٣٦٢ – حدثنا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُوحَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ قَالَ كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّوْنَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،عَاقِدِى أَزْرِهِمْ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ ، كَهَيْئَةِ الصّبْيَانِ وَقَالَ للنساء، لَا تَرْفَعْنَ رُؤُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوَى الرِّجَالُ جُلُوسًا [ اطراف الحديث : 814 -۱۲۱۵]

صحیح مسلم: 441، الرقم المسلسل : 970، سنن ابوداؤد:۰630 سنن نسائی:۷۶۶ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۵۴ ۵۳ السنن الكبرى للنسائی: 842،صحیح ابن خزیمہ : ۷۶۳، صحیح ابن حبان : 2301، المعجم الکبیر: 5964، سنن بیہقی ج ۲ ص 241، مسند ابویعلی : ۷۵۴۲-7541،  مسند احمد ج ۳ ص ۴۳۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۵۵۶۲ – ج ۲۴ ص ۳۳۴ مؤسسة الرسالة بیروت)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از سفیان انہوں نے کہا: مجھے ابوحازم نے حدیث بیان کی از حضرت سہل رضی اللہ عنہ انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مرد اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ ان کا تہبند بچوں کی طرح ان کی گردنوں پر بندھا ہوتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: تم اپنے سروں کو سجدہ سے اس وقت تک نہ اٹھاؤ حتی کہ مرد سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں۔

حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب چادر اتنی بڑی ہو کہ اس کو اپنے کندھوں پر لپیٹا جاسکتا ہو تو وہ اس کا تہبند باندھنے سے افضل ہے اس حدیث میں عورتوں کو منع فرمایا ہے کہ وہ مردوں کے سیدھا بیٹھنے سے پہلے سجدہ سے سر نہ اٹھائیں، مبادا ان کی نظر مردوں کے ستر پر پڑجائے ” مسند احمد” اور ”سنن ابوداؤد” میں حضرت اسماء بنت ابی بکر سے صراحتہ یہ حدیث مروی ہے کہ عورت اپنے سر کو نہ اٹھائے، حتی کہ مرد اپنے سروں کو اٹھالیں، اس کو ناپسند کرتے ہوئے کہ عورتوں کی نظر مردوں کی شرم گاہ پر پڑجائے۔

(فتح الباری ج ۲ ص ۳۹ دار المعرفة بیروت 1426ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے جس حدیث کو نقل کیا ہے اس کا مکمل متن اس طرح ہے:

حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے جو عورتیں اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہیں وہ ( سجدے سے ) اپنے سروں کو نہ اٹھائیں حتی کہ ہم اپنے سروں کو نہ اٹھالیں، اس کو ناپسند کرتے ہوئے کہ مردوں کے تہبند چھوٹے ہونے کی وجہ سے عورتوں کی نظر مردوں کی شرم گاہ پر پڑجائے، اس زمانہ میں مرد چھوٹے تہبند باندھا کرتے تھے۔ (سنن ابوداؤ : ۸۵۱ مصنف عبد الرزاق : ۵۱۰۹ المعجم الکبیر: 260 – ج ۲۴ سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۴۱ مسند الحمیدی : 327،  تاریخ بغداد 9 ص ۲۱۷ مسند احمد ج ۶ ص ۳۴۸ طبع قدیم مسند احمد : ۲۶۹۴۷ – ج ۴۴ ص ۵۱۱ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث کے شواہد حسب ذیل ہیں،  یعنی یہ حدیث درج ذیل صحابہ سے بھی مروی ہے:

(۱) حضرت ابو سعید خدری رضی الله  عنہ، مسند احمد : ۱۰۹۹۴ مؤسسة الرسالة بیروت

(۲) حضرت جابر بن عبد الله رضی اللہ عنہما مسند احمد : ۱۴۱۲۳ مؤسسة الرسالة بیروت

(۳) حضرت سہل بن سعد رضی الله  عنہ، مسند احمد : ۱۵۵۶۲ مؤسسة الرسالة بیروت

واضح رہے کہ حافظ ابن حجر نے اس حدیث کو اختصار اور روایت بالمعنی کے اعتبار سے نقل کیا ہے۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم:۸۹۰ – ج 1  پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی ۔