أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا تَجۡعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَيۡنَكُمۡ كَدُعَآءِ بَعۡضِكُمۡ بَعۡضًا‌ ؕ قَدۡ يَعۡلَمُ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ يَتَسَلَّلُوۡنَ مِنۡكُمۡ لِوَاذًا‌ ۚ فَلۡيَحۡذَرِ الَّذِيۡنَ يُخَالِفُوۡنَ عَنۡ اَمۡرِهٖۤ اَنۡ تُصِيۡبَهُمۡ فِتۡنَةٌ اَوۡ يُصِيۡبَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

تم رسول کے بلانے کو ایسا نہ قرار دو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو، بیشک اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تمہارے درمیان سے کسی کی آڑ میں چپکے سے نکل جاتے ہیں، سو جو لوگ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ اس سے ڈریں کہ انہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے یا انہیں کوئی درد ناک عذاب پہنچ جائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم رسول کے بلانے کو ایسا نہ قرار دو جیسے تم آپس میں ایک دور سے کو بلاتے ہو۔ بیشک اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تمہارے درمیان سے کسی کی آڑ میں چپکے سے نکل جاتے ہیں، سو جو لوگ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ اس سے ڈریں کہ انہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے یا انہیں کوئی درد ناک عذاب پہنچ جائے۔ (النور : ٦٣ )

مشکل الفاظ کے معانی 

یتسللون : اس کا مصدر تسلسل ہے اور اس کا مادہ سل ہے اس کا معنی ہے تلوار سونتنا، اور تسلسل کا معنی ہے چپکے سے سرک جانا یا کھسک جانا۔ (المفردات ج ١ ص 312 مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

لواذا : یہ لفظ لاوذ کا مصدر ہے، اس کا معنی ہے باہم ایک دور سے کی آڑ لینا اور پناہ لینا۔ اس آیت کا معنی ہے کہ منافین باہم ایک دوسرے کی آڑ لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس سے یکے بعد دیگرے چپکے سے سرک جاتے ہیں یا کھسک جاتے ہیں۔ اسی مصدر سے ملاذ بنا ہے جس کا معنی ہے جائے پناہ۔ (المفردات ج ٢ ص ٥٨٨ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کی تاکید 

امام ابوالقاسم عبدالکریم بن ھوازن القشیری المتوفی ٤٦٥ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت کا معنی ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تعظیم سے خطاب رو، اور آپ کی خدمت میں ادب کو محلوظ رکھو اور آپ کی خدمت میں تعظیم اور توقیر کو لازم رکھو دارین کی سعادت آپ کی سنت کی اتباع کرنے میں ہے اور دونوں جہانوں کی بدبختی آپ کی سنت کی مخالفت کرنے کی وجہ سے ہے اور آپ کی سنت کی مخالفت کرنے کی سب سے کم اور ہلکی سزا یہ ہے کہ انسان اللہ کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے اور پھر اس کے لئے آپ کی سنت کی اتباع کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے اور اس کے دل سے فلاح دارین کے حصول کی خواہش ساقط ہوجاتی ہے۔ (لطائف الاشارات ج ٢ ص 376 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، ١٤٢٠ ھ)

امام ابوالحسین بن مسعود الفراالبغوی المتوفی 516 ھ دعاء الرسول کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تم اس سے بچو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہو کر تمہارے خلاف دعا ریں کیونکہ آپ کی ناراضگی کی دعا تمہارے لئے مصائب کے نزول کا موجب ہے اور آپ کی دعائے ضرر کسی دور سے کی بد دعا کی طرح نہیں ہے اور مجاہد اور قتادہ نے کہا آپ کو آپ کا نام لے کر نہ بلائو جیسے تم ایک دوسرے کو نام لے کر بلاتے ہو، مثلاً یا محمد یا ابن عبداللہ نہ کہو لیکن آپ کو تعظیم اور تکریم سے بلائو اور نرمی اور تواضح کے ساتھ یا نبی اللہ اور یا رسول اللہ کہو۔

اور آپ کی مجلس سے کسی کی آڑ لے کر چپکے سے نہ کھسک جائو۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت غزوہ خندق کے موقع پر نازل ہوئی کیونکہ منافقین خندق کھودتے وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وسلم کی نظر بچا کر چپکے سے کھسک لیتے تھے۔

حضرت ابن عباس (رض) نے لواذاً کی تفسیر میں فرمایا : منافقین کسی کی اوٹ یا آڑ میں نکل جاتے تھے، کیونکہ منافقین پر جمعہ کے دن نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطبہ سننا بہت دشوار تھا تو وہ کسی صحابی کی اوٹ میں چھپ کر مسجد سے نکل جاتے تھے، اس کا معنی اجازت کے بغیر چلے جانا بھی ہے، مجاہد نے کہا اگر تم بغیر اجازت کے چلے گئے تو تم کو درد ناک عذاب ہوگا، خواہ دنیا میں خواہ آخرت میں۔ (معالم التنزیل ج ٣ ص ٤٣٣ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤٢٠ ھ)

لاتجعلوا دعاء الرسول کے تین محامل 

لاتجعلوا دعاء الرسول کے مفسرین نیتین محامل بیان کئے ہیں۔ ایک یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعاء ضرر کو اپنی دعا پر قیاس نہ کرو، اس صورت میں دعا کی رسول کی طرف اضافت الی الفاعل ہے، دوسرا محمل یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عامیانہ انداز میں نام لے کر نہ بلائو اس صورت میں دعا کی رسول کی طرف اضافت الی المفعول ہے اور تیسرا محملیہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تم کو بلائیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے کو اپنے بلانے کی مثل نہ قرار د، کیونکہ تمہارے بلانے پر کسی کا جانا فرض نہیں ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے کو اپنے بلانے کی مثل نہ قرار دو ، کیونکہ تمہارے بلانے پر کسی کا جانا فرض نہیں ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے پر جانا فرض ہے۔ اس مثل نہ قرار دو ، کیونکہ تمہارے بلانے پر کسی کا جانا فرض نہیں ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے پر جانا فرض ہے۔ اس صورت میں بھی دعا کی رسول کی طرف اضافت الی الفاعل ہے۔

اول الذکر دو تفسیریں ان مفسرین نے کی ہیں :

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمہارے خلاف دعا واجب القبول ہے تم اس سے بچو۔ (جامع البیان رقم الحدیث : ١٩٩١١، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٢٤٨٢٤ النکت والعین ج ٤ ص 128)

مجاہد نے کہا آپ کو یا محمد کہہ کر نہ بلائو۔

(جامع البیان رقم الحدیث : ١٩٩١٢ تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٤٩٢٦ النکت والعیون للماوردی ج ٤ ص 128)

یہ دو تفسیریں حسب ذیل کتب تفاسیر میں بھی ہیں :

(تفسیر کبیرج ُ ٨ ص ٤٢٥ تفسیر الجامع لاحکام القرآن جز ٢ ۃ ص 298 تفسیر بیضاوی مع الخفاجی ج ٧ ص 93 الوسیط ج ٣ ص 331 تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص 339، الدالمنثور ج ٦ ص 211 روح المعانی جز 18 ص 329 البحر المحیط ج ٨ ص ٧٥ الکشاف ج ٣ ص ٢٦٥ فتح القدیر ج ٤ ص 78 فتح البیان ج ٤ ص 625 تفسیر الخازن ج ٣ ص 365 تفسیر المدارک علی ھامش الخازن ج ٣ ص 365)

ثانی الذکر تفسیر حسب ذیل مفسرین نے کی ہے :

علامہ ابو الحسن علی بن محمد الماوردی المتوفی ٤٥٠ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے پر تاخیر سے جانے سے منع فرمایا ہے، جیسے ایک دور سے کے بلانے پر تاخیر سے چلے جاتے ہیں۔ (النکت و العیون ج ٤ ص 128 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

علامہ ابو القاسم محمود بن عمر الزمخشری الخوارزمی المتوفی ٥٣٨ ھ لکھتے ہیں :

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے کو اپنے بلانے پر قیاس نہ کرو۔ (الکشاف ج ٣ ص ٢٦٥ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٧ ھ)

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :

مبرد اور قفال کا مختار یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلانے کے حکم کو ایسا نہ قرار دو ، جیسے تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو کیونکہ آپ کے بلانے پر جانا فرض لازم ہے اور اس پر قرینہ یہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں فرمایا : سو جو لوگ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں وہ اس سے ڈریں کہ انہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے یا انہیں کوئی درد ناک عذاب پہنچ جائے۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 425 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، ١٤١٥ ھ)

درج ذیل کتابوں میں بھی یہ تفسیر ہے : (البحر المحیط ج ٨ ص ٧٥ تفسیر بیضاوی مع الخفاجی ج ٧ ص ٩٣ شیخ زادہ علی البیضاوی ج ٦ ص ٢٥٩ الکازرونی علی البیضاوی ج ٤ ص 203 تفسیر ابو سعود ج ٤ ص 488 فتح القدیر ج ٤ ص 78 روح المعانی جز 18 ص 329 تفسیر مدارک علی ھامش الخازن ج ٣ ص 365)

ندائ، یا محمد پر اعتراض کے جوابات 

مجاہد اور قتادہ کی تفسیر سے یہ گزر چکا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا محمد کہہ کر نہ بلائو اور بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ آپ کو یا رسول اللہ اور یا نبی اللہ کہہ کر بلائو۔ اس بناء پر بعض علماء نے لکھا ہے کہ یا محمد کہہ کر آپ کو نداء نہیں کرنی چاہیے، یا رسول اللہ اور یا نبی اللہ کہہ کر ندا کرنی چاہیے بلکہ جن احادیث میں آپ نے یا محمد کہنے کی تلقین کی ہے وہاں بھی یا رسول اللہ کہنا چاہیے، کیونکہ جب آپ کا رب آپ کو یا محمد کہہ کر نہیں پکارتا تو ہم غلاموں کی کیا مجال کہ ہم آپ کو آپ کا نام لے کر پکاریں اور ترک ادب کا ارتکاب کریں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ مجاہد اور قتادہ کی تفسیر میں یا محمد کہہ کر بلانے سے منع کیا ہے یا محمد کہہ کر آپ کو نداء کرنے سے منع نہیں کیا اور ہم یا محمد کہہ کر نداء کے قائل ہیں کیونکہ نداء میں اس کو متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے جس کو نداء کی جا رہی ہے اس کو بلانا مقصود نہیں ہوتا جیسے ہم یا اللہ کہتے ہیں تو اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کو بلانا نہیں ہوتا بلکہ اس کی ذات کو اپنی اور اپنے حال کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے، اسی طرح جب ہم یا محمد کہتے ہیں تو اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پانی کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہوتا ہے اور آپ کو بلان اقمصود نہیں ہوتا، اور مجاہد اور اقتادہ کی تفسیر میں یا محمد کہہ کر آپ کو بلانے سے منع فرمایا ہے اور آپ کو متوجہ کرنے سے منع نہیں فرمایا۔

اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ لفظ محمد کے دو لحاظ ہیں ایک اعتبار سے یہ آپ کا علم اور نام ہے اور اس اعتبار سے آپ کو نداء کرنی منع ہے یعنی آپ کا نام لے کر آپ کو بلانا منع ہے اور دوسرے اعتبار سے یہ آپ کی صفت ہے کیونکہ محمد کا معنی ہے جس کی ہے بےحد حمد اور تعریف کی گئی ہو اور اس اعتبار سے آپ کو نداء کرنا اور آپ کو بلانا جائز ہے، اور مستند علماء نے ان دو لحاظوں کا ذکر کیا ہے۔

علامہ ابن قیم جوزیہ متوفی ٧٥١ ھ لکھتے ہیں۔

ویقال احمد فھو محمد کما یقال : علم فھو معلم و ھذا علم وصفۃ اجتمع فیہ الامران فی حقہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (جلاء الافہام ص ٩٢ فیصل آباد) ۔ کہا جاتا ہے اس کی حمد کی گئی تو وہ محمد ہے، جس طرح کہا جاتا ہے اس نے تعلیم دی تو وہ معلم ہے لہٰذا یہ (لفظ محمد) علم (نام) بھی ہے اور صفت بھی اور آپ کے حق میں یہ دونوں چیزیں جمع ہیں۔

نیز علامہ ابن قیم لکھتے ہیں :

والو صفیۃ فیھما لا تنا فی العلمیۃ و ان معناھما مقصود (جلاء الافہام ص ١١٣ فیصل آباد) محمد اور حمد میں وصفیت علمیت (نام ہونے) کے معانی نہیں ہے اور ان دونوں معنوں کا قصد کیا جاتا ہے۔

ملا علی قاری متوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں :

او قصدبہ المعنی الوصفی دون المعنی العلمی (مرقات ج ١ ص ٥١ ملتان، ١٣٩٠ ھ) جب حضرت جبرائیل نے آپ کو یا محمد کہا تو اس لفظ محمد کے وصفی معنی کا ارادہ کیا اور علمی (نام کے) مراد کا ارادہ نہیں کیا۔

او قصدبہ المعنی الوصفی دون المعنی العلمی (مرقات ج ١ ص ٥١ ملتان، ١٣٩٠ ھ)

شیخ شبیر احمد عثمانی نے بھی ملا علی قاری کے حالے سے اس جواب کا ذکر کیا ہے۔

لفظ محمد سے آپ کا علم اور نام ہی مقصود ہو، لیکن آپ کو بلانا مقصود نہ ہو صرف اظہار محبت اور ذوق و شوق سے محض آپ کے نام کا نعرہ لگانا مقصود ہو، جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

احادیث، آثار، علماء متقدمین اور علماء دیوبند سے نداء یا محمد کا ثبوت 

امام مسلم حضرت براء بن عازب (رض) سے ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں ہے :

قصعد الرجال والنساء فرق البیوت و تفرق الغلمان والخدم فی الطریق ینادون یا محمد یا رسول اللہ یا محمد یا رسول اللہ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٤١٩ کراچی) ۔ (جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو) مرد اور عورتیں گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور بچے اور خدام، راستوں میں پھیل گئے اور وہ نعرے لگا رہے تھے یا محمد، یا رسول اللہ، یا محمد یا رسول اللہ۔

حافظ ابن کثیر، حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے زمانہ خلافت کے احوال میں لکھتے ہیں :

وکان شعارھم یرمئذ یا محمداہ (البدایہ والنہایہ ج ٦ ص 324، قدیم) اس زمانہ میں مسلمانوں کا شعار یا محمداہ کہنا تھا۔

حافظ ابن اثیر نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔ (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٢٤٦، بیروت)

شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ١٣٢٣ ھ لکھتے ہیں :

یہ خود معلوم آپ کو ہے کہ نداء غیر اللہ تعالیٰ کو دور سے شرک حقیقی جب ہوتا ہے کہ ان کو عالم سامع مستقل عقیدہ کرے ورنہ شرک نہیں مثلاً یہ جانے کہ حق تعالیٰ ان کو مطلع فرما دیوے گا یا باذنہ تعالیٰ انشکاف ان کو ہوجاوے گا یا باذنہ تعالیٰ ملائکہ پہنچا دیویں گے جیسا درود کی نسبت وارد ہے یا محض شوقیہ کہتا ہو محبت میں یا عرض حال محل تحسر و حرمان میں کہ ایسے مواقع میں اگرچہ کلمات خطابیہ بولتے ہیں لیکن ہرگز مقصود نہ اسماع ہوتا ہے نہ عقیدہ پس ان ہی اقسام سے کلمات مناجات و اشعار بزرگان کے ہوتے ہیں کہ فی ذاتہ نہ شرک نہ معصیت۔ (فتاویٰ رشیدیہ کامل مبوب ص ٦٨، کراچی)

اور آپ نے دعائے حاجت میں جو یہ کہنے کی تعلیم فرمائی ہے، یا محمد انی توجھت بک الٰہی ربی ” اے حمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کے وسیلہ سے اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتا ہے “ اس میں بھی یا محمد کے لفظ سے آپ کو بالنا مقصود نہیں ہے بلکہ آپ کو اپنی طرف متوجہ کرانا مقصود ہے، امام مسلم نے حضرت عمر (رض) سے روایت کیا ہے، کہ حضرت جبرائیل نے ایک عربی کی شکل میں حاضر ہو کر آپ سے کہا :

یا محمد اخبرنی عن السلام (صحیح مسلم ج ١ ص 27 کراچی) اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اسلام کے متعلق بتایئے۔

اس میں بھی یا محمد کے لفظ سے آپ کو بالن امقصود نہیں تھا آپ کو متوجہ کرنا مقصود تھا اور قرآن مجید میں نام کے ساتھ بلانے کی مانعت ہے، مطلقاً نداء کرنے کی ممانعت نہیں ہے۔

یا محمد کہنے کے جواز کی تیسری وجہ یہ ہے کہ بعض اوقات کسی کے نام کے ساتھ نداء بلانے کے لئے کی جاتی ہے نہ متوجہ کرنے کے لئے بلکہ محض اس کا ذکر کرنے اور اس کو یاد کرنے کے لئے، اس کے نام کے ساتھ نداء کرتے ہیں جیسے کوئی شخص یا اللہ یا اللہ کا وظیفہ کرتا ہے اور اس کے جواز پر واضح دلیل یہ حدیث ہے :

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

عن عبدالرحمٰن بن سعد قال : خدرت رجل ابن عمر فقال لہ رجل : اذکر احب الناس الیک فقال یا محمد (الا ادب المفروص ٢٥٠ مطبوعہ مکتبہ اثریہ ساگنلہ ہل) عبدالرحمٰن بن سعد کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) کا پیرسن ہوگیا، ان سے ایک شخص نے کہا : جو تم کو سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہو اس کو یاد کرو انہوں نے کہا یا محمد۔

اللہ تعالیٰ کا یامحمد فرمانا 

امام بخاری، حضرت انس بن مالک (رض) سے معراج کی ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے :

فقال الجبار یا محمد قال لبیک و سعیک قال انہ لایبدل القول لدی کما فرضت علیک فی ام الکتاب فکل حسنۃ بعشرا مثالھا فھی خمسون فی ام الکتاب وھی خمس علیک۔ (صحیح البخاری ج ٢ ص 1121، کراچی)

اللہ تعالیٰ نے فرمایا یا محمد ! آپ نے کہا میں حاضر ہوں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے قول میں تبدیلی نہیں ہوتی، میں نے جس طرح آپ پر ام الکتاب میں (نمازیں) فرض کی ہیں، تو ہر نیکی دس گنی ہے، لہٰذا ام الکتاب میں پچاس نمازیں ہیں اور آپ پر پانچ نمازیں (فرض) ہیں۔

امام مسلم، حضرت انس (رض) سے حدیث معراج روایت کرتے ہیں، اس میں ہے :

فلم ارجع بین ربی و بین موسیٰ (علیہ السلام) حتی قال یا محمد انھن خمس صلوات کل یوم ولیلۃ (صحیح مسلم ج ١ ص 91 کراچی) میں اپنے رب اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مسلسل آتا جاتا رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یا محمد ! ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں (فرض) ہیں۔

امام ترمذی، حضرت معاذ بن جبل (رض) سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں ہے :

فلم ارجع بین ربی و بین موسیٰ (علیہ السلام) حتی قال یا محمد انھن خمس صلوات کل یوم ولیلۃ (صحیح مسلم ج ١ ص ٩١ کراچی) میں اپنے رب اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مسلسل آتا جاتا رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یا محمد ! ہر دن اور رات میں پانچ نمازیں (فرض) ہیں۔

امام ترمذی، حضرت معاذ بن جبل (رض) سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں، اس میں ہے :

فاذا بربی تبارک و تعالیٰ فی احسن صورۃ فقال یا محمد قلت ربی لبیک قال فیم یختصم الملاء الاعلی الحدیث قال ابوعیسی ھذا حدیث صحیح سالت محمد بن اسماعیل عن ھذا الحدیث فقال ھذا صحیح (جامع ترمذی ص ٤٦٦، کراچی)

اچانک میں نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو بہترین صورت میں دیکھا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یا محمد ! میں نے کہا اے میرے رب میں حاضر ہوں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ملاء اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ الحدیث۔ امام ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث صحیح ہے، میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے یہ حدیث صحیح ہے۔

نیز امام ترمذی حضرت ابن عباس سے اس حدیث کو روایت کرتے ہیں، اس میں ہے :

قال اتانی ربی فی احسن صورۃ فقال یا محمد قلت لبیک ربی وسعدیک احدیث (جامع ترمذی ص ٤٦٦، مراچی) میں نے (خواب میں) اپنے رب کو حسین ترین صورت میں دیکھا میرے رب نے کہا یا محمد ! میں نے کہا اے میرے رب میں حاضر ہوں۔

یہ دونوں حدیثیں جامع ترمذی کے قدیم نسخوں کے متن میں درج ہیں، نور محمد نے اپنے ایڈیشن میں ان حدیثوں کو حاشیہ میں نسخہ کے عنوان سے درج کیا ہے۔ تحفتہ الاحوذی میں بھی یہ حدیثیں ترمذی کے متن میں درج ہیں۔

امام احمد نے اس حدیث کو حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے، اس میں ہے :

اتانی ربی عزوجل اللیلۃ فی احسن صورۃ احسبہ بعنی فی النور فقال یا محمد تدری فیما یختصم الملاء الاعلی الحیدث (مسند احمد ج ١ ص 367، بیروت) ایک رات کو یعنی خواب میں میرے پاس میرا رب عزوجل حسین ترین صورت میں آیا اور فرمایا محمد ! کیا آپ (ازخود) جانتے ہیں کہ ملاء اعلیٰ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں ؟ (مسند احمد ج ١ ص 368، بیروت)

امام احمد، عبدالرحمٰن بن عائش کی سند کے ساتھ اس حدیث کو رایت کرتے ہیں، اس میں ہے :

اتانی ربی عزوجل اللیلۃ فی احسن صورۃ قال یا محمد : (مسند احمد ج ٤ ص 66 بیروت) آج رات میرے پاس میرا رب عزو جل بہترین صورت میں آیا اور فرمایا : یا محمد۔

امام بخاری، حضرت انس بن مالک (رض) سے شفاعت کی ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں اس میں ہے :

فیقال یا محمد ارفع راسک وقل یسمع لک و سل تعطہ و اشفع تشفع (صحیح البخاری ج ٢ ص ١١٨ کراچی) پھر کہا جائے گا یا محمد ! اپنا سر اٹھایئے، کہیے آپ کی بات سنی جائے گی اور مانگئے آپ کو دیا جائے گا اور شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔

اس حدیث کو امام مسلم اور امام ابن ماجہ اور امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص 109 سنن ابن ماجہ ص 329، مسند احمد ج ١ ص 198)

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی تصریحات سے نداء یامحمد کا جواز 

ہم نے پہلے وہ احادیث ذکر کیں جن میں حضرت جبریل، حضرت عبداللہ بن عمر اور عام صحابہ کرام نے یا محمد کہا اس کے بعد ہم نے صحاح ستہ کے حوالوں سے وہ احادیث ذکر کیں جن میں اللہ تعالیٰ نے بھی آپ کو یا محمد فرمایا ہے۔ اس لئے اب یہ اعتراض ساقط ہوگیا کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو مالک اور مولیٰ ہونے کے باوجود آپ کو یا محمد کے ساتھ نداء نہیں کرتا تو ہم غلاموں کی کیا مجال کہ آپ کو یا محمد کے ساتھ نداء کریں۔ اعلیٰ حضرت نے بہ کثرت احادیث پیش کی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے دیگر انبیاء نے اور فرشتوں نے آپ کو یا محمد کے اتھ نداء کی ہے اب ہم وہ نقول پیش کر رہے ہیں۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز لکھتے ہیں :

احمد و بیہقی ابوہریرہ (رض) سے راوی سئل عنھا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یعنی قولہ عسیٰ ان یبعثک ربک مقاما محموداً فقفالھی الشفاعۃ اور شفاعت کی حدثیں خود متواتر و مشہور اور صحاح وغیرہ میں مروی و مسطور جن کی بعض انشاء اللہ تعالیٰ ہیکل دوم میں مذکور ہوں گی، اس دن آدم صفی اللہ سے عیسیٰ کلمتہ اللہ تک سب انبیاء اللہ علیہم الصلوۃ السلام نفسی نفسی فرمائیں گے اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انالھا انا لھا ” میں ہوں شفاعت کے لئے میں ہوں شفاعت کے لئے “ انبیاء ومرسلین و ملاکئہ مقربین سب ساکت ہوں گے اور وہ متکلم سب سر بہ گریباں وہ ساجد و قائم سب محل خوف میں وہ آمن و ناعم سب اپنی فکر میں، انہوں فکر عوالم سب زیر حکومت وہ مالک و حاکم بارگاہ الٰہی میں سجد کریں گے، ان کا رب انہیں فرمائے گا یا محمد ارفع راسک وقل تسمع وسل تعطہ واشفع تشفع ” اے محمد اپنا سر اٹھائو اور عرض کرو کہ تمہاری عرض سنی جائے گی اور مانگو کہ تمہیں عطا ہوگا اور شفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہے “ اس وقت اولین و آخرین میں حضور کی حمد و ثنا کا غلغلہ پڑجائے گا اور دوست دشمن موافق مخالف ہر شخص حضور کی افضلیت کبریٰ و سیادت عظمیٰ پر ایمان لائے گا والحمد للہ رب العلمین (تجلی الیقین ص 34-35 مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی لاہور، ١٤٠١ ھ)

ابن عساکر و خطیب بغدادی انس (رض) سے راوی، حضور سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں لما اسری بی قربنی ربی حتی کان بینی وبینہ کقاب قوسین او ادنی و قال لی یا محمد ھل غمک ان جعلتک اخترالنبین قلت لاربا (رب) قال فھل غم امتک ان جعلتھم اخر الامم قلت لا (یارب) قال اخیر امتک انی جعلتھم اخر الامم لافضح الامم عندھم ولا افضحھم عندالامم ” شب ! سرا مجھے میرے رب نے اتنا نزدیک کیا کہ مجھ میں اس میں دو کمانوں بلکہ اس سے کم کا فاصلہ رہا، رب نے مجھے سے فرمایا، اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا تجھے کچھ برا معلوم ہوا کہ میں نے تجھے سب انبیاء سے متاخر کیا، عرض کی نہیں اے رب میرے ! فرمایا کیا تیری امت کو غم ہوا کہ میں نے انہیں سب امتوں سے پیچھے کیا، میں نے عرض کی نہیں اے میرے رب ! فرمایا اپنی امت کو خبر دے کہ میں نے انہیں سب امتوں سے اس لئے پیچھے کیا کہ اور امتوں کو ان کے سامنے رسوا کروں اور انہیں کسی کے سامنے رسوا نہ کروں۔ “ (تجلی الیقین ص ٤٥، حامد اینڈ کمپنی لاہور)

ان دونوں حدیثوں میں اللہ عزوجل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا محمد کہہ کر نداء فرمائے گا لہٰذا یہ اعتراض ساقط ہوگیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضور کا مالک و مولیٰ ہو کر آپ کو یا محمد کے ساتھ ندا نہیں فرمائی تو ہم غلاموں کے لئے کب جائز ہوگا کہ آپ کو یا محمد کہہ کر پکاریں اور ترک ادب کے مرتکب ہوں !

حدیث موقوف مفصل مطول احمد و بخاری و مسلم و ترمذی نے ابوہریرہ (رض) اور بخاری و مسلم و ابن ماجہ نے انس اور ترمذی و ابن خزیمہ نے ابو سعید خدری اور احمد و بزار، و ابن حیان و ابویعلیٰ نے صدیق اکبر اور احمد و ابویعلیٰ نے ابن عباس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مرفوعاً الی سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عبداللہ بن مبارزک و ابن ابی شیبہ و ابن ابی عاصم و طبرانی نے بہ سند صحیح سلمان فارسی (رض) سے موقوفاً روایت کی، ان سب کے الفاظ جد اجد نقل کرنے میں طول کثیر ہے لہٰذا میں ان کے منظم لفظوں کو ایک منتظر سلسلہ میں یکجا کر کے اس جان فزا قصہ کی تخلیص کرتا ہوں، وباللہ التوفیق (الی قولہ)

مطلوب بلند عزت ملجاء عاجزاں ماورائے بیکسان مولائے دو جہاں حضور پر نور محمد رسول اللہ شفیع یوم النشور افضل صلوات اللہ و اکمل تسلیمات اللہ وازکی تحیات اللہ وائمی برکات اللہ علیہ وعلیٰ آلہ وصحبہ و عیالہ میں حاضر آئے اور بہ ہزاراں ہزار نالہائے زار و دل بےقرار چشم اشکباریوں عرض کرتے ہیں :

یا حمد ویا نبی اللہ انت الذی فتح اللہ بک و جنت فی ھذا الیوم امنا، انت رسول اللہ و خاتم الانبیاء اشفع لنا الی ربک فلیقص بیننا الاتری الی مانحن فیہ الاتری ماقد بلغنا، ” اے محمد اے اللہ کے نبی آپ وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے فتح یاب کیا اور آج آپ آمن و مطمئن تشریف لائے حضور اللہ کے رسول اور انبیاء کے خاتم ہیں اپنے رب کی بارگاہ ہیں ہماری شفاعت کیجیے کہ ہمارا فیصلہ فرما دے، حضور نگاہ تو کریں ہم کس درد میں ہیں، حضور ملاحظہ تو فرمائیں ہم کس حال کو پہنچے ہیں۔ (تجلی الیقین ص ٧٢-٦٧ ملحضاً مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی لاہور)

اس حدیث میں جو متعدد کتب حدیث سے نقل ہے یہ تصریح ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام امتی آپ کو یا محمد کے الفاظ سے نداء کریں گے سو اگر آپ کو یا محمد سے نداء کرنا موجب ترک ادب ہوتا تو آپ کے تمام امتی قیامت کے دن طلب شفاعت کے وقت آپ کو یا محمد کہہ کر نداء نہ کرتے، بلکہ یا رسول اللہ کہہ کر ندا کرتے !

امام ابوزکریا یحییٰ بن عائد حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے راوی حضرت آمنہ (رض) قصہ ولادت اقدس میں فرماتی ہیں مجھے تین شخص نظر آئے، گویا آفتاب ان کے چہروں سے طلوع کرتا ہے ان میں ایک نے حضور کو اٹھا کر ایک ساعت تک حضور کو اپنے پروں میں چھپایا اور گوش اقدس میں کچھ کہا کہ میری سمجھ میں نہ آیا، اتنی بات میں نے بھی سنی کہ عرض کرتا ہے ابشر یا محمد فما بقی لنبی علم الاوقد اعطیتہ فانت اکثرھم علما و اشجعھم قلبامعک مفاتیح النصرقدالبست الخوف والرعب لایسمع احد بذکرک الاوجل فواذہ و خاف قلبہ و ان لم یرک یا خلیفۃ اللہ ” اے محمد ! مژدہ ہو کہ کسی نبی کا کوئی علم باقی نہ رہا جو حضو رکو نہ ملا ہو تو حضور ان سب سے علم میں زائد اور شجاعت میں فائق ہیں جو نصرت کی کنجیں حضور کے ساتھ ہیں، حضور کو رعب دبدبہ کا جامہ پہنایا ہے، جو حضور کا نام پاک سنے گا اس کا جی ڈر جائے گا اور دل سہم جائے گا اگرچہ حضور کو دیکھا نہ ہو، اے اللہ کے نائب ! “ ابن عباس فرماتے ہیں کان ذلک رضوان خازن الجنان ” یہ رضوان داروغہ جنت تھے “ (علیہ الصلوۃ والسلام) (تجلی الیقین ص 81-82 مطبعہ حامد اینڈ کمپنی لاہور)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ معزز فرتے جنت کے داروغہ رضوان نے آپ کو یا محمد کے ساتھ نداء فرمائی۔

شب اسراء حضور سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انبیائے کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی امات فرمانا حدیث ابوہریرہ و حدیث انس و حدیث ابن عباس و حدیث ابن مسعود و حدیث ابی لیلیٰ و حدیث ابو سعید وحدت ام ہانی و حدیث ام المومنین صدیقہ و حدیث ام المومنین ام سلمہ (رض) واثر کعب احبار رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہوا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان اللہ تعالیٰ عنہ سیصحیح مسلم میں ہے، حضور سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے اپنے کو جماعت انبیاء میں دیکھا، موسیٰ و عیسیٰ و ابراہیم علیہم الصلوۃ والتسلیم کو نماز پڑھتے پایا فحانت الصلوۃ فاممتھم ” پھر نماز کا وقت آیا میں نے ان سب کی امامت کی۔ “ انس (رض) سے نسائی کی روایت میں ہے جمع لی الانبیاء فقد منی جبریل حین اممتھم ” میرے لئے انبیاء جمع کئے گئے، جبریل نے مجھے آگے کیا، میں نے امات فرمائی۔ “ ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے فلم البث الایسیرا حتی اجتمع ناس کثیر ثم اذن مئوذن و قایمت الصلوۃ فقمنا صفو فاننتظر من یومنا فاخذ بیدی جبریل فقد منی فصلیت بھم فلما انصر فت قال جبریل یا محمد اتدر کی من صلی خلفک قلت لاقل صلی خلفک کل نبی بعثہ اللہ ” مجھے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ بہت لوگ جمع ہوگئے مئوذن نے اذان کہی اور نماز برپا ہوئی، ہم سب صف باندھے منتظر تھے کہ کون امام ہوتا ہے، جبریل نے میرا ہاتھ پکڑ کر آگے کیا، میں نے نماز پڑھائی سلام پھیرا تو جبریل نے عرض کی، حضور نے جانا یہ کس کس نے آپ کے پیچھے نماز پڑھی ؟ فرمایا نہ عرض کی ہر نبی کہ خدا نے بھیجا حضور کے پیچھے نماز میں تھا، طبرانی و بیہقی و ابن جریرو ابن مردویہ کی روایت موقوفہ میں ہے ثم بعث لہ ادم فمن دونہ من الانبیاء فامھم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” حضور کے لئے آدم اور ان کے بعد جتنے نبی ہوئے سب اٹھائے گئے، حضور نے ان کی امامت فرمائی، (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (تجلی الیقین ص 83-84 مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی لاہور، 1401)

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے شب معراج رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یا محمد کہہ کر نداء فرمائی اگر یہ کلمہ موجب توہین اور موجب ترک ادب ہوتا تو حضرت جبریل آپ کو یا محمد کہہ کر ندا نہ کرتے بلکہ یا رسول اللہ کہہ کر نداء کرتے !

اعلیٰ حضرت نے حدیث کی جتنی کتابوں کے حوالے دیئے ہیں ان میں سے کسی کی صفحہ وار تخریج نہیں فرمائی اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ قدیم علماء میں اس طرح تخریج کا رواج نہ تھا، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کتب اس وقت تک چھپی نہ تھیں خصوصاً امام ابن عسا کر، امام ابن بای عاصم، امام ابن ابی حاتم اور امام ابویعلی وغیرہ کی کتابیں، غالباً یہ تمام حالے اعلیٰ حضرت نے حافظ سیوطی کی الخئص الکبریٰ سے چن چن کر نقل فرمائے ہیں اور اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا عام اسلوب یہی ہے۔ رہا یہ کہنا کہ جس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود یا محمد کہنے کی تلقین فرمائی ہو اس میں بھی یا محمد کے بجائے یا روسلا للہ کہنا چاہیے سو یہ ہماری سمجھ سے ماورا ہے۔ ہمارا مقصد صرف اتنا تھا کہ اعلیٰ حضرت قدس سرہ العزیز کی تصریحات سے نداء یا محمد کا جواز ثابت کیا جائے، الحمد اللہ ہم نے احادیث، آثار، علماء اسلاف، علماء دیوبند اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کی تصریحات سے ندائے یا محمد کا جواز ثابت کردیا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے۔ (آمین)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 24 النور آیت نمبر 63