کتاب الصلوۃ باب 37 حدیث نمبر 415
۳۷ – بَابٌ كَفَّارَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ
مسجد میں تھوکنے کا کفارہ
اس باب میں مسجد میں تھوکنے کا کفارہ بیان کیا گیا ہے’ کفارہ اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی گناہ کو مٹادے یا چھپا دے اس کا مادہ کفر ہے اور اس کا معنی ستر اور چھپانا ہے اس وجہ سے کسان کو عربی میں کافر بھی کہتے ہیں، کیونکہ وہ بھی بیج کو زمین میں چھپاتا ہے اور دین اسلام کے مخالف کو بھی کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی دین حق کو چھپاتا ہے اور اسے مٹانے کے درپے ہوتا ہے۔
٤١٥ – حَدَّثَنَا ادَم قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكَ قَالَ قَالَ النبی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَزاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ وَكَفَّارَتْهَا دَفْنُهَا۔
(صحیح مسلم : ۵۵۲ الرقم المسلسل :۱۳۱۰ سنن ابوداود : ۴۷۵ سنن ترمذی: ۵۷۲ سنن نسائی: ۷۲۳ مسند ابوداؤد الطیالسی ۱۹۸۸، سنن الدارمی: 1395، مسند ابویعلی : ۳۲۲۲، صحیح ابن خزیمہ: ۱۳۰۹ شرح السنته : 488، سنن بیہقی ج ۲ ص ۲۹۱ صحیح ابن حبان: 3579، مسند احمد ج ۳ ص ۱۷۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۲۷۷۵- ج ۲۰ ص ۱۷۵ – ۱۷۴ مؤسسة الرسالة بیروت)
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ اس کو دفن کرنا ہے۔
اگر مسجد کچے فرش کی ہو جیسے کسی چھوٹے گاؤں میں ہوتی ہیں اور وہاں بلغم کو مٹی کے نیچے دبادیا جائے تو وہ اس حدیث کے مطابق ہے اور جہاں مسجد کا پختہ سیمنٹ یا مزائک یا ٹائلز کا فرش ہو اور اس پر دریاں اور قالین بچھے ہوئے ہوں تو وہاں پر اگر بےاختیار بلغم آجائے تو اس کو رومال یا کپڑے کے پلو میں لپیٹ کر رکھ لے اور بعد میں اس کپڑے کو صاف کرکے دھولے۔
[…] کیونکہ وہ نیکیاں لکھتا ہے۔ اس حدیث کے باقی مضمون کی شرح حدیث : ۴۱۵ میں دیکھیں […]