– بَابُ وُجُوبِ الصَّلوةِ فِي الثيَاب

ِ کپڑے پہن کر نماز پڑھنے کا وجوب

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کپڑے پہن کر نماز پڑھنا واجب ہے اس سے مراد یہ ہے کہ شرم گاہ کو چھپانا واجب ہے واضح رہے کہ مرد کی شرم گاہ ناف سے لے کر گھٹنے تک ہے اور عورت کی شرم گاہ اس کا پورا جسم ہے ماسوا اس کے چہرے اس کے ہاتھ اور اس کے پیروں کے۔

شرم گاہ کو چھپانے کے حکم میں مذاہب فقہاء

امام مالک کے نزدیک نماز میں شرم گاہ کو چھپانا نماز کی صحت کی شرط نہیں ہے بلکہ یہ نماز کی سنت ہے اور ان کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایسے پانی کے پاس رہتے تھے، جو لوگوں کے گزرنے کی جگہ پر تھا ہمارے پاس سے سوار گزرتے تھے، ہم ان سے پوچھتے تھے کہ لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ اور یہ شخص کون ہے؟ وہ کہتے تھے : اس شخص کا یہ زعم ہے کہ اللہ نے اس کو رسول بنایا ہے اور اس کی طرف وحی نازل کی ہے یا اللہ نے اس کی طرف یہ وحی کی ہے پس میں اس کلام کو حفظ کرلیتا تھا اور گویا کہ وہ کلام میرے سینہ میں محفوظ تھا اور لوگ فتح مکہ تک لوگوں کو اسلام لانے پر ملامت کرتے تھے اور کہتے تھے: ابھی اس شخص کو اور اس کی قوم کو چھوڑے رکھو اگر وہ ان پر غالب آگیا تو وہ سچا نبی ہوگا، پھر جب مکہ فتح ہوگیا تو تمام لوگوں نے اسلام لانے میں سبقت کی اور میرے والد نے بھی اپنی قوم کے ساتھ اسلام لانے میں سبقت کی پھر جب میرے والد واپس آئے تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں برحق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے آیا ہوں اور انہوں نے فرمایا ہے: تم فلاں فلاں وقت میں نماز پڑھو، اور تم میں سے ایک شخص اذان دے اور تم میں سے جس شخص کو سب سے زیادہ قرآن یاد ہو وہ نماز پڑھائے، پھر انہوں نے تلاش کیا تو مجھ سے زیادہ کسی کو قرآن یاد نہیں تھا، کیونکہ میں سواروں سے قرآن سنتا رہتا تھا، پس انہوں نے مجھے آگے بڑھا کر امام بنادیا’ اس وقت میری عمر چھ یا سات سال تھی اور میر ا صرف ایک تہ بند تھا جب میں سجدہ کرتا تھا تو وہ سمٹ کر یا سکڑ کر اوپر اٹھ جاتا تھا، تو قبیلہ کی ایک عورت نے کہا: تم اپنے قاری کی مقعد کو ہم سے چھپاتے کیوں نہیں! پھر لوگوں نے میرے لیے قمیص خریدی’ سو مجھے کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس قمیص سے خوشی ہوئی تھی۔ (صحیح البخاری : ۴۳۰۲، سنن ابوداؤد : ۵۸۵ سنن نسائی: ۷۸۸ – 766 – ۶۳۵ مسند احمد ج 5 ص 30 صحیح ابن خزیمہ: ۱۵۱۲ المعجم الکبیر: 6351، المنتقی : ۳۰۹ سنن دار قطنی ج 2 ص ۴۲ المستدرک ج ۳ ص ۷۴ سنن بیہقی ج ۳ ص ۹۱)

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی قرطبی اندلسی متوفی ۵۹۵ ھ لکھتے ہیں:

امام مالک کا ظاہر مذہب یہ ہے کہ شرم گاہ کو چھپانا نماز کی سنتوں میں سے ہے اور امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ شرم گاہ کو چھپانا نماز کے فرائض میں سے ہے اس اختلاف کی وجہ درج ذیل آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے:

يبني ادَمَ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ. الاعراف: ۳۱)

اے اولاد آدم! تم مسجد میں ہر بار حاضر ہونے کے وقت لباس پہن لیا کرو۔

اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ اس آیت میں امر وجوب کے لیے ہے یا استحباب کے لیے ہے پس جو کہتے ہیں: اس آیت میں امر وجوب کے لیے ہے وہ کہتے ہیں کہ نماز میں شرم گاہ کو چھپانا واجب ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ پہلے عورتیں بیت اللہ کا برہنہ طواف کرتی تھیں، تب یہ آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی بیت اللہ کا برہنہ طواف کرے گا اور جن فقہاء نے یہ کہا کہ اس آیت میں لباس پہننے کا حکم استحباب کے لیے ہے وہ کہتے ہیں کہ شرم گاہ کو چھپانا سنت ہے اور لباس سے مراد چادر اور تہبند وغیرہ ہے۔ (بدایۃ المجتهد ج ا ص ۸۳ – 82  مكتب علمية لاہور 1396ھ )

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ۶۲۰ ھ لکھتے ہیں:

مردوں پر واجب ہے کہ وہ ناف سے لے کر گھٹنوں تک اپنے جسم کو چھپائیں اور یہ نماز کی صحت کے لیے شرط ہے امام ابوحنیفہ اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے امام مالک کے نزدیک یہ نماز کی صحت کی شرط نہیں ہے، ہماری دلیل یہ احادیث ہیں:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی بالغہ (لڑکی) کی نماز بغیر دوپٹہ کے قبول نہیں فرماتا۔ (سنن ابوداود : ۶۴۱ سنن ترمذی: ۶۷۷ سنن ابن ماجہ:۶۵۵ مسند احمد ج 6 ص ۱۵۰ )

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! میں گرمیوں میں ہوتا ہوں تو آیا میں صرف ایک قمیص میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! اور کانٹے سے اس (کے گریبان) کو بند کرلو۔

(سنن ابوداؤد: ۶۳۲ ، سنن ترمذی:۳۳۹، سنن بیہقی ج ۲ ص ۳۳۹)

مرد کی شرم گاہ کی حد ناف سے گھٹنے تک ہے، امام احمد نے اس کی تصریح کی ہے، امام مالک امام شافعی امام ابوحنیفہ اور اکثر فقہاء کا یہی قول ہے دوسری روایت یہ ہے کہ صرف ذکر اور دبر شرم گاہ ہیں، امام احمد سے پوچھا گیا: شرم گاہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: فرج اور دبر کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جنگ خیبر کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے کپڑا ہٹایا۔ (صحیح البخاری: 371، صحیح مسلم۱۳۶۵) اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں اپنی ران سے کپڑا ہٹائے ہوئے تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو آنے کی اجازت دی اور آپ اسی حال پر رہے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت طلب کی اور آپ اسی حال پر رہے۔ ( صحیح مسلم، الرقم السلسل :۱۴۲۶، مسند احمد ج ا ص ۷۱)

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ ران شرم گاہ نہیں ہے۔

اور امام احمد نے جرحد سے یہ روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس حال میں دیکھا کہ ان کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: اپنی ران کو چھپاؤ کیونکہ ران شرم گاہ ہے۔

(سنن ابوداؤد: ۴۰۱۴ ، سنن ترمذی: ۲۷۹۸، مسند احمد ج ۳ ص ۴۷۹-۴۷۸، سنن الدارقطنی ج ۱ ص ۲۲۴)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا: اپنی ران کو نہ کھولنا اور کسی زندہ یا مردہ کی ران کو نہ دیکھنا۔

( سنن ابوداؤد : ۴۰۱۵ سنن ابن ماجہ : 1460، سنن الدارقطنی ج ا ص ۲۲۵ دار قطنی کی سند ضعیف ہے)

اس حدیث میں صریح دلالت ہے کہ مرد کی ران بھی شرم گاہ ہے اور اس کو چھپانا واجب ہے۔

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ناف کے نیچے اور گھٹنوں کے اوپر کا حصہ شرم گاہ ہے۔ (مسند احمد ج ۲ ص ۱۸۷) (المغنی ج ۲ ص ۱۳۲ ملخصاً دارالحدیث، قاہرہ ۱۴۲۵ھ )

نیز علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں:

اگر آزاد عورت کا چہرے کے سوا کوئی عضو کھلا ہوا ہو تو وہ نماز دہرائے گی اس پر اتفاق ہے کہ عورت کے لیے نماز میں اپنے چہرہ کو کھولنا جائز ہے اور چہرے اور ہتھیلیوں کے سوا اور کسی عضو کو کھولنا جائز نہیں ہے اور اس پر اہل علم کا اجماع ہے کہ عورت نماز میں اپنے پورے سر کو ڈھانپے گی  امام ابوحنیفہ نے کہا ہے کہ عورت کے دونوں قدم عورت نہیں ہیں، کیونکہ وہ بالعموم ظاہر ہوتے ہیں اور ہمارے بعض اصحاب نے کہا ہے کہ عورت مجسم واجب الستر ہے کیونکہ حدیث میں ہے:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت ( مجسم ) شرم گاہ ہے،  جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاڑتا ہے۔ (سنن ترمذی : ۱۱۷۳)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ان کے اوپر باریک کپڑے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اعراض فرمایا اور فرمایا: اے اسماء ! جب عورت بالغہ ہوجاتی ہے تو اس کا صرف یہ اور یہ دکھائی دینا جائز ہے اور آپ نے چہرے اور ہتھیلیوں کی طرف اشارہ کیا۔ (سنن ابوداؤد : ۴۱۰۴)

نماز میں عورت کے پیروں کو ڈھانپنے کے متعلق یہ حدیث بھی ہے:

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا عورت قمیص اور دوپٹے کے ساتھ نماز پڑھ سکتی ہے اس کے اوپر تہبند نہ ہو؟ آپ نے فرمایا: جب کہ اس کی قمیص اتنی لمبی ہو جو اس کے پیروں کی پشت کو چھپالے۔

اور نماز میں عورت کے سرڈھانپنے کے متعلق یہ حدیث ہے:

سنن ابوداؤد:۶۴۰ – 639 )

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ بالغہ عورت کی نماز بغیر دوپٹے کے قبول نہیں فرماتا۔

( سنن ابوداؤد : ۶۴۱ سفن ترمذی: 377 سنن ابن ماجه : 655 )

اور ہتھیلیوں کے متعلق دو روایتیں ہیں ایک یہ ہے کہ ان کا ستر واجب نہیں ہے کیونکہ چیز لینے دینے کے لیے ہاتھوں کو کھولنے کی ضرورت پڑتی ہے اور دوسری روایت ہے کہ ان کا ستر واجب ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت مجسم واجب الستر ہے۔

(المغنی ج ۲ ص۱۵۶ – ۱۵۵ دارالحدیث قاہرہ 1425ھ )

میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کے عموم سے چہرہ اور ہتھیلیاں خارج ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان دونوں کا استثناء فرمایا ہے جیسا کہ سنن ابوداؤد : ۴۱۰۴ میں تصریح ہے۔

امام بخاری فرماتے ہیں:

وَقولُ اللهِ تَعَالَى (خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مسجد) (الاعراف: ۳۱) فَنَزَلَتْ (خُذُوا زِينَتَكُمْ)

اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تم مسجد میں ہر بار حاضر ہونے کے وقت لباس پہن لیا کرو ۔ (الاعراف:۳۱)

اس آیت میں” زینت” کا لفظ ہے اس سے مراد وہ لباس ہے جو شرم گاہ کو چھپائے اور اس آیت میں مسجد سے مراد نماز ہے یعنی نماز پڑھتے وقت اتنا لباس پہننا ضروری ہے، جس سے تمہاری شرم گاہ چھپ جائے ۔ اس کے بعد امام بخاری فرماتے ہیں:

وَيُذْكَرُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزُرهُ وَلَوْ بَشَوَكَةٍ فِى إِسْنَادِہ نظر۔

اور حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے ذکر کیا جاتا ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور کانٹے سے اس کو بند کرلو۔ اس کی سند پر اعتراض ہے۔

اس تعلیق کی اصل سن ابوداؤد: ۶۳۲ میں ہے، ہم اس حدیث کو مفصل حوالہ جات کے ساتھ” شرم گاہ کو چھپانے کے حکم میں مذاہب فقہاء” کے تحت بیان کرچکے ہیں ۔

امام بخاری نے کہا ہے کہ اس کی سند پر اعتراض ہے اعتراض کی تقریر یہ ہے کہ اس کی سند میں موسیٰ بن ابراہیم ہے۔ ابن القطان نے کہا: وہ موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن الحارث التیمی ہے اور وہ منکر الحدیث ہے اور چونکہ اس کی سند پر اعتراض ہے اس لیے امام بخاری نے اس تعلیق کا صیغہ تمریض کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں۔ لیکن امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں موسیٰ بن ابراہیم سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت سلمہ سے سنا ہے کہ میں نے صرف ایک قمیص پہنی ہوئی تھی یا صرف ایک جبہ پہنا ہوا تھا تو میں نے پوچھا: میں اس کو بند کرلوں، تو آپ نے فرمایا: ہاں ! خواہ ایک کانٹے سے، اس کو امام ابن حبان نے بھی اپنی سند کے ساتھ موسیٰ بن ابراہیم سے روایت کیا ہے حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! میں شکار میں ہوتا ہوں اور میں نے صرف ایک قمیص پہنی ہوئی ہوتی ہے آپ نے فرمایا: اس کو بند کرلو، خواہ ایک کانٹے سے۔ اس کو امام حاکم نے بھی اپنی مستدرک میں روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث مدنی صحیح ہے ان احادیث سے ظاہر ہوگیا کہ ان احادیث کی سندوں میں جس موسیٰ کا ذکر ہے یہ وہ نہیں ہے جس کو ابن القطان نے گمان کیا ہے اور اس میں ضعف بھی ہے۔ جس راوی میں ضعف ہے وہ موسیٰ بن ابراہیم التیمی ہے اور جس راوی کی حدیث صحیح ہے وہ  موسیٰ بن ابراہیم المخزومی ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۸۲-۸۱ دار الکتب العلمیہ بیروت (1422ھ ) .

اس کے بعد امام بخاری نے یہ تعلیق ذکر کی ہے:

وَمَنْ صَلَّى فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ مَالَمْ يَرَفِيهِ أَذًى.

اور جس شخص نے اس کپڑے میں نماز پڑھی، جس میں اس نے جماع کیا تھا۔

اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:

حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بہن حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا زوجہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے کپڑے میں نماز پڑھتے تھے، جس میں آپ جماع کرتے تھے انہوں نے کہا: ہاں ! جب آپ اس میں نجاست نہیں دیکھتے تھے۔ (سنن ابوداؤد : 366،  سنن نسائی: ۲۹۳ سنن ابن ماجه:۵۴۰)

اس کے بعد امام بخاری نے درج ذیل تعلیق ذکر کی ہے:

وَامْرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَّا يَطُوف بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ کوئی شخص بیت اللہ کا برہنہ طواف نہیں کرے گا۔

اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس حج میں یوم نحر کو منی میں اعلان کرنے والوں میں بھیجا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی بیت اللہ میں برہنہ طواف کرے گا ۔ ( صحیح البخاری : ۳۶۹)

٣٥١ – حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُم عَطِيَّةٌ قَالَتْ أمِرْنَا أَنْ تُخْرِجَ الْحُيَّضَ يَوْمَ الْعِيدَيْن،ِ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ فَيَشْهَدْنَ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَدَعْوَتَهُمْ وَيَعْتَزِلُ الْحُیضُ عَنْ مُصَلاهُنَّ ، قَالَتِ امراه یارَسُولَ اللَّهِ إِحْدَانَا لَيْسَ لَهَا جِلْبَاب ؟ قَالَ لتلبسھا صاحِبَتِهَا مِنْ جِلْبَابِهَا. وَقَالَ عَبْدُاللهِ بن رَجَاءٍ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ حَدَّثَنَا ام عَطِيَّةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهذا.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یزید بن ابراہیم نے حدیث بیان کی از محمد از حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ہم حیض والی عورتوں کو اور پردہ دار عورتوں کو عیدین کے دن گھروں سے نکالیں، پس وہ مسلمانوں کی جماعت میں اور ان کی دعا میں حاضر ہوں اور حیض والی عورتیں ان کی نماز کی جگہوں سے الگ بیٹھیں، ایک عورت نے کہا: یارسول اللہ ! ہم میں سے کسی کے پاس چادر نہ ہو تو ؟ آپ نے فرمایا: وہ اپنی سہیلی کی چادر پہن لے اور عبداللہ بن رجاء نے کہا: ہمیں عمران نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن سیرین نے حدیث بیان کی انہوں نےبکہا: ہمیں حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ میں نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح سنا ہے۔

اس حدیث کی مفصل شرح صحیح البخاری: ۳۲۴ میں گزر چکی ہے،  وہاں اس حدیث کو اس باب کے تحت ذکر کیا تھا۔ ” حائض کا عیدین میں اور مسلمانوں کی دعا میں حاضر ہونا اور نماز کی جگہ سے الگ بیٹھنا اور یہاں اس حدیث کو اس باب کے تحت ذکر کیا ہے: نماز میں کپڑے پہننے کا وجوب اور اس حدیث میں حائض کے عیدین میں جانے کا بھی ذکر ہے اور یہ بھی ذکر ہے کہ اگر اس کے پاس چادر نہ ہوتو وہ اپنی سہیلی سے چادر لے کرجائے اس طرح یہ حدیث دونوں بابوں کے موافق ہے۔