٦٥ – بَابُ إِذَا غَسَلَ الْجَنَابَةَ أَوْ غَيْرَهَا فَلَمْ يَذْهَبُ آثَرُهُ

جب جنابت کو دھویا یا کسی اور نجاست کو اور اس کا اثر نہیں گیا

 

اس باب میں امام بخاری یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ جب کسی نے منی آلود کپڑے کو یا کسی اور نجاست مثلاً حیض کے خون کو کپڑے سے دھویا اور دھونے کے بعد پانی کا نشان اس میں باقی رہا اور سوکھا نہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ دونوں بابوں میں منی آلود کپڑے کو دھونے کا ذکر ہے۔

 

231- حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيْلَ الْمِنْقَرِئُ قَالَ  حدثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ سَأَلْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ فِى الثوبِ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ كُنْتُ أَغْسِلُهُ مِنْ ثوبِ رَسُولِ اللهِ صلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلوةِ ، واثر الْغَسْلِ فِيْهِ بُقَعُ الْمَاءِ.

 

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل المنقری نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عید الواحد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عمرو بن میمون نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے سلیمان بن یسار سے اس کپڑے کے متعلق سوال کیا، جس پر منی لگ جائے، انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے کو دھوتی تھی، پھر آپ نماز کے لیے نکلتے اور کپڑے میں دھونے کا اثر لانی کے نشانات کی صورت میں ہوتا تھا۔

 

اس حدیث کی تخریج اور شرح کے لیے حدیث : ۲۲۹ کا مطالعہ کریں۔