کتاب الصلوۃ باب 56 حدیث نمبر 438
٥٦ – بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ میرے لیے تمام روئے زمین کو مسجد اور پاک کرنے والی بنادیا گیا ہے
اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ جن سترہ جگہوں پر نماز پڑھنا مکروہ ہے، مثلا اونٹوں کا باڑہ، مقابر اور شارع عام وغیرہ وہاں کراہت تحریم کے لیے نہیں ہے کیونکہ تمام روئے زمین پر نماز پڑھنا جائز ہے علامہ عینی نے ان جگہوں میں بیت الخلاء کو بھی شامل کیا ہے۔(عمدۃ القاری ج 4 ص 287)
لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ جس جگہ نجاست ہو مثلاً بول و براز اور خون و غیرہ وہاں نماز پڑھنا حرام ہے کیونکہ نماز کی جگہ کا پاک ہونا ضروری ہے۔
٤٣٨ – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ حَدَّثَنَا هُشَيْم قَالَ حَدَّثَنَا سَيَّار،ٌ هُوَ أَبُو الْحَكَمِ ، قَالَ حَدَّثَنَا يزید الْفَقِيرُ قَالَ حَدَّثَنَا جَابِرٌ مِنْ عَبْدِاللهِ قَالَ قَالَ رَسول اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أعْطِيتُ خَمْسًا، لم يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلِى نُصِرْتُ بالرعب مَسِيرَةَ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَھورا وَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَدْرَكَتهُ الصَّلَوةُ فَلْيصل وَاحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ ، وَكَانَ النَّبِيُّ يُبْعَثُ إِلَى قَومہ خَاصَّةٌ، وَبُعِثْتُ إِلَى النَّاسِ كَافةٌ، وَأَعْطِيتُ الشَّفَاعَةُ ۔
جامع المسانيد لا بن الجوزی: 924، مكتبة الرشد ریاض ۱۴۲۶ھ
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن سنان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ھثیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سیار نے حدیث بیان کی وہ ابو الحکم ہیں، انہوں نے کہا ہمیں یزید الفقیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پانچ ایسی چیزیں دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے انبیاء میں سے کسی کو نہیں دی گئیں، ایک ماہ کی مسافت سے میری رعب سے مدد کی گئی ہے اور میرے لیے تمام روئے زمین کو مسجد اور پاک کرنے والی بنادیا گیا ہے اور میری امت میں سے جو شخص کہیں بھی نماز کا وقت پائے وہیں نماز پڑھ لے اور میرے لیے غنیمتوں کو حلال کردیا گیا اور ( پہلے ) نبی اپنی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا۔اور مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور مجھے شفاعت دی گئی ہے۔
اس حدیث کی شرح صحیح البخاری:۳۳۵ میں گزرچکی ہے وہاں اس کو کتاب التیمم میں ذکر کیا گیا تھا اور اس حدیث میں تیمم کا بھی ذکر ہے اور تمام روئے زمین کے مسجد ہونے کا بھی ذکر ہے۔