اہل سنت کے لیے قابل تقلید طرزِ عمل
اہل سنت کے لیے قابل تقلید طرزِ عمل:
محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
اور غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے درمیان چند مسائل پر اختلاف ہوگیا۔۔
غزالی زماں رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مناظرے کیلئے فیصل آباد تشریف لائے یہ مناظرہ بند کمرے میں ہونا تھا جسکے منصف شیخ القران حضرت عبدالغفور ہزاروی رحمۃ اللہ تعالیٰ تھے۔ غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فیصل آباد پہنچے تو محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ننگے پاؤں انکے استقبال کیلئے گئے –
حیرت کی بات یہ تھی کہ دونوں بزرگوں کے درمیان مناظرہ ہونے والا تھا، لیکن دونوں نے ہی ایک دوسرے کے پاؤں کو تعظیماً چھونے کی کوشش کی اور محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پاؤں چھونے میں کامیاب ہو گئے
غور کریں ! یہ ہے اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ، ہمیں اختلاف کرنے کا سلیقہ نہیں آتا – ہمارے اسلاف نے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کی تعظیم کا درس دیا ہے –
استاذ الاساتذہ علامہ عتیقی دامت برکاتہ سے سے سوال کیا گیا اس اختلاف کا کیا نتیجہ نکلا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا
” یہ ایک ایسا راز ہے جو تینوں بزرگ، یعنی مفتی اعظم پاکستان علامہ سردار احمد، غزالی زماں حضرت سید احمد سعید کاظمی، اور شیخ القران علامہ عبدالغفور ہزاروی علیہم الرحمہ اپنے اپنے سینوں میں دبائے دنیا سے تشریف لے گئے ”
اکابرین اہل سنت کا یہ طرز عمل ثابت کر رہا ہے کہ خواص کی باتیں عوام میں کرنا، مسلمات کو چھوڑ کر مختلفات کے ذریعے عوامی اشتعال پیدا کرنا، دانشمندی نہیں بلکہ حماقت ہے۔
(مجلہ النظامیہ، فروری 2024- صفحہ 23-24)
ہرگز نمیرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است بر جریدہ عالم دوام ما
منقول