کتاب التیمم باب 7 حدیث نمبر 346
٣٤٦- حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَن الْأَعْمَشِ قَالَ سَمِعْتُ شَقِيْقَ بْنَ سَلَمَةَ قَالَ كُنتُ عِنْدَ عَبْدِاللهِ وَابِى مُوسَى، فَقَالَ لَهُ ابوموسی أَرَأَيْتَ يَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ ، إِذَا اجْنَبَ فَلَمْ يَجِدْ مَاءً كَيْفَ يَصْنَعُ ؟ فَقَالَ عَبْدُاللَّهِ لَا يُصَلَّى حَتَّى يَجدَالْمَاءِ. فَقَالَ ابْوَمُوسَى فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِقَوْلِ عَمَّارٍ حِيْنَ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَكْفِيكَ؟ قَالَ المْ تَرَعْمَرَلَمْ يَقْنَع بِذلِكَ؟ فَقَالَ أَبُو مُوسى فَدَعْنَا مِنْ قَوْلِ عَمَّارٍ كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الْآيَةِ ؟ فَمَا دَرى عبداللهِ مَا يَقُولُ فَقَالَ إِنَّا لَوْ رَخَصْنَا لَهُمْ فِى هذا ِلَا وَشَكَ إِذَا بَرَدَ عَلَى أَحَدِهِمُ الْمَاءُ أَنْ يَّدَعَهُ وَيَتَيَمَّم فَقُلْتُ لِشَقِيقٍ فَإِنَّمَا كَرِهَ عَبْدُاللهِ لِهَذَا؟ قَالَ نَعَمْ .
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عمر بن حفص نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی از الاعمش، انہوں نے کہا: میں نے شقیق بن سلمہ سے سنا انہوں نے کہا: میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، حضرت ابو موسیٰ نے حضرت ابن مسعود سے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! جب ایک آدمی جنبی ہوجائے اور وہ پانی نہ پائے تو وہ کیا کرے؟ حضرت ابن مسعود نے کہا: وہ نماز نہ پڑھے حتی کہ وہ پانی پالے، حضرت ابو موسیٰ نے کہا: پھر آپ حضرت عمار کی اس حدیث کی کیا توجیہ کریں گے جب ان سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے یہ کافی تھا؟ حضرت ابن مسعود نے کہا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ حضرت عمر اس حدیث سے مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ حضرت ابوموسیٰ نے کہا: اچھا! حضرت عمار کی حدیث کو چھوڑیں، یہ بتائیں کہ آپ اس آیت تیمم کا کیا جواب دیں گے؟ پھر حضرت عبداللہ بن مسعود کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیا جواب دیں ۔ تب انہوں نے کہا: بے شک اگر ہم اس صورت میں لوگوں کو تیمم کی اجازت دے دیں تو قریب ہے کہ ان لوگوں میں سے کسی کو پانی ٹھنڈا لگے گا تو وہ پانی کو چھوڑ کر تیمم کرے گا۔ اعمش کہتے ہیں: میں نے شقیق سے کہا: کیا حضرت ابن مسعود صرف اس وجہ سے جنبی کے لیے تیمم کو مکروہ کہتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں!