٣٩٦ – وَسَأَلْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِاللَّهِ فَقَالَ لَا يَقْرَبَنَّهَا حَتَّى  يَطُوفَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمروہ۔

اطراف الحدیث: ۱۶۲۴- ۱۶۴۶ – ۱۷۹۴]

( صحیح مسلم : ۱۳۳۴ الرقم المسلسل : ۲۹۴۷’ اس کی تخریج بھی مذکور الصدر ہے )

اور ہم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: (عمرہ کرنے والا ) اس وقت تک اپنی بیوی سے مقاربت نہ کرے جب تک کہ الصفاء اور المروۃ کے درمیان سعی نہ کرے۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم میں نماز پڑھی۔

عمرہ میں سعی کا واجب ہونا

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عمرہ میں الصفا اور المروہ کے درمیان سعی کرنا ( دوڑنا ) واجب ہے یہ تمام فقہاء کا مذہب ہے تاہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت ہے کہ جس شخص نے بیت اللہ کا طواف کرلیا وہ اپنی بیوی سے مباشرت کرسکتا ہے خواہ اس نے سعی نہ کی ہو لیکن یہ قول ضعیف ہے اور سنت کے مخالف ہے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ طواف میں سات چکر لگاتا ضروری ہیں اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنے میں دو قول ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہ سنت ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ واجب ہے اور تحقیق یہ ہے کہ اگر طواف سنت ہو تو یہ نماز سنت ہے اور اگر طواف واجب ہو تو یہ نماز واجب ہے۔(عمدۃ القاری ج 4 ص ۱۹۵ دار الكتب العلمیة بیروت 1421ھ)

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۸۹۵ – ج ۳ ص 464 پر مذکور ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی۔