٤٠٣ – حَدَّثَنَا عَبْدُاللَّهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِاللهِ بنِ دِينَارٍ، عَنْ عبداللہ بنِ عُمَرَ قَالَ بَيْنَا النَّاسُ بِقَبَاءٍ فِي صَلوةِ الصُّبْح، اذ جاءَهُم، اتٍ فَقَالَ إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ علیہ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرّانٌ، وَقَدْ امر ان يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ ، فَاسْتَقْبِلُوْهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ الی الشَّامِ فَاسْتَدَارُوْا إِلَى الْكَعْبَةِ (اطراف الحدیث: 4488،4490،4491،4493،4494،7251

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عبداللہ بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں مالک بن انس نے خبر دی از عبدالله بن دينار از حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وہ بیان کرتے ہیں کہ جس وقت لوگ صبح کی نماز میں قباء میں تھے ایک آنے والا آیا اور اس نے کہا : رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات قرآن نازل ہوا ہے ! اور آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ قبلہ کی طرف منہ کریں پس تم بھی قبلہ کی طرف منہ کرلو اس وقت نمازیوں کے چہرے شام کی طرف تھے وہ فورا کعبہ کی طرف پھرگئے۔

(صحیح مسلم: ۵۲۶ الرقم مسلسل : ۱۱۵۸ سنن نسائی:۷۴۵ سنن ترمذی :341-2963 سنن الکبری للنسائی: ۵۴۵ سنن دارمی: 1237، صحیح ابن خزیمہ : ۴۳۵ سنن دارقطنی ج ۱ ص ۲۷۳ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱ ص 335، المعجم الکبیر: ۵۳۰ – ج ۲۴ مسند احمد ج ۲ ص ۱۶ طبع قدیم مسند احمد : ۴۶۴۲۔ ج ۸ ص 266، مؤسسة الرسالة بيروت، جامع المسانيد لابن الجوزی : 3491، مكتبة الرشد ریاض 1426ھ)

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس جملہ میں ہے: آپ کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ آپ قبلہ کی طرف منہ کریں۔

حدیث مذکور کا حدیث: ۳۹۹ سے ایک تعارض کا جواب اور دیگر مسائل

اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ کے پاس ایک آنے والا آیا اس کا نام عباد بن بشر تھا، اس حدیث میں صبح کی نماز میں آنے کا ذکر ہے اس سے پہلے حدیث:۳۹۹ میں حضرت البراء کی روایت میں عصر کی نماز کا ذکر تھا ان دونوں حدیثوں میں کوئی منافات نہیں ہے کیونکہ جو مدینہ میں داخل تھے ان کے پاس عصر کے وقت خبر پہنچی اور جو مدینہ سے خارج تھے ان کے پاس صبح کے وقت خبر پہنچی۔

اس حدیث میں مذکور ہے: آج رات آپ پر قرآن نازل ہوا اس سے مراد قرآن مجید کی یہ آیت ہے:

قَد نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ. (البقره: 144)

بے شک ہم آپ کے چہرے کا آسمان کی طرف پھرنادیکھ رہے ہیں۔

اس حدیث کے اکثر مسائل اور فوائد حضرت البراء کی حدیث: ۳۹۹ میں بیان کیے جاچکے ہیں، مزید فوائد میں سے یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جوحکم دیا جائے،  اس کا کرنا آپ کی امت پر بھی لازم ہوتا ہے کیونکہ آپ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ آپ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کریں پھر یہ آپ کی امت پر بھی لازم ہو گیا، حتیٰ کہ انہوں نے نماز میں اپنا منہ کعبہ کی طرف کرلیا’ جو لوگ قباء میں نماز پڑھ رہے تھے ان سے ایک شخص نے کہا: اب قبلہ بدل گیا ہے اور رسول اللہ صلی  اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کعبہ کی طرف منہ کرلیا ہے وہ شخص ان کی نماز سے خارج تھا، پھر بھی انہوں نے اس کے قول پر عمل کیا حالانکہ جو شخص خارج از نماز ہو اس کے قول پر عمل کرنا جائز نہیں ہے بلکہ خارج از نماز کے قول پر عمل کرنا مفسد صلوٰۃ ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث خلاف قیاس ہے، اس کی نظیر یہ ہے کہ جب مسافر امام نماز پڑھا رہا ہو اور اس کی اقتداء میں مقیم بھی نماز پڑھ رہے ہوں تو وہ سلام پھیرنے کے بعد نمازیوں سے کہتا ہے: تم لوگ اپنی نماز پوری کرو کیونکہ میں مسافر ہوں اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والے مقیم نمازی اس کے قول پر عمل کرکے اپنی نماز پوری کرتے ہیں، حالانکہ وہ مسافر امام سلام پھیرنے کے بعد ان کی نماز سے خارج ہوچکا ہوتا ہے۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۸۰ ج ۲ ص 67 پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح کے عنوان حسب ذیل ہیں:

نسخ کی بحث

نسخ کی تعریفات

 نسخ کی اقسام

نسخ القرآن بالقرآن

 نسخ القرآن بالحديث

نسخ الحديث بالحديث

نسخ الحدیث بالقرآن

تحویل قبلہ کی تاریخ

کعبہ کی طرف پہلی نماز

روایات میں تطبیق

 خبر واحد پر عمل

 ورود شرع سےقبل تکلیف کا حکم

 دیگر فوائد

 مکہ میں قبلہ کا رخ۔

یہ ابحاث ص ۶۸ سے ص ۷۳ تک ہیں۔