۱۲ – بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي الْفَخِذِ

ران کے متعلق جو احادیث ذکر کی جاتی ہیں

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آیا ران شرم گاہ ہے یا نہیں؟ اور اس باب کی ابواب سابقہ سے یہ مناسبت ہے کہ سابقہ ابواب میں نماز میں کندھوں پر کپڑا باندھنے کا ذکر تھا اور اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آیا ان کو کپڑے سے ڈھانپنا چاہیے یا نہیں ۔ اس کے بعد امام بخاری نے یتعلیق ذکر کی ہے:

قال أَبُو عَبْدِاللَّهِ وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاس وَجَرْهَدٍ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ جَحْشٍ ، عَنِ النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَخِذُ عَوْرَةٌ.

امام ابو عبد للہ نے کہا از حضرت ابن عباس و حضرت جرهد و حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم از نبی صلی اللہ علیہ وسلم روایت کی گئی ہے کہ ران شرم گاہ ہے۔

تعلیقات مذکورہ ذیل سے امام بخاری کا یہ ثابت کرنا کہ ران شرم گاہ ہے

اس تعلیق کی اصل یہ احادیث ہیں:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ران شرم گاہ ہے۔ (سنن ترمذی: 2796،  مسند احمد ج ا ص ۲۷۵)

حضرت جرھد بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں جرھد کے پاس سے گزرے، اس وقت حضرت جرھد کی ران کھلی ہوئی تھی تو آپ نے فرمایا: ران شرم گاہ ہے۔ (سنن ترمذی: ۲۷۹۵ مسند احمد ج ۳ ص ۴۷۸)

عبد اللہ بن جرھد اسلمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ران شرم گاہ ہے۔ (سنن ترمذی: ۲۷۹۷)

امام ترمذی نے کہا: اس باب میں عبد اللہ بن جحش سے بھی روایت کی گئی ہے (وہ حسب ذیل ہے:)

حضرت محمد بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ کا معمر پر گزر ہوا،  اس وقت ان کی رانیں کھلی ہوئی تھیں تو آپ نے فرمایا: اسے معمر ! اپنی رانوں کو ڈھکو کیونکہ ران شرم گاہ ہے۔

المعجم الكبير : ۵۵۵ – 554 – ۵۵۳ – ۵۵۲ – ۵۵۱ – ج ۱۹ ص ۲۴۶ داراحیاء التراث العربی بیروت)

تعلیقات مذکورہ ذیل سے یہ ثابت کرنا کہ ران شرم گاہ نہیں ہے

وَقَالَ أَنَسٌ حَسَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم عَنْ فَخِذِه .

اور امام بخاری نے کہا: حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ران سے کپڑا ہٹایا۔

اس تعلیق کو خود امام بخاری حدیث : ۳۷۱ میں سند موصول سے روایت کررہے ہیں۔

وَحَدِيثُ أَنَسٍ أَسْنَدُ، وَحَدِيثُ جَرْهَدٍ أَحْوَطُ حَتَّى نَخْرُجَ مِنِ اخْتِلافِهِمْ .

 حضرت انس کی حدیث کی سند زیادہ قوی ہے اور حضرت جرھد کی حدیث میں احتیاط ہے، حتی کہ ہم ان کے اختلاف سے نکل جائیں۔

امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ ران کے شرم گاہ ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے اور احتیاط اس میں ہے کہ ران کو شرم گاہ قرار دیا جائے۔

وَقَالَ أَبُو مُوسَى عَطى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُكْبَتَيْهِ حِيْنَ دَخَلَ عُثْمَانُ.

اور حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب حضرت عثمان داخل ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھٹنوں کو ڈھانپ لیا۔

اس تعلیق کی اصل یہ حدیث ہے:

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہس بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرے میں لیٹے ہوئے تھے آپ نے اپنی رانوں یا پنڈلیوں کو کھولا ہوا تھا، پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو آپ نے ان کو اجازت دے دی اور آپ اس حالت میں تھے پس ان سے باتیں کرتے رہے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی آپ نے ان کو اجازت دے دی اور آپ اسی حالت میں تھے پس ان سے باتیں کرتے رہے پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کرلیے پھر حضرت عثمان داخل ہوئے، پس آپ نے ان سے باتیں کیں جب وہ چلے گئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: حضرت ابوبکر آئے تو آپ نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی، پھر حضرت عمر آئے تو آپ نے ان کی کوئی پرواہ نہیں کی اور کوئی اہتمام نہیں کیا، پھر جب حضرت عثمان آئے تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ نے اپنے کپڑے درست کرلیے؟ آپ نے فرمایا: میں اس شخص سے حیاء کیوں نہ کروں جس سے فرشتے (بھی) حیاء کرتے ہیں۔ ( صحیح مسلم:۲۴۰۱ الرقم المسلسل : 6092)

حضرت ابو موسیٰ کی حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھٹنوں کو کھولا ہوا تھا اور حضرت عثمان کے آنے پر گھٹنوں کو ڈھانپ لیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے: آپ نے رانوں کو کھولا ہوا تھا اور حضرت عثمان کے آنے پر ان کو ڈھانپ لیا ان تعلیقوں سے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ رانوں کے شرم گاہ ہونے یا نہ ہونے میں احادیث مختلف ہیں اور حضرت جرحد رضی اللہ عنہ کی  حدیث پر عمل کرنے میں احتیاط ہے۔

جب ران شرم گاہ نہیں ہے تو پھر حضرت جرحد کی حدیث میں اس کو شرم گاہ کہنے کی توجیہ

علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

مہلب نے کہا ہے کہ امام بخاری نے اس حدیث سے اس پر استدلال کیا ہے کہ ران شرم گاہ نہیں ہے، ورنہ حضرت ابوبکر اور عمر کے آنے پر ران کو کھلا نہ رکھتے اس سے معلوم ہوا کہ ران کا شرم گاہ ہونا اس قدر قوی نہیں ہے جتنا کسی چیز کے شرم گاہ ہونے کے لیے قوی الثبوت ہونا چاہیے، اس کے باوجود ران کو ڈھانپنے کا حکم دیا جاتا ہے۔

علامہ ابن بطال فرماتے ہیں : ران کو ڈھانپنے کا اس لیے حکم دیا جاتا ہے کہ ران کا کھلا ہونا کہیں اصل شرم گاہ کے کھلے ہونے کا ذریعہ نہ بن جائے، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ران شرم گاہ ہے چونکہ ران شرم گاہ کے قریب اور اس کے جوار میں ہے اس لیے اس کو بھی شرم گاہ فرمایا اس لیے اس پر اجماع ہے کہ جس نے اس طرح نماز پڑھی کہ اس کا آلہ اور اس کی مقعد کھلی ہوئی تھی تو اس پر اس نماز کا اعادہ واجب ہے اور جس نے اس حال میں نماز پڑھی کہ اس کی ران کھلی ہوئی تھی تو اس نماز کا اعادہ کرنے میں اختلاف ہے۔

اگر یہ سوال کیا جائے کہ جب ران کا شرم گاہ ہونا قطعی اور حتمی نہیں ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان کے آنے پر اپنی رانوں کو کیوں ڈھانپ لیا؟ اس کا جواب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دیا ہے کہ میں اس سے حیاء کیوں نہ کروں جس سے آسمان کے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنےاصحاب میں سے ہر ایک کی خصوصی فضیلت بیان فرماتے تھے، اگرچہ نفس حیاء تمام اصحاب میں تھی،

لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میں حیاء کا عنصر بہت غالب تھا۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۳۶-۳۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )

حضرت ابوموسیٰ کی تعلیق میں گھٹنے کا ذکر ہے، گھٹنا شرم گاہ نہیں ہے اور حضرت عثمان کے آنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھٹنے کو ڈھانپنا بہ طور استحباب تھا اور ان کے ادب اور احترام کی وجہ سے تھا۔ اس کے بعد امام بخاری نے اس باب کی آخری تعلیق ذکر کی :

وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَخِذُهُ عَلَى فَخِذِى ، فقلت عَلَيَّ، حَتَّى خِفْتُ أَنْ تَرْضَ فَخِذِي.

اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا اور آپ کی ران میری ران کے اوپر تھی وہ مجھ پر اتنی وزنی اور بھاری ہوگئی کہ مجھے خطرہ تھا کہ میری ران ٹوٹ جائے گی۔

امام بخاری نے اس تعلیق کو النساء:۹۵ کی تفسیر میں موصولاً روایت کیا ہے۔

صحیح البخاری:۴۵۹۲ سنن ترمذی: ۳۰۳۳، سنن نسائی: ۳۰۹۷ مسند احمد ج ۵ ص ۱۸۴)

تعلیق مذکور کو امام بخاری کا بے مقصد وارد کرنا

یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ ران شرم گاہ ہے اور نہ اس پر دلالت کرتی ہے کہ ران شرم گاہ نہیں ہے اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور حضرت زید بن ثابت دونوں کی رانوں پر کپڑا نہ ہوتا اور دونوں کی رانیں برہنہ ہوتیں اور آپ کی ران حضرت زید بن ثابت کی ران پر ہوتی، پھر اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا کہ ران شرم گاہ نہیں ہے لیکن اس حدیث میں اس طرح مذکور نہیں ہے پھر امام بخاری نے اس تعلیق کو کس مقصد سے ذکر کیا ہے یہ واضح نہیں ہے۔

علامہ اسماعیلی کا امام بخاری پر اعتراض اور حافظ ابن حجر کا جواب

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی ۸۵۲ھ اس تعلیق کی شرح میں لکھتے ہیں:

علامہ اسماعیلی نے اس تعلیق پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس حدیث سے امام بخاری نے اس پر استدلال کیا ہے کہ ران شرم گاہ نہیں ہے اور یہ اس وقت ثابت ہوتا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران اور حضرت زید بن ثابت کی ران کے درمیان کپڑا حائل نہ ہوتا اور اس حدیث میں اس طرح مذکور نہیں ہے بلکہ معروف یہ ہے کہ دونوں کی رانوں پر کپڑا تھا۔

حافظ ابن حجر عسقلانی اس اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں: ظاہر یہ ہے کہ امام بخاری نے اصل سے استدلال کیا ہے۔

فتح الباری ج ۲ ص 44 دار المعرفة بیروت 1426ھ)

حافظ ابن حجر کے جواب پر مصنف کا تبصرہ

میں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر کا یہ جواب بالکل درست نہیں ہے حافظ ابن حجر نے جو یہ کہا ہے کہ امام بخاری نے اصل سے استدلال کیا ہے کیا اس سے ان کی یہ مراد ہے کہ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ دونوں کی رانیں برہنہ تھیں،  العیاذ باللہ تب ہی یہ ثابت ہوگا کہ ران شرم گاہ نہیں ہے اور یہ معنی بداھتہ باطل ہے اور اگر اصل سے یہ مراد ہے کہ دونوں کی رانوں پر کپڑا تھا تو اس سے امام بخاری کا مقصود ثابت نہیں ہوتا کہ ران شرم گاہ نہیں ہے اور علامہ اسماعیلی کا اعتراض لوٹ آتا ہے سو حافظ ابن حجر کا امام بخاری کی طرف سے جواب نہ بن سکا۔

۳۷۱- حدثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا اسْمَاعِيلُ بْنُ عُليَّةً قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُالْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وسلم غزاخَيْبَر، فَصَلَّيْنَا عِنْدَهَا صَلوةَ الْغَدَاةِ بِغلسٍ، فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ورکب ابو طَلْحَةَ ، وَأَنَا رَدِيفٌ أَبِي طَلْحَةَ ، فَاجْرای نبی اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي زُفَاقِ خَيْبَرَ، وَإِنَّ رکبتی لَتَمَسُّ فَخِذَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثم حسر الْإِزَارَ عَنْ فَخِذِهِ ، حَتى انى انظُرُ إلى بَيَاضِ فَخِذِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا دَخَلَ الْقَرْيَةَ قَالَ اللهُ اكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةٍ قَوْمٍ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنذرِينَ قَالَهَا ثَلَاثا، قَالَ وَخَرَجَ الْقَوْمُ إِلَى أَعْمَالِهِمْ، فَقَالُوا مُحَمَّدٌ. قَالَ عَبْدُالْعَزِيزِ وَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابنا وَالْخَمِيسُ يَعْنِي الْجَيشَ قَالَ فَأَصَبْنَاهَا عَنْوَةً فَجُمِعَ السَّبْيُّ، فَجَاءَ دِحْيَةٌ ، فَقَالَ يَانَبِی الله أَعْطِنِي جَارِيَةً مِّنَ السَّبِي، قَالَ إِذْهَبْ فَخُذْ جَارِيَةٌ.فَأَخَذَ صَفِيَّةً بِنْتَ حُيَی فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَانَبِيَّ اللَّهِ أَعْطَيْتَ دِحْيَةً صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَى سَيِّدَةَ قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ؟ لَا تَصْلِحُ الالک، قال ادعوہ بھا، فجاء بھا فلما نظر الیھا النبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خُذْ جَارِيَّةٌ مِّنَ النبي غَيْرَهَا. قَالَ فَاعْتَقَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَزَوَّجَهَا. فَقَالَ لَهُ ثَابِتُ يَا أَبَاحَمْزَةَ مَا أَصْدَقَهَا؟ قَالَ نَفْسَهَا، اَعْتَقَهَا وَتَزَوَّجَهَا، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالطَّرِيقِ جَهَزَتْهَا لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ فَاهْدَتْهَا لَهُ مِن اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا فَقَالَ مَنْ كَانَ عِندَهُ شَيْءٍ فَلْيَجِيءُ بِهِ وَبَسَطَ نِطْعًا فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالتَّمْرِ، وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِالسمْنِ قَالَ وَأَحْسَبُهُ قَدْ ذَكَرَ السَّوِيقَ قَالَ فَحَاسُوا حيْسًا فَكَانَتْ وَلِيْمَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّم۔

اطراف الحدیث : ۶۱۰ – ۷ ۹۴ – ۲۲۳۵ – 2248 – ۲۸۸۹ – ۲۸۹۳ – ۲۹۴۳ – ۲۹۴۴ – 2945 – ۲۹۹۱-3085-3086، 3367،۔ 3647، 4083، 4084، 419-4198، 4200، 4201، 4211، 4212، 5159، 5169، 5387، 5425، 6363، 6329- ( صحیح مسلم : 1802،الرقم المسلسل : 4584،  سنن نسائی 3380، سنن ابوداؤد : ۲۹۹۸ السنن الکبری النسائی: 6599،  صحیح ابن خزیمہ : 351 مسند ابوداؤد الطیالسی ۷ ۲۱۲ صحیح ابن حبان : ۶۵۲۱ مسند احمد ج ۳ ص ۱۰۲ طبع قدیم،  مسند احمد : ۱۱۹۹۲ – ج 19  ص 50 مؤسسة الرسالہ بیروت، جامع لابن الجوزی : 443، المکتبہ الرشد ریاض 1426ھ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن علیہ نےحدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن صہیب نےحدیث بیان کی از حضرت انس رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں جہاد کیا، ہم نے خیبر کے پاس منہ اندھیرے صبح کی نماز پڑھی پس نبی  صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور حضرت ابوطلحہ سوار ہوئے اور میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی گلیوں میں گھوڑے کو دوڑایا، اور بے شک میرا گھٹنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کو چھورہا تھا’ پھر آپ نے اپنی ران سے تہبند ہٹایا حتی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی کو دیکھ رہا تھا، پس جب آپ بستی میں داخل ہوئے تو آپ نے فرمایا: اللہ اکبر خیبر ویران ہوگیا، بے شک ہم جن لوگوں کی بستی میں پہنچتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح کیسی بُری ہوتی ہے جن کو ڈرایا گیا ہے، آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ فرمائے، خیبر کے لوگ اپنے کام کے لیے نکلے تو انہوں نے کہا۔ محمد (راوی) عبدالعزیز نے بیان کیا اور ہمارے بعض اصحاب نےکہا اور خمیس یعنی الشکر، پھر ہم نے جنگ سے خیبر کو فتح کرلیا’ پھر قیدیوں کو جمع کیا گیا۔ پس حضرت دحیہ آئے اور کہا: یا رسول اللہ ! مجھے قیدیوں میں سے ایک باندی دے دیں آپ نے فرمایا: جاؤ! ایک باندی لے اؤ انہوں نے صفیہ بنت حیی کو لے لیا ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہا: یانبی اللہ ! آپ نے حضرت دحیہ کو صفیہ بنت حیی عطا کر دی، جو بنو قریظہ اور بونضیر کی سردار ہے وہ صرف آپ کے لائق ہے آپ نے فرمایا: دحیہ کو اس کے ساتھ لاو حضرت دحیہ اس کے ساتھ آئے، پس جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا تو آپ نے فرمایا: تم اس کے سوا قیدیوں میں سے کوئی اور باندی لے لو، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو آزاد کرکے ان کے سے نکاح کرلیا حضرت انس تے ثابت نے کہا: اے ابوحمزہ  حضرت صفیہ کا مہر کیا تھا؟ انہوں نے کہا: وہ خود تھیں آپ نے ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیا (ان کے آزاد کرنے کو ان کا مہر قرار دیا ) حتی کہ جب آپ راستے میں تھے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ان کو تیار کیا ( دلہن بنایا)، پھر رات کو انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ طور دولہا کے صبح کی،  پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس ( کھانے کی ) کوئی چیز ہے وہ لے کر آئے اور چمڑے کا دستر خوان بچھادیا، پھر کوئی شخص کھجوریں لے کر آیا اور کوئی منٹس گھی لے کر آیا اور میرا گمان ہے ستو کا ذکر کیا،پھر انہوں نے حیس (ایک قسم کا حلوہ) بنالیا اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا۔

حدیث مذکور کے چار رجال ہیں:

(۱) یعقوب بن ابراہیم الدورقی

(۲) اسماعیل بن علیه

(۳) عبدالعزيز بن صہيب البناني البصری الاعمی

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ  –

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: پھر آپ نے اپنی ران سے تہبند ہٹایا، حتیٰ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کی سفیدی دیکھی ۔

خیبر کا معنی اور اس کا محل وقوع

اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں جہاد کیا، یعنی آپ نے اس شہر میں جہاد کیا جس کا نام خیبر ہے یہود کی لغت میں خیبر کا معنی ہے: قلعہ، سب سے پہلے بنی اسرائیل کا جو شخص اس قلعہ میں رہا تھا اس کا نام خیبر تھا اسی کے نام پر اس قلعہ کا نام خیبر رکھ دیا گیا، یہ شہر مدینہ منورہ سے شمال مشرق میں چھ مرحلہ کی مسافت پر ہے یہاں پر کھجور کے باغات بہ کثرت ہیں، اسلام کی ابتداء میں یہاں بنو قریظہ اور بنو نضیر رہتے تھے امام ابن سعد نے کہا: غزوہ خیبر جمادی الاولیٰ 7 ھ میں ہوا تھا، امام ابن اسحاق نے کہا: رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ سے لوٹنے کے بعد ذوالجہ محرم اور باقی عرصہ مدینہ میں رہے پھر خیبر کے لیے روانہ ہوئے اور ۶ ھ میں ایک ماہ اور چند ایام باقی رہتے تھے۔ مشہور قول امام ابن سعد کا ہے۔

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ

اس حدیث میں حضرت ابو طلحہ کے سوار ہونے کا ذکر ہے حضرت ابو طلحہ کا نام زید بن سہل انصاری ہے یہ عقبہ میں اور تمام مشاہد میں حاضر رہے ہیں، یہ نقباء میں سے ایک ہیں ان سے ۹۲ احادیث مروی ہیں امام بخاری نے ان کی تین حدیثوں کو روایت کیا ہے یہ مدینہ میں یا شام میں ۳۲ھ یا ۳۴ھ میں فوت ہوگئے تھے حضرت انس رضی اللہ عنہ ان کے لے پالک تھے۔

آیا آپ نے اپنی ران سے تہبند قصدا ہٹایا تھا یا سہواً ؟

اس حدیث میں مذکور ہے کہ پھر آپ نے اپنی ران سے تہبند ہٹایا حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس جملہ کی شرح میں لکھا ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قصدا اپنا تہبند ران سے نہیں ہٹایا تھا، جس سے یہ استدلال ہو کہ ران شرم گاہ نہیں ہے کیونکہ اگر ران شرم گاہ ہوتی تو آپ اس کی برہنگی پر برقرار نہ رہتے، کیونکہ آپ اس سے معصوم ہیں، اگر یہ فرض کیا جائے کہ ران شرم گاہ نہیں ہے، پھر بھی مختار اس کو ڈھانپنا ہے اور یہ ہوسکتا ہے کہ آپ نے بیان جواز کے لیے غیر مختار پر عمل کیا ہو لیکن اس پر یہ اعتراض ہے کہ پھر آپ پر لازم تھا کہ آپ بیان کردیتے کہ یہ سہوا ہوا ہے، جیسے جب آپ سے نماز میں سہو ہوا تو آپ نے بعد میں بیان فرمادیا کہ میں نماز میں بھول گیا تھا اور حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ اس کیفیت پر برقرار رہے تھے، کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کی ران کی سفیدی دیکھ رہا تھا۔ (فتح الباری ج ۲ ص 46، دار المعرفة بیروت 1426ھ)

علامہ بدرالدین عینی نے اس کی شرح میں لکھا ہے: جب حضرت انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کھلی ہوئی دیکھی تو انہوں نے یہ گمان کیا کہ آپ نے ران خود کھولی ہے، اس لیے انہوں نے کہا: آپ نے ران سے کپڑا ہٹایا حالانکہ واقع میں اس طرح نہیں تھا رش کی وجہ سے یا گھوڑا دوڑانے کی وجہ سے آپ کی ران سے کپڑا ہٹ گیا تھا، اور آپ کے حال کریم کے یہی مناسب ہے کہ آپ نے قصدا ران سے کپڑا نہیں ہٹایا تھا جب کہ آپ فرماچکے ہیں کہ ران شرم گاہ ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص 125)

درج ذیل جملہ آیا آپ کی دعا تھی یا نیک شگون؟

اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا: بے شک ہم جن لوگوں کی بستی میں پہنچتے ہیں تو ان لوگوں کی صبح کیسی خراب ہوتی ہے، جن کو ڈرایا گیا ہے۔

یہ یہودیوں کے خلاف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دعائیہ جملہ ہے یا آپ نے نیک شگون کے طور پر ایسا فرمایا یا آپ نے یہودیوں کی شکست کی پیشگی خبر دی ہے۔

اس اعتراض کا جواب کہ آپ نے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے حضرت دحیہ کو باندی کیسے عطا کی؟

اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: جاؤ! کوئی باندی لے لو۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ مالِ غنیمت کی تقسیم سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت دحیہ کو باندی عطا کرنا کیسے جائز ہوگیا۔

اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں:

(1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کو اس لیے اجازت دی تھی کہ بعد میں آپ کے حصہ کا جو خمس ہوگا اس میں سے اس باندی کومحسوب کرلیا جائے گا۔

(۲) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کو حضرت صفیہ کے بدلے میں سات نفوس عطا کیے تھے اور انہوں نے خوشی سے حضرت صفیہ کو واپس کیا تھا، اس لیے اس میں کراہت کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

(۳) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے حضرت دحیہ کو اس لیے اجازت دی ہو کہ بعد میں اس باندی کی قیمت لگاکر اس قیمت کو حضرت دحیہ کے حصہ سے وضع کرلیا جائے۔

(۴) اگرچہ بہ ظاہر تقسیم سے پہلے اس مال غنیمت میں تمام مسلمانوں کا حق تھا، لیکن حقیقت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام مسلمانوں کی جانوں اور مالوں پر خود ان مسلمانوں سے زیادہ تصرف کرنے کے مالک ہیں، قرآن مجید میں ہے:

النَّبِي أولى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ . (الاحزاب:6)

نبی مؤمنین کی جانوں پر تصرف کرنے کے زیادہ مستحق ہیں۔

حضرت صفیہ بنت حیي ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا تذکرہ

ان کا پورا نام ہے: صفیہ بنت حیی بن اخطب بن سعیہ، یہ حضرت ہارون علیہ السلام کی بیٹیوں میں سے ہیں ان کی والدہ کا نام بر و بنت سمول ہے، الواقدی نے کہا ہے: یہ حضرت معاویہ کی خلافت میں ۵۰ھ میں فوت ہوگئی تھیں اور ان کو البقیع میں دفن کیا گیا تھا، پہلے کنانہ بن ابی الحقیق کے نکاح میں تھیں، جو جنگ خیبر میں قتل کردیا گیا تھا۔

صحیح مسلم : ۱۳۶۵‘ کی ایک روایت میں ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو حضرت دحیہ سے سات باندیوں کے عوض خرید لیا تھا لیکن اس پر خریدنے کا اطلاق مجاز ا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تکریم اور ان کی فضیلت ظاہر کرنے کے لیے ان کے بدلہ میں ان کو سات باندیاں یا سات غلام عطا کیے تھے اور آپ نے ان کو اس لیے لیا تھا کہ وہ خاندان نبوت سے تھیں کیونکہ آپ نے فرمایا تھا: وہ میرے بھائی حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور ایک سردار کی صاحب زادی ہیں، علاوہ ازیں وہ بہت حسین و جمیل تھیں، جو ان سے کثرت نکاح کی خواہش کا باعث تھا تاکہ ان سے جو اولاد ہو وہ بھی حسین و جمیل ہو سو ان وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تھا نہ کہ شہوت نفسانیہ کی وجہ سے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے معصوم ہیں ۔

اس اعتراض کا جواب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کو حضرت صفیہ ہبہ کرکے واپس لے لیں حالانکہ کسی کو کوئی چیز ہبہ کرکے واپس لینا مکروہ ہے

اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں:

(1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کو خصوصیت کے ساتھ حضرت صفیہ ہبہ نہیں کی تھیں بلکہ آپ کا مطلب یہ تھا کہ باندیوں میں سے کوئی باندی لے لو، آپ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ ان باندیوں میں سے جو سب سے اعلیٰ اور افضل باندی ہو، اس کو لے لو۔

(۲) اگر جہہ برقرار رکھنے میں خطرہ ہو تو اس ہبہ سے رجوع کرنا بلا کراہت جائز ہے اور یہاں ایسا ہی تھا کیونکہ مسلمانوں کو یہ گوارا نہیں تھا کہ حضرت دحیہ کے پاس حضرت صفیہ رہیں، جو صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شایان شان تھیں۔

(۳) نبی  صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت دحیہ کے بہ منزلہ والد ہیں اور والد اپنی اولاد کو بہہ کرکے بلا کراہت واپس لے سکتا ہے۔

(۴) جس کو ہبہ کیا ہے اس کی رضا سے ہبہ کی ہوئی چیز واپس لی جائے تو پھر کوئی کراہت نہیں ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کی رضا سے حضرت صفیہ کو واپس لیا تھا۔

(۵) جس کو ہبہ کیا گیا ہے اگر اس کو ہبہ کی ہوئی چیز کا کوئی عوض یا بدلہ دے دیا جائے تو پھر اس سے ہبہ شدہ چیز کو واپس لینے میں کوئی کراہت نہیں ہے اور علامہ واقدی نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کو کنانہ بن ربیع بن ابی الحقیق کی بہن عطا کردی تھی اور انہوں نے خوش دلی سے حضرت صفیہ کو واپس کردیا تھا۔

(۶) قاضی عیاض نے کہا ہے کہ میرے نزدیک حضرت صفیہ اموال فئی میں سے تھیں، کیونکہ وہ کنانہ بن الربیع کی بیوی تھیں اور وہ اور ان کے اہل بنو الحقیق میں سے تھے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شرط پر صلح کرلی تھی کہ وہ کوئی خزانہ نہیں چھپائیں گے اور اگر انہوں نے کچھ چھپایا تو پھر ان کی حفاظت کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے اور آپ نے ان سے حیی بن اخطب کے خزانے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اس کو چھپالیا، پھر آپ ان کے پاس اس خزانے پر مطلع ہوگے تو انہوں نے اپنا عہد توڑ دیا پھر آپ نے ان کو قید کرلیا اور حضرت صفیہ بھی ان قیدیوں میں سے تھیں، پس وہ مال فئے میں سے تھیں نہ کہ خمس میں سے تھیں اور مال فئے میں امام جس طرح چاہے تصرف کرسکتا ہے۔ علامہ عینی فرماتے ہیں: قاضی عیاض نے یہ جواب اپنے مذہب کے مطابق دیا ہے کہ فئے میں سے خمس نہیں نکالا جاسکتا اور دوسروں کا مذہب یہ ہے کہ مال فئے میں سے بھی خمس نکالا جاسکتا ہے ۔ ( عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۲۸ – ۱۲۷ دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ )

(7) میں کہتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ سے حضرت صفیہ کو جو دے کر واپس لیا تھا، اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ آپ تمام مسلمانوں کی جانوں اور مالوں کے مالک ہیں اور ان کی جانوں اور مالوں پر تصرف کرنے کے ان سے زیادہ مستحق ہیں۔

دوران جنگ نعرہ تکبیر لگانا اور حضرت صفیہ کے آزاد کرنے کو ان کا مہر قرار دینے کی تحقیق

اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ کے دوران تین بار فرمایا: اللہ اکبر۔ اس سے معلوم ہوا کہ میدان جنگ میں اللہ اکبر کہنا چاہیے اور دوسرے اذکار بھی کرنے چاہئیں۔

اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرکے ان سے نکاح کر لیا اور ان کے آزاد کرنے کو ان کا مہر قرار دیا امام شافعی امام احمد اور امام ابو یوسف کے نزدیک آزاد کرنے کو مہر قرار دیا جاسکتا ہے اور امام مالک اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے، مہر کے لیے مال مقتوم ہونا ضروری ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ تھا کیونکہ جب اللہ تعالی نے آپ کے لیے یہ جائز قرار دیا ہے کہ آپ بغیر مہر کے نکاح کرلیں تو آپ کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ آپ اپنی کنیز کو آزاد کرکے اس کے آزاد کرنے کو اس کا مہر قرار دے دیں، آپ کی خصوصیت کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے:

وَامْرَأَةٌ مُؤْمِنَةٌ إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَاد النَّبِي أن يُسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةٌ لَكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ قَدْعَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَت أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رحِيمًا ( الاحزاب : ۵۰)

اور کوئی مسلمان عورت اپنے آپ کو نبی پر ہبہ کردے، اگر نبی اس سے نکاح کرنے کا ارادہ کریں تو یہ صرف آپ کے لیے حلال ہے نہ کہ عام مسلمانوں کے لیے ،ہمیں معلوم ہے ہم نے مسلمانوں کی بیویوں اور ان کی کنیزوں کے متعلق جو کچھ فرض کیا ہے ( آپ کے لیے بغیر مہر کے نکاح اس لیے حلال کیا ہے ) تاکہ آپ پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ بے حد بخشنے والا بہت رحم فرمانے والا ہے

اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ آپ بغیر مہر کے تقرر کے نکاح کرسکتے ہیں، لہذا آپ کا حضرت صفیہ سے نکاح بغیر مہر کے تھا اور آپ کا انہیں آزاد کرنا محض آپ کا ان پر فضل اور احسان تھا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولیمہ کی خصوصیت

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شب زفاف کے بعد ولیمہ کرنا سنت ہے اور مسلمانوں نے اپنے کھانے پینے کی چیزیں جمع کرکے آپ کا ولیمہ کیا۔ اس حدیث میں مذکور ہے، آپ نے فرمایا: جس کے پاس (کھانے کی ) کوئی چیز ہے وہ لے کر آئے اس سے بھی یہ معلوم ہوا کہ آپ مسلمانوں کے اموال کے مالک ہیں، آپ نے ان کے کھانے کی چیزوں سے اپنا ولیمہ کیا اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کھانے کی کسی بھی چیز سے ولیمہ کیا جاسکتا ہے۔

یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۵۵۰- ج ۵ ص ۵۸۵ – ۵۸۴ پر مذکور ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوان ہیں:

خیبر کا لغوی معنی، جغرافیائی محل وقوع، تاریخ اور غزوہ خیبر کے اہم واقعات

(۲) ران کے شرم گاہ ہونے کی تتحقیق

خیبر کا تمام علاقہ صلح سے فتح ہوا تھا یا بعض

  اللہ تعالیٰ کے لیے ”میں فدا ہوں“ کہنے کی توجیہ۔

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سےنکاح کا واقعہ صحیح مسلم کی کتاب النکاح میں اور باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم: ۳۳۹۳۔ ج ۳ ص ۸۴۰ پر مذکور ہے اس کی شرح کے عنوان حسب ذیل ہیں:

ران کے شرم گاہ ہونے میں مذاہب

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت دحیہ کو باندی ہبہ کرکے کیوں واپس لی تھی

(۳) لونڈی کو آزاد کرنے کو مہر قرار دینے میں مذاہب۔