کتاب الصلوۃ باب 31 حدیث نمبر 400
٤٠٠ – حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالرَّحمن، عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ علیہ وَسَلَّمَ يُصَلَّى عَلَى رَاحِلَتِهِ حَيْثُ تَوَجَّهَتْ ، فاذا أَرَادَ الْفَرِيضَةَ ، نَزَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبلہ۔
اطراف الحدیث : ۱۰۹۴ – 1099- 4140
جامع المسانيد لابن الجوزی: ۱۰۵۰ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مسلم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یحیی بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی از محمد بن عبدالرحمان از حضرت جابر رضی اللہ عنہ، وه بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر نماز پڑھتے تھے، جس طرف بھی سواری کا منہ ہو، پس جب آپ فرض پڑھنے کا ارادہ کرتے تو سواری سے اترتے اور قبلہ کی طرف منہ کرتے۔
اس حدیث کے پانچ رجال ہیں، ان کا تعارف پہلے ہوچکا ہے۔
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: پس جب آپ فرض پڑھنے کا ارادہ کرتے تو سواری سے اترتے اور قبلہ کی طرف منہ کرتے۔
فرض نماز کو سواری پر پڑھنے کے اعذار
علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں اس پر دلیل ہے کہ فرض نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنے کو ترک نہیں کیا جائے گا اور اس پر تمام فقہاء کا اجماع ہے لیکن شدید خوف میں اس کو ترک کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور خلاصۃ الفتاویٰ میں مذکور ہے کہ عذر کی حالت میں سواری پر نماز پڑھنا جائز ہے ان اعزار میں سے ایک عذر بارش ہے، امام محمد سے منقول ہے کہ جب کوئی شخص سفر میں ہو اور بارش ہو جائے اور اس کو سواری سے اترکر نماز پڑھنے کے لیے کوئی خشک جگہ نہ ملے تو وہ قبلہ کی طرف منہ کرکے سواری پر بیٹھا رہے اور اشاروں سے نماز پڑھے اور اگر اسکے لیے ہم ممکن نہ ہو تو وہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرکے بھی نماز پڑھ سکتا ہے، یہ اس صورت میں ہے کہ وہاں اتنی کیچڑ ہو جس میں اس کا منہ چھپ جائے، لیکن اگر وہاں اتنی کیچڑ نہ ہو لیکن زمین گیلی ہو تو وہ گیلی زمین پر نماز پڑھ لے۔
دیگر اعذار میں سے یہ ہے کہ وہ سواری سرکش ہو، اگر وہ سواری سے اتر جائے تو اس کے لیے خود سوار ہونا ممکن نہ ہو اور ان اعذار میں سے چور اور بیماری کا خطرہ ہے اور اس کا بہت بوڑھا ہونا ہے اور وہاں کوئی ایسا شخص میسر نہ ہو جو اس کو سواری پر سوار کراسکے اسی طرح درندے کا خطرہ بھی ہے۔ المحیط میں مذکور ہے کہ ان صورتوں میں وہ سواری پر فرض نماز پڑھ سکتا ہے اور عذر زائل ہونے کے بعد اس پر اس نماز کا اعادہ لازم نہیں ہے اور یہ اس وقت ہے جب وہ شہر سے باہر ہو۔
عمدة القاری ج 4 ص ۲۰۳ دار الكتب العلمیہ، بیروت 1421ھ)
چلتی ٹرین میں نماز پڑھنا اعذار مذکورہ سے بڑا عذر ہے
فقہاء احناف نے ان صورتوں میں سواری پر فرض نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے، جب راستہ میں کیچڑ ہو جب سواری سرکش ہو جب سواری سے اتر کر نماز پڑھنے میں مرض کا یا سامان چوری ہونے کا خطرہ ہو، جب بارش ہو جب سوار بہت بوڑھا ہو اور ان سب سے بڑا خطرہ چلتی ہوئی تیز رفتار ٹرین سے اتر کر نماز پڑھنے میں ہے کیونکہ اس میں اس کی جان یا اس کے اعضاء کی ہلاکت کا یقینی خطرہ ہے تو جب ان کم خطرات میں سواری پر فرض پڑھنا جائز ہے تو اس سے زیادہ خطرہ میں بہ طریق اولی چلتی ٹرین میں نماز پڑھنا جائز ہونا چاہیے اور بعد میں اس کا اعادہ لازم نہیں ہوگا ۔
المحیط کی اصل عبارت
علامہ عینی نے اپنی عبارت میں الحیط کا حوالہ دیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ المحیط کی اصل عبارت پیش کردیں۔
علامہ برہان الدین ابوالمعالی محمود بن صدر الشریعہ ابن مازہ البخاری المتوفی ۶۱۶ ھ لکھتے ہیں:
مسافر بغیر ضرورت کے سواری پر فرض نماز نہ پڑھے اور ضرورت کے وقت اس کے لیے سواری پر فرض نماز اور وتر پڑھنا جائز ہے
کیونکہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ تھے کہ بارش ہوگئی، آپ نے منادی کو حکم دیا کہ وہ نداء کرے کہ تم اپنی سواریوں پر نماز پڑھو۔ (سنن نسائی: 647 مسند احمد : 14886 مسند احمد ج ۳ ص ۴۱۶)
ان اعزار میں سے یہ ہیں کہ اگر وہ سواری سے اترا تو اس کو اپنی جان پر یا اپنی سواری پر چور یا درندہ کا خطرہ ہو یا راستہ میں کیچڑ ہو اور اس کو زمین پر خشک جگہ نہ ملے یا اس کی سواری سرکش ہو، اگر وہ اس سے اتر گیا تو وہ بغیر کسی کی مدد کے اس پر سوار نہیں ہو سکے گا یا وہ بہت بوڑھا ہو اور بغیر کسی کی مدد کے وہ از خود سواری پر سوار نہیں ہوسکے گا اور اس کو سوار کرنے والا میسر نہ ہو ان تمام حالتوں میں سواری پر فرض نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا (البقره: 239) اگر تم کو جان کا خطرہ ہو تو تم پیدل چلتے ہوئے نماز پڑھو یا سواری پر۔
اور ہم نے جو اعذار بیان کیے ہیں ان ہی پر یہ قیاس ہے کہ جو شخص جنگل میں یا قافلہ میں سفر کر رہا ہو تو اس کے لیے سواری پر فرض نماز پڑھنا جائز ہے کیونکہ اگر وہ سواری سے اترا تو اس کو اپنی جان اور اپنے سامان کا خطرہ ہوگا کیونکہ قافلہ اس کا انتظار نہیں کرے گا۔
اور حسن نے امام ابوحنیفہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فجر کی دو سنتوں کو بھی فرض کے ساتھ لاحق کیا ہے اور عذر کی حالت میں ان سنتوں کو بھی سواری پر پڑھے۔ (المحیط البرھانی ج ۲ ص ۴۲۶ ادارۃ القرآن کراچی ۱۴۲۶ھ )