أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَثَلُ الۡجَـنَّةِ الَّتِىۡ وُعِدَ الۡمُتَّقُوۡنَ‌ؕ فِيۡهَاۤ اَنۡهٰرٌ مِّنۡ مَّآءٍ غَيۡرِ اٰسِنٍ‌ ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ لَّبَنٍ لَّمۡ يَتَغَيَّرۡ طَعۡمُهٗ ‌ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ خَمۡرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيۡنَ ۚ وَاَنۡهٰرٌ مِّنۡ عَسَلٍ مُّصَفًّى‌ ؕ وَلَهُمۡ فِيۡهَا مِنۡ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغۡفِرَةٌ مِّنۡ رَّبِّهِمۡ‌ؕ كَمَنۡ هُوَ خَالِدٌ فِى النَّارِ وَسُقُوۡا مَآءً حَمِيۡمًا فَقَطَّعَ اَمۡعَآءَهُمۡ ۞

ترجمہ:

جس جنت کا متقین سے وعدہ کیا گیا ہے اس میں ایسے دریا ہیں جن کا پانی متغیر نہیں ہوتا اور اس میں ایسے دودھ کے دریا ہیں جن کا ذائقہ متغیر نہیں ہوتا، اور اس میں ایسی شراب کے دریا ہیں جو پینے والوں کے لئے خوش ذائقہ ہیں، اور اس میں صاف ستھرے شہد کے دریا ہیں، اور اس میں ہر قسم کے پھل ہیں اور ان کے رب کی مغفرت ہے، کیا یہ (متقین) ان لوگوں کی طرح ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہیں گے اور جن کو ایسا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس جنت کا متقین سے وعدہ کیا گیا ہے اس میں ایسے دریا ہیں جن کا پانی متغیر نہیں ہوتا اور اس میں ایسے دودھ کے دریا ہیں جن کا ذائقہ متغیر نہیں ہوتا، اور اس میں ایسی شراب کے دریا ہیں جو پینے والوں کے لئے خوش ذائقہ ہیں، اور اس میں صاف ستھرے شہد کے دریا ہیں، اور اس میں ہر قسم کے پھل ہیں اور ان کے رب کی مغفرت ہے، کیا یہ (متقین) ان لوگوں کی طرح ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہیں گے اور جن کو ایسا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا اور ان میں سے بعض لوگ وہی ہیں جو غور سے آپ کیا بت سنتے ہیں حتیٰ کہ جب وہ آپ کے پاس نکلتے ہیں تو اہل علم سے پوچھتے ہیں کہ ابھی انہوں نے کیا کہا تھا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور انہوں نے اپنی نفسانی خواہشوں کی پیروی کی ہے (محمد : ١٦۔ ١٥)

جنت میں انواع و اقسام کے مشروبات

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو اور اعمالِ صالحہ کرنے والوں کو جنت میں داخل فرمائے گا۔ اب اس جنت کی صفت بیان فرما رہا ہے جس کا متقین سے وعدہ فرمایا ہے۔ اس جنت کی ایک صفت یہ بیان فرمائی کہ اس کے پانی کی بو متغیر نہیں ہوگی، جیسے دنیا کا پانی پڑے پرے بدبودار ہوجاتا ہے، جنت کا پانی اس طرح نہیں ہوگا اور جنت کی دوسری صفتیہ بیان فرمائی ہے کہ جنت میں دودھ کے دریا ہوں گے اور اس کے دودھ کا ذائقہ تبدیل نہیں ہوگا جیسے دنیا کے دودھ کا ذائقہ تبدیل ہو کر ترش ہوجاتا ہے اور جنت کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ اس میں صاف ستھرے نتھرے ہوئے شہد کے دریا ہوں گے، یعنی اس شہد میں موم کے ذرات ہوں گے نہ موم کے اثرات ہوں گے، اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں :

حکیم بن معاویہ (رض) اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جنت میں ایک پانی کا دریا ہے، ایک شہد کا دریا ہے، ایک دودھ کا دریا ہے اور ایک شراب کا دریا ہے پھر اس سے اور دریا نکلتے ہیں۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٥٧١، مسند احمد ج ٥ ص ٥)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سیحان اور جیحان، اور فرات اور نیل جنت کے دریاؤں میں سے ہیں۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٣٩)

علامہ نووی نے کہا ہے کہ سیحان اور جیحان، یہ ارمن کے شہروں میں ہیں اور یہ بہت بڑے دریا ہیں، اور نیل مصر میں ہے اور فرات عراق میں اور ان دریائوں کے جنت میں ہونے کا معنی یہ ہے کہ ان کی اصل جنت میں ہے۔

جنت میں دخول کے بعد مغفرت کے ذکر کی توجیہات

نیز اس آیت میں فرمایا ہے : اور اس میں ہر قسم کے پھل ہیں اور ان کے رب کی مغفرت ہے۔

اس سے پہلے مشروبات یعنی پینے کی نعمتوں کا ذکر فرمایا تھا اور اب ماکولات یعنی کھانے کی چیزوں کا ذکر فرمایا اور چونکہ جنت میں کسی کو بھوک اور پیاس نہیں لگے گی سب جنتی محض لذت کے لئے کھائیں گے، اس لئے کھانے کی چیزوں میں روٹی اور سالن کا ذکر نہیں فرمایا، بلکہ پھلوں کا ذکر فرمایا، کیونکہ پھلوں کو بھوک ختم ہونے کے بعد لذت کے لئے کھایا جاتا ہے۔

اس جگہ یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہاں فرمایا ہے : اور ان کے رب کی مغفرت ہے، حالانکہ جنت میں دخول مغفرت کے بعد ہی ہوتا ہے تو جنت میں دخول اور جنت کی نعمتیں دینے کے بعد مغفرت کے ذکر کی کیا حکمت ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا معنی ہے : ان کو جنت میں پھل ملیں گے اور جنت میں دخول سے پہلے ان کی مغفرت مل چکی ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ مغفرت اور مراد رفع تکلیف ہے، یعنی اب وہ مکلف نہیں ہیں اور ان سے کوئی محاسبہ نہیں ہوگا سو وہ جنت کے مشروبات سے پئیں اور جنت کے پھلوں سے بےفکر ہو کر کھائیں ان سے کھانے پینے کا بلکہ جنت کی کسی بھی نعمت کا حساب نہیں ہوگا، اس کے برخلاف دنیا میں وہ جو کچھ کھاتے اور پیتے تھے اور دوسری نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے تھے اس میں سے ہر چیز کا آخرت میں حساب ہونا تھا اور جنت میں کسی نعمت سے فائدہ اٹھانے کا حساب نہیں ہوگا اور اس اعتراض کا تیسرا جواب یہ ہے کہ مغفرت کا معنی ہے : ستر یعنی جب بندے کی مغفرت ہوتی ہے تو اس کے گناہوں پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے، دنیا میں کھانے پینے کے بعد چند قبیح اور بری چیزوں کا ظہور ہوتا ہے، مثلا ً پیشاب اور پاخانہ آتا ہے، بدبودار ہوا خارج ہوتی ہے، بعض اوقات غذا ناموافق ہوتی ہے اور مختلف بیماریاں ہوجاتی ہیں، جنت میں کھانے پینے کے بعد ایسا کچھ نہیں ہوگا اور کھانے پینے کے یہ تمام قبیح اور برے عوارض مستور ہوجائیں گے، گویا کہ جنت میں اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کے لوازم کی مغفرت کردی ہے اور دنیا میں کھانے پینے کے لوازم بہرحال پیش آتے ہیں، اس لئے فرمایا : جنت میں کھانے اور پینے کی لذیر چیزیں اور ان کے لوازم کی اللہ تعالیٰ نے مغفرت کردی ہے۔

آخرت میں کفار کا عذاب

اس کے بعد فرمایا : کیا یہ (متقین) ان لوگوں کی طرح ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ آگ میں رہیں گے اور جن کو ایسا کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ کفار آخرت میں مؤمنین کے ہرحال کے مخالف ہوں گے، مومنین جنت کے باغات، محلات اور عیش و آرام میں ہوں گے اور کفار دوزخ کی آگ میں جل رہے گے، مؤمنین کے پینے کے لئے طرح طرح کے انواع و اقسام کے لذیر مشروبات ہوں گے اور کفار کے لئے ایسا کھولتا ہوا پانی ہوگا جو ان کی آنتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 47 محمد آیت نمبر 15