کتاب الحیض باب 7 حدیث نمبر 305
7- بَابُ تَقْضِي الْحَائِضُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ
حائض تمام مناسک حج ادا کرے سوائے بیت اللہ کے طواف کے
اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر کسی عورت کو احرام باندھنے کے بعد حیض آجائے تو وہ حج بیت اللہ کے سوا باقی تمام مناسک حج ادا کرے گی۔ مناسک، منسک کی جمع ہے اس کا معنی ہے: حج کی عبادات کی جگہیں اور منسک مذبح یعنی قربانی کی جگہ کو بھی کہتے ہیں، اس کا مادہ نسک ہے اس کا معنی ہے: اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت اور ہر وہ فعل جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے۔
ان دونوں بابوں میں مناسبت یہ ہے کہ پہلے باب میں حالت حیض میں روزہ کو ترک کرنے کا ذکر ہے اور وہ فرض ہے اور اس باب میں حالت حیض میں بیت اللہ کے طواف کو ترک کرنے کا ذکر ہے اور وہ بھی فرض ہے۔
جنبی اور حائض کے قرآن پڑھنے کے جواز پر امام بخاری کے دلائل اور مصنف کے جوابات
امام بخاری فرماتے ہیں:
وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ لَا بَأسَ أَنْ تَقْرَاَ الْآيَةَ .
اور ابراہیم (نخعی) نے کہا: حائض کے ایک آیت پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
اس اثر کی اور اس کے بعد کے آثار کی باب کے عنوان سے مناسبت یہ ہے کہ حیض ہر عبادت کے منافی نہیں ہے بلکہ حالت حیض میں تسبیح، تحمید اور تہلیل پڑھنا جائز ہے اسی طرح ایک جماعت کے نزدیک ایک آیت سے کم پڑھنا جائز ہے اور ابراہیم نخعی کے نزدیک ایک آیت پڑھنا جائز ہے اسی طرح طواف کے سوا باقی مناسک بھی ادا کرنے جائز ہیں، جنبی کا بھی یہی حکم ہے۔
اس تعلیق کی اصل یہ اثر ہے:
حماد، ابراہیم سے روایت کرتے ہیں : انہوں نے کہا کہ چار شخص قرآن نہ پڑھیں: (۱) جو بیت الخلاء میں ہو (۲) جو حمام میں ہو (3) جو جنبی ہو ( ۴ ) جو ( عورت ) حیض والی ہو ۔ ماسوا ایک آیت اور اس کی مثل کے خصوصاً جنبی اور حائض کے لیے۔
( سنن دارمی : 996، دارالمعرفه بیروت ۱۴۲۱ھ )
ابراہیم نخعی سے دوسری روایت یہ ہے کہ جنبی اور حائض ایک آیت سے بھی کم پڑھے۔
چنانچہ ابو خالد الاحمر نے از حجاج از عطاء از حماد از ابراہیم اور سعید بن جبیر حائض اور جنب کے بارے میں یہ روایت کی ہے کہ وہ آیت کی ابتداء کریں اور اس کو آخر تک نہ پڑھیں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۰۹۰ دار الکتب العلمیہ بیروت 1416ھ )
مغیرہ نے ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ حیض والی عورت ایک آیت سے کم پڑھے پوری آیت نہ پڑھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ (1097)
امام بخاری نے جو ابراہیم مخفی سے یہ نقل کیا ہے کہ حائض ایک آیت پڑھ سکتی ہے اس کی بہ نسبت
ابراہیم نخعی کی مذکور الصدر دو روایتیں زیادہ قرین قیاس ہیں، جن میں انہوں نے جنبی اور حائض کو ایک مکمل آیت کی بھی اجازت نہیں دی اور اس کی دلیل یہ حدیث ہے:
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حائض اور جنبی بالکل قرآن نہ پڑھیں ۔
سن ترمذی: ۱۳۱ سنن ابن ماجه: ۵۹۶ – ۵۹۵ سنن دار قطنی : ۴۱۲ سنن بیہقی ج اص ۸۹ العقیلی ج اص۹۰)
اس کے بعد امام بخاری نے دوسری تعلیق ذکر کی:
وَلَمْ يَرَ ابْنُ عَبَّاسِ بِالْقِرَاءَةِ لِلْجُنُبِ بَأْسًا.
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما جنبی کے لیے قرآن مجید پڑھنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:
خالد از عکرمہ، وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ جنبی ایک آیت یا دو آیتیں پڑھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۰۸۹ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۶ھ )
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس کی انفرادی رائے ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح ممانعت کے مقابلہ میں حجت نہیں ہے۔
پھر امام بخاری تیسری تعلیق ذکر کرتے ہیں:
وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلّ أَحْيَانِهِ .
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے۔
اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت اللہ عزوجل کا ذکر کرتے تھے۔
( صحیح مسلم : ۳۷۳ مسند احمد ج 6 ص ۷۰ جامع المسانيد لابن الجوزی: ۷۲۶۶ مکتبة الرشد ریاض 1426ھ )
امام بخاری کے استدلال کی تقریر یہ ہے کہ جب آپ ہر وقت ذکر کرتے تھے تو یہ اس کو مستلزم ہے کہ آپ حالت جنابت میں بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے اور ذکر قرآن مجید کی تلاوت کو بھی شامل ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ حالت جنابت میں بھی قرآن مجید پڑھتے تھے۔
امام بخاری کا یہ استدلال اس لیے صحیح نہیں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ہر حال میں قرآن مجید پڑھاتے تھے، سوائے جنابت کے حال کے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ: ۱۰۷۸) اور یہ ہر حال میں ذکر کے خلاف نہیں ہے، یعنی جنابت کے حال میں آپ قرآن مجید کی تلاوت کے علاوہ اور کوئی ذکر کرتے تھے مثلا تسبیح اور تہلیل وغیرہ اور یہ ذکر بھی آپ دل سے کرتے تھے زبان سے نہیں کرتے تھے حدیث میں ہے: آپ نے بے وضوء ہونے کی حالت میں ایک صحابی کو سلام کا جواب بھی نہیں دیا’ کیونکہ سلام کا لفظ اللہ تعالیٰ کا اسم ہے:
المهاجر بن قنفد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت سلام کیا جب آپ وضوء کر رہے تھے آپ نے ان کو جواب نہیں دیا جب آپ وضوء سے فارغ ہوگئے تو آپ نے فرمایا: مجھے تمہارے سلام کا جواب دینے سے اس کے سوا اور کوئی چیز مانع نہیں تھی کہ میں نے بغیر طہارت کے اللہ تعالیٰ کے ذکر کو ناپسند کیا۔
(سنن ابوداؤد : ۱۷ سنن نسائی: ۳۸ سنن ابن ماجہ : ۳۵۰ مسند احمد ج 4 ص ۳۵۴- ج ۵ ص ۱۸۰ شرح معانی الآثار : ۱۰۲ المستدرک ج ۳ ص ۴۷۹)
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، اس وقت ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا، اس نے آپ کو سلام کیا، آپ نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کرکے اس شخص کے سلام کا جواب دیا۔
( صحیح مسلم : 370، سنن ابوداؤد : 16 سنن ترمذی: 90 سنن نسائی (37 سنن ابن ماجه : ۳۵۳)
غور کیجئے ! جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بے وضو ہونے کے حال میں زبان سے اللہ کا ذکر مکروہ سمجھتے ہیں تو آپ جنابت کے حال میں زبان سے اللہ کا ذکر کیسے کریں گے، پھر جنابت کے حال میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا تو آپ کی شان سے اور بھی زیادہ بعید ہے، اس لیے ماننا پڑے گا کہ جنابت کے حال میں آپ دل سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ جنابت کے حال میں زبان سے اللہ تعالی کا ذکر نہ کرنا بھی اللہ تعالی کا ذکر ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالی کی زیادہ تعظیم اور تقدیس ہے کہ یہ حال زبان سے اس کے ذکر کے لائق نہیں ہے۔ ہمارے ان جوابات سے واضح ہوگیا کہ آپ ہر وقت اللہ کا ذکر کرتے تھے اس سے امام بخاری کا یہ استدلال کرنا کہ آپ حالت جنابت میں تلاوت قرآن کرتے تھے نہ صرف یہ کہ بہت بعید ہے، بلکہ اللہ تعالی کی تعظیم اور تقدیس کے خلاف ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور آپ کے مزاج کے برعکس ہے۔
وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ يَخْرُجَ الْحُيَّض فَيُكَبِّرْنَ بتكبيرهمْ وَيَدْعُونَ .
اور حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ہمیں یہ حکم دیا جاتا تھا کہ حائض عورتیں نکلیں، پس وہ مسلمانوں کی تکبیر کے ساتھ تکبیر پڑھیں اور دعا کریں۔
یہ امام بخاری کی چوتھی تعلیق ہے اور اس کو خود امام بخاری نے اپنی صحیح میں موصولاً روایت کیا ہے:
حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہمیں یہ حکم دیا جاتا تھا کہ ہم آزاد اور پردہ دار خواتین کو ( عیدگاہ میں ) لے جائیں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ حائض خواتین بھی خیر اور مسلمانوں کی دعا کے مواقع پر حاضر ہوں اور حائض خواتین عیدگاہ میں داخل نہ ہوں، حضرت حفصہ نے حیرت سے کہا: حائض خواتین بھی ؟ تو ایک عورت نے کہا: کیا وہ میدان عرفات میں اور فلاں فلاں مقام میں نہیں جاتی۔ (صحیح بخاری : ۹۷۴ – 324، صحیح مسلم : 890، سنن ابوداؤد 1136،سنن نسائی: ۱۵۵۸ سنن ابن ماجه (۱۳۰۸)
امام بخاری کے استدلال کی تقریر یہ ہے کہ جب حائض عید گاہ سے باہر اور میدان عرفات میں دعا کر سکتی ہے اور دعا میں قرآن کی آیات بھی ہوتی ہیں تو پھر وہ قرآن مجید کی تلاوت بھی کر سکتی ہے امام بخاری کا یہ استدلال بھی صحیح نہیں ہے دعا میں قرآن مجید کی آیت پڑھنا اور چیز ہے اور قصداً قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور بات ہے، خصوصا جب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: حائض اور جنبی بالکل قرآن نہ پڑھیں ۔ (سنن ترمذی : ۱۳۱)
وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ أَخْبَرَنِي أَبُو سُفْيَانَ أَنَّ هِرَقْلَ دَعَا بِكِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقراً فَإِذَا فِيهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، (يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ ) الآية (آل عمران : ٦٤).
اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: مجھے ابوسفیان نے خبر دی کہ ہرقل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب منگایا پھر اس کو پڑھا تو اس میں لکھا ہوا تھا: اللہ ہی کے نام سے شروع کرتا ہوں جو نہایت رحم فرمانے والا بہت مہربان ہے ” اے اہل کتاب! آؤ ایسی بات کی طرف الایة (آل عمران: ۶۴ )
یہ امام بخاری کی پانچویں تعلیق ہے اور صحیح البخاری: 7 کی طویل حدیث کا ایک قطعہ ہے۔ امام بخاری کی اس حدیث سے استدلال کی تقریر یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مکتوب جس میں قرآن مجید کی دو آیتیں لکھی ہوئی تھیں، ہرقل اور رومیوں کی طرف بھیجا اور وہ کافر تھے اور کافر جنبی ہوتا ہے اور انہوں نے اس مکتوب کو چھوا اور پڑھا، اس سے معلوم ہوا کہ جنبی کا قرآن مجید کو چھونا اور پڑھنا جائز ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ نے لکھا ہے: اس کا جواب یہ ہے کہ اس مکتوب میں ان دو آیتوں کے علاوہ بھی لکھا ہوا تھا کہ یہ مکتوب محمد بن عبداللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے عظیم بصری کے نام ہے اور ہرقل عظیم روم کی طرف، جو ہدایت کی پیروی کرے اس پر سلام ہو، پس بے شک میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں، تم اسلام قبول کرلو، سلامت رہو گے، اللہ تم کو اس کے دو اجر عطا فرمائے گا، پھر اگر تم نے اعراض کیا تو تمہارے متبعین کے اسلام نہ لانے کا تم پر گناہ ہوگا۔ الحدیث، پس یہ مکتوب ایسا ہے جیسے فقہ کی کتاب یا تفسیر میں قرآن مجید کی آیت لکھی ہوئی ہو اور فقہ کی کتاب یا تفسیر کی کتاب کو بے وضوء ہاتھ لگانا اور پڑھنا جمہور کے نزدیک جائز ہے کیونکہ ان سے قرآن مجید کی تلاوت کا قصد نہیں کیا جاتا اور امام احمد نے اور بہت سے فقہاء شافعیہ نے یہ تصریح کی ہے کہ تبلیغ کی مصلحت سے کفار کو اس قسم کے مکاتیب لکھنا جائز ہے اور ثوری نے کہا: کسی نصرانی آدمی کو قرآن مجید کی اس امید پر تعلیم دینا جائز ہے کہ شاید وہ اسلام لائے اور امام احمد نے کہا: میں اس کو مکروہ جانتا ہوں کہ قرآن مجید کو اس کی لائق جگہ پر نہ رکھا جائے اور ان کا یہ قول بھی ہے کہ اگر اس سے ہدایت کی توقع ہو تو پھر جائز ہے، ورنہ نہیں اور بعض علماء نے کہا: اس حدیث میں یہ دلیل نہیں ہے کہ جنبی کے لیے قرآن مجید پڑھنا جائز ہے کیونکہ جنبی کو تلاوت قرآن سے اس صورت میں منع کیا ہے، جب وہ قرآن کی تلاوت کا قصد کرے اور وہ یہ جانتا ہو کہ جس کی وہ تلاوت کر رہا ہے وہ قرآن ہے اور اگر وہ کسی صفحہ کو پڑھے اور اس کو یہ علم نہ ہو کہ یہ قرآن ہے تو پھر اس کے لیے ممانعت نہیں ہے اور اسی طرح کافر کے لیے اس صفحہ کو پڑھنے کا حکم ہے۔ اس کی مزید تحقیق ان شاء اللہ “کتاب الجھاد” میں آئے گی ۔ (فتح الباری ج ۱ ص ۸۲۲ دار المعرفہ بیروت 1426ھ ) “کتاب الجھاد” میں یہ پوری حدیث نمبر : ۳۱۷۴ پر ہے لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی حسب عادت بھول گئے اور انہوں نے وہاں اس کی شرح میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا۔
وَقَالَ عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ حَاضَتْ عَائِشَة فَنَسَكَتِ الْمَنَاسِكَ كُلَهَا، غَيْرَ الطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَا تُصلى۔
اور عطاء نے از جابر کہا کہ حضرت عائشہ کو حیض آگیا تو انہوں نے بیت اللہ کے طواف کے سوا تمام مناسک حج ادا کیے اور وہ نماز نہیں پڑھتی تھیں ۔
یہ امام بخاری کی چھٹی تعلیق ہے، اس تعلیق کی اصل حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث ہے جس میں یہ جملہ ہے:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مکہ میں آئیں اور وہ حائض تھیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ حکم دیا کہ وہ حج کے تمام مناسک ادا کریں، سوا اس کے کہ وہ طواف نہیں کریں گی اور نماز نہیں پڑھیں گی، حتی کہ وہ حیض سے پاک ہوجائیں۔ (صحیح البخاری : ۷۲۳۰ مسند احمد ج ۳ ص ۲۹۲)
امام بخاری کے استدلال کی تقریر یہ ہے کہ آپ نے حضرت عائشہ کو قرآن مجید پڑھنے سے منع نہیں کیا، اس سے معلوم ہوا کہ حائض کا قرآن مجید پڑھنا جائز ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ “سنن ترمذی ” میں تصریح ہے کہ آپ نے حائض اور جنبی کو قرآن مجید پڑھنے سے مطلقا منع فرما دیا تھا۔
وَقَالَ الْحَكَمُ إِنِّي لَاذْبَحُ وَأَنَا جُنبٌ ، وَقَالَ الله تَعَالَى ﴿وَلَا تَأْكُلُوْا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ﴾الانعام: ۱۲۱ ).
اور حکم نے کہا: بے شک میں حالت جنابت میں ذبح کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور جس جانور پر اللہ کا نام نہ ذکر کیا جائے اس کو مت کھاؤ (الانعام : 121 ) ۔
یہ امام بخاری کی ساتویں تعلیق ہے، جس سے انہوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ جنبی کا قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ جانور کو ذبح کرتے وقت قرآن مجید کی تلاوت نہیں کی جاتی بلکہ بسم اللہ، اللہ اکبر کہا جاتا ہے اور جنبی کے لیے قرآن پڑھنے کی ممانعت ہے ذکر کرنے کی ممانعت نہیں ہے اگرچہ افضل یہ ہے کہ باوضوء ذکر کیا جائے اور یہ حکم کا فعل ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل نہیں ہے۔
جمہور فقہاء کے نزدیک جنبی اور حائض کے قرآن پڑھنے کی ممانعت اور ان کی مستدل حدیث کی سند کی تحقیق
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں :
امام مالک کے اس مسئلہ میں دو قول ہیں اور امام ابوحنیفہ، امام شافعی، امام احمد اور ابوثور نے حائض کو قرآن مجید پڑھنے سے منع کیا ہے، اور اسی کی مثل حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، عطاء، ابوالعالیہ سعید بن جبیر اور زہری سے مروی ہے۔
( شرح ابن بطال ج ۱ ص ۴۲۶ دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۲۴ھ )
جمہور ائمہ اور فقہاء کی دلیل یہ حدیث ہے:
حضرت عبد اللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیت الخلاء سے آکر منہ دھونے کے بعد قرآن مجید پڑھنے لگے تو حضرت علی نے بیان کیا کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے آنے کے بعد ہمیں قرآن مجید پڑھاتے اور ہمارے ساتھ گوشت کھاتے اور جنابت کے سوا آپ کو قرآن مجید پڑھنے سے کوئی چیز مانع نہیں تھی۔
سنن ابوداؤد 229، سنن ترمذی:146، سنن نسائی : ۲۶۶ ۲۶۵ سنن ابن ماجہ: ۵۹۴ مصنف ابن ابی شیبه : ۱۰۷۸ مسند الحمیدی:۵۷ صحیح ابن حبان : ۸۰۰-۷۹۹ سنن دارقطنی ج ۱ ص ۱۱۹ مسند ابویعلی : ۳۶۵ مسند احمد ج 1 ص ۸۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۶۲۷ – ج ۲ ص ۶۱‘ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت)
شعیب الارنوط اس حدیث کی سند کے متعلق لکھتے ہیں:
اس حدیث کی سند حسن ہے امام حبان، العجلی اور یعقوب بن شیبہ نے اس حدیث کی توثیق کی ہے امام ابن عدی نے” الکامل” میں کہا ہے کہ یہ حدیث حضرت علی، حضرت حذیفہ اور ان کے غیر سے مروی ہے اور مجھے امید ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے امام ابن حبان، امام ابن خزیمہ اور حاکم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اور ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے۔( حاشیہ مسند احمد ج ۲ ص۶۱ مؤسسة الرسالة بیروت)
حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
جمہور نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے استدلال کیا ہے اس کو اصحاب السنن نے روایت کیا ہے امام ترمذی اور امام ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے، بعض نے اس کے بعض راویوں کو ضعیف کہا ہے اور حق یہ ہے کہ یہ حدیث حسن ہے اور استدلال کی صلاحیت رکھتی ہے۔ (فتح الباری ج۱ص ۸۲۲ دار المعرفة بیروت1426 ھ )
اس حدیث کو روایت کرنے کے بعد امام ابوداؤد نے اس پر سکوت کیا ہے اور امام ابوداؤد نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے: میں جس حدیث پر کوئی حکم نہ لگاؤں وہ میرے نزدیک عمل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔( مکتوب امام ابوداؤد ۲ ” مع سنن ابوداؤد ج ا ص ۴، مطبع مجتبائی لاہور )
ہم نے اس مسئلہ میں اس قدر تحقیق اس لیے کی ہے کہ امام بخاری نے اپنے زعم میں یہ ثابت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں قرآن پڑھتے تھے، حالانکہ یہ بات واقع کے خلاف ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن اس سے پاک ہے، سو میری یہ محنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سے براءت ثابت کرنے کے لیے ہے، دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس تحریر کو قبول فرمالیں ۔ (آمین)
٣٠٥- حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْن ابِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بن مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَذْكُرُ إِلَّا الْحَجَّ ، فَلَمَّا جِئْنَا سرِفَ، طَمِثْتُ ، فَدَخَلَ عَلَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكِ؟ قُلْتُ لَوَدِدْتُ وَاللَّهِ آنِى لَمْ أَحْجَّ الْعَامَ. قَالَ لَعَلَّكِ نُفِسَتِ؟ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّ ذَلِكِ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللهِ عَلَى بَنَاتِ ادَمَ فَافْعَلِي مَا يَفْعَلُ الْحَاجُ غَيْرَ اَنْ لَّا تَطُوفِى بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِى۔جامع المسانید لابن الجوزی : ۷۱۹۰ ‘مکتبة الرشد ریاض 1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابونعیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے حدیث بیان کی از عبدالرحمان بن القاسم از قاسم بن محمد از حضرت عائشه رضی اللہ عنہا انہوں نے کہا : ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے، ہم صرف حج کا ذکر کررہے تھے جب ہم مقام سرف پر پہنچے تو مجھے حیض آگیا، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی’ آپ نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ میں نے کہا: میں ( حج کرنا) چاہتی تھی اور اللہ کی قسم ! بے شک میں اس سال حج نہیں کرسکوں گی، آپ نے فرمایا: شاید تم کو نفاس (حیض ) آ گیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے، جس کو اللہ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دیا ہے پس تم وہ سب کرو، جو حج کرنے والے کرتے ہیں، سوا اس کے کہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا حتی کہ تم (حیض سے ) پاک ہوجاؤ۔
یہ حدیث صحیح البخاری : ۲۹۴ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: حیض کی ابتداء کس طرح ہوئی اور یہاں اس کا عنوان ہے: حائض سوائے طواف کے تمام مناسک حج ادا کرے اور اس حدیث میں ان دونوں باتوں کا ذکر ہے۔