کتاب العلم باب 23 حدیث نمبر 83
۲۳ – باب الفتيا وهو واقف على الدابة وغيرها
سوال کرنا خواہ اس وقت عالم سواری پر کھڑا ہوا ہو
’’الفتيا‘‘اور’’الفتوی ‘‘ کا معنی ہے : کسی پیش آمدہ دینی مسئلہ کے متعلق سوال کرنا اور اس میں دابۃ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: چوپایہ اور یہ عرف میں گھوڑے، گدھے، خچر اور اونٹ کو کہتے ہیں یعنی عالم سے ہر حال میں سوال کرنا جائز ہے خواہ وہ سواری پر کھڑا ہو یا بیٹھا ہو اور اس باب میں اور باب سابق میں مناسبت یہ ہے کہ دونوں کا تعلق علم سے ہے۔
۸۳- حدثنا إسماعيل قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عيسى بن طلحة بن عبيدالله، عن عبدالله بن عمرو بن العاص أن رسول الله صلى اللہ عليه وسلم وقف في حجة الوداع بمنى للناس يسالونة، فجاءه رجل فقال لم أشعر فحلقت قبل ان أذبـح ؟ فقال اذبح ولا حرج. فجاء اخر فقال لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي؟ قال ارم ولا حرج فما سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن شيء قدم ولا أخر إلا قال إفعل ولا حرج.
اطراف الحدیث: ۱۲۴-1736۔ ۷ ۱۷۳۔۱۷۳۸۔6665
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از عیسی بن طلحہ بن عبیداللہ از حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع کے موقع پر منی میں کھڑے ہوۓ لوگوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے کہ ایک شخص نے آ کر کہا: مجھے پتا نہیں چلا میں نے ذبح سے پہلے سرمونڈ لیا آپ نے فرمایا: اب ذبح کرلو اور کوئی حرج نہیں، پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا: مجھے پتانہیں تھا اور میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے نحر( ذبح) کر لیا۔ آپ نے فرمایا : تم اب کنکریاں مارلو کوئی حرج نہیں ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس چیز کے متعلق یہ سوال کیا گیا کہ اس کو مقدم کر دیا گیا یا مؤخر کر دیا گیا تو آپ نے اس کے متعلق یہی فرمایا کہ اب کرلو کوئی حرج نہیں ہے ۔
( صحیح مسلم :۱۳۰۲ سنن ابوداود : ۲۰۱۴ سنن ترمذی :۹۱۶، سنن ابن ماجه : ۳۰۵۱، السنن الکبری للنسائی : ۴۱۰۷، سنن ابوداؤد الطیالسی : ۲۲۸۵ صحیح ابن خزیمه :۲۹۵۱ سنن دارقطنی ج ۲ ص 253،المنتقی :489، مسند احمد ج ۲ ص ۱۵۸ طبع قدیم مسند احمد ج۱ ص 6484، – ۲۴ مؤسسة الرسالة بیروت )
اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس باب کے عنوان میں فتوی کا ذکر ہے اور اس حدیث میں فتوی اور جواب فتوی دونوں کا ذکر ہے ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) اسماعیل بن ابی اویس، امام مالک کے بھانجے۔
(۲) امام مالک بن انس ۔
( ۳) محمد بن مسلم بن شہاب الزہری، ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۴) عیسی بن طلحہ بن عبیداللہ القرشی یہ تابعی، ثقہ اور افاضل اہل مدینہ سے ہیں، ۱۰۰ ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۵) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما ان کا تعارف بھی گزر چکا ہے ۔
کنکریاں مارنے سے پہلے سرمونڈ نے والے پر قربانی کے لزوم میں مذاہب فقہاء
افعال حج کی ترتیب یہ ہے کہ دس ذوالحجہ کو پہلے جمرہ کبری کو کنکریاں ماری جاتی ہیں، پھر تمتع یا قران کی قربانی کی جاتی ہے اس کے بعد سرمنڈایا جاتا ہے۔اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ ان افعال کی یہ ترتیب سنت ہے یا واجب ہے اور اگر ان افعال میں سے کسی فعل کو مقدم یا موخر کر دیا جاۓ تو کوئی حرج نہیں ہے یا یہ ترتیب واجب ہے اگر ان میں سے کسی فعل کو مقدم یا مؤخر کر دیا جاۓ تو اس کے تدارک کے لیے ایک دم دینا ہوگا، یعنی ایک قربانی کرنی ہو گی ۔ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک یہ ترتیب سنت ہے اور ان کا استدلال اس باب کی حدیث سے ہے کہ جس شخص نے اس ترتیب کے خلاف عمل کیا، آپ نے اس سے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا مؤقف یہ ہے کہ یہ ترتیب واجب ہے اور جس نے اس ترتیب کے خلاف کیا،اس پر ایک دم لازم ہے یعنی ایک قربانی واجب ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس سائل سے فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے یعنی تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہوگا کیونکہ تم نے عمدا اس ترتیب کے خلاف نہیں کیا بلکہ بھول کر کیا ہے اور بھول معاف ہوتی ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۳۴ )
امام ابوحنیفہ اور امام مالک کا استدلال حسب ذیل احادیث اور آثار سے ہے:
امام ابوحنیفہ کے مذہب پر دلائل
مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے کہا: جس نے اپنے حج میں کسی چیز کو مقدم یا مؤخر کردیا وہ اس کے لیے ایک جانور کا خون بہاۓ گا ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۴۹۵۴ ج 3 ص 245، دار الکتب العلمیہ بیروت 1416ھ )
سعید بن جبیر نے کہا: جس شخص نے اپنے حج میں کسی چیز کو کسی چیز سے پہلے کر دیا یا ذبح کرنے سے پہلے سرمونڈ لیا، اس پر ایک جانور کا خون بہانا واجب ہے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۴۹۵۵، ج 3 ص 245)
ابراہیم نے کہا: جب کوئی شخص ذبح سے پہلے سرمونڈ لے تو وہ اس کے لیے خون بہاۓ گا پھر یہ آیت پڑھی:
ولا تخلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهذي محله۔(البقرہ 196)
جب تک قربانی اپنے محل میں نہ پہنچ جاۓ اپنے سروں کو نہ مونڈو۔
( مصنف ابن ابی شیبہ :14956 ج ۳ ص(345
امام مالک کے مذہب کی تقریر
قاضی عیاض بن موسی مالکی متوفی ۵۴۴ ھ لکھتے ہیں:
حج کرنے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ دس ذوالحجہ کو جمرة العقبہ کو کنکریاں مارے پھر منی میں سرمونڈ ے پھر طواف زیارت کرے پھر اس میں اختلاف ہے کہ اگر اس نے ذبح، سرمونڈنے اور کنکریاں مارنے میں کسی چیز کو مقدم یا مؤخر کر دیا۔ امام شافعی اور متقدم فقہاء اور محدثین نے کہا ہے کہ کسی چیز کی تقدیم اور تاخیر سے کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے اور امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ جس نے کنکریاں مارنے یا ذبح سے پہلے سرمونڈ لیا اس پر ایک قربانی ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد نے ان سے اختلاف کیا ہے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جس نے اپنے حج میں کسی چیز کو مقدم یا مؤخر کر دیا اس پر ایک قربانی ہے اور یہ ان سے ثابت نہیں ہے اور اس کی مثل سعید بن جبیر، قتادہ، احسن اور النخعی سے بھی مروی ہے ۔
(اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۴ ص 389، دارالوفا ، بیروت 1419ھ)
علامہ ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم القرطبی المالکی المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں:
امام مالک نے کہا ہے: جس نے کنکریاں مارنے سے پہلے سرمونڈ لیا اس پر ایک دم ( قربانی) ہے کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا
ولا تحلقوا رءوسكم حتى يبلغ الهدى محلة
جب تک قربانی اپنے محل میں نہ پہنچ جاۓ اپنے سروں کو نہ مونڈو۔(البقرہ 196)
اور قربانی کا وقت جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد ہے اور جس نے کنکریاں مارنے سے پہلے طواف زیارت کرلیا اس میں امام مالک کے قول مختلف ہیں ایک قول یہ ہے کہ اس کا یہ طواف کفایت کرے گا اور اس پر ایک قربانی ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا یہ طواف کافی نہیں ہے گویا کہ اس نے طواف نہیں کیا اور وہ کنکریاں مارنے کے بعد دوبارہ طواف کرے اور قربانی کرے اور اس کا سبب ولا تحلقو رءوسكم حتى يبلغ الهدى محلہ‘‘ ( البقرہ:196 ) کی مخالفت ہے ۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا: ” کوئی حرج نہیں ہے، آیا آپ نے اس سے گناہ کی نفی کا ارادہ کیا ہے یا گناہ کی نفی اور قربانی کی نفی دونوں کا ارادہ کیا ہے اس میں اختلاف ہے بہ ظاہر احادیث سے امام شافعی اور محدثین کے مذہب کی تائید ہوتی ہے ۔ المفہم ج ۳ ص ۴۰۹ دار ابن کثیر بیروت 1420ھ )
شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حد یث کی شرح
باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۳۰۵۲۔ ج ۳ ص ۵۵۲ پر ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں :
کنکریاں مار نے قربانی کر نے اور سر منڈانے کی ترتیب کے حکم میں مذاہب
احناف کا نظریہ اور ان کے دلائل ۔
[…] حدیث کی تخریج اور شرح حدیث : ۸۳ میں گزر چکی […]