کتاب العلم باب 42 حدیث نمبر 118
٤٢ – بَابُ حِفْظِ الْعِلْمِ
علم کی حفاظت کرنا
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں عشاء کی نماز کے بعد باتیں کرنے کا ذکر تھا اور اس سے مقصود بھی علم کی حفاظت تھی اور یہ باب بھی علم کی حفاظت میں ہے۔
۱۱۸ – حَدَّثَنَا عَبْدُ العَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي مالِكَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ أَكْثَرَ ابُو ھرَيْرَةَ ، وَلَوْ لَا ایتان فِي كِتَابِ اللهِ مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا ثُمَّ يَتْلُوا (إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ البَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ بَعْدِ مَا بَيَّنَّهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَبِ أُولَئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللعِنونَ0 إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَاصْلَحُوا وَبَيَّنُوا فَأُولَئِكَ اتوب عَلَيْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيمُ﴾ (البقرہ: ١٦٠-159ان إِخْوَانَنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُم الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، وَإِنَّ إِخْوَانَنَا مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ یشْغَلُهُمُ الْعَمَلُ فِى اَمْوَالِهِمْ، وَإِنَّ اَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَلْزَمُ رسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِبَعِ بَطْنِه ويَحْضُرُ مَا لَا يَحْضُرُونَ ، وَيَحْفَظُ مَا لَا يَحْفَظُونَ
اطراف الحدیث: ۲۰۴۷- ۲۳۵۰- ۳۶۳۸- ۷۳۵۴
صحیح مسلم: 2492 السنن الکبری للنسائی: ۵۸۶۷ سنن ابن ماجہ : ۲۶۳ مسند احمد ج ۲ ص ۲۴۰ طبع قدیم مسند احمد: ۷۲۷۶- ج ۱۳ ص ۲۲۱ مؤسستہ الرسالة بیروت
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبد العزیز بن عبداللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از ابن شہاب از اعرج از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت احادیث بیان کرتے ہیں اور اگر کتاب اللہ میں یہ دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا پھر انہوں نے ان آیتوں کی تلاوت کی: ” بے شک جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی دلیلوں اور ہدایت کو اس کے بعد چھپاتے ہیں جب کہ ہم نے ان کو لوگوں کے لیے کتاب میں بیان کردیا ہے ان لوگوں پر الله لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں سوا ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کرلی اور (ان کا ) بیان کر دیا تو یہ وہ لوگ ہیں جن کی میں توبہ قبول کرتا ہوں اور میں بہت توبہ قبول کرنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہوں‘ (البقرہ: 159-160) بےشک مہاجرین میں سے ہمارے بھائی بازاروں میں سودا کرنے میں مصروف رہتے تھے اور انصار میں سے ہمارے بھائی کھیتی باڑی میں مصروف رہتے تھے اور بے شک ابوہریرہ بھرے ہوئے پیٹ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لازم رہتا تھا اور ان مواقع پر حاضر ہوتا تھا، جب وہ حاضر نہیں ہوتے تھے اور ان احادیث کو یاد رکھتا تھا، جن کو وہ یاد نہیں رکھتے تھے۔
ہاب کے عنوان کے ساتھ اس کی مطابقت میں یہ الفاظ ہیں: اور ان احادیث کو یاد رکھتا تھا، جن کو وہ یاد نہیں رکھتے تھے۔ اس حدیث کے کل پانچ رجال ہیں ان کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔
الصفق “ کا معنی اور علم کے اظہار اور تبلیغ کا بیان
اس حدیث میں ’ الصفق “ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: ہاتھ پر ہاتھ مارنا’ جب کوئی شخص بازار میں کوئی چیز خریدتا ہے تو سودا ہو جانے کے بعد ہاتھ پر ہاتھ مارتا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ نے جو البقرہ کی دو آیتیں پڑھی تھیں، ان میں علم کو چھپانے کی مذمت ہے، حضرت ابو ہریرہ کا مطلب یہ تھا کہ اگر علم کو چھپانا حرام نہ ہوتا تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا، لیکن جب کہ علم کو چھپانا حرام ہے اور اس کا اظہار کرنا اور اس کی تبلیغ کرنا فرض ہے تو اس وجہ سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی تمام احادیث بیان کر دیں۔
حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمرو کی احادیث کا تقابل
اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ اس سے پہلے حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں مجھ سے زیادہ کسی کے پاس احادیث نہیں تھیں، سوائے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے کیونکہ وہ احادیث لکھتے تھے اور میں نہیں لکھتا تھا’ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کے پاس احادیث زیادہ محفوظ اور لکھی ہوئی تھیں اور حضرت ابو ہریرہ نے احادیث زیادہ روایت کی ہیں، حضرت ابو ہریرہ نے ۵۳۷۴ احادیث روایت کی ہیں اور حضرت عبداللہ بن عمرو نے ۷۰۰ احادیث روایت کی ہیں۔
علم کو دائماً طلب کرنے کی فضیلت، ضرورت کے وقت اپنے کمال کا اظہار اور کسب معاش کی فرضیت
اس حدیث میں علم کی حفاظت کرنے اور دائما علم کو طلب کرنے کا ذکر ہے، کیونکہ حضرت ابو ہریرہ احادیث کی طلب میں ہر وقت رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور اس سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے طلب علم کو طلب مال پر ترجیح دی تھی اور حضرت ابو ہریرہ نے اپنی اس فضیلت کو ظاہر کیا، اس سے معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اپنی فضیلت اور اپنے کمال کا اظہار کرنا جائز ہے یہاں ضرورت یہ تھی کہ لوگوں کے اس اعتراض کا جواب دیا جائے کہ حضرت ابوہریرہ بہت زیادہ احادیث روایت کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ زیادہ روایت کرنا بھی جائز ہے اور تجارت کرنا بھی جائز جیسا کہ مہاجرین تجارت کرتے تھے اور کاشت کاری کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ انصار کاشت کاری کرتے تھے اور اپنے اہل وعیال کی کفالت کرنے کے لیے اس قسم کے کسب کرنا مستحب ہیں اور اگر اور کوئی آمدنی کا ذریعہ نہ ہو تو پھر اپنی اور اپنے ماں باپ اور اہل وعیال کی کفالت کے لیے کسب معاش کرنا فرض ہے۔
باب مذکور کی یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۶۲۷۵ – ج 6 ص ۱۱۶۲ پر مذکور ہے اس کی شرح میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سوانح بیان کی گئی ہے۔