اَوَلَمَّاۤ اَصٰبَتْکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمۡ مِّثْلَیۡہَا ۙ قُلْتُمْ اَنّٰی ہٰذَا ؕ قُلْ ہُوَ مِنْ عِنۡدِ اَنْفُسِکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۱۶۵﴾وَمَاۤ اَصٰبَکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ فَبِاِذْنِ اللہِ وَلِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾ۙ 

ترجمۂ کنزالایمان: کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچے کہ اس سے دونی تم پہنچا چکے ہو تو کہنے لگو کہ یہ کہاں سے آئی تم فرما دو کہ وہ تمہاری ہی طرف سے آئی بیشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے ۔ اور وہ مصیبت جو تم پر آئی جس دن دونوں فوجیں ملی تھیں وہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے کہ پہچان کرادے ایمان والوں کی ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا جب تمہیں کوئی ایسی تکلیف پہنچی جس سے دگنی تکلیف تم پہنچا چکے تھے تو تم کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ اے حبیب! تم فرما دو کہ اے لوگو! یہ تمہاری اپنی ہی طرف سے آئی ہے۔بیشک اللہ ہر شے پر قادرہے ۔ اور دوگروہوں کے مقابلے کے دن تمہیں جو تکلیف پہنچی تووہ اللہ کے حکم سے تھی اور اس لئے (پہنچی)کہ اللہ ایمان والوں کی پہچان کرادے۔ 

{ اَوَلَمَّاۤ اَصٰبَتْکُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ :کیا جب تمہیں کوئی مصیبت پہنچی۔ }یہاں غزوہ اُحد کا بیان ہے ۔ اسی پیرائے میں یہاں بیان کیا جارہا ہے کہ تمہیں میدانِ اُحدمیں تکلیف پہنچی کہ تم میں سے ستّر شہید ہوئے جبکہ میدانِ بدر میں کفار کے ستر آدمی مارے گئے اور ستر گرفتار ہوئے تو کفار کا نقصان تو دُگنا ہوا۔ اس پر فرمایا کہ جب تمہیں میدانِ احد میں ایسی تکلیف پہنچی جس سے دگنی تکلیف تم کافروں کومیدانِ بدر میں پہنچا چکے تھے تو تم کہنے لگے کہ ہمیں یہ تکلیف کیسے آگئی؟ جبکہ ہم مسلمان ہیں اور ہم میں سید المرسَلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ تشریف فرما ہیں۔ اس پر انہیں جواب دیا گیا کہ اے حبیب !صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ ،تم ان سے فرمادو کہ یہ تمہاری اپنی ہی طرف سے آئی ہے کہ تم نے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی مرضی کے خلاف مدینہ طیبہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے پر اِصرار کیا، پھر وہاں پہنچنے کے بعد تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی شدید ممانعت کے باوجود غنیمت کے لئے مرکز کوچھوڑا ۔ یہی بات تمہارے قتل اور نقصان کا سبب بنی ہے۔ مزید اگلی آیت میں فرمایا کہ میدانِ اُحد میں کافروں اور مسلمانوں کے مقابلے کے دن تمہیں جو تکلیف پہنچی تووہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے تھی اور اس لئے پہنچی کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ایمان والوں کی پہچان کرادے لہٰذا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فیصلے پر راضی رہو ۔