کتاب الصلوۃ باب 17 حدیث نمبر 376
۱۷ – بَابُ الصَّلُوةِ فِي التَّوْبِ الْأَحْمَرِ
سرخ کپڑے میں نماز پڑھنا
اس باب میں سرخ لباس پہن کر نماز پڑھنے کا حکم بیان کیا گیا ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی کا فقہاء احناف پر اعتراض کہ وہ سنت سے ثابت سرخ لباس پہنے کو مکروہ کہتے ہیں
حافظ شہاب الدین ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی 852ھ لکھتے ہیں:
امام بخاری نے اس عنوان سے سرخ لباس پہننے کے جواز کی طرف اشارہ کیا ہے اور اس میں احناف کے ساتھ اختلاف ہے انہوں نے کہا ہے : سرخ لباس پہننا مکروہ ہے اور انہوں نے اس باب کی حدیث کی یہ تاویل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چادروں کا حلہ پہنا ہوا تھا وہ سرخ دھاری دار چادریں تھیں احناف نے سرخ لباس کی کراہت پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے:
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے دو آدمی سرخ لباس پہنے ہوئے گزرے، انہوں نے آپ کو سلام کیا آپ نے ان کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ (سنن ابوداؤد :۴۰۶۹)
اور یہ حدیث ضعیف الاسناد ہے، اگرچہ سنن ترمذی کے بعض نسخوں میں یہ لکھا ہوا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے، اور اگر یہ حدیث حسن بھی ہو تو اس کے معارض اس سے زیادہ قوی صحیح بخاری کی حدیث موجود ہے اور ہوسکتا ہے کہ آپ کے سلام کا جواب نہ دینے کا کوئی اور سبب ہو اور امام بیہقی نے اس حدیث کو اس پر محمول کیا ہے کہ اس کپڑے کو بننے کے بعد سرخ رنگ میں رنگا گیا تھا اور جس کپڑے کو پہننے سے پہلے سرخ رنگ میں رنگا گیا ہو، اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (فتح الباری ج ۲ ص ۴۹ دار المعرفة، بیروت 1426ھ )
حافظ عینی کا حافظ ابن حجر کے اعتراض کو رد کرنا
علامہ بدرالدین عینی حنفی حافظ ابن حجر عسقلانی کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
سرخ لباس پہننے کے جواز میں فقہاء احناف کا کوئی اختلاف نہیں، اگر یہ قائل مذہب احناف کو جانتا ہوتا تو یہ بات نہ کہتا اور اس نے جو احناف کی طرف سے اس باب کی حدیث کی تاویل ذکر کی ہے، وہ بھی بے فائدہ ہے کیونکہ جب فقہاء احناف سرخ لباس پہننے سے منع ہی نہیں کرتے تو انہیں اس حدیث کی تاویل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۴۷- ۱۴۶: دار الکتب العلمیہ بیروت )
فقہاء احناف کا سرخ رنگ کے لباس پہننے کو مستحب قرار دینا
میں کہتا ہوں کہ فقہاء احناف نے تصریح کی ہے کہ اگر کسی نجس چیز کو ملاکر کپڑے کو سرخ رنگ دیا جائے تو وہ مکروہ ہے اور اگر کسی نجس چیز کی آمیزش کے بغیر کپڑے کو سرخ رنگ دیا جائے تو پھر جائز ہے بلکہ وہ سرخ لباس پہننے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔
علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۲ ھ لکھتے ہیں:
علامہ شرنبلالی حنفی متوفی 1069ھ نے سرخ رنگ کے کپڑے پہننے کے جواز میں ایک رسالہ لکھا ہے، اس میں مذکور ہے: ہم نے سرخ رنگ کی حرمت میں کوئی نص قطعی نہیں پائی، اگر کوئی شخص عورتوں کی مشابہت یا عجمیوں کی مشابہت کے قصد سے یا تکبر کی نیت سے سرخ رنگ کے کپڑے پہنے تو پھر مکروہ ہے ورنہ نہیں، اگر کسی نجس چیز کے ساتھ کپڑے کو سرخ رنگ میں رنگا جائے، پھر بھی مکروہ ہے اور کپڑے کو دھونے سے یہ کراہت زائل ہوجاتی ہے اور سرخ رنگ کے جواز میں ہمیں امام اعظم کی نص صریح اور اباحت پر دلیل قطعی ملی ہے اور وہ یہ ہے کہ انہوں نے لباس کو مزین کرنے کا مطلقا حکم دیا ہے اور صحیح البخاری : 3551 اور صحیح مسلم : ۲۳۳۷ میں حضرت البراء رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ رنگ کے حلے میں دیکھا، یہ حدیث سرخ رنگ کے کپڑے پہننے کے جواز کا تقاضا کرتی ہے اور اس حدیث سے حرمت اور کراہت کی نفی ہوجاتی ہے، بلکہ اس حدیث سے سرخ رنگ کے کپڑے پہننے کا استحباب ثابت ہوتا ہے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کی جائے اور جو شخص اس موضوع پر زیادہ دلائل چاہتا ہو’ وہ اس رسالہ کا مطالعہ کرے۔ (ردالمختار ج 9 ص 436 مفصلا ومخرجا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )
٣٧٦ – حدثنا مُحَمَّدُ بْنْ عَرْعَرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَوْن بنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ ابیه قَالَ رَآيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِى قبة حمْرَاءَ مِنْ آدَمَ وَرَأَيْتُ بِلَالًا اَخَذَ وَضُوءَ رَسُولِ الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَایتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَاكَ الْوَضُوْءَ ، فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسحَ بِهِ، لم یصب مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ ثُم رايْتُ بِلَالًا أَخَذَ عَنزَةٌ فَرَكَزَهَا وَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ مُشَمرًا صَلَّی الی العَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَكْعَتَيْنِ، وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَاب يمرُونَ مِنْ بَيْنِ يَدَيِ الْعَنَزَةِ.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن عرعرہ نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: مجھے عمر بن ابی زائدہ نے حدیث بیان کی از عون بن ابي جحيفه از والد خود رضی اللہ عنہ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سرخ چمڑے کے خیمہ میں دیکھا اور میں نے دیکھا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے ہوئے پانی کو لیا اور میں نے دیکھا کہ لوگ اس پانی پر جھپٹ رہے تھے، جس کو اس پانی میں سے کچھ پانی مل جاتا وہ اس کو اپنے بدن پر لگاتا اور جس کو اس پانی میں سے کچھ بھی نہ ملتا’ وہ اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری کو لے لیتا پھر میں نے حضرت بلال کو دیکھا انہوں نے ایک نیزہ کو زمین میں گاڑ دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سرخ حلہ پہنے ہوئے نکلے، آپ نے اپنے تہبند کو پنڈلیوں سے اونچا کیا ہوا تھا
آپ نے نیزہ کے سامنے لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھائی اور میں نے دیکھا لوگ اور مویشی نیزے کے پار سے گزر رہے تھے۔
اس حدیث کی مفصل شرح صحیح البخاری : 187 میں گزرچکی ہے وہاں اس کے باب کا عنوان تھا: وضوء کے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنا، سو اس حدیث میں اس کا ذکر ہے البتہ حدیث: ۱۸۷ میں یہ ذکر نہیں تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ رنگ کا حلہ پہنا ہوا تھا۔ حلہ کا معنی ہے: ایک رنگ اور ایک قسم کے کپڑے کی دو چادریں، ایک چادر اوپر اوڑھ لی جائے اور ایک چادر کو تہبند بنالیا جائے اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ رنگ کی دو چادریں پہنی ہوئی تھیں اور نصف پنڈلیوں تک تہبند باندھا ہوا تھا۔
سرخ لباس پہننے کے متعلق دیگر احادیث
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سرخ حلہ پہنا ہوا تھا، اس کا ذکر باب مذکور کی حدیث میں ہے اس کے علاوہ یہ حدیث بھی ہے:
حضرت البراء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم درمیانی قامت کے تھے میں نے آپ کو سرخ رنگ کے حلے میں دیکھا اور میں نے آپ سے زیادہ حسین شخص کوئی نہیں دیکھا۔
(صحیح البخاری: ۵۸۴۸ – ۳۵۵۱، صحیح مسلم: ۲۳۳۷، سنن ابوداؤد : ۴۱۸۳ – ۴۰۷۲، سنن ترمذی : ۲۸۱۱، سنن نسائی: 5324-۵۲۴۷)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عید کے دن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سرخ چادر پہنتے تھے۔ (المعجم الاوسط 7609)
سرخ لباس پہننے کے متعلق مذاہب فقہاء اور حدیث مذکور کے دیگر مسائل اور فوائد
علامہ ابوالحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں یہ ثبوت ہے کہ سرخ لباس پہننا جائز ہے اور اس شخص کا رد ہے، جو سرخ لباس پہننے کو مکروہ کہتا ہےاور یہ کہ دیندار اور زاہد سردار کے لیے رنگ دار لباس پہننا جائز ہے اور سب سے مشہور رنگ سرخ ہے اور دنیا کی سب سے حسین زینت بھی سرخ رنگ میں ہے قرآن مجید میں ہے:
فَخَرَجَ عَلَى قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ. (القصص:79)۔
پس قارون اپنے زینت والے لباس میں اپنی قوم کے پاس آیا۔
قارون سرخ لباس پہن کر آیا تھا جس کو اللہ تعالی نے زینت قرار دیا۔
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّهِ. (۶۱ اف:۳۲)
آپ کہیے کہ اللہ کی زینت کو کس نے حرام قرار دیا ہے
لہذا اس آیت میں ہر زینت داخل ہے اور سرخ لباس بھی زینت ہے۔ (شرح ابن بطال ج ۲ ص ۴۳ دار الکتب العلمیہ بیروت (1424ھ )
حافظ زین الدین عبدالرحمان بن شہاب الدین ابن رجب حنبلی متوفی ۷۹۵ دلکھتے ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سرخ حلہ پہنا تھا، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ مکمل سرخ نہیں تھا، حضرت البراء بن عازب نے جو آپ کو سرخ حالہ میں دیکھا تھا، اس سے مراد بھی یہی ہے کہ وہ سرخ دھاری دار حلہ تھا۔
طاؤس ‘مجاہد اور عطاء نے سرخ کپڑوں کے پہننے کو مکروہ کہا ہے، حسن بصری اور ابن سیرین نے کہا: یہ آل قارون کی زینت ہے، امام احمد بن حنبل نے اس کی تصریح کی ہے، وہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے سرخ لباس کو مکروہ کہتے ہیں۔
(فتح الباري لابن رجب ج ۲ ص ۲۲۰ – ۲۱۸ ملتقطا : دار ابن الجعذی ریاض 1417ھ )
یہ دراصل فقہاء حنبلیہ کا مسلک ہے، جس کو حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں فقہاء احناف کی طرف منسوب کر کے انہیں حدیث اور سنت کی مخالفت کا مرتکب قرار دیا ہے حالانکہ فقہاء احناف اس الزام سے بری ہیں، جیسا کہ ہم نے فقہاء احناف کے حوالہ جات سے واضح کردیا ہے۔
علامہ بدرالدین عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں سرخ لباس پہننے اور سرخ لباس پہن کر نماز پڑھنے کا جواز ہے اور اس میں آثار صالحین سے تبرک حاصل کرنے کا جواز ہے اور اس میں صحراء میں نمازی کے آگے نیزہ سے سترہ قائم کرنے کا ثبوت ہے اور اس حدیث میں سفر میں نماز قائم کرنے کا ثبوت ہے اور ہمارے نزدیک سفر میں نماز کو قصر کرنا واجب ہے اور اس میں یہ ثبوت ہے کہ سترہ کے پار نمازیوں کے آگے سے لوگ گزرسکتے ہیں، اور اس میں یہ دلیل ہے کہ وضوء کا مستعمل پانی پاک ہوتا ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضوء سے بچے ہوئے پانی کو صحابہ اپنے جسم پرمل رہے تھے اور آپ کے وضو کا بچا ہوا پانی تو ہر طاہر سے بڑھ کر طاہر اور طیب ہے۔ (عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۴۹ دار الکتب العلمیة بیروت 1421ھ )