٥٤ – بَابُ الصَّلوةِ فِي الْبَيْعَةِ

گرجے میں نماز پڑھنے کا حکم

اس حدیث میں عیسائیوں کے معبد میں نماز پڑھنے کا حکم بیان کیا گیا ہے اور اس کے لیے عنوان میں ” البيعة ” کا لفظ ہے اور مشہور یہ ہے کہ ” البيعة “ یہودیوں کا معبد ہے اور الكنيسة” عیسائیوں کا معبد ہے اس وجہ سے امام بخاری پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ انہوں نے ” البيعة “ سے عیسائیوں کا معبد مراد لیا ہے حالانکہ ” البيعة “یہودیوں کے معبد کو کہتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ بعض کے نزدیک البیعة“ کا لفظ یہود اور نصاری دونوں کے معبد کے لیے عام ہے۔

وَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّا لَا نَدْخُل كَنَائِسَكُمْ مِنْ أَجْلِ التمَاثِيْلِ الَّتِي فِيْهَا الصور وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسِ يُصَلِّي فِي الْبَيْعَةِ إِلَّا بَيْعَةٌ فیھا تمَاثِيلُ۔

اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بے شک ہم تمہاری عبادت گاہوں میں ان صورتوں کے مجسموں کی وجہ سے داخل نہیں ہوں گے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما مانند ہر گرجے میں نماز پڑھتے تھے سوا اس گرجے کے جس میں مجسمے ہوتے تھے۔

اس تعلیق کی اصل درج ذیل احادیث ہیں:

حضرت عمر کے آزاد شدہ غلام اسلم بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام میں داخل ہوئے تو عیسائیوں کے سرداروں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو دعوت دی تو آپ نے فرمایا: ہم تمہاری عبادت گاہوں میں ان صورتوں کے مجسموں کی وجہ سے داخل نہیں ہوں گے۔ (مصنف عبدالرزاق : 1612 – ج ۱ ص ۳۱۱ دار الكتب العلمیة بیروت ۱۴۲۱ھ )

اسلم بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام میں گئے تو نصاریٰ میں سے ایک شخص نے آپ کو کھانے کی دعوت دی اور حضرت عمر سے کہا: میری خواہش ہے کہ آپ اور آپ کے اصحاب میرے پاس آکر میری عزت افزائی کریں، وہ شخص نصاری کے سرداروں میں سے تھا حضرت عمر نے فرمایا : ہم تمہاری عبادت گاہوں میں ان مجسموں کی وجہ سے داخل نہیں ہوتے .مصنف عبدالرزاق: ۱۹۶۵۵ – ۱۶۱۳

٤٣٤ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةً، عَنْ هشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ اُمَّ سلمہ ذَكَرَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَنیستہ رَأَتْهَا بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ، يُقَالُ لَهَا مَارِيَهُ ، فَذَكَرَت لہ ما رَات فِيهَا مِنَ الصُّورِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ قَوْمٌ إِذَا مَاتَ فِيهِمُ الْعَبْدُ الصالح او الرَّجُلُ الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا وَصَوروا فِيهِ تِلْكَ الصُّوَرَ أُولَئِكَ شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللہ ۔

 امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدہ نے خبر دی از هشام بن عروه از والد خود از حضرت عائشہ رضی الله عنہا که حضرت ام سلمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ انہوں نے حبشہ کی سرزمین میں ایک گرجا دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا انہوں نے اس کا ذکر کیا اور ان صورتوں کے مجسموں کا ذکر جو انہوں نے اس میں دیکھے تھے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں سے کوئی نیک بندہ یا نیک شخص فوت ہوجاتا ہے تو یہ اس کی قبر پر مسجد بنادیتے ہیں اور اس کی قبر پر ان صورتوں کے مجسمے بنادیتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں ۔

اس حدیث کی شرح صحیح البخاری: 427 میں گزرچکی ہے وہاں اس حدیث کا عنوان تھا: آیا مشرکین جاہلیت کی قبروں کو کھودا جائے گا اور اس جگہ مسجد بنائی جائے گی ؟ اور یہاں اس حدیث کا عنوان ہے: گرجے میں نماز پڑھنا۔

اس اعتراض کا جواب کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن کی نماز پڑھی حالانکہ آپ کے سامنے آگ تھی ۔۔۔ اور آگ کی پرستش کی جاتی ہے

اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ اس حدیث میں غیر مسلموں کے معبد میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے حالانکہ صحیح البخاری : 431 میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گہن کی نماز پڑھی اور فرمایا: مجھے آگ دکھائی گئی حالانکہ آگ کی آتش پرست بھی عبادت کرتے ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ وہاں غیر اختیاری طور پر آپ کے سامنے آگ تھی اور یہاں اپنے اختیار سے غیر مسلموں کے معبد میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔

گرجے میں نماز پڑھنے کے متعلق بمذاہب فقہاء

علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ ھ لکھتے ہیں:

یہود اور نصاریٰ کے معبد میں نماز پڑھنے کے متعلق علماء کا اختلاف ہے حضرت عمر اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہم نے وہاں صورتوں اور مجسموں کی وجہ سے نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس معبد کو بیری کے پتوں کے پانی سے دھوو اور اس میں نماز پڑھو اور یہی امام مالک کا قول ہے۔

اسماعیل بن اسحاق نے کہا: امام مالک نے فرمایا: میں گرجے میں نماز پڑھنے کو مکروہ قرار دیتا ہوں، کیونکہ وہ لوگ خنزیر کھاتے ہیں اور شراب پیتے ہیں اور نجاست سے بہت کم احتیاط کرتے ہیں ہاں! اگر کوئی شخص کیچڑ اور بارش کی شدت سے وہاں نماز پڑھنے پر مجبور ہوجائے جب کہ اسے یقین ہو کہ اس کو نجاست نہیں لگے گی تو اس کے وہاں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور حسن بصری نے گرجے میں نماز پڑھنے کو مکروہ کہا ہے اور ابراہیم نخعی، شعبی، عطاء اور ابن سیرین نے اس میں نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اور حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ نے شام میں یوحنا کے گرجے میں نماز پڑھی۔ (شرح ابن بطال ج 4 ص ۱۱۰ دار الکتب العلمیہ بیروت (1424ھ )

فقہاء احناف کے نزدیک گرجے میں نماز پڑھنے کا شرعی حکم

علامہ ابو الحسن علی بن ابی بکر المرغینانی متوفی ۵۹۳ ھ لکھتے ہیں:

تصاویر پر سجدہ نہ کرے کیونکہ یہ تصویر کی عبادت کے مشابہ ہے امام محمد نے مبسوط میں اس کو مطلقا مکروہ کہا ہے اور یہ بھی مکروہ ہے کہ اس کے سر کے اوپر چھت میں یا اس کے سامنے یا اس کے متوازی تصاویر ہوں یا کوئی تصویر لٹکی ہوئی ہو۔ہدایہ اولین ص ۱۴۲ مکتبه شرکت علمیه ملتان 

حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں نہیں داخل ہوتے، جس میں کتا ہو نہ اس گھر میں جس میں تصاویر ہوں۔

(صحیح البخاری: 5949،  صحیح مسلم : 2106،  سنن ابوداؤد : ۴۱۵۵ سنن ترمذی: 2804،  سنن ابن ماجه: ۳۶۴۹ مسند احمد ج 4 ص ۲۹ – ۲۸)

علامہ محمد امین بن عمر بن عبدالعزیز ابن عابدین شامی متوفی ۱۲۵۲ھ نے لکھا ہے:

میں کہتا ہوں کہ ظاہر یہ ہے کہ تصاویر کے ساتھ صلیب بھی لاحق ہے اگرچہ وہ جاندار کی تصویر نہیں ہے اور اس لیے کہ اس میں نصاری کے ساتھ تشبہ ہے اور مذموم چیز کے ساتھ تشبہ مکروہ ہے خواہ اس میں ان کے ساتھ تشبہ کا قصد نہ کیا گیا ہو۔

(ردالمختار ج ۲ ص ۳۶۰ دار احیاء التراث العربي بیروت 1419ھ)

اور چونکہ گرجے میں صلیب، حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم کے مجسمے بہ کثرت رکھتے ہوئے ہوتے ہیں، اس لیے فقہاء احناف کے نزدیک بھی گرجے میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہوگا، خصوصا تصاویر کے مجسموں کے سامنے ۔