہیں گڑھی گئیں البتہ انکے عہد پاک کی طرف یہ نسبت ضرورکھلاجھوٹ اورمن گڑہت ہے ۔

دورفاروقی اسلام کے عروج وارتقاء کا وہ زرین عہد ہے جس میں مسلمانوں نے ہر اعتبار سے شاندار کامیابی حاصل کی ،حضورکے زمانہ اقدس میں قرآن کریم کی اشاعت حجاز کے ایک خاص حصہ تک ہی رہی ،قرآن عظیم کا کوئی یکجا نسخہ تیار نہ ہوا تھا کہ حضور کا وصال ہوگیا ۔ دورصدیقی آیا اوراس فتنہ ارتدادومنکر ین زکوۃ کی ریشہ دوانیوں نے قرآن کی باقاعدہ نشر واشاعت کاموقع ہی نہ دیا ۔ البتہ اتنا ضرور ہواکہ جنگ یمامہ میں کثیر تعداد میں قراء قرآن کی شہادت سے متاثر ہوکر صحابہ کرام کے مشورہ سے قرآن کریم یکجا ہوا اور یہ ذمہ داری حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سونپی گئی تھی ۔ آپکے دور میں داخلی نظام کی اصلاح پرہی زیادہ زور رہا ۔

ہاں جب دور فاروقی آیا تواس سے پہلے ہی اشاعت اسلام اور قرآن کریم کی تعلیمات کو عام کرنے کی راہیں ہموار ہوچکی تھیں ، اب آپکے سامنے مفتوحہ علاقوں میں قرآن کی تعلیم کوعام کرنے کامسئلہ تھا ،آپ نے مجلس شوری منعقد کرکے قرآنی تعلیمات کے عام کرنے کے ساتھ ساتھ احادیث نبویہ کی نشرواشاعت کیلئے خاص طور پرمشورہ کیا ،سب کی رائے تھی کہاحادیث کو قلمبند کرکے سلطنت اسلامیہ میں اسکی بھی اشاعت ہو ،مگر آپ ایک ماہ تک اسی پسوپیش میں رہے ،استخارہ کیا اورپھر ایک دن آپ نے مجمع عام میں فرمایا۔

سنو! میں حضور کی سنتیں لکھوانے کا ارادہ رکھتاتھا مگر مجھے اب یہ باورہوگیا ہے کہ تم سے پہلے ایک قوم ایسی بھی گذری ہے جس نے دوسری کتابیں لکھیں اورکتاب اللہ کوچھوڑ بیٹھی ،

لہذامیں ہرگز قرآن کے ساتھ دوسری چیز شامل نہیں کرو ںگا۔(تدریب المسادی، ۱۵۱ السنۃ قبل الندوین، ۳۱۰)

اگرقرآن کریم کے علم سے پہلے لوگوں کو روشناس نہ کرایاجاتا تو خطرہ تھا کہ قرآن کے ساتھ دوسری چیز خلط ملط کرکے بعض لوگ امتیاز نہ کرپاتے ، یہ خدشہ خاص طور پربدوی قبائل سے تھا ۔لہذا کتابت حدیث کوعمومی انداز میں پیش کرنے کی ممانعت ہوئی ایسا نہیں کہ خاص لوگوں کوبھی خاص مواقع پر منع کیاگیا تھا کہ واقعہ اس کے خلاف ہے ،آئندہ صفحات میں ناظرین ملاحظہ کرینگے کہ کتنے صحابہ کرام تھے جنہوں نے احادیث لکھیں بلکہ خود فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ

عنہ نے لکھوائیں ۔

یہ خاص صورت حال تھی جسکو بعض محققین یہ سمجھ بیٹھے کہ جعلی احادیث کا شیوع ہی کتابت کی ممانعت کا سبب تھا ،جعل سازی کاتو اس دور خیروصلاح میں دروازہ ہی نہ کھلاتھا۔

شبہ ۴۔ امام بخاری نے ۶؍ لاکھ حدیثیوں میں سے صرف نوہزار کو صحیح احادیث کیحیثیت سے منتخب کیا۔

جواب ۔ کفر ٹوٹا خداخداکرکے ،بالفرض چھ لاکھ میں سے صرف نوہزار ہی صحیح تسلیم کی جائیں تو اس سے یہ کب لازم آیا کہ سارا ذخیرۂ حدیث غیرمعتبر اورموضوع یامشتبہ ہے اورقرآنکے علاوہ کسی دوسری چیز پر اعتماد ہی نہ رہا۔

پہلے اسلامی قوانین میں جعلی حدیثوں کے ایک جم غفیر کے قائل تھے اوراب صرف امام بخاری سے منقول ۹؍ ہزار احادیث کو صحیح مان رہے ہیں، اگر امام بخاری کی صحیح بخاری جب اس حیثیت کی حامل ہے توانکا یہ فرمان تسلیم کرنابھی ناگزیرہے فرماتے ہیں ۔

ماادخلت فی کتاب الجامع الاماصح ، وترکت من الصحاح لملال

میں نے اپنی کتاب میں کوئی ایسی حدیث داخل نہیںکی جو صحیح نہ ہو ، مگربہت سی حدیثیں چھوڑدی ہیں تاکہ کتاب طویل نہ ہوجائے ۔ مقدمہ ابن الصلاح، ۱۰

نیزفرماتے ہیں ۔

میں نے جوحدیثیں چھوڑدی ہیں وہ میری منتخب کردہ حدیثوں سے زیادہ ہیں اوریہ کہمجھے ایک لاکھ صحیح احادیث یادہیں۔( تاریخ بغداد للخطیب، ۲/۸)

اب حدیث کی دوسری عظیم کتاب کاحال سنئے ،امام مسلم فرماتے ہیں :

لیس کل شیٔ عندی صحیح وضعتہ ھھنا یعنی فی کتابہ الصحیح ،انما

وضعت ھھنامااجمعوا علیہ۔(مقدمہ ابن الصلاح، ۱۰)

ایسانہیں کہ جواحادیث میرے نزدیک صحیح ہیں وہ سب میں نے اپنی کتاب میں بیان ہی کردی ہیں ، البتہ اس کتاب میں انہیں احادیث کو بیان کیا ہے جن پرائمہ حدیث کا اجماعہے۔

امام ابن صلاح شہرزوری فرماتے ہیں :۔

غالبا انکی مراد یہ ہے کہ میرے نزدیک جن احادیث کی صحت پراجماع ہے وہ میں نے

اپنی کتاب میں بیان کردی ہیں ۔

نیزامام مسلم فرماتے ہیں۔

میں نے اپنی کتاب میں جوروایتیں کی ہیں ان کو میں صحاح کہتا ہوں ۔ مگر میں نے یہکبھی نہیں کہا کہ جوروایت میں نے نہیں لی ہے وہ ضعیف ہے ۔(تدریب الراوی، ۲ /۱۹۶)

یہ ہی حال صحاح کی دوسری کتابوں کاہے ،کوئی آج تک یہ دعوی نہ کرسکا کہ فلاں کتاب میں تمام صحیح احادیث جمع کردی گئی ہیں اور صرف اتنی صحیح ہیں باقی سب غلط وموضوع اور بے بنیادوباطل محض ہیں ۔

ہاں یہ سوال واقعی اہم ہے کہ آخر احادیث وضع کیوں کی گئیں ۔دراصل بات یہ ہے کہ حدیث وضع کرنے کا طریقہ یوں نکالاگیا کہ اہل اسلام کے نزدیک حدیث کو حجت تسلیم کیاجاتاتھااور قرآن کریم سے اسکی حجیت کی سند مل چکی تھی ،لہذا حضور کی طرف غلط بات منسوب کرکے لوگ کوئی نہ کوئی فائدہ اٹھاناچاہتے تھے،اگر آج کے منکرین حدیث کی طرح انکی نظر میں بھی حدیث کی کوئی حیثیت نہ ہوتی توکسی کوکیاپڑی تھی کہ وضع احادیث کی زحمت اٹھانا اورگناہبے لذت میں مبتلاہونا ۔

دنیاکی جعل سازی اورفریب کاری میں بھی اس چیز کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔ مثلا ہندوستان میں جعلی نوٹ وہی بنائے جاتے ہیں جنکا چلن عام ہو،کوئی بھی اس طرف توجہ نہیں دیتا کہ وہ ا سکے ایجاد کئے جائیں جو کسی زمانہ ٔ قدیم میں چلتے تھے ،آخرجعلی ساز کی اس سےکیا غرض وابستہ ہوسکتی ہے ۔

فرض کروکوئی اس ملک میں یہ دھند اشرو ع کردے اورجعلی نوٹوں کو چھاپ کر اصلی کرنسی میں گڈمڈکرڈالے اورجب یہ راز فاش ہوتو چندملک کے غدار وفاداری کا رول اداکرتے ہوئے یہ تحریک شروع کردیں کہ چونکہ کرنسی مشتبہ ہوچکی ہے لہذا ساراسرمایہ نذرآتش کردیاجائے ۔ توکیا ان کا یہ استدلال کوئی عاقل تسلیم کرنے کوتیار ہوگا ؟ میں توسمجھتاہوں کہ عاقل توکجا احمق بھی ملک کے اس اثاثہ کو لٹتے اور برباد ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔ ہرطرف سے یہ ہی آواز اٹھیگی جولوگ ایسامشورہ دیتے ہیں وہ غدا روطن ہیں ،ملک وملت کے باغی ہیں ، ہاں سلطنت کے خیر خواہ اورارباب حل وعقد یہ مشورہ ضرور دینگے کہ ان جعل سازوں کو پکڑاجائے اورکرنسی کی تحقیق میں ماہرین مصروف کارہوں تاکہ صحیح کو غلط سے ممتاز کریں اوراصل کوجعلی سے جداکرکے ملکوملت کوتباہی سے بچالیں ۔

یہ ہی حال کچھ ذخیرہ احاد یث سے متعلق ایک دور میں پیش آیاتھا ،جب وضع احادیث کا فتنہ اٹھا تو ماہرین علم وفن اٹھ کھڑے ہوئے اور دین ومذہب کی پاسبانی وحفاظت کے جذبہ سے سرشار ارباب فکروفن نے ایک ایک واضع حدیث کاپتہ لگاکر اسکی نشاندھی فرمادی ، کتنی جانفشانی اورجگر سوزی کاکام تھا جوان مردان حق آگاہ نے محض دینی وملی خدمت کے تحت انجام دیا۔ گذشتہ اوراق میں آپ پڑھ چکے کہ ان حضرات نے تقریباً پانچ لاکھ افراد کی سوانح حیات مرتب کی اورہرایک کے اقوال وافعال کو جرح وتعدیل کی حقیقی کسوٹی پر رکھکر پرکھا ،احادیث کی صحت وسقم کوجانچنے کیلئے نہایت سخت اصول قائم کئے ،جس شخصیت کوموضوع سخن بنایاجاتا اس پر

بے لاگ تبصرہ ہوتا، قرابت داری کاکوئی لحاظ نہیں برتاجاتا ،استاذشاگرد کے تعلق کوبھی کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ،راویان حدیث میں ملاقات تھی یانہیں ،راوی اورمروی عنہ کازمانہ ایک تھا یانہیں ، ان تمام چیزوں پر سیرحاصل بحث ہوتی ،اس طرح ہررخ سے اطمینان حاصل کرکے ذخیرہ ٔحدیث کوپورے طورپرنکھار اگیا جب کہیں جاکر موجودہ تدوین حدیث عمل میں آئی ۔

یہ بھی یادرہے کہ وہ زمانہ آج کے مواصلاتی نظام کے نظم ونسق کوزمانہ نہیں تھا ،سفر کی یہ سہولتیں بھی میسر نہیں تھیں ،لیکن دوردراز کے جانکاہ سفرطے کرکے انہوں نے ملت اسلامیہ کے تحفظ کی خاطر وہ کارہائے نمایاں انجام دیئے کہ آج محققین بھی انگشت بدنداں ہیں، اپنوں اوربیگانوں سب نے اس حقیقت کوتسلیم کیاہے کہ اسماء الرجال کافن صرف مسلمانوں کی خصوصیت ہے ، ورنہ اتناعظیم فن ایجاد کرنا اس بے سروسامانی کی دنیامیں ممکن نہیں تھا۔

ان حالات میں کوئی کہہ سکتاہے کہ کوئی گوشہ ان سے مخفی رہاہوگا ،یاعمداانہوں نے کسی شخصیت سے چشم پوشی کی ہوگی ۔پھر یہ کہاں سے سمجھ لیاگیا کہ ساراذخیرہ حدیث بے معنی ومہمل ہے اور غلط وباطل ۔ کیاایک ہزار سال کے بعد اشتباہ کی کوئی وقعت رہ جاتی ہے جبکہ تدوین

حدیث سے علماء وحفاظ تیسری چوتھی صدی تک مکمل طور پرفارغ ہوچکے تھے اوربعدکے ائمہومحققین اسی تحقیق پر اعتماد کرتے آئے ۔

شبہ ۔۵۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے احادیث لکھنے کو منع فرمادیا تھا ،فرماتے ہیں : لاتکتبوا عنی ، ومن کتب عنی فلیمحہ ،وحدثوا ولاحرج ۔ نیز حضور کے زمانے میں اور آپکے بعد خلفائے راشدین کے عہد میں قرآن تومحفوظ کیاگیا لیکن حدیث کی حفاظت کاکوئی اہتمام نہ تھا ۔صحابہ اورتابعین کے زبانی حافظوں تک محدود رہیں کبھی اتفاقیہطورپر وہ کسی کے سامنے کوئی روایت بیان کردیتے تھے ،

جواب ۔یہ تین شبہات ہیں اور منکرین حدیث نے مستشرقین کی اتباع میں بلادلیل پیش کئے ہیں ۔خیرخواہی مسلمین کایہ انداز کوئی نیانہیں ،ہاں جب کوئی شخص اسلام کا لیبل لگاکر کہے توتعجب خیز ضرورہے ۔اختلاف امت بعض اوقات بعض چیزوں میں کوئی بری چیزنہیں جبکہ دلائل طرفین واقعی حیثیت رکھتے ہوں ،اس طرح کے نمونے اسلامی لٹریچر میں بکثرت موجود ہیں ،لیکن کسی دلیل کاسہارا لئے بغیر یکطرفہ فیصلہ کردینا معقول نہیں ہوتا۔

یہ بات ہم بھی تسلیم کرتے ہیں کہ کتابت حدیث کی ممانعت آئی لیکن یہ وقتی تھی اوربسااوقات خود حضورنے اسکا حکم دیااور اپنے حضور بھی بہت احکام لکھوائے ۔تفصیل آرہی ہے ۔

دوسری چیز یہ کہ جس حدیث میں کتابت کی ممانعت ہے اسی میں زبانی روایت کی واضح طورپر اجازت بھی ہے ۔ پھر یہ کہ حفاظت حدیث کتابت ہی پر موقوف ہے۔ زبانی روایت سے کیا حفاطت ناممکن چیزہے ؟ بلکہ یوں کہاجائے توبے جا نہ ہوگا کہ اصل محافظت اسی وقت ممکن ہے جبکہ پہلے حفظ وضبط کا پورا اہتمام مقصود رہاہو ورنہ محض کتابت کو مدار حفاظت قرار دیاجائے توعلوم وفنون کا خداحافظ ۔خاص طور پر اس ماحول میں جبکہ کتابت کا رواج نہ پڑاہو اور عموما لوگ لکھنے کے عادی نہ رہے ہوں ۔ورنہ اصلی وجہ ممانعت وہی تھی کہ قرآن کو حدیث سے ممتاز رکھنا مقصود تھا کہ لوگ اختلاط سے کام نہ لیں ۔اس موضوع پر مکمل بحث تدوین حدیث اور حفاظت حدیث کے تحت آرہی ہے ،یہاں مجملا اتنا کافی ہے کہ حضور کا عہد پاک ہو یاصحابہ وتابعین کازمانہ ان تمام ادوار میں کتابت کا کام بھی جزوی طور پررہا ہے جس پراعتراض کے ساتھ ساتھ بعد میں معترضین کوبھی اعتراف کرنا پڑا اور جن حضرات نے اسباب ہوتے ہوئے بھی یہ عظیم کام نہ کیا انکی مصلحتیں اپنی جگہ اہم تھیں ،بعد کے محدثین نے کتابت کے ذریعہ حفاطت وتدوین کا کامانجام دیا وہ اس وقت کے ماحول کے عین مطابق تھا ۔

شبہ ۶۔ حدیث کی جمع و تدوین ایک سوسال کے بعد عمل میں آئی جبکہ ان کا ریکارڈقابل حصول نہیں رہاتھا ۔

جواب ۔ اس انوکھی نگارش کوکونسی تاریخ کانام دیاجائے ؟ تاریخ نویسی یاتاریخ سازی ۔اگر ایک انصاف پسند غیر متعصب واقعی تاریخ اٹھاکر دیکھنا چاہے توآج بھی وہ لٹریچر محفوظ ہے ،اور عہد نبوی سے خلیفۂ راشدحضرت عمربن عبدالعزیز تک ،اور انکے دورسے تدوین حدیث کے آخری مرحلہ تک سب کچھ آپ کو کتابوں میں ثبت ملیگا ،ایک دن بھی ایسا پیشکرناناممکن ہے جس میں کتابت سے لیکر تدوین تک کوئی انقطاع ہواہو ۔

شبہ ۷ ۔احادیث میں شدید اختلاف ہے ،لہذا قابل عمل نہیں ۔

جواب۔ منکرین حدیث کو جب کچھ نہیں ملتا تووہی پرانی رٹ لگاتے ہیں کہ احادیث میں اسقدر اختلاف ہے جسکا ارتفاع ناممکن ،الفاظ ومعانی کے اختلاف نے سارا ذخیرہ غیر معتمدبنادیاہے ۔

ان چیزوں کی تفصیل تدوین حدیث کے ضمن میں ملاحظہ کرسکتے ہیں لیکن اس بات پر خاص توجہ رکھیں کہ پھر تو قرآن کے اختلاف قرأت اورمعانی مراد میں تعدداقوال کے پیش نظر کلام اللہ کوبھی یہ لوگ مخدوش قرار دینے میں کوئی ننگ وعار محسوس نہیں کرینگے ۔کتنے واقعات قرآن کریم میں مکرر ہیں لیکن الفاظ کااتحاد کیاہرجگہ موجود ہے ؟ پھرکوئی عقل وخرد سے نابلدتہی دامن قرآن کریم کی حقانیت کا منکر ہوجائے تویہ منکرین حدیث اسکا کیا کرلیںگے ۔

علمائے کرام ومحدثین عظام نے احادیث کریمہ کے ظاہری اختلاف وتعارض کودفع کرنے کیلئے کیا مستقل تصانیف نہیں کیں ؟ امام سیوطی نے اس طرح کے تقریبا سو علوم شمار کرائے جن سے حفاظت حدیث اور جمع وتدوین میں کام لیا گیا اور ہرفن میں محققین نے اپنی یادگار تصانیف چھوڑیں ، دفع تعارض کیلئے علم تاویل الحدیث پر مشتمل کتابیں پڑھکر یہ فیصلہ کرنا

کوئی دشوار امر نہیں تھا جس سے چشم پوشی کرکے علی الاطلاق یہ حکم لگادیا گیا کہ احادیث باہممختلف ہیں لہذا قابل عمل نہیں ۔

امام ابن خزیمہ کہتے تھے ۔

مجھے کسی ایسی دواحادیث کا علم نہیں جن میں باہم تعارض ہو۔

اس موضوع پر آپ نے ایک عظیم کتاب ’’کتاب ابن خزیمہ ‘‘ کے نام سے لکھی جو اس فن میں آپکے تبحر علمی کی واضح دلیل ہے۔

امام طحاوی کی ’’شرح مشکل الآثار ‘‘ امام شافعی کی ’’ اختلاف الحدیث ‘‘ علامہ ابن قتیبہ کی ’’تاویل مختلف الحدیث ‘‘ علامہ ابن جوزی کی ’’ التحقیق فی احادیث الخلاف ‘‘ اور علامہ ابوبکر محمدبن حسن بن فورک کی ’’ مشکل الحدیث ‘‘ یہ وہ کتابیں ہیں جو اس فن کا عظیم شاہکار ہیں ۔

لطف کی بات یہ ہے کہ تعارض کی وجہ سے جب ساراذخیرئہ احادیث مسترد کردیا گیا تو پھر کتابت حدیث کی اجازت وممانعت کے سلسلہ میں مروی احادیث کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ جس طرح کا تعارض دوسری احادیث میں نظرآتاہے وہ تویہاں بھی ہے ، پھر فیصلہ کیسے ہوا کہ حدیث دلیل شرعی نہیں اور اس پر جزم کیسے کیا گیا کہ حضور کی جانب سے ممانعت وارد ۔اگر کوئی وجہ دفع تعارض کی نظر نہیں آتی تھی توتوقف کیاجاتا ،یہ انکار حدیث کاکیا معنی ۔

ہمارے یہاں تو جواب وہی ہوگاکہ تعارض ہی متحقق نہیں ،بظاہر تعارض ہوتو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،کیونکہ متعارض احادیث میں عمل کی ترتیب یوں قائم کی گئی ہے ۔

پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ کیا ایک دوسرے کیلئے ناسخ ہوسکتی ہے ،اگر ہے توناسخ پر عمل ہوگا منسوخ کو چھوڑدیا جائیگا ۔

بعض وجوہ نسخ یہ ہیں ۔

۱۔ خود شارع نسخ کی وضاحت فرمائے۔

۲۔ باعتبار زمانہ تقدم وتاخر ہو ۔

اگر نسخ کا علم نہ ہوسکے توترجیح کی صورتوں میں سے کسی کو اختیار کرینگے ۔

بعض وجوہ ترجیح باعتبار متن یوں ہیں ۔

۱۔ حرمت کواباحت پر ترجیح ہوگی ۔

۲۔ قول عام ہو اور فعل خصوصیت یاعذر کااحتمال رکھتاہو تو قول کو فعل پر ترجیح ہوگی ۔

۳۔ حکم معلول کو حکم غیر معلول پر ترجیح ہوگی ۔

۴۔ مفہوم شرعی کو مفہوم لغوی پرترجیح ہوگی ۔

۵۔ شارع کا بیان وتفسیر غیر کے بیان وتشریح پر راجح ہوگا ۔

۶۔ قوی دلیل ضعیف پر راجح ہوگی ۔

۷۔ نفی اگر مستقل دلیل کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ اصل حال وحکم کی رعایت میں ہوتو اثبات کو نفی پر

ترجیح ہوگی ۔

بعض وجوہ ترجیح باعتبار سند ۔

۱۔ کسی سند کے راوی متعدد ہوں تو اسکو ایک راوی کی سند پر ترجیح حاصل ہوگی ۔

۲۔ قوی سند ضعیف پرراجح ہوگی ۔

۳۔ سند عالی سند نازل پرراجح قراردی جائیگی بشرطیکہ دونوں کے رواۃ ضبط میں ہم پلہ ہوں ۔

۴۔ فقاہت میں فائق راوی غیر فقیہ رواۃ پرخواہ یہ سند عالی ہو راجح قرار پائینگے ۔

۵۔ اتفاقی سند مختلف فیہ پر راجح رہیگی ،

۶۔ اکابر صحابہ کی روایت اصاغر صحابہ پرراجح قرار دی جائیگی ۔

یہ بھی نہ ہوسکے تو دونوں احادیث کوجمع کرکے عمل کرینگے ۔

بعض وجوہ جمع

۱۔ تنویع ،یعنی دونوں عام ہوں توالگ الگ انواع سے متعلق قرار دیاجائے ۔

۲۔ تبعیض ، یعنی دونوں خاص ہوں توالگ الگ حال پر ، یاایک کو حقیقت اوردوسرے

کومجاز پر محمول کرنا۔

۳۔ تقیید ،یعنی دونوں مطلق ہوں تو ہرایک کے ساتھ ایسی قید لگاناکہ فرق ہوجائے ۔

۴۔ تخصیص ،یعنی ایک عام اورایک خاص ہوتو عام کو مخصوص قراردینا ۔

۵۔ حمل ،یعنی ایک مطلق اورایک مقید ہوتو مطلق کو مقید پر محمول کرنا بشرطیکہ دونوں کا حکم اورسبب ایک ہو ۔

ان تما م ترتفصیلات کے بعد شاید ہی کوئی حدیث ملے جو حقیقی طور پر کسی دوسری حدیث سے متعارض ہو ۔ممانعت واجازت کی احادیث میں دفع تعارض کی تفصیل تدوین حدیث کےعنوان میں ملاحظہ کریں ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.