بسم اللہ الرحمن الرحیم

*قاضی فائز عیسی سے ہمارا کیا اختلاف ہے؟*

تحریر: *ڈاکٹر حمزہ مصطفائی* سابق مرکزی صدر انجمن طلباء اسلام ،مرکزی رہنما جماعت اہلسنت پاکستان ،رہنما پاکستان فلاح پارٹی

١۔ قاضی فائز عیسی صاحب نے ایف ائی ار نمبر 661/22 تھانہ چناب نگر کے تحت گرفتار مبارک نامی شخص کو صرف پانچ ہزار روپے کی شخصی ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ اتنی غیر معمولی رعایت دینے کی وجہ سامنے نہیں آئی۔ یہ بات حیران کن ہے کیونکہ جس ملزم کا جرم اتنا سنگین ہو کہ تھانے کی پولیس اسے گرفتار کرے، اس سے بیان لے، اس سے جرم سے متعلقہ مواد برآمد کرے اور اسے مجرم سمجھتے ہوئے چالان مکمل کر کے متعلقہ قانونی عدالت میں پیش کرے اور متعلقہ قانونی عدالت اس مجرم کے جرم کی سنگینی کے پیش نظر اس کو ضمانت دینے سے انکار کر دے اور اس کے بعد ہائی کورٹ جرم کی شدت اور ماتحت عدالت کی کاروائی کو دیکھنے کے بعد دوبارہ متعلقہ مجرم کی ضمانت مسترد کر دے اس کے بعد اگر سپریم کورٹ یہ سمجھے کہ ماتحت عدالت نے یا پولیس نے یا مدعی نے کسی بدنیتی کی بنیاد پر مقدمہ بنا دیا ہے تو اسے ضمانت دینے کا اختیار ہوتا ہے لیکن ایسی کوئی بھی چیز نہیں پائی گئی تو پھر قاضی فائز عیسی صاحب نے اور ان کے ساتھی جج صاحب نے کس قانون کے تحت ملزم مبارک کو صرف پانچ ہزار روپے کی معمولی شخصی ضمانت پر رہائی دے دی؟ کیا عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ سوچنے میں حق بجانب نہیں کہ ہماری عدالتیں اغیار کے اشاروں پر اور دشمنان اسلام کو خوش کرنے کے لیے ختم نبوت کے ڈاکوؤں کو بے جا رعایت دے رہی ہیں؟
٢۔ قران مجید کی تمام آیات بینات کے معانی اور مفاہیم بالکل واضح ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ کے بعد صحابہ کرام، اہل بیت اطہار اور آئمہ دین نے قرآنی تعلیمات کو واضح فرما دیا ہے۔ قران مجید کی  آیت *“لاکراہ فی الدین “* کے تحت امت مسلمہ اس بات پر متفق ہے کہ کسی بھی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان نہیں بنایا جا سکتا۔ لیکن اس آیت مبارکہ کا یہ معنی لینا کہ اس سے یہ مراد ہے کہ اگر کوئی آدمی اسلام میں نقب لگانے کی کوشش کرے تو اسے روکا نہیں جا سکتا، قطعا غلط ہے۔ نقب لگانے والے کو روکنا بھی قران مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے عین مطابق ہے اور نقب لگانے والوں کو رعایت دینا دراصل اسلامی تعلیمات سے بے بضاعت ہونے کی دلیل ہے۔ لہذا قاضی فائز عیسی صاحب اور دوسرے فاضل جج  صاحب کی اس آیت کی من مانی تشریح قطعی طور پر غلط، بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ اس کا اسلام یا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ *لہذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق اور غلامان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایسی من مانی اور گمراہ کن تشریحات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔*
٣۔ امت مسلمہ پورے قرآن پاک سمیت اس آیت پر بھی ایمان رکھتی ہے جس میں ارشاد ہوا *” انا نحن نزلنا الذکر و  انا لہ لحافظون“* کہ بلاشبہ ہم نے اس قرآن پاک کو اتارا اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت فرمانے والے ہیں۔
یقینا قرآن مجید کی حفاظت فرمانے والا اللہ تعالی ہی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالی تمام انسانوں بلکہ پوری کائنات کی حفاظت فرمانے والا بھی ہے لیکن جس طرح انسانوں کی حفاظت کے لیے قوانین اور ضابطے بنائے جاتے ہیں، سزا اور جزا کا نظام قائم کیا جاتا ہے اسی طرح قرآن مجید کی حفاظت کے لیے بھی قوانین اور ضابطے موجود ہیں۔ اگر کوئی آدمی قرآن مجید کی تحریف کا مرتکب ہوگا اور تحریف شدہ قرآن کو عام کرنے کی کوشش کرے گا تو متعلقہ قوانین حرکت میں آئیں گے اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اس سلسلے میں پوری امت مسلمہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان قوانین پر عمل درآمد کی نگرانی کرے اور اگر کوئی فرد، عہدے دار، سیاست دان یا جج ان قوانین کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے منسوخ کرنے کی کوشش کرے گا یا بے اثر کرنے کی کوشش کرے گا تو امت مسلمہ کے ہر فرد پر یہ واجب ہو جائے گا کہ وہ حسینی کردار ادا کرتے ہوئے میدان عمل میں آئے۔ لہذا سپریم کورٹ و دیگر عدالتوں کے ججوں، پوری حکومت اور اس کے کارندوں کو یہ باور رہنا چاہیے کہ مسلمان اس گئے گزرے دور میں بھی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرتے ہیں اور ان پر نازل ہونے والی کتاب سے بھی محبت کرتے ہیں اور اس کے ایک حرف پر بھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اس سلسلے میں غلامان رسول خون کا آخری قطرہ بھی بہانے کے لیے تیار ہیں۔ چنانچہ سپریم کورٹ آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ اپنی من مانی تشریحات اور ریمارکس سے رجوع کر کے قوم سے معافی مانگے۔ سپریم کورٹ قوم کو انصاف دلانے کے لیے بنائی گئی ہے، قوم کے ایمان سے کھیلنے کے لیے نہیں بنائی گئی۔
٤۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور دوسرے معزز و فاضل جج صاحب نے مبارک نامی شخص کو غیر معمولی رعایت دیتے ہوئے ضمانت دی ہے لیکن ایف آئی آر میں درج دیگر لوگوں کو گرفتار کرنے کے بارے میں کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ حالانکہ ایف آئی آر میں درج تمام لوگوں کو گرفتار ہونا چاہیے، قانون کے کٹہرے میں آنا چاہیے اور جرم ثابت ہونے پر انہیں سزا دی جائے اور اگر بالفرض جرم ثابت نہیں ہوتا تو انہیں بری کیا جائے۔
٥۔ سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں یہ باور کرا رہی ہے کہ جس وقت جرم ہوا اس وقت متعلقہ قانون موجود نہیں تھا۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ متعلقہ قانون 2011 میں بن گیا تھا اور جرم 2019 میں ہوا ہے اور اس کے بعد 2022 میں جب ایف آئی آر درج کی گئی اس وقت تک یہ جرم مسلسل ہوتا رہا ہے۔ لہذا سزا دیتے وقت دونوں اوقات کو پیش نظر رکھا جائے گا اور دونوں وقت کے قوانین کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا اور جو بھی سزا قانون کی نظر میں بنتی ہوگی وہ دی جائے گی۔ چونکہ یہ جرم مسلسل کیا جاتا رہا لہذا دونوں اوقات میں سے جس وقت بھی زیادہ سزا تھی وہ دی جائے گی لیکن فاضل عدالت نے اس حقیقت سے چشم پوشی کی ہے۔ اس جرم کی پہلے سزا تین سال تھی جو بعد میں بڑھا کر کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ سات سال اور ایک لاکھ روپیہ جرمانہ یا دونوں (یعنی جرمانہ و سزا) کر دی گئی تھی لیکن قاضی فائز عیسی صاحب اور ان کے ساتھی جج نے ان سزاؤں سے نہ صرف چشم پوشی کی بلکہ ان کی متعلقہ دفعات کو منسوخ کر کے صرف چھ ماہ کی سزا والی دفعہ کو اپنی دانست کے مطابق ایزاد (Insert) کر کے اپنے ان ریمارکس کا جواز پیدا کیا کہ جی سزا تو چھ ماہ تھی اور یہ آدمی 13 ماہ سے قید میں ہے۔
ہمارے خیال میں فاضل جج صاحبان کو اس قسم کے تکلف کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
٦۔  قوم سپریم کورٹ سے یہ توقع رکھتی ہے کہ ناموس رسالت کے تحفظ اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے موجودہ قوانین میں جو کمیاں پائی جاتی ہیں ان کو دور کرنے کے لیے نہ صرف حکومت کو ہدایت کرے بلکہ اس سلسلے میں قانون کی بہتر تشریح کر کے اچھی نظیر قائم کرے مگر وائے حسرتا! کہ قاضی فائز عیسی صاحب کے فیصلے کا ایک ایک لفظ عاشقان رسول کو دکھ دے رہا ہے اور تکلیف پہنچا رہا ہے لیکن فاضل عدالت کے اس متنازعہ فیصلے میں ایک لفظ بھی قانون کی بہتری کے لیے اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے نہیں لکھا گیا۔
٧۔ معزز سپریم کورٹ آف پاکستان سے پاکستانی قوم بجا طور پر توقع رکھتی ہے اور *نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی اور شیدائی مطالبہ کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پڑھ کر یہ محسوس ہو کہ انصاف ہو رہا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پڑھ کر یہ محسوس نہ ہو کہ بیرونی ایجنڈے کی تکمیل ہو رہی ہے۔*

کتبہ: حمزہ مصطفاٸی عفی عنہ