کتاب الصلوۃ باب 28 حدیث نمبر 392
۳۹۲ – حَدَّثَنَا نُعَيْمٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حميْدِ الطَّوِيْلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أنْ أقَاتِلَ الناس حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوْهَا وَصلوا صلاتنَا وَاسْتَقْبَلُوا قِبْلتنا، وَذَبَحُوا ذَبِيحَتنَا فَقَدْ حَرمت عَلَيْنَا دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا، وحسابھم علی الله۔
جامع المسانيد لابن الجوزی 512، مکتبہ الرشد، ریاض 1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں نعیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابن المبارک نے حدیث بیان کی از حمید الطويل از حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے قتال کروں حتی کہ وہ کہیں لا الہ الا اللہ پس جب وہ یہ کلمہ پڑھ لیں اور ہماری (طرح) نماز پڑھیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کریں اور ہماری طرح ذبح کریں تو ان کی جانیں اور ان کے اموال ہم پر حرام ہوجائیں گے، ماسوا اس جان اور مال کے جس پر کسی کا حق ہو اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔
اس حدیث کی اہم شرح اور تخریج، صحیح البخاری : 391 میں کردی گئی ہے دیگر زائد شرح یہاں بیان کی جارہی ہے۔
لوگوں کے معاملات ظاہر پر محمول ہیں نہ کہ باطن پر
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے معاملات ظاہر پر محمول کیے جاتے ہیں نہ کہ باطن پر، سو جس شخص نے شعائر دین پر عمل کیا اس پر اسلام کے احکام نافذ کیے جائیں گے، جب تک اس کے خلاف کوئی چیز ظاہر نہ ہو لہذا جب کوئی اجنبی شخص مسلمانوں کے شہر میں داخل ہو اور اس کی ظاہری وضع قطع مسلمانوں جیسی ہو تو اس کو مسلمان ہی قرار دیا جائے، خواہ اس کا عقیدہ کچھ بھی ہو جب تک کہ اس شخص سے اسلام کے خلاف کوئی چیز ظاہر نہ ہو۔
اس حدیث میں صرف لا الہ الا اللہ کا ذکر ہے اور اس سے مراد پورا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور یہ اسلام کی پہلی علامت ہے اس کے بعد ہماری طرح نماز پڑھنے اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا ذکر ہے اور نماز اہم ترین عبادت ہے، حتی کہ جس نے عمدا نماز کو ترک کیا، اس نے کافروں کا سا کام کیا اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک تارک نماز کو قتل کردیا جائے گا اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کو قید کرلیا جائے گا حتی کہ وہ نمازی بن جائے اور جس نے قبلہ کو عمدا ترک کیا، اس کی نماز نہیں ہوگی اور جو نماز نہ پڑھے وہ دین دار نہیں ہے اور کلمہ پڑھنا پانچ وقت کی نماز پڑھنا اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کرنا یہ وہ ظاہری امور ہیں جن پر کسی شخص کا مسلمان ہونا موقوف ہے۔
اہل مکہ پر نماز میں عین کعبہ کی طرف منہ کرنا ضروری ہے اور دیگر شہر والوں پر سمت کعبہ کی طرف منہ کرنا ضروری ہے
جو شخص مکہ مکرمہ میں رہتا ہو اس پر عین کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا ضروری ہے خواہ اس کے اور کعبہ کے درمیان کوئی دیوار یا مکان حائل ہو یا نہ ہو اگر اس نے غور وفکر کرکے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی، پھر بعد میں معلوم ہوا کہ اس سے خطاء ہوئی ہے تو اس پر اس نماز کا لوٹانا واجب نہیں ہے کیونکہ اس شخص پر جو فرض تھا وہ اس نے ادا کردیا۔ ابو البقاء نے ذکر کیا ہے کہ حضرت جبریل علیہ الصلوة والسلام نے مسجد نبوی کی محراب کعبہ کی سمت پر قائم کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کو دیکھ لیا تھا اور اس سمت پر مسجد نبوی کا قبلہ ہے اور جو شخص کعبہ سے غائب ہو اس پر عین کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض نہیں ہے بلکہ اس پر سمت کعبہ کی طرف منہ کرنا فرض ہے، یہ کرخی ابوبکر رازی اور عامتہ مشائخ الحنفیہ کا قول ہے اور ابو عبداللہ الجرجانی کا قول ہے کہ حاضر اور غائب سب پر عین کعبہ کی طرف منہ کرنا ضروری ہے اور یہی امام شافعی کا مذہب ہے۔ امام بیہقی نے معرفہ الآثار میں لکھا ہے کہ حدیث مرفوع میں ہے: جو لوگ مسجد حرام میں نماز پڑھتے ہیں ان کا قبلہ عین کعبہ ہے اور اہل مکہ کا قبلہ مسجد حرام ہے اور دیگر شہروں کا قبلہ مکہ مکرمہ ہے، لیکن اس حدیث کی سند ضعیفنہے اور اس سے استدلال صحیح نہیں ہے۔
کسی شخص کے مسلمان ہونے کے جملہ قرائن اور شواہد میں سے یہ بھی ہے کہ وہ مسلمانوں کا ذبیحہ کھاتا ہو کیونکہ دیگر مذاہب کے لوگ اور بت پرست مسلمانوں کا ذبیحہ کھانے میں تنگی محسوس کرتے ہیں۔
اس حدیث کے آخر میں ہے: اور ان کا حساب اللہ پر ہے۔ اس کی شرح صحیح البخاری : ۲۵ میں کردی گئی ہے۔
(عمدۃ القاری ج 4 ص:187 دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
اس حدیث کی روایت کے بعد امام بخاری نے حسب ذیل تعلیق ذکر کی ہے:
وَقَالَ عَلِيٌّ بنُ عَبْدِاللهِ حَدثَّنَا خَالِدُ بْن الْحَارِثِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سَالَ مَيْمُونُ بن سيَاہ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ يَا اَبا حَمْزَةَ ، مَا يُحَرِّمُ دم الْعَبْدِ وَمَالَهُ؟ فَقَالَ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَصَلَّى صَلَاتَنَا وَاكَلَ ذَبِيحتنا فَهُوَ الْمُسْلِمُ ، لَهُ مَا لِلْمُسْلِمِ، وَعَلَيْهِ مَا عَلَى الْمُسلم۔
اور علی بن عبد اللہ نے کہا: ہمیں خالد بن الحارث نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حمید نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میمون بن سیاہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا اور کہا : اے ابو حمزة ! بندہ کی جان اور مال کو کیا چیز حرام کرتی ہے؟ تو انہوں نے کہا: جس نے لا الہ الا اللہ کی شہادت دی اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہماری (طرح) نماز پڑھی اور ہمارا ذبیجہ کھایا پس وہ مسلمان ہے، اس کے وہ حقوق ہیں جو مسلمان کے حقوق ہیں اور اس پر وہ احکام فرض ہیں جو مسلمان پر فرض ہیں۔
اس تعلیق کی سند میں علی بن عبداللہ سے مراد علی بن المدینی ہیں اور ابو حمزہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے اس تعلیق کے بعد امام بخاری نے اپنی سند کے ساتھ ایک اور حدیث روایت کی ہے.