٣١ – بَابُ التَّوَجُهِ نَحْوَ الْقِبْلَةِ حَيْثُ كَانَ    

قبلہ کی طرف توجہ کی جائے، انسان جہاں کہیں بھی ہو

اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ انسان خواہ سفر میں ہو یا حضر میں، فرض پڑھ رہا ہو یا نفل اس پر لازم ہے کہ وہ قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھے کیونکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے:

وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ.

(البقره: ۱۴۴)

اور تم جہاں کہیں بھی ہو تو اپنا چہرہ قبلہ کی طرف پھیرا کرو۔

باب سابق میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنالو اور اس باب میں یہ بیان فرمایا ہے: قبلہ کی طرف توجہ کی جائے اور دونوں بابوں کا تعلق بیت اللہ سے ہے۔ اس کے بعد درج ذیل تعلیق ہے :

وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَكبر

اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قبلہ کی طرف منہ کرو اور تکبیر پڑھو۔

یہ حدیث صحیح البخاری:۶۲۵۱ کا ایک قطعہ ہے۔

۳۹۹ – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا  إسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ ابن عازب رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَةَ عشر أوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ أَنْ یوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، فَانزَلَ اللہ (قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ) (البقرہ: 144) فَتَوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ. وَقَالَ السُّفَهَاءُ مِنَ النَّاسِ وھم الْيَهُودُ ( مَا وَلَاهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا قل اللَّهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِراط مُّسْتَقِيمٍ ﴾ (البقرہ) :١٤٣ ) فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ثُمَّ خَرَجَ بَعْدَ مَا صَلَّى فَمَرَّ علی قَوْمٍ مِّنَ الْأَنْصَارِ فِي صلوتہ العصر نحو بیت الْمَقْدِسِ فَقَالَ ھو يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللہ صلى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانَّهُ تَوَجَّهَ نَحْوَ الْكَعْبَة فتحرفَ الْقَوْمُ حَتَّى تَوَجَّهُوا نَحْوَ الْكَعبہ۔

جامع المسانيد لابن الجوزی: ۶۴۴ مكتبة الرشد ریاض 1426ھ

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبد اللہ بن رجاء نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں اسرائیل نے حدیث بیان کی از ابو اسحاق از حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہما وہ بیان کرتے ہیں که رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف منہ کر کے سولہ یا سترہ مہینے نماز پڑھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پسند کرتے تھے کہ آپ کو کعبہ کی طرف متوجہ کردیا جائے تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ہم آپ کے چہرہ کا بار بار آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں ۔ (البقرہ: 144) پھر آپ کو کعبہ کی طرف متوجہ کر دیا گیا اور لوگوں میں سے جہلاء نے کہا اور وہ یہود تھے: ان کو ان کے اس قبلہ سے کس نے پھیر دیا، جس پر یہ پہلے تھے؟ آپ کہیے: مشرق اور مغرب اللہ ہی کے لیے ہیں، وہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستہ کی طرف ہدایت دیتا ہے (البقرہ:142) پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص نے نماز پڑھی وہ نماز پڑھنے کے بعد باہر نکلا اور انصار کے لوگوں کے پاس سے گزرا وہ بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز عصر پڑھ رہے تھے، پس اس نے کہا: وہ گواہی دیتا ہے کہ اس نے (ابھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور آپ کعبہ کی طرف منہ کیے ہوئے تھے پھر وہ لوگ مڑگئے اور انہوں نے کعبہ کی طرف منہ کرلیا۔

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: ۴۰ میں گزرچکی ہے وہاں اس کا عنوان تھا: نماز امور ایمان سے ہے اور یہاں اس کا عنوان ہے : قبلہ کی طرف توجہ کی جائے انسان جہاں کہیں بھی ہو اور اس حدیث میں دونوں چیزوں کا ذکر ہے۔

بیت المقدس سے کعبہ کی طرف تحویل کا باعث اور محرک

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:

امام طبری نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں کے رہنے والے اکثر یہود تھے جو اپنی نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرتے تھے تو اللہ تعالی نے آپ کو نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا’ پس یہود اس سے خوش ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قبلہ کی طرف منہ کریں، پس آپ اس کی دعا کرتے تھے اور آسمان کی طرف دیکھتے تھے تب یہ آیت نازل ہوئی: ہم آپ کے چہرہ کا بار بار آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں ۔ ( البقرہ : ۱۴۴ ) اور امام طبری نے مجاہد سے روایت کی ہے کہ آپ یہ پسند کرتے تھے کہ آپ کو کعبہ کی طرف پھیر دیا جائے کیونکہ یہود یہ کہتے تھے کہ ( سیدنا ) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہماری مخالفت کرتے ہیں اور ہمارے ہی قبلہ کی پیروی کرتے ہیں تب یہ آیت نازل ہوئی۔ ( جامع البیان ج ۲ ص ۲۷-26) حضرت ابن عباس کی اس حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیت المقدس کی طرف منہ کرنا ہجرت کے بعد واقع ہوا ہے، لیکن ایک اور سند سے حضرت ابن عباس نے روایت کی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور کعبہ آپ کے سامنے ہوتا تھا اور ان دونوں حدیثوں کو جمع کرنا ممکن ہے بایں طور کہ جب آپ نے ہجرت کی تو اللہ تعالی نے آپ کو حکم دیا کہ آپ بیت المقدس کی طرف ہی منہ کرکے نماز پڑھتے رہیں اور امام طبرانی نے ابن جریج کی سند سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی پھر آپ کو بیت المقدس کی طرف پھیر دیا گیا اور اس وقت آپ مکہ میں ہی تھے سو آپ نے تین سال تک بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی، پھر آپ نے ہجرت کی اور مدینہ آنے کے بعد سولہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی پھر اللہ نے آپ کو کعبہ کی طرف متوجہ کردیا۔

حضرت ابن عباس کی پہلی حدیث میں یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے آپ کو بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کا حکم دیا اس سے ان لوگوں کا رد ہوجاتا ہے جو کہتے ہیں کہ آپ نے اپنے اجتہاد سے بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی تھی۔

(فتح الباری ج ۲ ص ۶۳ دار المعرفته بیروت 1426ھ )

حدیث مذکور کے بعض اہم مسائل

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احکام میں تسخ ہوتا رہتا ہے اور جمہور کے نزدیک اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ جو حکم سنت سے ثابت ہو وہ قرآن سے منسوخ ہوجاتا ہے امام شافعی کے اس مسئلہ میں دو قول ہیں اور اس حدیث میں خبر واحد کے قبول کرنے پر دلیل ہے اور اس میں یہ تصریح ہے کہ قبلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا واجب ہے اور یہ کہ اب قبلہ کعبہ ہے اور اس میں یہ ذکر ہے کہ ایک نماز دو جہتوں کی طرف منہ کرکے پڑھی گئی۔